بلوچ غداروں پر بھارتی انعام و اکرام کی بارش
06 اگست 2018 2018-08-06

بھارت کی طرف سے ہمارے کچھ ناراض دوستوں خاص کر بلوچستان کے سادہ لوح اور سچے پاکستانیوں کو بہکانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگرچہ ابھی تک دشمن کو کامیابی نہیں ملی تاہم بھارت اپنی نیت اور کوشش میں مصروف ہے۔کبھی تو وہ براہمداغ کو لیڈر بنا دیتا ہے ،کبھی حربیار کو عظیم سیاست دان اور رہنما بنا کر پیش کر تاہے اور کبھی نائلہ قادری کو بلوچوں کی نمائندہ تسلیم کر وانے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارت خود کو بلوچوں کا لیڈر کہنے والے ان ایجنٹوں کو اْکساتا ہے۔ انہیں پاکستان کی مخالفت کے بدلے شہرت، دولت اور حکومت کے باغ دکھائے جاتے ہیں۔
بھارت کی طرف سے اِن چند مفاد پرستوں اور حکومت کے خواہشمند شرپسندوں کو ہر قسم کا تعاون فراہم کیا جاتا ہے اور ان کی سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر بھرپور پذیرائی کی جاتی ہے۔ ان کی تنظیمیں بنائی جاتی ہیں۔ فنڈز کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ سہولیات اور مراعات دی جاتی ہیں اور بھارت کی طرف سے سرکاری سطح پر کھلم کھلا ان کی تائید کی جاتی ہے۔ بلکہ یہاں تک کہ بھارت کا دہشت گرد وزیراعظم مودی بلوچستان کے بارے میں بیانات دیتا ہے۔بھارت نے بلوچستان میں اپنی سازشی پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے حال ہی میں چند غداروں کو اکٹھا کر کے ایک اور شرپسند تنظیم’’ ہند بلوچ فورم‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اس فورم کا صدر پون سنہا اورجنرل سیکریٹری سوامی جیتندر سراوستی ہے۔ اس کا پہلا اجلاس ہوٹل پاور ڈ پلازہ فتح آبادروڈ آگرہ اتر پر دیش میں ہوا ۔مقر رین میں میجر جنرل ریٹائرڈ جی ڈی بخشی ، کرنل آر ایس این سنگھ جو کہ’’ را ‘‘کا سابق اہلکار ہے، شامل تھے۔ اس کے دیگر ارکان پشپندراکلر ستھا ،گو ویندا شرما اور گنگا مہا سبھاہیں۔ ’ ہند بلوچ فورم ‘‘بھی اسی مقصد کے لیے بنائی گئی ہے کہ بلوچستان میں بد امنی پیدا کرے۔ اس کے پہلے اجلاس کا موضوع ہی یہی تھا کہ’’ بھارت اور بھارتی بلوچستان کی آزادی میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں‘‘ اس وقت بھارت کے اس تمام پروپیگنڈے اور بلوچستان کے بارے میں اْس کے لائحہ عمل اور اس میں تیزی کی ایک وجہ سی پیک کو بھی سبوتاژ کرنا ہے۔ اگر چہ یہ واحد وجہ نہیں ہے بھارت اس سے پہلے بھی بلوچستان میں بدامنی اور دہشت گردی کا شرمناک کھیل کھیلتا رہا ہے لیکن ہماری حکومتوں نے اس طرف وہ توجہ نہیں دی جو دینی چاہیے۔ نہ ہی بھارت کے پروپیگنڈے کا توڑ بھر پور انداز میں کرنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی بلوچستان کی ترقی کی طرف وہ توجہ دی گئی جس کی ضرورت ہے۔ البتہ بلوچستان کے محب وطن عوام آج تک بھارت کے ارادوں کی راہ میں اڑے ہوئے ہیں اور یہی اْس کی ناکامی کی وجہ ہے تاہم ان کی مزید آزمائش کسی طور بھی دانشمندی نہیں۔
اسی طرح کی اور سازش ، ہندوستان میں سرکاری نشریاتی ادارے پرسار بھارتی کا کہناہے کہ آج آل انڈیا ریڈیو کی بلوچی سروس کیلئے ایک نئی ویب سائٹ اور موبائل ایپ متعارف کرائی جارہی ہیں۔ اس سروس کو متعارف پرسار بھارتی کے چیئرمین سوریا پرکاش خود کرینگے۔ بلوچی سروس کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے سے نہ صرف افغانستان اور پاکستان میں سننے والوں کیلئے نشریات کا معیار بہتر ہوگابلکہ دیگر ممالک میں بلوچی بولنے اور سمجھنے والوں کو بھی اس سروس تک رسائی مل سکے گی۔ ہند بلوچ فورم ہو یا وہاں کام کرنے والے دیگر ملک دشمن، سب کی پہچان کرنا اور کروانا انتہائی ضروری ہے اور یہ بھی باور کرانا ضروری ہے کہ ان کی آزادی ویسی ہی ہے جیسے پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخواہ کی ہے۔ بھارت کو بلوچوں سے نہ ہمدردی ہے نہ دلچسپی۔ اْنہیں شکار چاہیے اور پاکستان کو نقصان پہنچانا اْن کا پہلا مقصد ہے لہٰذا ہمیں اپنی حفاظت خود کرنی ہے اور بر وقت کرنی ہے۔ بلوچی علیحدگی پسندوں کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ بھارت صرف ہمیں استعمال کر رہا ہے۔ بلوچ قوم پرست رہنما حربیار مری کا کہنا ہے کہ وہ بلوچ جن کی زندگی کو خطرہ ہے انھیں کسی بھی ملک میں اگر پناہ ملتی ہے تو لینی چاہیے لیکن اگر بلوچ غیر ضروری طور پر انڈیا میں سیاسی پناہ لیں تو اس کے اثرات ٹھیک نہیں ہوں گے۔آزادی کے لیے بھارت سے کبھی مدد نہیں مانگیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے ان بلوچوں کے لیے آواز اٹھانی چاہیے جو مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔بھارت تو اس انتظار میں ہے کہ نام نہاد بلوچ لیڈر ہندوستان میں پناہ کیلئے باضابطہ درخواست دیں تو چند ہفتوں میں انہیں پناہ دیدی جائے گی۔ کچھ بلوچ قوم پرست یہ سمجھتے ہیں کہ جنیوا میں مقیم بلوچ ریپبلیکن پارٹی کے جلاوطن سربراہ براہمداغ بگٹی کی طرف سے انڈیا میں سیاسی پناہ کی درخواست کے فیصلے کا بلوچوں کی آزادی کی تحریک پر منفی اثر پڑے گا اور یہ کہ اس سے پاکستان کے ان الزامات کو شاید تقویت ملے کہ بلوچستان میں آزادی کی کوئی تحریک نہیں بلکہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے؟
بھارت بلوچستان کو اپنے لیے ایک آسان ہدف سمجھتا ہے یہ اور بات ہے کہ ستر سال سے مسلسل سازشوں کے باوجود بھی اسے کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی ہوگی لیکن اس پروپیگنڈہ اور سازشوں سے پاکستان کے لیے امن و امان کے مسائل ضرور کھڑے ہو جاتے ہیں۔ نفرت اور بدامنی کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ اگرچہ بھارت سازشیں صرف بلوچستان میں نہیں کر رہا بلکہ شمال مغربی صوبے کے پی کے، مشرق میں پنجاب ، جنوب میں سندھ خصوصاً کراچی غرض ہر علاقے ہر طرف فساد پھیلانے میں مصروف ہے تاہم بلوچستان پر اْس نے اپنی توجہ بھر پور طریقے سے مرکوز کی ہوئی ہے۔ اس صوبے میں اْس کی مداخلت کے بہت سارے ثبوت ملے ہیں اور موجود ہیں۔ اْس کے جاسوس کلبھوشن یادیونے پوری دنیا کے سامنے میڈیا پر اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ وہ بلوچستان میں گڑ بڑ پھیلانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔اس نے کراچی اور دیگر شہروں میں بھی اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔
بھارت سرکار دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے اگر چہ اْس کے شر سے اس کا کوئی پڑوسی محفوظ نہیں لیکن پاکستان کے معاملے میں تو اْ سے گو یا کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اس کے پس پردہ امریکہ، اسرائیل اور دوسری مسلم دشمن قوتیں جو اسے پاکستان کے خلاف ہر سازش ، پروپیگنڈہ، ہرغلط کام کیلئے ہلہ شیری دیتی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم سے لے کر ایک عام وزیر تک ہر ایک ووٹ پاکستان مخالفت پر لیتا ہے۔ وہاں ہندو شدت پسند تنظیمیں کھلم کھلا پاکستان کے خلاف زہراْگلتی ہیں یہ لوگ تو اپنے مسلمان شہریوں کو بھارت میں جینے کا حق بھی نہیں دیتے۔ ان کے ہاں چلنے والی درجن بھر آزادی کی تحریکیں اِس بات کا ثبوت ہیں کہ اْس کے شہری بری طرح بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ جس کے لیے وہ آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اْن کے جو حقوق دوسرے ضبط کر رہے ہیں وہ اْنہیں حاصل ہو سکیں اور انہی مسائل اور اپنے اسی اصلی چہرے سے دنیا کی نظریں او رتوجہ ہٹانے کے لیے وہ اپنے پڑوس میں مسائل کھڑے کرتا ہے۔


ای پیپر