تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی مفاہمت
06 اگست 2018 2018-08-06

حالیہ انتخابات نے کراچی کی سیاسی صورت حال ہی بدل دی خیال تھا کہ ایم کیو ایم کے اندر دھڑے بندی کے نتیجے میں کراچی کے اردوبولنے والوں کا ووٹ انہی میں تقسیم ہوگا اور تھوڑی تھوڑی نشستیں ایم کیو ایم کے مختلف گروپوں یا اس کی کوکھ سے جنم لینے والوں کو ملیں گی۔پیپلزپارٹی، اے این پی، متحدہ مجلس عمل اور نواز لیگ کو بھی کچھ حصہ ملے گا۔ ایم کیو ایم کے گروپ آپس میں کوئی قابل عمل فارمولا نہیں بنا پائے۔ لہٰذا صرف ایم کیو ایم پاکستان کراچی سے قومی اسمبلی کی صرف 4، حیدرآباد سے2اور صوبائی اسمبلی کی 16 نشستیں جیت پائی۔ یہاں تک کہ پاک سرزمین پارٹی کا بالکل ہی صفایا ہو گیا۔ صرف ایم کیو ایم ہی نہیں بلکہ تمام روایتی سیاسی جماعتیں بشمول ، ایم ایم اے کی ممبر جماعتیں، اور اے این پی بھی اسمبلی میں کوئی نمائندگی حاصل نہ کر سکیں۔ پیپلزپارٹی بھی کراچی میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ ایم کیو ایم میرپورخاص، نوابشاہ اور سکھر میں بھی کوئی نشست حاصل نہ کر سکی۔ جہاں سے بلدیاتی یا عام انتخابات میں یہ جماعت ایک صوبائی کی نشست حاصل کرتی رہی ہے۔ یہ نتائج گزشتہ انتخابات سے بہت ہی مختلف ہیں۔ 2013میں قومی اسمبلی کی 25اور صوبائی اسمبلی کی 50نشستیں ایم کیو ایم کے پاس تھیں۔ پی ٹی آئی کے پاس کراچی سے قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی تین سیٹیں تھیں جبکہ اب قومی اسمبلی کی 14اور صوبائی اسمبلی کی 20سیٹیں ہیں حالات مکمل بد ل گئے ہیں،
ایم کیو ایم اب سندھ میں تیسری جماعت کے طور پر آ گئی ہے۔ یعنی نہ وہ حکومت سازی میں کوئی کردار ادا کر سکتی ہے اور نہ اکیلے طور پر اپوزیشن کا رول۔ کیونکہ پیپلزپارٹی کے پاس اتنی اکثریت ہے کہ اکیلے حکومت بنائے ۔ اسکے پاس دو آپشن تھے ایک یہ سندھ میں اپوزیشن کا رول پلے کرتی۔ ایسے میں تحریک انصاف کو وفاق میں حکومت سازی کے لئے ضرورت پڑگئی۔ یہاں ایم کیوایم کی چھ نشستیں اس کے کام آگئیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے ہو گیا کہ یہ دونوں جماعتیں سندھ اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن بن جائیں گی۔
ایم کیو ایم کو سب سے بڑا ڈر یہ ہے کہ کراچی میں جاری آپریشن سے کیسے بچا جا سکے۔ مزید نقصانات نہ ہوں۔ یہ کام وفاقی حکومت میں ہی جانے سے ہو سکتا تھا۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ بیٹھنے کا اسکو تجربہ تھا۔ شاید اس کے ووٹرز بھی کسی نئے اتحاد کے تجربے کو ترجیح دے رہے تھے۔ ایم کیو ایم پی ٹی آئی کو چھوڑ کر کہیں اور جانے کا سوچ کر مزید خطرہ مول لینا نہیں چاہتی تھی یہی وجہ دونوں کے درمیان اتحاد کی بنی۔
پی ٹی آئی کراچی کی پارٹی کہہ کرایم کیو ایم کی اہمیت بڑھا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں مطلوبہ اکثریت حاصل ہو جاتی تو کیا وہ ایم کیو ایم کی مدد مانگتی؟ یا یہ کہ ایم کیو ایم کی طرف اس کا یہی مفاہمتی رویہ ہوتا؟ نتائج کی وجہ سے ایم کیوایم کی حمایت لینا مجبوری ہے۔
ایم کیو ایم حکومت کے بغیر رہ نہیں سکتی لہٰذا اس نے بہتر سمجھا کہ پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دے۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں اس سے قبل 90 کے عشرے میں بھی ایم کیوایم نے پیپلزپارٹی سے تحریری اتحاد توڑ کر آئی جے آئی کا ساتھ دیا تھا اور بینظیر بھٹو کی حکومت کو ہٹانے کا سبب بنی تھی۔
حالیہ انتخابات کے بعدایم کیو ایم کو پیپلزپارٹی
سے معاہدہ کا کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا تھا۔ پیپلزپارٹی کو سندھ اسمبلی میں عددی اکثریت حاصل ہے۔ سندھ میں ایم کیو ایم کی اہمیت تب ہوتی ہے جب پیپلزپارٹی کی اہمیت کم ہو۔ پیپلزپارٹی 2013 کے انتخابات کے بعد کراچی کے معاملے میں زیادہ سنجیدہ ہے۔ گزشتہ تین چار برسوں کے دوران پیپلزپارٹی نے کراچی میں کئی ترقیاتی منصوبے شروع کئے۔یہاں تک کہ فریال تالپور نے کراچی کے منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ بعض اجلاسوں کی صدارت بھی کی ۔ اس کا خیال تھا کہ شہر میں پرامن حالات کے پیش نظر اس کے لئے اسپیس نکل سکتی ہے اور وہ ترقیاتی کاموں کے ذریعے عوام میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔
ایک ہی صوبے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے مطالبات اور سکھ سانجھے ہیں۔ لیکن دونوں اپنے اپنے علاقے تک محدود ہیں۔ جس کی وجہ سے پیچیدگیاں اور الجھنیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ماضی میں 1988 اور 2008 میں سندھ اسمبلی میں اکثریت کے باوجود پیپلزپارٹی نے ایم کوئی ایم کو حکومت میں شامل کیا۔ 1988 میں ایم کیو کے ساتھ پیپلزپارٹی نے باقاعدہ مفاہمتی یاداشت نامے پر بھی دستخط کئے۔ لیکن 1989 میں ایم کیو ایم کو بینظیر بھٹو کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور بعد میں اسمبلیاں توڑنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ پھر عسکری گروہ وجود میں آگئے۔ مسئلہ یہ ہے دونوں جماعتوں نے صرف حکومتی سطح پر اختلافات دور کرنے کی کوشش کی ۔ کارکنوں کی سطح پر نہیں۔
عملی شکل یہ ہے کہ کراچی میں ایم کیوایم کی جگہ لے لی ا نتخابات میں دونوں جماعتیں حریف جماعتیں تھی، ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑا، انتخابی مہم بھی چلائی۔ لیکن بعد میں اتحادی بن بیٹھی۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے گئے ہیں۔ اس یاداشت میں کوئی بہت زیادہ مطالبات نہیں۔
پی ٹی آئی کی کراچی میں جیت سے توقع کی جاسکتی ہے کہ اب کراچی کی سیاست مین اسٹریم میں آجائے گی۔ اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدہ اس کی راہ میں رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔ ایم کیوایم پی ٹی آئی کو جتنی اسپیس دے گی، اپنی اسپیس کم کرے گی۔ ایک نظر میں دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دے کر ایک دوسرے کی سیاست کی توثیق کی ہے۔
ایم کیوایم پاکستان مشکل ترین وقت سے گرز رہی ہے۔ اسکو پتہ ہے کہ کوئی ریلیف یا سہولت مل سکتی ہے تو مرکز سے ہی مل سکتی ہے۔اس کامرکز کی طرف دیکھنا فطری سی بات لگتا ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کو صرف وزیراعظم اور اسپیکر، ڈپٹی اسپیکرکے انتخابات کے لئے نہیں بلکہ آئندہ ماہ ہونیوالے صدارتی انتخابات کیلئے بھی ان کے چھ ایم این ایز اور بائیس ایم پی ایز کی ضرورت پڑے گی۔یہ حقیقت ہے کہ ایم کیوایم پی ٹی آئی کی جونیئرپارٹنرہے۔ اس کواضافی نمبر مل سکتے ہیں کیونکہ’’ وہ کراچی کی پارٹی ہے‘‘۔ کراچی پاکستان کی معیشت اورتجارت کامرکزہے۔
معاہدے کے زیادہ تر نکات کا تعلق سندھ سے ہے۔ خاص طور پر بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنا جبکہ وزیراعظم اور مرکز کراچی آپریشن اورخاص طور پرایم کیوایم کے’بند دفاتر‘ اور لاپتہ افراد کے مقدمات سے متعلق ان کے خدشات دور کرنے کیلئے اپنا اثراستعمال کرسکتے ہیں۔اب جب این آراو دوبارہ کھل رہا ہے، ایسے میں ایم کیو ایم کے لئے مزید دقت پیدا ہوگی۔ پی ٹی آئی نے ’’کراچی کی پارٹی ‘‘کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک بار مرکز اور صوبوں کی حکومت بن جائے تو پی ٹی آئی سندھ حکومت کو بھی دیکھ لے گی اور کراچی آپریشن پر اگر تحفظات ہوئے تو انھیں دورکرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی بناسکتی ہے۔
انتخابات میں کچھ نشستیں حاصل کر کے ایم کیو ایم کو اپنی بقا کا راستہ مل گیا ہے۔ ایم کیوایم اگست 2016کے بعد والی شناخت منوانا چاہتی ہے، اور باقی تمام ماضی اپنے سابق قائد کے کھاتے میں ڈالنا چاہتی ہے۔پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما ڈاکٹرعارف علوی نے اپنی پارٹی کی جانب سے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہمیں ایم کیوایم کی جانب ایک نئی پارٹی کے طورپردیکھناہے جس کی تخلیق 22اگست کے بعد ہوئی اور انھیں ایک موقع دینا چاہیے ۔‘‘یہ بات قابل فکر ہے کہ ایم کیو ایم کو اپنے اندرونی رجحانات، اختلافات، تضادات کا بھی سامنا ہے۔ جس میں بعض رجحان کے طور پر نہیں محض گروہی ہیں۔یعنی بعض گروہ اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے کر رہے ہیں۔ ان اختلافات پر قابو پائے بغیر ایم کیو ایم کوئی بڑا فائدہ نہیں لے سکتی، اور کراچی کے لئے بھی کچھ زیادہ نہیں کرسکتی۔ لہٰذا بیک وقت ایم کیو کو اپنے اندرونی تضادات کا حل ڈھونڈنا ہے اور اپنی پارٹی کے لئے ریلیف ڈھونڈنا ہے۔ اگر ایم کیو ایم کوئی ریلیف نہیں حاصل کر سکی تو اس کو مزید دقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔


ای پیپر