گھنٹیاں بج رہی ہیں
06 اگست 2018 2018-08-06

نئے عہد کی جمہوریت کا سورج طلوع ہونے کوہے۔ عمران خان کو پارلیمانی پارٹی نے وزیر اعظم کا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ اب قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا، پاکستان کی رائج جمہوریت کے مطابق خفیہ رائے شماری سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب ہو گا۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اجلاس کی صدارت کریں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں ماضی میں انتقال اقتدار کا اجلاس پر امن اور خاموشی سے ہوتا رہا ہے سوائے 1990 ء کے جب بے نظیر بھٹو نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں دھاندلی کا معاملہ اٹھایا وہ اس وقت بھی دعوی کرتی تھیں کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ نے شکست دی ہے۔ بے نظیر بھٹو کی اس وقت تو بات نہ سنی گئی مگر بے نظیر بھٹو کی زندگی میں ہی یہ انکشاف ہوا کہ جنرل (ر) اسد درانی اور مرزا اسلیم بیگ نے نئے آر اوز ، کے ذریعے کس طرح دھاندلی مچائی جب بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ اقتدار میں آئیں تو 1990 ء کی دھاندلی کا معاملہ ایئر مارشل اصغر خان 1993 ء میں عدالت عظمیٰ لے کر گئے، چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی نے مقدمے کو سنا جنرل مشرف جو طاقت کے بل بوتے پر اقتدار میں آئے تو انہوں نے اس معاملے کو ٹھپ کر دیا بال�آخر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے 1990 ء میں ہونے والی دھاندلی کا فیصلہ 22 سال بعد اکتوبر 2012 ء میں سنایا اس دھاندلی کے تین بڑے کردار سابق صدر غلام اسحاق خان جو اس وقت دنیا میں نہیں تھے مرزا اسلم بیگ اسد جنرل درانی ٹھہرے سپریم کورٹ نے سولہ نکاتی فیصلے میں ان شخصیات کے علاوہ باقی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا۔ مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔

مسلم لیگ ن کو یقین ہے کہ اس کو ہرانے کے لیے منظم سازش نہیں پوری کوششیں کی گئیں ، پری پول اور پولنگ ڈے پر جو کچھ ہوا س کی کہانی کھل رہی ہے اس کھیل کے بہت سے کھلاڑی ہیں گزرے انتخابات کو دیکھ لیں تو 7 دسمبر 1970ء کی رات تک انتخابی نتائج سامنے آ گئے تھے۔ 1977 ء سے 2013 ء کے انتخاب تک امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ رات بارہ بجے یا اگلی صبح طلوع ہونے سے پہلے ہو جاتا تھا مگر یہاں تو ٹی وی اینکر چیف الیکشن کمشنر رات کے آخری پہر تک سامنے نہیں آئے، بتایا تو یہ گیا تھا کہ ادھر پولنگ اسٹیشن پر گنتی ہو گئی ادھر ویب پر آ جائے گا۔ مگر یہ بات بھی بتانے کے لیے کوئی میسر نہیں تھا پھر جو کھیل ہوا وہ یہ تھا کہ پریزائیڈنگ افسروں کی اکثریت رزلٹ لے کر غائب ہو گئی رابطہ قائم کرنے پر ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ انتخابی نتائج کے ساتھ کیا بیتی۔ مگر افسوس کی بات تو یہ ہے چیف الیکشن کمشنر صاحب اتنا کچھ ہونے کے باوجود یہ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن صاف اور شفاف تھے ۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں اس موقف کو قبول نہیں کرتیں۔ پاکستان کی انتخابی اور پارلیمانی تاریخ کا یہ دلچسپ واقعہ ہے کہ تحریک انصاف کے علاوہ تمام جماعتیں دھاندلی کو مسترد کرتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو چکی ہیں ۔ انتخابی دھاندلی پر شور بر پا ہو چکا ہے۔ اب وقت ہے کہ اپنی اپنی غلطیوں کو درست کر لیں۔ عمران خان کا پسندیدہ ادارہ جس کے ایک ایک اعدادو شمار کو وہ مستند قرار دیتے رہے ہیں وہ ’’فافن‘‘ فیئر اینڈ فری الیکشن نیٹ ورک ہے اس نے انتخابی نتائج پر رپورٹ جاری کی ہے اس سے ایک تنازعہ ابھرتا نظر آ رہا ہے قانون کے مطابق گنتی کے حوالے سے بھی ڈنڈی ماری گئی اور 79 فیصد امیدواروں کو دوبارہ گنتی کا حق نہیں دیا گیا۔ اگر کسی حلقے میں جیت کا مارجن 5 فیصد سے کم ہو تو یہ امید وار کا قانونی حق ہے کہ وہ دوبارہ گنتی کی درخواست دے سکتا ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے 248 حلقوں میں جیت کا مارجن 5 فیصد سے کم تھا۔ تاہم قومی اسمبلی کے 79 میں سے 21 حلقوں اور صوبائی کے 169 میں سے 33 میں دوبارہ گنتی کی اجازت دی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ ماضی کی نسبت مسترد ہونے والے ووٹوں کی تعداد 6 لاکھ 78 ہزار سے زیادہ ہے۔ یہ بات اپنی جگہ پارلیمنٹ کے اندر پارلیمنٹ کے باہر اور عدالتوں میں قانونی جنگ بھی لڑی جائے گی مسلم لیگ (ن) نے سابق وزیر قانون زاہد حامد کی سربراہی میں اپنی قانونی ٹیم تشکیل دے دی ہے اور 38 حلقوں کے شواہد ان کے پاس ہیں اور یہ معاملہ عدالت کی سطح پر

بھی اخباروں کی سرخیوں اور ٹیلی وژن کی بریکنگ کی صورت میں سامنے آتا رہے گا۔ کپتان نے چار حلقے کھولنے کی بات کی تھی۔ مسلم لیگ (ن) 38 حلقے کھلوائے گی۔ اس بار بھی بات کمیشن بننے تک جائے گی مگر اپوزیشن خاص طور پر مسلم لیگ ن کا مطالبہ ہے کہ نا ن ’’ پی سی او‘‘ ججوں پر مشتمل کمیشن بنے مگر صاف اشارہ ہے کہ کون کمیشن میں شامل نہیں ہو گا۔

یہ تو ماضی کی بات ہے۔ رواں ہفتے کے اجلاس میں بہت سے ہنگامے برپا ہونے جا رہے ہیں ۔ اہم بات یہ ہے دعووں کے بر عکس قومی اسمبلی کے ایک ایک ووٹ کے لیے تحریک انصاف آج تک لڑ رہی ہے۔ اکبر بگٹی کے پوتے اور جمہوری پارٹی کے سربراہ زین بگٹی سے جہانگیر ترین ملیں گے ہو سکتا ہے یہ ملاقات ہو چکی ہو۔ شازین بگٹی کے 5 مطالبات ہیں ان میں سب سے نمایاں مطالبہ اکبر بگٹی کے قتل میں ملوث مشرف کو کٹہرے میں لانے کا ہے ہو سکتا ہے کہ جہانگیر ترین 5 دیگر مطالبات کے ساتھ یہ مطالبہ بھی مان لیں مگر یہ منافقت ہو گی کیونکہ عمران خان پرویز مشرف کو اپنا ہیرو مانتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کیسے ہو گی۔ ووٹ کی سیاست پاکستان میں ایسی ہی ہے۔ اختر مینگل کے 3 ووٹ کا وزن کافی ہے مگر اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے ان کے چھ نکات بھی کافی وزنی ہیں ۔ انہوں نے اسلام آباد آ کر تحریک انصاف کے سربراہ سے ملاقات کے لیے بلوچستان ہاؤس کا وقت دیا۔ مگر وہ پریس کانفرنس کر کے چلے گئے۔ جہانگیر ترین کاروباری آدمی ہے سیاست کو بھی کاروبار سمجھتا ہے۔ مگر تحریک انصاف میں ان کے اس کردار کو پسند نہیں کیا جا رہا ۔ کراچی ڈویژن تحریک انصاف کے صدر فردوس شمیم نقوی نے کھل کر انصاف ہاؤس کراچی میں باتیں کیں۔ ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ بھی کہہ ڈالا کہ ایم کیو ایم سے اتحاد مجبوری میں کیا ہے۔

ان کے ووٹوں کی ضرورت وزیر اعظم بننے کے لیے پڑ گئی ہے۔ فردوس شمیم نقوی نے تو بلدیہ ٹاؤن کا مدعہ اٹھانے کی بات بھی کہہ ڈالی۔ تحریک انصاف نے زہرہ آپا کے قتل کے معاملے کو نظر انداز کر دیا نقوی صاحب کی ان کے نزدیک کیا حیثیت ۔ میکا ولی تو کہتا ہے کہ اقتدار کے لیے قانون اصول اورضابطے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ ایسا ہی رویہ اپنایا کپتان نے بے چارے نقوی صاحب سے وضاحت طلب کر لی۔ 12 مئی 2007 ء کے سانحہ کراچی کے ملزم کے ساتھ بھی جہانگیر ترین مسکراتے نظر آئے۔ اب معاملہ حلف کا ہے بے نظیر بھٹو نے 1990 ء میں جو سوال اٹھایا تھا اب قومی اسمبلی کے آدھے ارکان 5 جماعتوں کے پارلیمنٹیرین ایک طرف ہو گئے ہیں ۔ حلف تو سیاہ پٹیاں باندھ کر اٹھا یا جائے گا۔ سپیکر کا انتخاب بھی اسی شور و غونما میں ہو جائے گا ۔ وزیر اعظم کا الیکشن کافی ہنگامہ خیر ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ کپتان خاصا پریشان ہے۔ پریشانی کی بات تو یہی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اتنی زبر دست اور ’’ چارج‘‘ اپوزیشن کسی کو نہیں ملی۔ جس کے پاس کپتان کو اکھاڑنے کے لیے ایسا ایجنڈا ہے کہ جس سے عمران خان جو پارلیمنٹ کا وقار کا نعرہ بلند کرتے رہے ہیں اب وہ وزیر اعظم بن کر اس وعدے کو پورا کریں گے یا پارلیمنٹیرین کو غیر مہذب قرار دیں گے ۔ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے ٹھنڈے مزاج کی ضرورت ہے مگر یہ ہو گا کیسے کیونکہ انسان کی جبلت نہیں بدل سکتی۔ سیاست کو کرکٹ سمجھنے والے کپتان کو خود باؤنسرکا سامنا ہو گا۔ ابھی تو قومی اسمبلی کے اجلاس کا شیڈول جاری نہیں ہوا، بہت سے حلقوں کی گنتی جاری ہے۔ 8 اگست سے پہلے حکومت سازی کے لیے امیدواروں کے خدوخال واضح ہوں گے۔ وہاں الیکشن کمیشن کے خلاف ہرائے جانے والے امیدواروں کا احتجاج ہو گا ۔ الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے۔ اپوزیشن امیدواروں کے بھر پور احتجاج کو مشرف کے دور کی طرح روکنے کی کوشش کی گئی تو ایک نیا کھیل شروع ہو جائے گا کیونکہ دھاندلی کے خلاف پہلے ہی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جمہوریت اور احتجاج ساتھ ساتھ چلے گی آزادی کپتان نے لی تھیں اب یہ اپوزیشن کو بھی ملے گی۔ کیونکہ پنجاب کا نگران پروفیسر بری طرح نا کام ہوا اس کی سیاست اور نگرانی کا جھکاؤ ان کی نظریات کے عین مطابق ایک ہی طرف تھا ۔ان کی نگرانی کا دور کس جانب سے چلایا جا رہا تھا۔ اس کا تذکرہ سابق پولیس آفیسر ذوالفقار چیمہ کر چکے ہیں ۔ دھاندلی ہوئی پاکستان کی سیاسی تاریخ کے برے ترین انتخاب7 دسمبر 1970 ء کے ثابت ہوئے کیونکہ عوام کو قومی سطح پر ووٹ کا حق ملا تھا اس حق کو حاصل کرنے کے لیے مولانا مودودی، چوہدری محمد علی، نورالدھین، ملک غلام جیلانی، نواب زادہ نصر اللہ خان، خان عبدالولی خان، شیخ مجیب الرحمان نے اہم کردار اداکیا۔

وہاں ایوب خان کے بی ڈی سسٹم کو تہہ و بالا کرنے کے لیے ایک تحریک چلی گول میز کانفرنس ہوئی ایوب خان مجبور ہو گئے کہ وہ نہ صرف صدارت کا عہدہ چھوڑیں بلکہ انہوں نے سیاست سے ہی کنارہ کشی اختیار کر لی مگر ان کے جانے کے بعد ایک مارشل آ گیا اس مارشل لا میں جمہوریت آئی مگر اس میں اسٹیبلشمنٹ نے اپنا حصہ مانگا اس جانب سے مطالبہ تھا عوام کا فیصلہ مانو پھر غداری کا معاملہ شروع ہوا۔ غدار وطن مجیب الرحمان کی جماعت کے 160 میں سے 70 سے زائد ایم ان ایز کو نا اہل قرار دے کر انتخاب کرائے انتخاب کیا تھے بلا مقابلہ بھٹو کی پارٹی جس کا 70 کے انتخاب میں مشرقی پاکستان میں ایک امیدوار نہیں تھا۔ اس کو بھی حصہ مل گیا۔ ایک نگران حکومت بنی یحییٰ کی مرضی سے نور الامین وزیر اعظم بھٹو نائب وزیر اعظم بن گیا۔ جمہوریت کے کھیل میں ملک ہی ٹوٹ گیا۔ پھر بھٹو کی قسمت جاگی پہلے صدر پھر وزیر اعظم 77 کے انتخاب کرائے دھاندلی زدہ، اور خود مانتے ہیں دھاندلی ہوئی ضرور مگر بھٹو نے نہیں انتظامیہ اور صوبوں کی حکومتوں نے کی مگر یہ حقیقت تو اپنی جگہ ہے سندھ کے 15 اور بلوچستان کے 4 ایم این ایز بلا مقابلہ ہوئے۔ تحریک چلی معاملہ بھٹو کے ہاتھ سے نکل گیا۔ حکومت اور اقتدار پھسل رہا تھا بھٹو نے ٹیلی وژن پر آ کر خدا کی قسم کھائی ’’میں نے الیکشن میں بے ایمانی نہیں کرائی میں آج بھی اپنے اس بیان پر قائم ہوں میں نے دھاندلی نہیں کرائی۔


ای پیپر