دنیا کے بڑے نشریاتی ادارے ۔۔۔ اور پاکستانی صحافت؟؟
06 اگست 2018 2018-08-06

’’سیربین‘‘ بی بی سی لندن کا ایسا پروگرام تھا جس پر لوگ ’’ابا جی‘‘ کے حکم سے بھی زیادہ اعتبار کرتے تھے اور پھر اُس ’’حکم‘‘ پر ہی چل پڑتے تھے، اُس دور میں بی بی سی لندن سب سے اہم نشریاتی ادارہ مانا جاتا تھا ۔۔۔ جی جی بالکل غلط، آپ کا یہ اندازہ ٹھیک نہیں کہ بی بی سی لندن میں کوئی ’’لفافہ‘‘ صحافی نہ تھا ۔۔۔اُس دور میں صحافی اور ڈاک خانے کا ملازم یا پھر پرائمری اسکول کا ماسٹر سب سے ایماندار ’’مخلوق‘‘ سمجھے جاتے تھے اُس وقت کی مائیں دعا دیتی تھیں کہ جا بیٹا تجھے اللہ ڈاک خانے کا ملازم لگائے یا پھر اسکول ٹیچر ۔۔۔ یہ شعر اُسی دور کا ہے جب صحافی کو مالک مرضی کی تنخواہ دیا کرتے تھے اور اکثر نہیں بھی دیا کرتے تھے ۔۔۔ عطاء الحق قاسمی کے حوالے سے اِک شعر صحافتی حلقوں میں زبانِ زدِ عام تھا کہ ۔۔۔؂
بنتے ہیں چار سو فی الحال چار رکھ
پیوستہ رۂ شجر سے، امید بہار رکھ
اُس دور میں خبر کا ’’گلہ دبانے‘‘ میں یہ ریڈیو ماسکو سب سے اہم کردار ادا کر رہا تھا ۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ اُس دور میں صحافی ڈیلی ویجز پر رکھے جاتے تھے ویسے تو ایک خاصہ جانا پہچانا نام تھا اک بار ملے تو باتوں باتوں میں پوچھنے لگے ’’حافظ مظفر محسن تمہیں ایک کالم کے کتنے پیسے ملتے ہیں؟‘‘ ۔۔۔
’’کجھ وی نئیں‘‘ ۔۔۔ بے ساختہ منہ سے نکلا تو حیرت سے دیکھتے ہوئے بولے ۔۔۔
’’مجھے دو سو روپے‘‘ ۔۔۔
آپ سمجھ گئے ہوں گے یہ تو اصل میں میری مذاق کی عادت ہے اور جب میں مذاق کرتا ہوں تو بری بات کہ میں چھوٹے بڑے کا خیال نہیں کرتا ۔۔۔ یہ اُس دور کی بات ہے جب ہماری عمر کے تقریباً ہر لڑکے لڑکی نے مرزا ادیب کے ناول پڑھ رکھے تھے ہمیں ’’جنگ اور امن‘‘ کا پتہ تھا کہ یہ ناول لیو ٹالسٹائی نے لکھا جو روس کا رہنے والا تھا چیخوف کو ہم جانتے تھے وہ OBER کا ڈرائیور نہیں تھا دنیا کا نامور افسانہ نگار تھا ہمیں پتہ تھا صوفی تبسم نے ساری زندگی گورنمنٹ کالج لاہور میں اردو پڑھائی ۔۔۔ ہمیں تو یہاں تک پتہ تھا کہ محمد عبدؤ سعودی عرب کا نامور گلو کار رہے اور دنیا بھر میں جانا جاتا ہے ۔۔۔ اصل میں ہم ’’وارث‘‘ ڈرامے کے دور کے انسان ہیں جس طرح حال ہی میں فوت ہوئے نامور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کو عقیدت بھرا خراج پیش کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں ’’ہم مزاح کے دورِ یوسفی میں زندہ ہیں‘‘ ۔۔۔ ایسے ہی ہم امجد اسلام امجد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ ہم امجد اسلام امجد کے ڈرامے ’’وارث‘‘ کے دور کے لوگ ہیں ، ہمیں سکھایا جاتا تھا IDAS HAVE LEGS ۔۔۔ پھر ہمیں سکھایا پڑھایا جاتاتھا کہ IDEAS HAVE WINGS ۔۔۔ آج جب 2018ء کی الیکشن کی مہماتی جنگ جاری تھی اور چینلز غائب تھے اور چینلز پر ’’جھوٹ بولنے‘‘ کی سزا ’’جھوٹ کے منفی‘‘ فوائد ’’سچ بولنا عین عداوت‘‘ ہے تو مجھے خواہش ہوئی کہ کاش ریڈیو ہو اور ہم سائستہ زید حال شائستہ صفدر سے تازہ خبریں بی بی سی لندن سے سنتے اور ’’جھوٹ‘‘ کے حوالے سے چلنے والے پروگراموں سے ہماری جان چھوٹ جاتی ۔۔۔یا پھر VOA یعنی وائس آف امریکہ سے جہاں ہمیں اردو میں خالد حمید جن کو ہم نے جوانی میں PTV پر خبریں پڑھتے دیکھا VOA پر سفید بالوں سے خبریں پڑھتے ہیں ویسے بھی ہمارے ہاں عقیدہ ہے کہ سفید بالوں والا آدمی جھوٹ نہیں بولتا ۔۔۔ ایسے میں مجھے ریڈیو جیسی آواز کی قدر محسوس ہوئی ۔۔۔ دنیا میں کروڑوں انسان اردو سمجھتے ہیں اور یہ پانچ ادارے اُن اردو سمجھنے والوں کی تقریباً ایک صدی سے خدمت کر رہے ہیں اور ’’مشکل وقت‘‘ میں ہمیشہ پاکستان کے عوام کی مدد بھی کرتے ہیں (آپ میری بات سمجھ چکے ہوں گے) ۔۔۔؟
’’افوائیں‘‘ لوگ اِدھر اُدھر دیکھتے تھے، الیکشن کے بارے مشکوک خبریں اِدھر اُدھر چل رہی تھیں خاص طور پر نواز شریف کی لاہور آمد پر تو ٹیلی ویژن ’’چپ‘‘ تھا ۔۔۔ کچھ اینکرز کھلم کھلا قہقہے لگا رہے تھے ’’لو جی صرف بیس بائیس لوگ نواز شریف کے استقبال کو پہنچے‘‘؟ ۔۔۔ اگر سعد رفیق لاکھ کے قریب ووٹ اپنے حلقے سے نہ لیتا تو شاید ہم اس ’’جھوٹ‘‘ کو سچ مان لیتے ’’خوش آمدی‘‘ ہم نے زندگی میں بہت سے دیکھے لیکن آج کے دور کے خوش آمدی ۔۔۔ اللہ کی پناہ ۔۔۔؟! اکثر ڈر لگتا ہے ٹیلی ویژن کی سکرین نہ پھٹ جائے ۔۔۔ الیکشن والے دن میں تھوڑا ’’اُکھڑا‘‘ ہوا تھا ۔۔۔ بیٹے نے پاس بٹھایا ۔۔۔ ’’پاپا ۔۔۔ آپ کو پتہ ہے‘‘ ۔۔۔
’’نیوٹن‘‘ کا سارا مواد چوری ہو گیا تھا اُس نے چھ سال تک خود کو گھر میں مقید کر رکھا ۔۔۔ افسردہ تھا ۔۔۔ پریشان تھا ۔۔۔
’’اُس دور میں بھی چوری ہوتی تھی‘‘ ۔۔۔ میں نے بیٹے کو معنی خیز نظروں سے دیکھا ۔۔۔
’’آپ سچے ہیں 2018ء میں بھی چوری چکاری ہوتی ہے‘‘ ۔۔۔ وہ حیرت سے بولا ۔۔۔ پھر اُس نے مجھے بتایا کہ جدید ترین ریسرچ کے مطابق پتہ چلا ہے کہ اگر ہم نے اربوں کے حساب سے درخت نہ لگائے تو کاربن ڈائی آکسائیڈ ۔۔۔ ستر اسّی سال میں اتنی بڑھ جائے گی کہ کرۂ ارض پر کھڑا ہونا مشکل ہو جائے گا ۔۔۔ کل ’’اُن‘‘ کی لندن سے کال تھی ۔۔۔ بولیں ۔۔۔
’’کیسا ہے تیرے لاہور کا موسم‘‘ ۔۔۔؟!
’’گرم ۔۔۔ لیکن بارش ہے پنکھے میں مزہ آ رہا ہے‘‘ ۔۔۔ میرے جواب پر چپ کر گئیں پھر بولیں ۔۔۔
’’ہمارا لندن تو بڑا گرم ہے جس لندن میں پنکھا نہیں چلتا تھا اب وہاں دس بارہ دن سے شدید گرمی ہے AC کی ضرورت بھی ہے‘‘ ۔۔۔
اللہ بھلا کرے فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا والوں کا ورنہ جو گرمی چینلز کے بے جا ’’جھوٹ‘‘ بولنے سے پیدا ہوتی تھی اُس سے شاید انسانوں کے دماغ ماؤف ہو جاتے مگر خوشی ہوئی کہ فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا نے پاکستانیوں کی مدد کی ۔۔۔
ضیاء الحق کے دور میں اخبار سے خبریں غائب ہو جایا کرتی تھیں ۔۔۔
اب خبریں بھی ہیں، چینلز بھی ہیں لیکن انسان ’’سمجھنے سے قاصر‘‘ ہیں یا پھر یہ دوسرے اداروں کی طرف توجہ کرتے اور پھر سے کئی حبیب جالب اور استاد دامن پیدا ہو جاتے ویسے افسوس کی بات ہے کہ آج کا شاعر بھی ہمارے جذبات کی طرح سویا ہوا ہے ۔۔۔ اگر فیس بک نہ ہوتی تو شاید لوگ VOA یا بی بی سی پر توجہ دینے لگتے پھر سے ۔۔۔؟! تازہ قطعہ ملاحظہ فرمایا ۔۔۔؂
ہو جاتے ہیں کبھی کبھار
رستے میں ان کے دیدار
چھ بچے ان کے ہوتے ہیں
اور ہوتے ہیں میرے چار


ای پیپر