دائرے کا سفر

06 اگست 2018

آصف عنایت

قومی ترقی، معاشرت کے ارتقائی عمل، نظام میں بہتری، عوام کی حالت، باہمی و اجتماعی رویے، حکومتی کارکردگی ، انفرادی اور اجتماعی فکر گویا کہ کسی بھی سُو نظر ڈالیں تو کیا کسی ایک طرف سے بھی اطمینان حاصل ہوتا ہے ؟ کوئی ایک شعبہ زندگی ایسا ہے جس میں کہا جائے کہ رب العزت کی کائنات میں ہم نے کچھ contribute کیا ہے۔ کیا بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان میں کسی مثبت کردار کا اضافہ کر پائے؟ البتہ اتنا ضرور ہوا کہ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، موبائل فون اور نیٹ کے ذریعے دنیا کا لوگوں کی مٹھی میں آنا کہیں سود مند بھی ہے مگر ہمارے ہاں تو دوسروں کی عزت ہماری مٹھی میں آ گئی۔ ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے۔ اور سیاسی جماعتوں ، سول و فوجی حکومتوں کے رویے اور صرف انداز سیاست کو دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ہمارا اجتماعی سفر ترقی کا نہیں دائرے کا سفر ہے۔ بس اتنا ہوا کہ چھانگا مانگا کی جگہ بنی گالہ نے لے لی، پی ٹی آئی کی انٹری سے فرق بس اتنا ہی پڑا ہے جتنا قیمے والے نان اور پیزے کا ارتقائی عمل ہے۔ دوسرے نقطہ نظر سے
یہ سفر مکافات عمل کا سفر ہے۔ مختلف جماعتوں ، مکتبہ فکر اور قوتوں کی عرق ریزی سے بننے والی پی ٹی آئی نے مدینہ کی ریاست کا تصور دے کر دینی بنیاد پر سیاست کرنے والی جماعتوں سے ایک نعرہ چھین لیا۔ تبدیلی، نیا پاکستان، مدینہ کی ریاست یہ سب کیا بنی گالہ کو چھانگا مانگا بنا کر کیا جائے گا؟ شیخ رشید ، فواد چودھری، شاہ محمود قریشی، بابر اعوان ، عامر لیاقت ، چوہدری پرویز الٰہی، اسلم اقبال اور ایم کیو ایم وغیرہ، یہ کس نئے پاکستان کا سفر کریں گے؟ یہ لوگ مدینہ کی ریاست کا نمونہ پیش کریں گے؟ البتہ عمران خان ایک نئی شخصیت ضرور ہیں جو وفاق میں براہ راست حکومت میں آئے خیبر پختونخوا میں تو پانچ سال حکومت آپ ہی کی رہی جس بے دردی سے استحقاق نہ ہوتے ہوئے حکومتی وسائل ذاتی اور پارٹی مفاد کے لیے استعمال ہوئے۔ سب کے سامنے ہے یہ عمل ان کو دوسرے سیاست دانوں سے ممتاز نہیں کرتا۔ اب انداز حکمرانی میں جناب بھٹو کے عوامی انداز کو اور جونیجو کی عاجزی کو یکجا کر کے اس میں کینیڈین وزیراعظم کی طرز حکمرانی کی پھکی شامل کی جائے گی۔ احتساب نہیں سیاسی انتقام ہو گا اور سرکاری اداروں میں جن کو کسی کی پشت پناہی حاصل نہ ہو گی اُن کی خاک اڑائی جائے گی۔ ایوب ضیاء اور مشرف کا احتساب جمہوری رنگ میں شروع ہو گا۔ جناب بھٹو کو غدار کہنے والے اُن کی راہوں پر چلنے لگے کچھ تو بھٹو صاحب کے جذبات میں مائک گرانے کے واقعہ کو دہرانے لگے بینظیر کو سکیورٹی رسک قرار دینے والے اپنی بیٹی کو دوسری بینظیر کہلوانے لگے۔ اب کی بار جیل میں تاریخ کا طالب علم اور غریبوں کا بھٹو نہیں کاروبار اور پاور پالیٹکس کا طالب میاں جیل میں ہے، بس ہاکی اور فٹ بال کے میچ کی طرح آدھے وقت کے وقفے کے بعد ڈی بدل دی گئی رخ بدل دیئے گئے۔ سیاست بٹیروں کی لڑائی کے کھیل کی مانند ہو گئی استادوں نے بٹیرے بدل لیے۔ نو آبادیات کے خاتمے کے بعد فوجوں کے ذریعے ملک فتح کرنے کے زمانے گزرنے کے بعد ملکوں کو معاشرت ، معیشت اور فکری اعتبار سے فتح کرنے کے دور کے آغاز سے کبھی بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اور قوتوں کی لیڈری کرنے والا امریکہ بہادر تیسری دنیا، اسلامی دنیا ، ترقی پذیر دنیا کے عوام پر حکومت کرنے کے لیے وفاداروں کی پشت پناہی کر کے قوموں پر مسلط کرتا رہا جو بادشاہت اور فوجی ڈکٹیٹروں کے ذریعے اس کے لیے آسان ہوتاتھا۔
پارلیمنٹ اور پارٹیوں کی قیادتوں کے چکر میں پڑنے کی بجائے ایک ڈکٹیٹر کے ذریعے پوری قوم کو ہینڈل کرنا اس کے لیے آسان کام تھا پھر ہوا یوں کہ شاہ ایران نے OPEC کی داغ بیل ڈال دی کہ پیٹرولیم کی قیمتیں پٹرول برآمد کرنے والے ممالک خود مقرر کریں گے اس کا یہ اقدام امریکہ کو انتہائی ناگوار گزرا ابھی اس ’’بغاوت‘‘ کے نتیجے میں امریکہ کا غصہ امریکی سیاسی فشار خون کو تہ و بالا کیے دے رہا تھا کہ شاہ ایران نے Petrolium based بننے والی یعنی خالص پٹرولیم کی بنیاد پر بننے والی تمام اشیا کے چھ ہزار کارخانے ایران میں لگانے کا نہ صرف عندیہ دیا بلکہ جاپان سے معاہدے بھی کر لیے کہ سیکڑوں ماہرین ایران آکر ایران کی رہنمائی کریں گے۔ مگر امریکی قدرت جس سے متاثر ہو کر اس کے زیر اثر ممالک کی قدرتیں اپنے اپنے ملک میں لائحہ عمل ترتیب دیتی ہیں کو کچھ اور منظور تھا۔ امریکہ نے شاہ ایران کو ہدف بنایا اور معاملات کی تہہ میں جائے بغیر اور آیت اللہ خمینی کو بہت زیادہ جانے بغیر شاہ کو نکالنے کی پالیسی پر عمل کیا۔ ظاہر ہے نعم البدل کے طو رپر آیت اللہ ہی نے آنا تھا سو وہ آئے امریکن اسٹیبلشمنٹ نے شاہ ایران کو باغی ہونے کی اتنی بھیانک سزا دی کہ اس کو اپنے وطن میں دفن تک نہ ہونے دیا۔ بظاہر یہ سب آیت اللہ کے انقلاب کے نتیجے میں ہوا مگر اس انقلاب کی اصل کامیابی شاہ کی ناکامی میں چھپی تھی جو امریکی اس کو OPEC اور پٹرولیم مصنوعات کی پروڈکشن کے کارخانے لگانے کی بغاوت جسے اقدام کی سزا کے طو رپر دینا چاہتے تھے۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ آزاد عوامی لیڈر شپ کے ذریعے امریکہ نے اپنا آدمی تبدیل کیا مگر حقیقی مالک کائنات کو کچھ اور ہی منظور تھا شاہ کے ساتھ ساتھ ایران سے امریکہ کو بھی رسوا ہو کر نکلنا پڑا تب سے امریکہ نے زیر تسلط ممالک میں اپنی عمل داری قائم رکھنے کے لیے اپنے آدمی نہیں بلکہ عوام میں تھوڑے یا بہت مقبول آدمی کو اپنا آدمی بنا کر اس سے معاملات طے کر کے اس کے ذریعے زیر اثر ممالک پر حکمرانی قائم کرنے کے نئے انداز پنائے۔ اگر کسی میں مقبول ہونے کی گنجائش موجود ہے تو مقامی قدرت کے ساتھ معاملہ کر کے اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کر دی جاتی رہیں چاہے پھانسی ہو، گولی
ہو، دہشت گردی ہو جلاوطنی مگر اس غلطی کو نہیں دہرایا گیا جس غلطی نے ایران میں امریکی ہدف بننے والے شاہ کے ساتھ ساتھ امریکہ کو بھی ایران سے نکالا اور اس کی پروردہ اسٹیبلشمنٹ یا قدرت بھی نکل گئی۔ یہی وتیرہ مقامی قدرتوں نے اپنے اپنے ممالک میں آزمایا کہ اگر براہ راست حکومت نہیں تو مقبول لیڈر شپ کے ذریعے معاملہ کرو جو آج تک کامیابی سے جاری ساری ہے جس کے نتیجے میں ان ممالک کی حالت بدتر بھی ہے اور قومی پہچان بھی معدوم ہوتی چلی گئی اور ان کا سارا سفر دائرے کا سفر ٹھہرا جس سفر میں ان کی روایات، معاشرت اور رواداری دم توڑتی گئیں مگر دائرے کا سفر آج بھی جاری ہے۔ کاش یہ دائرہ ٹوٹ جائے اور یہ سیدھے راستے میں بدل جائے جو قوم کو منزل تک پہنچا دے اگر پانچ سال گزرنے کے بعد بھی دائرہ نہ ٹوٹا تو ایک اور راہنما دائرے میں شامل ہو جائے گا اور سفر جاری رہے گا ملائیشیا، انڈونیشیا، ترکی حتیٰ کہ بنگلہ دیش کی سنی گئی اور دائرہ کا سفر ختم ہو گیا وجہ صرف یہ ہے کہ ان ممالک میں ایران جیسی ملائیت ، عرب ریاستوں جیسی ملوکیت اور وطن عزیز جیسی زمینی صورت حال نہیں ہے۔

مزیدخبریں