Asif Anayat, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
06 اپریل 2021 (12:17) 2021-04-06

جناب ذوالفقار علی بھٹو شہیدؒ کی دو دن پہلے برسی کی تقریب پورے ملک میں سادگی سے منائی گئی۔ بھٹو صاحب وطن عزیز کے مقبول ترین سیاست دان ہیں جن کے بعد اُن کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو شہیدؒ مقبول ترین رہنما ہوئیں ۔جس کی وجہ عوامی سیاست تھی۔ حد یہ ہے کہ ان کے کفن نے ان کی پارٹی کو اقتداردلوا دیا اور اب بھی موجود ہے۔ زرداری صاحب ، صدر اور سید یوسف رضا گیلانی جو اس وقت حالات کی تنگی کی وجہ سے اپنی گھڑی فروخت کر چکے تھے ملک کے وزیراعظم بن گئے۔ 

14 اگست 1947ء کشمیر غلام ہوا۔ بھارت اور پاکستان آزاد ہوئے، چند دن پہلے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے پیغام سے پتہ چلا کہ بنگلہ دیش کی آزادی کی مبارک باد بھی دے دی گئی جس میں دیگر دنیا کے ’’رہنما‘‘ بھی شامل تھے۔ وطن عزیز کی تین جنگیں بھارت سے ہوئیں ۔1971ء میں ٹائیگر نیازی 93 ہزار فوج کے ساتھ گرفتار ہوا جو بعد ازاں موجودہ پاکستان کے وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹونے رہائی دلوائی ،ساڑھے پانچ سال میں شکست خوردہ قوم کو دنیا میں نمایاں مقام دلایا ۔ معیار زندگی بلند کیا، شعور دیا، جرأت دی، آئین، ایٹمی پروگرام، اسلامی دنیا کی سربراہی دی، یورپ اور امریکہ کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ پوری دنیا میں وطن عزیز کے باشندے عزت سے روزی روٹی کماتے اور اپنے خاندان کو روٹی ، کپڑا اور مکان دینے میں کامیاب ہوئے ۔ عام آدمی کو پاسپورٹ دیا۔ ہسپتال ، میڈیکل کالج، یونیورسٹیاں قائم کیں، ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کیے مگر امریکہ، ملکی اسٹیبلشمنٹ ، بیوروکریسی کو ناگوار گزرا اور 4 اپریل 1979ء آگیا۔ اس کے بعد ان کی بیٹی نے وقت کے درندہ صفت حاکم اور آمر کا مقابلہ کیا اس کے گماشتے ملک کے طول و عرض میں دندناتے پھرتے تھے۔ کلاشنکوف ، ہیروئن ، کرپشن ، دہشت گردی کے تحفے قوم کا مقدر بنے ۔ قوم لسانی، قبائلی، برداری، مسلکی فرقوں میں بٹ گئی۔ 88 سے 99 تک آئین کی58-2-B شق کا راج رہا۔ اس کے بعد پرویزی حکومت آ گئی اس کا ساتھ دینے والے اقتدار اور مخالفت کرنے والے جیل اور پھر جدہ برد کر دیئے گئے۔ پیپلزپارٹی کی لازوال جدوجہد کے دوران مختلف نعرے سنائی دیئے جن میں ایک نعرہ تھا ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔ تب تک تو ہر گھر سے مراد پیپلزپارٹی کے ورکر کا گھر گنا جاتا تھا۔ جدوجہد کے اعتبار سے بھٹو ایک نظریے، ایک طرز سیاست ، ایک بیانیے کا نام ہے جو اسٹیبلشمنٹ کو برداشت نہیں چاہے وہ بیانیہ ن لیگ کے میاں نواز شریف اور مریم نواز کے منہ سے نکلے یا کسی اور کے۔ بہرحال میں اس سال بھٹو صاحب کی برسی پر سوچتا رہا کہ کیا بھٹو صاحب نے 22 ماہ جیل اور 51 سال کی عمر میں جوانی میں پھانسی اس لیے جھولی تھی اور محترمہ شہید نے موت کی وادی میں قتل ہونے کے لیے اس لیے قدم رکھا تھا کہ جب وقت آئے تو مظفر ٹپی، ڈاکٹر سومرو، ذوالفقار مرزا، فریال تالپور ، منظور وٹو، بابر اعوان، 

رحمن ملک، اے این پی والے اور تحریک استقلال کے سابقہ لوگ جو بھٹو صاحب کو پھانسی دلوانا چاہتے تھے موج مستی کریں ، پیپلزپارٹی کے ورکرز فوت ہو گئے مگر پارٹی کے ساتھ رہے اتنی بڑی اور بے لوث جماعت کسی اناڑی مگر مخلص کے ہاتھ میں ہوتی تو میاں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی مدد اور عمران خان ایجنسیوں کی مدد سے اس کو سٹرا لگا کر یوں نہ پی سکتے۔ بعض لوگوں کی یہ رائے کہ زرداری ایجنسیوں کے آدمی تھے ۔ بی بی صاحبہ سے ان کی نسبت ایجنسیوں کا کارنامہ تھا۔ یہ اگر اتفاق نہ بھی کریں تو اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو سیاست کو اقتدار کے ایوانوں کی رشتہ داریوں اور ڈرائنگ روموں سے نکال کر غریبوں کے کچے گھروں اور تھڑوں پر ، کھیتوں کھلیانوں اور میدان میں لے آئے۔ غریب کو باوقار اور عزت دار بنایا جو سلسلہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے جاری رکھا۔ جناب بھٹو کے بیٹے اسٹیبلشمنٹ اور اس کے گماشتوں پر اعتبار نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اعتبار کر کے بی بی شہید ہو گئیں مگر پیپلزپارٹی کا ورکر یہ ضرور سمجھتا ہے کہ جناب بھٹو شہید اور محترمہ کے برعکس آصف علی زرداری سیاست کوواپس ڈرائنگ روم ہی نہیں مقتدرہ کے ہیڈ کوارٹرز میں لے گئے۔ محترمہ شہید کا ایک لائن کا بیانیہ تھا کہ ’’ہمیں اقتدار چاہیے مگر ہر قیمت پر نہیں‘‘ جبکہ زرداری صاحب کی سیاست اس کے برعکس ہے۔ ان کی سیاست پیپلزپارٹی کی اساس کے منافی ہے جو ورکرز کو مایوس کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو اگر زرداری صاحب کے انداز میں سیاست کریں گے تو مقبولیت جو بچی کھو بیٹھیں گے ۔ زرداری سیاست دان ضرور ہیں مگر مقبول ہرگز اور کبھی بھی نہیں رہے ہیں۔ بے شک ان کے خلاف پروپیگنڈا بہت شدید اور ایجنسیوں کے ساتھ بھٹو مخالف قوتوں نے کیا مگر اس میں ان کے اپنے کرشمات کا بھی بہت ہاتھ ہے۔ بلاول بھٹو آج کی پیپلزپارٹی کے ورکر کی آخری امید ہے ۔ اگر ان پر جناب بھٹو اور بی بی صاحبہ کے بجائے زرداری صاحب کی سیاست غالب آئی تو شاید پھر ورکر اتنا عاجز آجائے کہ بلاول بھٹو کی بات بھی نہ سنے۔ 

مریم نواز اور میاں نواز شریف جناب ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی سوچ پر عمل کر کے عوام میں مقبول ترین قیادت بن گئے جو بھی بھٹو صاحب کے نظریات پر عمل کرے گا عوام اس کو خوش آمدید کہیں گے چاہے وہ نواز شریف ہوں ، محترمہ مریم ہوں یا کوئی اور زرداری صاحب! پیپلزپارٹی کے جیالے پارٹی میں آپ سے پہلے سے موجود ہیں۔ آپ سے پہلے لوگوں نے جیلیں کاٹیں، کوڑے کھائے، برباد ہوئے لہٰذا بی بی صاحبہ تو اپنی ذات میں پی پی پی تھیں مگر آپ کا ہرگز یہ مقام نہیںہے۔ اگر بلاول بھٹو کو اپنے نانا اور والدہ ؒ کا سیاسی مقام حاصل کرنا ہے تو پھر ان کی سیاست اپنانا ہو گی ۔ ماضی کے نواز شریف ، آصف زرداری اور عمران خان کی سیاست نہیں۔ میں آج سوچتا ہوں کہ بی بی نے اپنی کتاب کا نام دختر مشرق کیوں رکھا تھا۔ دراصل انہوں نے ایک مشرقی بیٹی کی طرح گھر آباد رکھا اور نبھا کیا ورنہ نہ جانے انہوں نے کیا کیا اتار چڑھاؤ دیکھے ۔بی بی مظلومہ نے زندگی دو آتشوں کے درمیان گزاری ایک سیاسی مخالفین اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت الزامات پروپیگنڈا اور دوسرا آصف زرداری صاحب کہ کندھوں پر لگے سچے یا جھوٹے الزامات کا بوجھ، بی بی صدی کی مظلوم ترین سیاست دان تھیں اور جناب ذوالفقار علی بھٹو صدی کے عظیم ترین مگر جفائوں کا سامنا کرنے والے سیاست دان تھے۔ آج اگرکوئی سیاست میں موجود رہنا چاہتا ہے تو بیانیہ بھٹو صاحب اور بی بی کا ہی چلے گا۔ بند کمروں اور پنڈی والوں کے گیٹوں پر حاضری کی سیاست اقتدار تو دلوا دے گی مگر مقبولیت کبھی نہیں۔ اگر بلاول کو محض وزیراعظم بننا ہے وہ تو شوکت عزیز جیسے کئی ہو گزرے اور عمران خان جیسے بھی مگر دلوں میں حکمرانی کے لیے بھٹو صاحب اور بی بی صاحبہ کا طرز سیاست اپنانا ہو گا ۔  ضروری نہیں کہ وہ بیانیہ پیپلزپارٹی والے لے کر چلیں یا کوئی اور اگر بلاول نے اپنے اجداد (ننھیال) کی سیاست نہ اپنائی تو پیپلزپارٹی جناب بھٹو اور شہیدبی بی کے بعد لغاری سے زرداری تک کے انحطاط کے دور سے یاد رکھی جائے گی کیونکہ کوئی کسی کا زر خرید نہیں کہ جب چاہے کوئی ذہنی شعور کا سودا کر دے گا۔ میں سوچتا ہوں مارشل لاء ہو یا ہائبرڈ نظام۔پیرا شوٹر، ایم آئی 6 کے بندوں ملٹی نیشنلز کمپنیز اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو کورا جواب تو نہیں دیا جا سکتا اور اگر نہیں دیا جا سکتا تو پھر نوکری کریں سیاست نہ کریں۔


ای پیپر