Shabir Buneri, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
06 اپریل 2021 (12:15) 2021-04-06

سیاستدان کی باتیں اچھی تھیں۔ وہ کہہ رہا تھا ہمارے پاس کیا نہیں ہمارے پاس تو اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتیں ہیں بس مخلص قیادت کی شدید ضرورت ہے مثلاً ہمارا ملک دنیا کا واحد ملک ہے جہاں نوجوانوں کی شرح چونسٹھ فی صد ہے۔ کیا یہ مقام شکر نہیں کہ پوری دنیا بوڑھوں کو مینج کرنے میں ناکام ہورہی ہے اور ہم نوجوانوں کو مخاطب کرکے لائحہ عمل طے کرکے مستقبل کے لئے سوچ بچار کرتے ہیں آپ دیکھیں نا پوری دنیا اولڈ ایج ہاؤسز بنارہی ہے ہم مگر نوجوانوں ہی کو جواز بناکر پالیسیاں بناتے ہیں وہ اور بات ہے کہ کامیاب نہیں ہوپاتی۔ یہ کفران نعمت ہی تو ہے جو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں۔

ہمارا ملک آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک ہے۔ ہم اس آبادی کو مختلف طریقوں سے استعمال میں لاسکتے ہیں جس کی وجہ سے ہم معاشی ، سیاسی اور معاشرتی طور پر مضبوط بن سکتے ہیں لیکن چونکہ مخلص قیادت کا فقدان ہے اس لئے یہ پوری آبادی استحصال کا سامنا کر رہی ہے۔ ہمارے ملک کا شمار دنیا کے ان بیالیس ممالک میں ہوتا ہے جن کے پاس اپنا ساحل سمندر ہے۔ آپ ڈیٹا نکال کر ذرا دیکھ لیجئے ہمارے پاس آٹھ سو کلومیٹر ساحلی علاقہ ہے۔ ساحل سمندر کا فائدہ کیا ہوتا ہے یہ ذرا ان سے پوچھ لیجئے جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ ہم اپنی ساحلی پٹی کا بھی شدید استحصال کر رہے ہیں۔ 

پوری دنیا میں صرف پینتیس ممالک ایسے ہیں جن میں گلیشئیرز ہیں اور خوش قسمتی کی بات یہ ہے پاکستان ان میں شامل ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی ہمارا "بیافو " گلیشئیر دنیا کے دس بڑے گلیشئیر میں شمار ہوتا ہے۔ اب اس پر تو کسی لمبی بحث کی ضرورت ہے ہی نہیں کہ گلیشئیر کتنا اہم ہوتا ہے۔ آپ نے تو یہ بھی سنا ہوگا کہ جن ممالک کے پاس پہاڑ، سمندر اور صحرا ہوتے ہیں ان کو کسی چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہمارا چولستان کا صحرا دنیا کا ستائیسواں بڑا صحرا ہے۔ ہم اگر پہاڑوں کی بات کریں تو ہمالیہ ، ہندوکش اور قراقرم تینوں کا ملاپ پاکستان میں ہوتا ہے۔ یہ کتنی اہم اور ضروری حقیقت ہے ہم مگر اس کی طرف توجہ نہیں دے پارہے۔ آپ کے ٹو کے بارے میں سوچئے یہ اتنا بڑا عجوبہ بھی ہمارے ملک کا اثاثہ ہے۔

آپ کو معلوم ہے انسانی زندگی اور تہذیب کا آغاز تین دریاؤں کے کناروں  پر ہوا تھا۔ دریائے نیل ، یلو ریور آف چائنہ اور دریائے سندھ۔ وادی سندھ کی تہذیب بھی دریائے سندھ کے کنارے پروان چڑھی تھی۔ ہمارا یہی دریا دنیا کا بائیسواں لمبا دریا ہے۔ ہم پیاز، آم،دودھ،اور باسمتی چاول میں بھی دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ہمارے پاس بلوچستان کا سیندک ہے جہاں سونے اور تانبے کے بڑے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ اب کیا یہ ایک بڑا 

المیہ نہیں کہ ہمارے پاس سونے کے ذخائر بھی ہیں ہم مگر پھر بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی کر رہے ہیں۔ ہم اگر ان تمام وسائل کو استعمال میں لائیں تو ہم پوری دنیا پر اپنی دھاک بٹھا سکتے ہیں۔ ہم ایسا کیوں نہیں کر رہے وجہ صرف یہ ہے کہ یہاں قیادت کا شدید فقدان ہے۔ انہوں نے اس شدید فقدان کا حل کیا بتایا یہ میں آپ کو آخر میں بتاؤں گا فی الحال یہ اٹل حقیقت ہم سب کو ماننا پڑے گی کہ پاکستان پر رب کائنات کی خصوصی مہربانیاں ہیں۔  جو انہوں نے بتایا بالکل سچ ہے۔ ہم اتنے عظیم نعمتوں کی موجودگی میں کیوں اندرونی مسائل میں پھنسے دنیا کے آگے دن بہ دن بے بس ہوتے جارہے ہیں۔ سیاست کی دنیا بے رحم ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ذاتی مفادات کا حصول اور اقتدار کی ہوس انسان کو داؤ پر کچھ یوں لگادیتی ہے کہ اس کے سامنے ٹھیک کا مطلب بس وہی ہوتا ہے جو اس کو سمجھ آتا ہے۔ 

آزادی سے لے کر آج تک ہم نے صرف سیاست ہی تو کی ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں کبھی 

بھی کچھ ایسا تجربہ نہیں کیا گیا جس سے نئی نسلوں کو کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملے۔ بائیں اور دائیں بازو کی سیاست میں بس صرف طوفان اور زلزلے آتے ہیں جن میں نقصان بس عوام ہی کا ہوتا ہے۔ میں خود سوچ رہا تھا کہ آخر ہمارے مسائل کیسے حل ہیں۔ میں بس ایک ہی نتیجے پر پہنچ گیا کہ جب تک ہم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے ایسے ہی خوار ہوتے رہیں گے۔ 

ایک سیاسی ورکر جب خود کو گلی کے پائپ تک محدود رکھے تو اس کو یہ علم کیسے ہوسکتا ہے کہ ہمارا بیافو گلیشئیر دنیا کے دس بڑے گلیشئیرز میں سے ایک ہے۔ نظرئیے کی چادر اوڑھ کر جب سیاسی ورکرز اپنے سیاسی قائد کی تمام غلطیاں من وعن تسلیم کرلیتے ہیں تو ان کو یہ علم ہوہی نہیں سکتا کہ پاکستان کے پاس نوجوانوں کی شرح سب سے زیادہ ہے اور اسی شرح کو استعمال میں لاکر ہم دنیا پر حکومت کرسکتے ہیں۔ میں انہی سوچوں میں غرق بس صرف پریشان ہورہا تھا کہ ایسے میں، میں نے اس سیاستدان سے ان مسائل کا حل پوچھا۔ وہ کہنے لگے جب حقیقی قیادت آگے آئے گی تو ہماری حالت بدلے گی۔ میں نے اس حقیقی قیادت کا سوال پوچھا کہ یہ کہاں سے آئے گی  تو ان کا جواب انتہائی پریشان کن تھا۔ 

وہ بولنے لگے جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو یہ مسائل خود بہ خود حل ہوجائیں گے۔ یہ ہم ہی ہیں جو حقیقی قیادت مہیا کرسکتے ہیں۔ وہ یہ بول کر کندھے اچکا کر چل پڑا اور میں سر ہاتھوں میں پکڑ کر اس جواب کے بے شمار بول اپنی سماعتوں میں محسوس کرنے لگا۔ " یہ ہم ہیں جو مسائل کو حل کرسکتے ہیں " ایسا میں ہزار سے بھی زیادہ دفعہ سن چکا ہوں۔ پاکستان کے بارے میں اتنی خوب صورت باتیں سن کر میری بھی خواہش جاگی کہ کاش اس ملک کو ایک حقیقی راہنما مل جائے۔ خواہشوں پر پابندی نہیں ہوتی۔ میں خوش تو ہوا لیکن اس تلخ حقیقت سے جان چھڑانے میں ناکام رہا کہ بے عمل دل اور جذبات کے تلاطم میں فعالیت، کوشش اور مقصد کے حصول کا جنون ہار جاتا ہے۔


ای پیپر