برج ،جو خیبر پختون خوا کے ووٹرز نے الٹ دئیے

06 اگست 2018

اصغر خان عسکری

جولائی 25 کو ہونے والے قومی انتخابات میں خیبر پختون خواکو خصوصی اہمیت حا صل رہی۔یہ اہمیت اس وجہ سے تھی کہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہاں خیبر پختون خوا سے قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں شہباز شریف ،اپنے صوبائی صدر امیر مقام کی طرف سے جیت کی یقین دہانی پر سوات سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری منی لاڑکانہ یعنی ملاکنڈ سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ان کو بھی صوبائی صدر ہمایون خان نے قبل از الیکشن جیت کی نوید سنائی تھی۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بنوں سے امیدوار تھے۔جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق دیر لو ئیر سے قومی اسمبلی کے دنگل میں اترے تھے۔جمعیت العلماء اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان ڈیرہ اسماعیل خان سے دو حلقوں سے امیدوار تھے۔عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان اور قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد خان چارسدہ سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔لیکن تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے علاوہ کوئی بھی کا میابی حا صل نہ کرسکے اور یوں بڑے بڑے برج خیبر پختون خوا کے عوام نے بیلٹ کے زریعے الٹ دئیے ۔ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہاں کی انتخابات میں شکست کن سے اور کس مارجن پر ہوئی ،اس کا اجمالی خاکہ قارئیں کے لئے پیش خدمت ہے۔
NA-3 Swat-II (شہباز شریف بمقابلہ سلیم رحمان)
اس حلقہ سے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں شہباز شریف امیدوار تھے ۔ان کے مد مقابل تحریک انصاف کے سلیم رحمان اورپیپلز پارٹی کے شہریار امیر زیب تھے۔اس حلقہ میں کل رجسٹررڈ ووتوں کی تعداد 401,124 تھی ، جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 227,864 جبکہ خواتین کی تعداد 173,260 تھی۔اس حلقہ میں کل 161,872 ووٹر ز نے ووٹ ڈالا۔جس میں مردوں میں سے 129,330 اور خواتین میں سے 32,542 نے ووٹ پول کیا۔اس حلقہ میں 6,452 ووٹ مسترد کر دئے گئے،اسی طرح درست ووٹوں کی کل تعداد 155,420 تھی۔یہاں پر پولنگ کی شرح 40.35 فیصد رہی۔اسی حلقہ سے مو لانا فضل الرحمان نے شہباز شریف کے مقابلے میں اپنا امیدوار دستبردار کرایا تھا،لیکن ایم ایم اے سے اتحاد کے باوجود شہباز شریف یہاں سے کامیاب نہ ہو سکے۔شہباز شریف کو تحریک انصاف کے سلیم رحمان نے شکست دی۔
انھوں نے 68,162 ووٹ حا صل کئے جبکہ شہباز شریف نے ان کے مقابلے میں 22,756 ووٹ لئے۔
NA-7 Lower Dir-II (سراج الحق بمقابلہ بشیر محمد)
اس حلقہ پر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور تحریک انصاف کے بشیر محمد کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی تو قع تھی۔انتخابات میں یہ حلقہ نیا بنا یا گیا تھا۔یہاں کل ووٹر ز کی تعداد 330,592 ہے۔مر دوں کی تعداد 198,085 جبکہ خواتیں ووٹرز کی تعداد 132,507 ہے۔ اس حلقہ پر کل 146,178 ووٹ پول ہوئے۔جس میں مردوں کی تعداد 104,778 جبکہ خواتین کی تعداد 41,400 ہے۔اسی طر ح 4,455 ووٹ مستر د کئے گئے جبکہ 141,723 ووٹ درست قرار دئے گئے ۔یہاں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 44.22% رہی۔تحریک انصاف کے محمد بشیر خان نے 63,017 ووٹ لئے جبکہ سراج الحق 46,040 ووٹ لے کر دوسری پوزیشن پر رہے۔
NA-8 Malakand (بلاول زرداری بمقابلہ جنید اکبر)
اس حلقہ میں پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول زرداری اور سابق رکن اسمبلی پی ٹی آئی جنید اکبر کے درمیان مقابلہ رہا۔متحدہ مجلس عمل کے صوبائی سربراہ مو لانا گل نصیب خان بھی یہاں سے امید وار تھے۔ملاکنڈ کو پیپلز پارٹی کے جیالے منی لاڑکانہ بھی کہتے ہیں۔یہاں پر کل رجسٹر ووٹوں کی تعداد 388,449 ہے۔ 186,429 لوگوں نے ووٹ کاسٹ کیا۔5,591 ووٹ مسترد کئے گئے۔یہاں ووٹوں کی شرح 48.24% رہی۔تحریک انصاف کے جنید اکبر نے 81,310 ووٹ لے کر بلاول کو شکست دی ،جبکہ ان کے حصے میں43,724 ووٹ آئے۔
NA-23 Charsadda-I (افتاب احمدخان شیرپاؤ بمقابلہ انو ر تاج)
اس حلقہ پر قومی وطن پارٹی کے سربراہ افتاب احمد خان شیر پاؤ اور تحریک انصاف کے انور تاج کے درمیان مقا بلہ رہا ۔لیکن انور تاج نے واضح اکثریت سے افتاب شیر پاؤ کو شکست دی۔ انھوں نے 59,371 ووٹ لئے،جبکہ مد مقابل افتاب شیرپاؤ نے 33,561 ووٹ حا صل کئے۔
NA-24 Charasadda-II (اسفندیار ولی خان بمقابلہ فضل محمد خان)
اس حلقہ پر عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان اور تحریک انصاف کے امیدوار فضل محمد خان کے درمیان مقابلہ رہا۔لیکن اسفندیار ولی خان کو شکست کا سامنا کر نا پڑا۔ تحریک انصاف کے فضل محمد خان نے 83,496 ووٹ لے ،جبکہ اسفندیار ولی کو 59,483 ووٹ ملے۔عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان مسلسل دوسری مر تبہ یہاں سے انتخابات میں ناکام ہو ئے۔ گز شتہ انتخابات میں جے یوآئی کے مو لانا گو ہر شاہ نے ان کو شکست دی تھی۔
NA-38 Dera Ismail Khan-II (فضل الرحمان بمقابلہ محمد یعقوب شیخ)
اس حلقہ پر مولانا فضل الرحمان اور تحریک انصاف کے یعقوب شیخ کے درمیان مقابلہ رہا ۔شنید یہ ہے کہ یعقوب شیخ کے مو لانا فضل الرحمان کے ساتھ قریبی تعلقات ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گز شتہ کئی انتخابات میں وہ مولانا فضل الرحمان کے الیکشن کمپئین بھی چلا تے رہے ہیں ، لیکن اس مر تبہ وہ نہ صرف مو لانا کے مقابل امیدوار تھے بلکہ ان کو شکست بھی دی۔شیخ یعقوب نے بھاری اکثریت سے فضل الرحمان کو شکست دی ۔ انھوں نے 79,334 ووٹ لئے جبکہ مو لانا فضل الرحمان نے 52,031 ووٹ حا صل کئے۔
NA-39 Dera Ismail Khan -I (فضل الرحمان بمقابلہ علی امین خان)
اس حلقہ میں مو لانا فضل الرحمان کا مقابلہ تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر علی امین گنڈاپور سے تھا۔مو لانا ڈیر ہ اسماعیل کے دو حلقوں سے امید وار تھے۔ یہاں بھی مو لانا فضل الرحمان کو بھاری اکثریت سے شکست ہو ئی۔ کامیاب امیدوار علی امین گنڈا پور نے 80,236 ووٹ لئے جبکہ مو لانا فضل الرحمان کو 45,457 ووٹ ملے۔
خیبر پختون خوا میں اگر ایک طرف تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان انتخابی میدان میں تھے تو دوسری طرف صوبہ کے عوام نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے علاوہ کسی اور پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا اور تمام کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان خیبر پختون خوا سے انتخابی امید وار تھے
قومی انتخابات میں ما سوائے عمران خان کے کسی بھی سیاسی پارٹی کا سربراہ خیبر پختوں خوا سے کا میاب نہ ہو سکا
فضل الرحمان،اسفندیار ،افتاب شیرپاؤاور سراج الحق آبائی حلقوں سے ہار گئے
شہباز شریف اور بلاول زرداری بھی خیبر پختون خوا سے جیت نہ سکے۔

مزیدخبریں