ماضی،حال اور مستقبل
06 اگست 2018 2018-08-06

کہا جاتا ہے کہ جتنی محنت کوئی مقام حاصل کرنے کے لئے کرنی پڑتی ہے اس سے زیادہ اس کو برقراررکھنے کے لئے کرنی پڑتی ہے ۔اسی طرح جب ہم گوادر بندرگاہ کی بات کرے تو ہم نے انتھک محنت سے اس کو بنا تو لیا ہے لیکن اس کو دنیا کی بہترین بندرگاہ بنانے کے لئے پہلے سے بھی زیادہ محنت کرنا پڑے گی۔گوادر بلوچستان کا ایک اہم ضلع ہے جوکہ ایک طویل ساحل پر محیط ہے۔گوادر بندرگاہ بننے کے بعد اس کی اہمیت نہ صرف پاکستان بلکہ دوسرے ملکوں کے لئے بھی بہت اہم ہے۔یہ بندرگاہ تجارت کا ایک ایسا مرکز ہو گی جس پر تما م ملکوں کی نظر ہو گی۔خاص کر یہ بندرگاہ چین کے لئے بھی بہت اہم ہو گی۔ایک اندازہ کے مطابق 1964ء میں گوادر کو بندرگاہ کے لئے موزوں قرار دیا گیا۔لیکن اس کے بعد اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔اس کے بعد 2002ء میں چین کے تعاون سے بندرگاہ کی تعمیرکا آغاز کیا گیا۔اگر اس پر پہلے توجہ دی جاتی تویہ کب کی بندرگاہ بن گئی ہوتی اور ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی۔
اگر ہم چین کی بات کرے تو یہ واضح ہے کہ کاشغر (چین(سے گوادر کا فاصلہ تقریباً 1500کلو میٹر ہے۔اس کم فاصلے کے ساتھ ساتھ چین کو ایک ایسی جگہ مل جائے گی جہاں وہ ان ملکوں کے ساتھ آسانی سے تجارت کر سکے گاجن ممالک میں دنیا کے سب سے زیادہ تیل کے ذخائر موجود ہیں۔گوادر بندرگاہ کے ذریعے چین کو صرف تیل درآمد کرنے پر اربوں ڈالر کی بچت ہو گی اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی اربوں ڈالر کی آمدن ہو گی۔اگر تیل درآمد کرنے پر پاکستان اور چین کو اتنی بچت ہو گی تو جب دوسری بہت سی اشیاء کی تجارت ہو گی تو یہ معیشت کا مرکز بن جائے گی۔
اگر حکومت گوادر کی بندرگاہ پر مکمل توجہ دے تو اس سے بہت بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا ہو ں گے۔اس وقت ہمارے ملک کو درپیش مسائل میں سے اہم مسئلہ بے روزگاری کا بھی ہے۔ اس بندرگاہ کے ذریعے لاکھوں خاندانوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوں گے جس سے بے روزگاری کم ہو گی۔یہاں ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس بندرگاہ پر وسطی ایشیا کی ریاستوں کو مکمل سہولیات فراہم کرکے ہم اپنی ملکی آمدن میں اربوں ڈالر کا اضافہ کر سکتے ہیں۔
گوادر بندرگاہ کا شمار دنیا کی گہری ترین بندرگاہ میں ہوتا ہے ۔یہ دنیا کے سب سے بڑے تجارتی راستے پر واقع ہے۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ایسی جگہ واقع ہے جہاں دنیا کی ایک بڑی تجارت ہو گی۔وہ وقت دور نہیں جب یہ بندرگاہ دنیا کے اہم ترین ممالک کے نگاہ کی مرکز بن جائے گی اور ہر ملک کے سرمایہ کار یہاں آکر سرمایہ کاری کریں گے۔گوادر بندرگاہ جو کہ اب آپریشنل ہو چکی ہے حکومت کا اب فرض ہے کہ اس کو جلد از جلد مکمل طور پر آپریشنل کرے ۔جب یہاں مکمل طور پر کام شروع ہو گا تو وطن عزیز میں خوشحالی آئے گی۔اب حکومت کو چاہیے کہ اس منصوبے پر زور دے اور مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں اور اس کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں کے لوگوں کو یکساں سہولیات اور بنیادی حقوق فراہم کئے جائیں۔لوگوں میں یہ شعور پیدا کیا جائے کہ ہمیں ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے ۔جب ملک کی بات آجائے تو ہمیں ہر قسم کا تعصب چھوڑدینا چاہیے۔دوسرے ملکوں کے سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ یہ ایک پرامن ملک ہے اور آپ بغیر کسی خوف کے یہاں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہمیں علاقائی تعصب سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا۔اگر ہم علاقائی تعصب کو ختم کر دیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ہمیں اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا لینی چاہیے ہم صرف اور صرف پاکستانی ہیں اور ہمیں ملکی ترقی کے لئے دن رات محنت اور نیک نیتی سے کام کرنا ہو گا۔جب ہم ملک کے بارے میں سوچیں گے تو علاقائی تعصب بھی خو د بخود ختم ہو جائے گا۔
علاقائی تعصب ایک ایسا مسئلہ ہے ۔جس پر قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی بہت زور دیاہے ۔قائد اعظم محمد علی جناح اپنی بہت سی تقریروں میں واضح طور پر کہا تھا کہ کوئی بھی ملک علاقائی تعصب کو ختم کئے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا کہ میں پاکستانی عوام کوباربار نصیحت کرتا ہوں کہ ہمیں علاقائی تعصب کو ختم کرنا ہوگا اور پاکستان میں رہنا والا ہر شخص اپنے آپ کو صرف اور صرف پاکستانی سمجھے۔علاقائی تعصب ختم کرکے ہم اپنے آپ کو ترقی یافتہ قوموں میں شامل کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ ہمارے ملک کو درپیش مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ دہشت گردی کا بھی ہے۔یہی وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے دوسرے ملکوں کے سرمایہ کار اس ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے ڈرتے ہیں۔ہمیں دہشت گردی پر مکمل طور پر قابو پانا ہو گا۔جب یہ مسئلہ حل ہو جائے گا تو باہر سے خود بخود سرمایہ کار ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے آئیں گے۔ ہمیں اپنے اندر پائی جانی والی نفرتوں کو دور کرنا ہو گا۔اگر ہم سب نفرتوں کو چھوڑکر ایک ہو جائیں تو بہت جلد ہما را ملک بھی ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔


ای پیپر