یوم شہدا پولیس: ایک شاندارروایت کا آغاز
06 اگست 2018 2018-08-06



شہدا کسی بھی قوم کے ہیرو ہوتے ہیں اور وہ قومیں اور معاشرے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جو اپنے شہدا کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہیں ۔ الحمدللہ پاکستان کا شمار بھی ایسے ممالک میں ہوتا ہے کہ جس کی آبیاری ، تحفظ اور ترقی کے پیچھے ہزاروں شہدا کا خون شامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر اب تک دشمنوں کی دشمنی، ملک میں بیٹھے بڑے بڑے اکاؤنٹس اور جائیدادیں بنا نے کے باوجود بھی اس دھرتی سے فراڈ کر نے والے گُھس بیٹھیوں کی سازشوں اور حرام خوروں کی خرام خوریوں کے باوجود بھی سلامت وقائم ہے اور روز بروز ترقی کی مناز ل طے کرتا جا رہا ہے ۔ عام عوام سمیت فوجی جوانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت پولیس کے ملازمین و افسران کی بھی شہادتوں کی ایک طویل فہرست ہے جو ملک کے اندرونی دشمنوں کے خلاف بر سریپکار ہوتے ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ دشمنوں کی دشمنی کا نشانہ بن کر ہماری بیویاں بیوہ اور بچے یتیم ہو سکتے ہیں پھر فرنٹ لائن پر کھڑے ہو کر اپنے فرائض منصبی بخوبی سر انجام دیتے ہیں ۔
قارئین !پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کر نے والے ادارے تو اپنے شہد ا کی یاد منا نے کے لئے ہر سال کسی تقریب کا اہتما م کرتے ہیں لیکن محکمہ پولیس افسران کی عدم توجہی اور ایک خاص مقصد میں مگن رہنے کے باوجود پولیس کے شہدا اور ان کے لواحقین یکسر نظر انداز ہوتے آئے ۔ شہدا کے لواحقین اپنے حقوق کی خاطر کلرک مافیا کی حرام خوری کے سہارے ہوتے اور اپنے جائز کاموں کے لئے مختلف دفاتر کے دھکے کھا کھا کر ذلیل و خوار ہو جاتے ہیں اور بالآخر تھک ہار کر اپنے پیاروں کی شہادت کے غم میں مزید غمگین ہو کر اپنے نصیب کو کوستے رہتے تھے۔ بھلا ہو ایاز سلیم جیسے پولیس افسران کا جنہوں نے اس روایت کو ختم کیا اور جدید طریقے استعمال کرتے ہوئے شہدا اور ان کے لواحقین کو عزت دینے کا سلسلہ شروع ہوا اور فوری طور پر ان کے حقوق ملنا شروع ہو گئے۔
یہ انہی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ نیشنل پولیس فاؤنڈیشن نے پچھلے سال سے یوم شہدا پولیس منانے کا آغاز کیا اور پولیس کے 15اداروں کے شہدا کی یاد منانے کے لئے ایک شاندار روایت کی شروعات کی اور پچھلے سال کی طرح اس سال پہلے سے مزید بہتر طریقے سے اسے کامیاب بنا نے میں لاہور پولیس کے افسران نے اپنا بھر پور کردار اداء کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال الحمرا کے وسیع و عریض ہال میں جہاں یوم شہدا پولیس میں شہدا کے لواحقین ، پولیس ملازمین، سینئیر صحافی ، وکلااور دانشوروں کے ساتھ کثیر تعداد میں حکومتی ذمہ داران بھی موجود تھے ۔ وزیرا علیٰ پنجاب ،وزیر داخلہ ، وزیر قانون سمیت کئی وزرا ء اور بیوکریٹس کی موجودگی تقریب کو چار چاند لگا رہی تھی۔ بلاشبہ جس میں آئی۔جی پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام ، سی۔سی۔پی۔او لاہور ، بی۔اے ناصر، ڈی۔آئی۔جی آپریشنز ، شہزاد اکبر ، چیف ٹریفک افسر لاہور کیپٹن لیاقت علی ملک اور ایس۔ایس۔پی آپریشنز اسد سرفراز کی کاوشیں لائق تحسین ہیں ۔
قارئین محترم !وزیر اعلیٰ پنجاب جو خود ایک استاد اور صحافی ہیں ، انہوں نے اپنے گفتگو میں بہت ہی مدلل انداز میں ایثار، قربانی ، مقصدیت ارو شہادت کی تاریخی اعتبار سے مثالیں دیتے ہوئے آج کے زمانے کا ذکر کیا اور شہدا پولیس کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی قربانیوں کو فراموش کر نے کا مطلب ہے کہ ہم اپنے آپ کو فراموش کر رہے ہیں۔ انہوں نے پولیس کے ملازمین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی ذمہ دایوں کو پروفیشنل طریقے سے سر انجام دیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید بہتری لاتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ضرور کام کریں ۔ ایسے انداز سے عوام کے ساتھ رشتہ استوار کریں کہ عام آدمی پولیس سے خوفزدہ نہ ہوں بلکہ آپ کی عزت کرے۔
آئی۔جی پنجاب سید کلیم امام نے بھی مختصر مگر جامع گفتگو میں اس بات کا اعادہ کیا کہ آج کا دن پنجاب پولیس کے لئے سیکھنے کا دن ہے کہ کیا ہم ایمانداری کے ساتھ کام کر رہے اور کیسے لوگوں کے مزید کام آسکتے ہیں؟۔انہوں نے اس موقع پر اپنے ماتحتوں کو اس بات کی تلقین بھی کی کہ ایمانداری کے ساتھ کام کریں ، یہ دیکھیں کہ لوگوں کہ کس کام آسکتے ہیں۔انہوں نے شہدا کے لواحقین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے بھائی اور والد کی طرح ہیں ۔ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ سی۔سی۔پی۔او لاہور بی۔اے ناصر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لاہور پولیس کے 305شہدا ء کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن شہیدوں کی یاد کو زندہ کر نے کا دن ہے ۔ شہید زندہ ہے تو ملک و ملت زندہ ہے ۔ انہوں نے اس بات کا عہد بھی کیا کہ ہم شہدا کے قربانیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے ۔ چیف ٹریفک افسر لاہور کیپٹن لیاقت علی ملک کی گفتگو بھی حاضرین محفل کے اندر ولولہ اور جوش پیدا کر رہی تھی ۔ شہدا کے بچوں عاتکہ ، علی حسنین اور ہادیہ مصدق کی گفتگو مجھ جیسے سخت دل انسانوں کی آنکھوں کو نم کر گئی ۔ ڈی۔آئی۔جی آپریشنز شہزاد اکبر اور ایس۔ایس۔پی آپریشنزاسد سرفراز سمیت تما م پولیس افسران و ملازمین کی مہمان نوازی بھی دیکھنے کے قابل تھی ۔
قارئین محترم !شاعر نے کن خوبصورت لفظوں میں قوموں کی بقاء کا ذکر کیا ہے کہ شہید کی جو موت ہے ، وہ وقوم کی حیات ہے ، ہمیں فخر ہونا چاہئے کہ ہم ہزاروں شہدا کے وارثین ہیں ۔ وہ شہدا جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مملکت عظیم کو مزید عظیم تر بنا یا اور اپنا لہو دے کر قوم اور ملک کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حیات بخش دی ۔ بلاشبہ لاہور پولیس کے افسران کی جانب سے یوم شہدا پولیس کا اہتمام ایک شاندار روایت کا آغاز ہے ۔ اس سے جہاں شہدا کے لواحقین میں جذبہ محبت پیدا ہو گا وہاں شہدا کی یاد بھی زندہ و جاوید رہے گی۔


ای پیپر