مدینہ جیسی ریاست اور نیا پاکستان
06 اگست 2018 2018-08-06

25جولائی کے انتخابات میں کامیابی کے بعد عمران خاں کی وکٹری تقریر سن کر تعریف کئے بغیر نہ رہا جاسکا۔ امید پیدا ہوئی کہ اب ملک کی تقدیر ضرور بدلے گی۔ عمران کی تقریر میں غریب کے لئے کچھ کرنے کا عزم نظر آیا، انہوں نے اپنے تمام مخالفین کو معاف اور سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائی نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سب سے پہلے خود کو احتساب کے لئے پیش کیا، سادگی اپنانے، سرکاری اخراجات کم کرنے، وزیراعظم ہاﺅس میں نہ رہنے اور عوام کے ٹیکس کے پیسے کی حفاظت کرنے کی باتیں قابل ستائش ہیں۔ عمران خان نے ملک کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کا بھی اعلان کیا۔ کون مسلمان ہوگا جو نہیں چاہے گا کہ اس کا ملک مدینہ جیسی اسلامی ،فلاحی ریاست بنے، جہاں سب کو یکساں انصاف ملے کسی کا حق نہ چھینا جائے، جہاں انصاف اور احتساب کے پیمانے مختلف نہ ہوں، جہاں بے اصولی نہیں اصول کا راج ہو، حاکم صحیح معنوں میں عوام کے خادم ہوں لیکن مدینہ جیسی ریاست کے قیام کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہوگی، عملی اقدامات خود کو مدینہ والے کے رنگ میں ڈھالے اور ان کے رفقاءجیسی ٹیم تیار کئے بغیر ممکن نہیں، عمران خان کی حکومت کے پہلے100 روز میں پتہ چلے گا کہ وہ مدینہ جیسی ریاست کے حوالے سے کس قدر پرعزم ہیں، اس حوالے سے عوام کی دعائیں یقیناً ان کے ساتھ ہوں گی۔ عمران خان کی تقریر کو عملی شکل دینے میں تو وقت لگے گا فی الحال نئی حکومت کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کو نئے پاکستان سے تعبیر کیا جارہا ہے لیکن حکومت سازی کے مرحلے میں نئے پاکستان کی پہلی جھلک دیکھ کر تو پرانے پاکستان کا چہرہ بھی کچھ بھلا نظرآنے لگا۔ آزاد ارکان اسمبلی کی جس طرح بولیاں لگائی گئیں اور جنہوں نے ” بکنے“ سے انکار کیا، انہیں جس طرح ڈرایا دھمکایا گیا اس نے چھانگا مانگا طرز سیاست کو بھی مات دے دی۔ عدالت سے نااہلی کے باوجود جہانگیر ترین پی ٹی آئی کی طرف سے دوسری جماعتوں سے جوڑ توڑ اور آزاد ارکان کو پارٹی میں شامل کرانے والے سکواڈ کی قیادت کررہے ہیں، وہ آزاد ارکان کو ذاتی جہاز میں لاد کر بنی گالہ پہنچانے کی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ نااہلی کے بعد نواز شریف کی پارٹی اجلاسوں میں شرکت اور سیاسی سرگرمیوں پر انگلی اٹھانے والے کھلاڑی آج خاموش ہیں۔” مخالف کرے تو غلط، اپنا کرے تو درست“۔ نئے پاکستان کے اس ٹرانزٹ پیریڈمیں یہ رویہ سمجھ سے بالاتر ہے، ٹھیک کو ٹھیک اور غلط کو غلط کہا جانا چاہیے۔
انتخابات سے چند روز قبل عمران خاں نے واضح اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اکثریت حاصل نہ کر سکی تو وہ دوسری جماعتوں سے مل کر حکومت بنانے کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دیں گے لیکن ہوا کیا....؟ مرکز میں بڑی پارٹی بن کر ابھرے لیکن سادہ اکثریت کے حصول کے لئے ان جماعتوں کو ساتھ ملا رہے ہیں جن کی قیادت کو ماضی میں چور، ڈاکو، قاتل، بے ضمیر اور کرپٹ کے القابات سے نوازتے رہے، پارلیمانی روایت کے برعکس پنجاب میں سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ(ن) کو موقع دیئے بغیر آزاد ارکان کو ساتھ ملا کر خود حکومت بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ مرکز میں ایم کیو ایم اور پنجاب میں مسلم لیگ(ق) پی ٹی آئی کی اہم اتحادی ہیں، ایم کیو ایم کے بارے میں عمران خاں کے خیالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، یہ وہی قوت ہے جس سے نجات کیلئے طویل جدوجہد کرتے رہے اسے تنظیم نہیں مافیا او ر اس کے رہنماﺅں کو قاتل، بھتہ خور کہتے رہے،اس کے سابق لیڈر کے خلاف لندن کی عدالتوں میں ثبوت لے کر بھی گئے۔ آج انہی کو ساتھ بٹھا کر اپنے ووٹر کو، عام کارکن کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ اقتدار کیلئے سب جائزہے۔ مسلم لیگ (ق) کے رہنما سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کو کسی زمانے میں ناصرف صوبے کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیا تھا بلکہ ان کے خلاف نیب میں ریفرنس بھی دائر کیا تھا۔ اسی ریفرنس میں نیب نے پرویز الٰہی کو طلب بھی کر رکھا ہے ، آج اسی پرویز الٰہی سے آپ ملاقات کرتے ہیں اور ان کی وزارت اعلیٰ کے دور کو سنہری قرار دے دیتے ہیں۔آپ اس وقت غلط تھے یا آج....؟ یہ بتانا ہوگا۔ جن لوگوں کی سیاست کے خاتمے کیلئے آپ برسوںبرسرپیکار رہے ، آج منزل کے قریب پہنچ کر آپ خود انہی کو دوبارہ مضبوط کررہے ہیں، کوئی بعید نہیں کہ جس نواز شریف کو آپ آج کرپٹ اور لٹیرا قرار دے رہے ہیںکل ضرورت پڑنے پر ان سے بھی ہاتھ ملا لیں۔کیا یہی نیا پاکستان ہے؟.... کیا یہی تبدیلی ہے جس کے لئے آپ نے22سال جدوجہد کی؟.... کیا یہی وہ” اصول“ ہیں جن کے ذریعے مدینہ جیسی ریاست بنائیں گے؟.... سوچنا ہوگا منزل کے قریب پہنچ کر کہیں کوئی غلطی تو نہیں کررہے، سانپ سیڑھی کے اس کھیل میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، کوئی ایک غلطی بھی منزل سے بہت دورلے جا سکتی ہے۔


ای پیپر