فوٹوبشکریہ فیس بک

جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس :چیف جسٹس کا اومنی گروپ کے مالک کے وکلاء کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم
06 اگست 2018 (12:43) 2018-08-06

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان نے جعلی بینک اکاﺅنٹس ازخود نوٹس کیس میں اومنی گروپ کے مالک انور مجید کے وکلاء کے خلاف رجسٹرار کو انکوائری کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پولیس کو بلائیں ان وکیلوں کے خلاف مقدمہ درج کریں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاﺅنٹس از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان میاں محمد ثاقب نثار نے کی ۔اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عدالت میں موقف اپنایا کہ طارق سلطان کے نام پر 5 بینک اکاﺅنٹس ہیں اور مشکوک ٹرانزیکشنز 29 جعلی اکاﺅنٹس کے ذریعے کی گئی، ٹرانزیکشنز سمٹ ،سندھ اور نجی بینکوں کے اکاﺅنٹس کے ذریعے سے کی گئی جبکہ اومنی اکاﺅنٹس کے ذریعے رقم زرداری گروپ کو منتقل کی گئی اور فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ نے مشکوک ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اومنی گروپ نے رقم جمع کرائی تو اکاﺅنٹ جعلی کیسے ہوگئے ؟جس پر بشیر میمن کا کہنا تھا کہ اکاﺅنٹ ہولڈرز کو اپنے اکاﺅنٹس کاعلم ہی نہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا تمام 29 بینک اکاﺅنٹس جعلی ہیں۔

دوران سماعت جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آخر جعلی بینک اکاﺅنٹس سے رقم گئی کہاں؟ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جعلی بینک اکاﺅنٹس سے رقم واپس اپنے اکاﺅنٹس میں منتقل کی گئی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ رقم منتقلی کی وجہ کیا ہے ؟ جسٹس ثاقب نے ریمارکس دیئے کہ جعلی اکاﺅنٹس کھول کر کالا دھن جمع کرایا گیا۔ واضح کریں آخر رقم گئی کہاں ہے ؟ بشیر میمن کا کہنا تھا کہ جعلی اکاﺅنٹس سے ہزراوں ٹرانزکشنز ہو ئیں۔ جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 35ارب کی ٹرانزکشنز ہو ئیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے پاس لسٹ آنی چاہئے کہ اکاﺅنٹس کس کس کے ہیں، دیکھنا ہے جعلی اکاﺅنٹس سے کس کو فائدہ ہوا۔

وکیل خالدرانجھا نے عدالت میں موقف اپنایا کہ اومنی گروپ کی 15 کمپنیاں ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اومنی گروپ کے مالک انور مجید اگلے ہفتے پیش ہوں، وکیل اومنی گروپ رضا کاظم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انور مجید بیمار ہیں، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب بھی بلایا جاتا ہے ہسپتال چلے جاتے ہیں، عدالتی حکم کے بعد ہر بندہ ہسپتال ہی جاتا ہے ،ابھی معلوم کر کے بتائیں کب واپس آئیں گے ہم انہیں خود بھی لا سکتے ہیں اورانور مجید کے بیٹے کہاں ہیں؟ وکیل اومنی گروپ نے کہا کہ انور مجید کے بیٹے ملک سے باہر ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار بولے سب باہر ہیں تو وکیل کس طرح ہائر کیے گئے۔ وکیل جمشید ملک کا کہنا تھا کہ میں نے وکالت نامے پر دبئی میں دستخط کرائے۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رضا کاظم ! آپ پاکستان کے سب سے سینئر وکیل ہیں، آپ کلائنٹ سے ملے نہیں، اس نے آپ کے سامنے دستخط نہیں کیے، ایسی صورتحال میں آپ کیسے نمائندگی کرسکتے ہیں، آپ کو پتہ نہیں سپریم کورٹ میں کیسے پیش ہوتے ہیں۔

جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے رجسٹرار کو انکوائری کا حکم دے دیا اس کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس نے عدالتی عملے کو وکالت نامے چیک کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پولیس کو بلائیں ان وکیلوں کے خلاف مقدمہ درج کریں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


ای پیپر