نصرت جاوید سے میری رشتہ داری
06 اگست 2018 2018-08-06

برادرم نصرت جاوید ملک کے سینئر دانشور، کالم نگار، اور میزبان ہیں، مگر شاید یہ ان کے علم میں نہیں ہے کہ وہ میرے قریبی رشتہ دار ہیں، چونکہ انہوں نے ساری عمر شہر اقتدار میں گزار دی، لہٰذا ان سے ملاقات بھی نہ ہوسکی، مگر ان کے والد محترم اور والدہ صاحبہ ، ان سے میری نہ صرف ملاقاتیں تھیں، بلکہ ان کے چچا، چچی ہمشیرگان سے بھی تعلق رہا میں اپنے والدین کی مغفرت کی دعا کرتے ہوئے ان کے والدین کے لیے بھی دعا گو ہوتا ہوں۔ اور میں ان کے اس گھر میں گیا ہوا ہوں، جہاں وہ اپنے گھر کے مین دروازے پر اپنے والد محترم کی نگرانی میں تقریر کرنے کی مشق کیا کرتے تھے، بلکہ ابھی چھوٹے ہونے کی وجہ سے وہ خود اوپر بھی نہیں چڑھ سکتے تھے، ان کا گھر میاں نواز شریف کے سسر ڈاکٹر حفیظ صاحب کے گھر کے ساتھ تھا اس راز کو میں ابھی بھی راز رکھتا، مگر انہوں نے عمران خان سے ایک سوال کرکے میری دکھتی رگوں پہ ہاتھ رکھ دیا ہے، اور دل کے پھپھولے، جذبہ حب الوطنی اور وطن سے پیار کے سبب جل اُٹھے، انہوں نے لکھا ہے کہ ” بہت کم لوگوں کو یاد ہے کہ کئی ماہ قبل تحریک انصاف کے رہنما عمران خان صاحب ایک خصوصی جہاز لے کر بھارت گئے تھے، اور وہاں ان کی ملاقات مودی سے بھی ہوئی تھی۔ پاکستان میں کسی اپوزیشن جماعت کا سربراہ ہمارے ازلی دشمن ملک کے سربراہ سے ملاقات کرنے سے قبل سوبار سوچتا ہے، خاص کر ان حالات میں جب پاکستان کے تین بار وزیراعظم منتخب ہوئے نواز شریف کو چند سفارتی اقدامات اٹھانے کی وجہ سے مسلسل ”مودی کا یار“ ہونے کے طعنے برداشت کرنا پڑ رہے ہوں خان صاحب کی مودی سے ملاقات نے مگر ہمارے ”محبان وطن “کو ہرگز پریشان نہیں کیا، رات گئی بات گئی والی بات ہوگئی۔
خارجہ امور کا طالب علم ہوتے ہوئے میرے ذہن میں اس ملاقات کے بعد یہ بات بیٹھ گئی کہ محض خان صاحب ہی نہیں، بھارتی حکام بھی تحریک انصاف کے رہنما کو پاکستان کا منتخب وزیراعظم دیکھ رہے ہیں۔ ان سے طویل المدتی تعلقات استوار کیے جارہے ہیں۔ حالیہ انتخابی مہم کے آخری ایام میں اگرچہ خان صاحب کے ترجمانوں نے بہت شدت کے ساتھ یہ افواہ پھیلائی کہ مودی حکومت تحریک انصاف کی ناکامی کی خواہاں ہے۔ اور وہ یہ چاہتی ہے کہ نواز شریف کے نام سے منسوب جماعت ہی برسراقتدار آئے، بالآخر خان صاحب نے خود بھی اس خیال کو شدت اور تواتر سے اپنی تقاریر میں پھیلانا شروع کردیا مجھے یقین ہے کہ ہمارے رائے دہندگان کی خاصی تعداد بھی ایسا ہی سوچ رہی ہوگی۔ مگر پیر کی شام کو بھارتی وزیراعظم نے تحریک انصاف کے رہنما کو کامیابی پہ مبارک باد کا فون کردیا۔ اور کہا کہ ہمارے تعلقات میں ”گہرائی آئے گی“ اس فون کو ہمارے میڈیا نے خاطر خواہ اہمیت نہیں دی۔ نصرت جاوید مزید لکھتے ہیں کہ مودی پاکستان آگئے تو بھارت میں انہیں زیادہ تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، بھارتی وزیراعظم کو ”غدار“ کہنے کی بھارتی میڈیا جرا¿ت نہیں رکھتا، یہ سہولت فقط پاکستان کے آزاد اور بیباک میڈیا کو حاصل ہے، آئندہ سال مودی کو بھی انتخاب میں جانا ہے، نصرت جاوید صاحب نے مسئلہ کشمیر پہ تفصیلی رائے دینے کے بعد آخر میں لکھا ہے کہ مجھے خدشہ ہے کہ مودی تقریب حلف برداری میں آگئے تو یہاں سے وطن لوٹنے کے چند ہی دنوں بعد بی جے پی کے جموں سے آئے کسی ہندوانتہا پسند کو مقبوضہ کشمیر کا وزیراعلیٰ لگادیں گے، اور کشمیریوں کو یہ تاثر دیں گے کہ جیسے یہ قدم انہوں نے پاکستانی وزیراعظم کو اعتماد میں لینے کے بعد اٹھایا ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے، نصرت جاوید صاحب کی وجہ شہرت کتابوں پہ کتابیں ، دن رات پڑھنے کا شغف وشوق ہے، انہوں نے بچپن ہی سے لے کر اب تک اپنے اسی شوق وذوق میں گزارے ہیں، چونکہ انہیں دو ہی شوق ہیں دوسرا شوق انہیں پیپلزپارٹی سے عشق ہے لیکن مجھے نہیں معلوم کہ اب تک انہیں اپنی عادت کو بدلنے کا خیال آیا ہے یا نہیں؟مگر ایک بات طے ہے کہ وہ چونکہ ”ن “ لیگ کے بارے میں نرم گوشہ نہیں رکھتے یہ بات ان کے کالم پڑھ کر قاری بھی معلوم کرسکتے تھے، ایسا کون سا جذبہ، کون سا شوق ہے، جس نے انہیں وطن کی خاطر ہرمصلحت کو خیرباد کہہ کر ”حکم اذاں“ دینے کا راستہ اختیار کیا ، اصل میں وطن سے پیار ، چونکہ ہر مسلمان کے ایمان کا جذبہ رکھتا ہے لہٰذا انہوں نے اس پہ دل کھول کر بات کی ہے۔ مجھے کافی عرصہ پہلے عمران خان کا مودی سے خاص طورپر ملنا یاد تھا، اور میں نے سوچا تھا کہ کالم لکھ کر اس میں اپنی بھڑاس نکالوں گا، مگر خدا گواہ ہے کہ میں یہ بات بالکل بھول گیا تھا، کیونکہ میں بھی تو اس قوم کا ہی فرد ہوں ، کہ جو قائداعظم ؒ کے پاکستان کو دو ٹکڑے کرا کر بالکل ہی بھول چکی ہے بلکہ یہ کہہ کر کہ اللہ کی مرضی یہی تھی ہرمسئلے کو بھول کر اسے دفن کردیتی ہے، خدا گواہ ہے، نصرت جاوید صاحب نے دوبارہ مجھ سمیت قوم کو جگانے، اور غوروخوض کرنے کی دعوت دی ہے، انہوں نے کیا خوب لکھا ہے، کہ صرف عمران خان ہی نہیں بھارتی حکام بھی تحریک انصاف کے رہنما کوپاکستان کا منتخب وزیراعظم دیکھ رہے ہیں میں بھی اپنے ہم وطنوں کی طرح پاکستان کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہوتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں ، کہ :
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے
باغ تو سارا جانے ہے !!!
بھارت ، برطانیہ، چین، جاپان اور خلیجی ممالک وغیرہ کو ہمارے وطن میں تبدیلی کا پتہ ہے، یا پھر اسماعیل اس امر سے آشنا ہیں تبدیلی آئی ہے، اور ان ممالک کے سفیر میرے خیال میں عمران خان کے زور سے تالی بجاکر اور ”تخلیہ “کہنے پر جب بیرونی ممالک کے سفیر جب ”ون ٹو ون“ ملاقات کرتے ہیں، تو عمران خان سے بے تکلف سفیر ہاتھ کے اشارے سے ضرور پوچھتے ہوں گے، کہ ”یہ کیسے“ اور عمران خان اپنے منہ پہ انگلی رکھ کر خاموش ہونے کا اشارہ دیتے ہوں گے ۔ مگر قارئین ، ہراچھی بات کی تعریف کرنی چاہیے، ایک غریب اور مقروض ملک کے وزراءاور وزیراعظم کو یہ زیب نہیں دیتا ہے کہ وہ شاہانہ ٹھاٹ باٹ سے رہے، اور پروٹوکول کے نام پہ تواربوں روپے خرچ کرے ، مگر جب تقریر کرے تو سامنے سے بلٹ پروف شیشے اتروادے، عمران خان کا پروٹوکول نہ لینے، اور وزیراعظم ہاﺅس میں نہ رہنے کا اعلان کرنا بہت اچھا لگا، کیونکہ
میرے وطن کی زمین آسماں ہے میرے لیے
ایسا ضرور ہوگا، ایسا ضرور ہوگا
ہرذرہ اس وطن کا اک کوہ طور ہوگا
چھٹ جائیں گے اندھیرے، ہرسمت نورہوگا، ایسا ضرور ہوگا
یہ سات رنگ، پرچم
یہ چاند یہ ستارہ لہرا کے آندھیوں میں کرتے ہیں استخارہ
ہر رنج دورہوگا، اک دن ضرور ہوگا
مشرق کی وادیوں میں اسلام کی عمارت
خود ”شاہ انبیائ“ نے دی تھی تیری بشارت
ہراک رگ زماں پہ تو ہی ظہور ہوگا
ایسا ضرور ہوگا، ایسا ضرور ہوگا
ہر شب تیری فروزاں، بدرجمال ہم ہیں
ہردن تیرا دعویٰ ، شمیں جلال ہم ہیں
ابد کے آسماں پہ تیرا ظہور ہوگا، ایسا ضرور ہوگا، ایسا ضرور ہوگا ۔ انشاءاللہ حنانصراللہ، دنیائے نعت کا درخشندہ ستارہ ہیں، جنہوں نے دل سے یہ دعامانگ کر کروڑوں دلوں کی ترجمانی کی ہے، اللہ ان کے کہے ہوئے کوقبول فرمائے، اور ہمارے ملک کو مزید آزمائشوں سے بچائے۔


ای پیپر