ظلم سہنے کا جشن آزادی

06 اگست 2018

میر معید

آزادی بڑی نعمت ہے۔ مغلوب قوم کا دکھ سن سینتالیس سے پہلے بڑے بزرگوں کی داستانیں پڑھیں روح کانپ جاتی ہے۔ بنیے کی مکاری مسلمانوں کو اس اقلیت میں تبدیل کر چکی تھی جس پر معاشی و معاشرتی ظلم کی انتہاء کر دی گئی ہو۔ چونکہ سنتالیس سے پہلے نہ ہماری حکومت تھی، نہ پولیس تھی نہ عدالت اور نہ ہی ہم ہم تھے۔ہماری حیثیت بنیے کے معاشرے میں شودر سے بھی کم تھی۔ ایک مسلمان کی جان ایک گائے کی جان سیکم تر تھی ہندو بڑا تھا مسلمان چھوٹا۔ اس کا مندر محفوظ تھا اور مسلمانوں کی مساجد خون کی ہولی کھیلنے کا اکھاڑہ۔ پھر اس سسکتی قوم کو قائد کا سہارا اور اقبال کا فہم مل گیا۔ پاکستان کا نعرہ لگا خون پانی کی طرح بہایا گیا
مگر آزادی کے پروانوں کے دل یکسو تھے کٹتے رہے مگر منزل کی طرف آگے بڑھتے رہے۔ کس کے لیے ؟ میرے اور آپ کے لیے۔ آنے والی نسلوں کے لیے۔۔۔اور پھر آزادی مل گئی۔ لیکن آزاد ملک محکوم اور تعفن زدہ بدبودار زھنوں کے ہاتھ لگ گیا۔ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں مقدس گائے بھی آ گئی، لالچی سامراج کے بت بھی اور بنیے کے مکار معاشی پھندے بھی۔ غریب غریب سے غریب تر ہوتا گیا اور امیر امیر ترین۔ امیر براہمن زات کا اونچا درجہ پا گیااور غریب شودر سیبھی بد تر۔ لیکن بد ترین آزادی بہترین غلامی سیبہتر ہے۔ اس بد ترین آزادی میں بھی خیر اور امید کے دئے جھلملارہے ہیں۔ اس بد ترین اسلامی معاشرے میں مسلمانوں کے پاس اچھے پاک صاف اسلامی معا شرے کو پروان چڑھانے کا روشن راستہ میسر ہے۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آزاد اسلامی مملکت حاصل کرنے سے لے کر آج تک غریب سسکتی عام عوام نے ظلم ہی ظلم سہا ہے پہلے پرایوں کا اور پھر اپنوں کا ۔ اور اپنوں کے بچھائے کانٹے غیروں کے لگائے زخموں سے زیادہ تکلیف دیتے ہیں
آج جشن آزادی پر آزاد خود مختار امیروں کے نام آزاد ریاست میں آسانیاں بانٹنے والوں کے نام ظلم و استبداد سہنے والے غریبوں محکوموں کی اور میری گریہ زاری پر بات ختم کرتے ہیں
آسانی ۔۔۔کل بھی ہم ۔۔۔اور تم ۔۔۔ظلمتوں کی چکی میں ۔۔۔یوں ہی پیسے جاتے تھے ۔۔۔اور اب بھی پستے ہیں ۔۔۔ کل بھی سینکڑوں مائیں ۔۔۔ اپنے لال تاروں کو کٹتے دیکھ کر یوں ہی۔۔۔ روز رویا کرتی تھیں ۔۔۔ آج بھی وہی ماتم ! ۔۔۔ کل بھی ناریاں یوں ہی ۔۔۔ عصمتیں بچانے کے ۔۔۔ خوف لے کے سوتی تھیں ۔۔۔ اور کچھ درندے تھے ۔۔۔ جو کہ پھول کلیوں کا ۔۔۔ شکار کھیلا کرتے تھے ۔۔۔ آج بھی وہی شکرے ! ۔۔۔ کل بھی میرے بچوں کے ۔۔۔ ننھے منھے ہاتھوں کا ۔۔۔ اوزار ہی کھلوناتھے ۔۔۔ گالیاں مقدر تھیں ۔۔۔ آج بھی وہی کچھ ہے ۔۔۔ لیکن ! ۔۔۔ ذراسوچو تو۔۔۔ کل کی داستانوں میں ۔۔۔ اور اب کے دکھڑوں میں ۔۔۔ کوئی تو فرق بھی ہے ۔۔۔ آج کچھ آسانی ہے !! ۔۔۔ کل جو ہم پستے تھے ۔۔۔ چکیاں تھیں دوجوں کی ۔۔۔ کل جو خون بہتا تھا ۔۔۔گولیاں تھیں دوجوں کی ۔۔۔ کل جو میری عزت کے ۔۔۔ پاک صاف دامن کو ۔۔۔ تار تار کرتے
تھے۔۔۔ سیاہیوں سے بھرتے تھے ۔۔۔ وہ بھی لوگ دوجے تھے ۔۔۔کل جو میرے بچوں کی ۔۔۔ کتابیں چھینا کرتے تھے ۔۔۔ کھلونے توڑا کرتے تھے ۔۔۔ سارے یار! ۔۔۔ دوجے تھے !! ۔۔۔ آج سارے اپنے ہیں ۔۔۔ ہاں آج سارے اپنے ہیں ۔۔۔ گولیاں بھی اپنی ہیں ۔۔۔ چکیاں بھی اپنی ہیں۔۔۔ بیکس جوان ناری کے ۔۔۔ انگارہ جسموں کی ۔۔۔ آگ کھینچنے والے ۔۔۔ گھاٹ بھی تو اپنے ہیں ۔۔۔ اور میرے بچوں کی ۔۔۔ کتاب چھیننے والے ۔۔۔ کھلونے توڑنے والے ۔۔۔ ہاتھ بھی تو اپنے ہیں ۔۔۔ کسقدر آسانی ہے ۔۔۔ آج ظلم سہنے میں ۔۔۔ کل جو ظلم سہتے تھے ۔۔۔ دوسروں کی ٹھوکر سے ۔۔۔ آج اپنے جوتوں سے ۔۔۔ خود پے ظلم کرتے ہیں۔۔۔ اور ظلم سہتے ہیں ۔۔۔ کسقدر آسانی ہے ۔۔۔ آج ظلم سہنے میں ۔۔۔ کسقدر آزادی ہے ۔۔۔ آج ظلم سہنے میں

مزیدخبریں