سرکاری محکمے: عوام کا خون چوسنے والی جونکیں
06 اگست 2018 2018-08-06

آج کل آپ حکومت پنجاب کے مختلف محکموں میں قائم کی گئی کمپنیوں کے متعلق پڑھ اور سن رہے ہوں گے۔ ان کے ذریعے نہایت بیدردی سے غریب عوام کے پیسے لوٹے گئے۔ اگر آپ ان کمپنیوں کے قیام کا جائزہ لیں تو آپکو ان کی بنیاد ہی لاقانونیت پر مبنی نظر آئیگی۔مثلاً ان میں پیسہ یعنی فنڈز تو پبلک منی ( Public money) سے لائے گئے لیکن ان رقوم کے آڈٹ سے متعلقہ محکموں کو ان کے پری آڈٹ (Preaudit) اور پوسٹ آڈٹ(Post-audit) سے ہی دور رکھا گیا۔کیا اس صوبے کے چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ، سیکرٹری فنانس اور چیف سیکرٹری کا فرض نہیں تھا کہ وہ اس لاقانونیت کے برپا ہونے کی راہ میں کھڑے ہوتے۔ لیکن یوں نظر آتا ہے کہ ان سے تو کسی نے جوابدہی تک نہیں کی۔ تقریباً تمام کمپنیوں میں افسران اور عملہ نے اپنی تنخواہیں لاکھوں میں مقرر کروا لیں ۔ لگثرری گاڑیاں خریدی گئیں ، نہ جانے وہ کس کس کے استعمال میں رہیں۔ مہنگے مہنگے کرایوں پر دفاتر لیے گئے۔ ان کمپنیوں میں عوامی نمائیندوں کو بھی اہم رول سے نوازا گیا اور انھوں نے بھی اس بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے ، اور یہ سب کچھ اس صوبہ کے چیف ایگزیکٹو یعنی وزیراعلیٰ کی آشیرباد سے ہو رہا تھا۔ سرکاری دفاتر میں سرکاری افسران کی اس سطح کی لوٹ مار کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔ان کمپنیوں کے کیسز ہائی کورٹ اور نیب دونوں میں چل رہے ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی اس کا نوٹس لیا تھا۔ اب انھوں نے یہ کیس نیب کے حوالے کر دیا ہے اور ان کا فرمان تھا کہ عوام کا پیسہ ان سب لوٹ مار کرنے والوں سے واپس لیا جائیگا۔
غریبوں کا پیسہ چند طاقتور وں نے لوٹ لیا۔ اس ملک میں لوٹا گیا پیسہ کب واپس آتا ہے اور وہ بھی جب لوٹنے والے طاقتور ہوں۔غریبوں کو حسب روایت صبرو شکر سے ہی کام لینا پڑیگا۔ میں نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ سرکاری نوکری میں بسر کیا۔ مختلف محکمے دیکھے۔ سول سیکرٹریٹ لاہور میں ایک لمبا عرصہ گزارا اور فیلڈ میں بھی سرکاری فرائض سرانجام دئیے۔ End of the dayمیں اس نتیجہ پر پہنچا کہ سرکاری محکمے عوام کا خون چوسنے والی جونکوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جونکیں بھی بے حس اور ظالم قسم کی۔ لیکن بدقسمتی دیکھیں کہ سرکاری محکموں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ آپ صرف پولیس کے محکمہ کی نئی پنپنے والی شاخوں پر نظر ڈال لیں۔ کوئی ڈولفن آ گئے ہیں ، کوئی Rapid response force قائم ہو گئی ہے۔ سرکاری محکموں پر عوام کے بہت وسیع اخراجات ہوتے ہیں۔ سرکاری محکموں کو قائم کرنے کی روح تو یہ تھی کہ عوام کی زندگی میں آسانیاں لائی جائیں۔انہیں کوئی مسئلہ ہو تو سرکاری محکمے ان کی مدد کو پہنچیں۔ لیکن کیا ایسا ہے ؟ اس ملک میں جس شخص کا واسطہ کسی سرکاری محکمہ سے پڑ جاتا ہے وہ اس اذیت کو پوری زندگی بھلا نہیں پاتا جس سے وہ گزرتا ہے۔یقین کریں دنیا کے کسی ملک میں اتنے سرکاری محکمے نہیں جتنے پاکستان میں ہیں۔ یہاں کے سرکاری محکمے دو قسم کے لوگوں کے مشترکہ کنٹرول میں ہیں۔ ایک اسملک کے سیاستدان اور دوسرے اس ملک کے افسران ۔ قوم کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان دونوں نے ایک غیر تحریر شدہ گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔مصیبت یہ ہے کہ ان سرکاری محکموں نے زندگی کے ہر شعبہ کو کو کچھ یوں کنٹرول میں لیا ہوا ہے کہ یہاں کے ہر باشی کا خواہی نہ خواہی ان سے واسطہ ضرور پڑ جاتا ہے۔
اور اس واسطہ کا انجام دیکھ کر مجھے مرزا غالب کا یہ مصرع یاد آ جاتا ہے ع جو تیری بزم سے نکلا سو پریشان نکلا۔ آپ کسی محکمہ کو سامنے رکھ لیں۔ یہاں مجھے ڈاکٹر عبدالحمید خیال( مرحوم) سابق سربراہ شعبہ انگلش گورنمنٹ کالج لاہور یاد آ رہے ہیں۔ایک دن ملاقات ہوئی تو خاصے اپ سیٹ نظر آئے۔وجہ پوچھنے پر ڈاکٹر صاحب پھٹ پڑے۔ کہنے لگے یار یہ واپڈا ایک محکمہ ہے یا عذاب خداوندی ہے۔کہنے لگے پہلے ان کے میٹر ہمارے گھروں کے اندر ہوتے تھے جن کی حفاظت کبھی ہم لکڑی کے ڈبے بنوا کر یا کسی اور طریقے سے کیا کرتے تھے۔ اس محکمے نے ہم پر عدم اعتماد کرتے ہوئے یہ کہہ کر کے کہ ہم ان سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں اپنے میٹرز کو گھروں سے باہر نکال کر کسی نزدیکی کھمبے پر اونچی جگہ لٹکا دیا ہے ۔ جہاں پرہمارے لیے اپنے میٹر کی ریڈنگ دیکھنا اگرً ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اس محکمہ کی یہ حرکت اس بات کی واضح غمازی کرتی ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر خیال قابل بھروسہ نہیں لیکن ان کا میٹر ریڈر قابل اعتماد شخصیت ہے۔اب انہوں نے ایک لمبا چوڑا بل بھیج دیا ہے جسے دیکھ کر سارا گھر پریشان ہوگیا ہے۔ وجہ معلوم کرنے کے لیے محکمہ سے رابطہ کیا گیا ہے تو بتایا گیا کہ یہ estimated بل ہے کیونکہ آپ کا میٹر خراب ہے۔ جب تک نیا میٹر نہیں لگے گا اسی طرح estimated بل آتے رہیں گے۔ نیا میٹر لگوانے کا معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہ ایک علیحدہ گورکھ دھندا ہے۔نیا میٹر لگوانے کے لیے کئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں جن میں ایک آپشن پیسوں کا لین دین بھی ہے ۔کوئی ان سے پوچھے کہ کیا ہم نے اپنے گھر کا میٹر خراب کیا ہے۔ لیکن قہر درویش بر جان درویش ۔ یہ سب کچھ ہمیں کرنا ہوگا۔یہ تو اس ملک کے ایک محکمہ کی کارکردگی ہے جسکا سامنااس ملک کے شہریوں کو عموماً کرتا پڑتا ہے۔میرے ذاتی علم میں ہے کہ اس ملک کے کئی پرائیویٹ گروپس اپنی بجلی پیدا کرنے کے پلانٹس لگا کرکے لوگوں کو سستی اور چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کرنا چاہتے ہیں لیکن اس میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت خود اور سرکاری محکمہ واٹر اینڈ پاور ہیں۔ابھی حال ہی میں ایک پرائیویٹ ہاوسنگ سوسائٹی نے اس ضمن میں بہت کوشش کی۔ ان کا پلان تھا کہ ان کی سوسائٹی اپنا بجلی کا پلانٹ لگا کر اپنے رہائشیوں کو سستی اور چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کرے لیکن محکمہ واٹر اینڈ پاور نے ان کی ایک نہ چلنے دی۔ کا ش آنے والی حکومت اس محکمہ کو پرائیویٹ کر دے تاکہ خلق خدا اسی طرح ٹینشن فری ہو کر اپنی مرضی کی کمپنی کی بجلی استعمال کرسکے جیسے وہ آجکل مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکج استعمال کرتے پھرتے ہیں۔ آپ اس ملک کے جس ادارے پر نظر ڈالیں آپ کو مخلوق خدا کے پریشان چہرے نظر آئینگے۔ آپ ایک نظر لاہور شہر کے ادارے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA ) پرہی ڈال لیں ۔
اس ادارے سے گھر کا نقشہ منظور کروانا بھی کاردارد ۔ اس کے ملازمین نے سرکاری فیس کے علاوہ اپنی بھی ایک فیس مقرر کر رکھی ہے ۔ اگر آپ ان کی فیس دینے سے اجتناب کریں گے تو پھر آپ کے اس ادارہ کے پھیرے شروع ہو جائیں گے۔کمال تو یہ ہے کہ اگر آپ اس شہر کی کسی پرائیویٹ سوسائٹی میں بھی مکان تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو وہ سوسائٹی بھلے ایل ڈی اے کے پیرا میٹر ز کے مظابق آپ کا نقشہ منظور کر دے لیکن فائنل منظوری ایل ڈی اے ہی دیگا۔ انگریزی میں کہتے ہیں Last but not the least، وہ ہے اس ملک کا پولیس ڈیپارٹمنٹ۔آپ کا ہر ہمدرد اور آپ سے پیار کرنے والا ہمیشہ آپ کو یہی دعا دیگا کہ اللہ آپ کا اس محکمہ سے واسطہ نہ ڈالے۔ کس کس کا رونا روئیں۔لوگ کہتے کہ اس ملک میں تبدیلی آنے والی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تبدیلی بہر حال اچھی ہوتی ہے۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔کافی لوگوں کا یہ خیال ہے کہ عمران خان گزرے لیڈران سے بہر طور بہتر ہو گا ، لیکن سچ پوچھیں عمران خان کا تعلق بھی تو اس ملک کی اشرافیہ سے ہے۔ اس نے زندگی کا کوئی حصہ بھی اس ملک میں ایک عام شہری کے طور پر نہیں گزارا۔ اسے غریبوں اور عام شہریوں کے مسائل کا ادراک کیسے ہو سکتا ہے لیکن پھر بھی اچھی امیدیں رکھنا ہی مثبت رویہ ہے۔نئی حکومت کو چاہیے کہ اس ملک کے عوام کی غیر ضروری سرکاری محکموں سے جان چھڑا دے تاکہ وہ سکھ کا سانس لے سکیں۔ظاہر ہے اس کام میں سب سے بڑی رکاوٹ خود سرکاری محکمے ہونگے کیونکہ وہی تو غریب عوام کے خون پر پل رہے ہیں۔یقین کریں اس سے عوام کی زندگیوں میں ایک خوشگوار تبدیلی آ جائیگی۔


ای پیپر