Umer Khan Jozi, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
06 اپریل 2021 (12:12) 2021-04-06

چکن،مٹن،بریانی،شوارمے،برگر،تیتر،بکرے،دنبے اورتلورکی نرم وملائم اورپرذائقہ بوٹیوں پرہمہ وقت دانت گرم اورپیٹ نرم رکھنے والے کیاجانیں کہ غربت کس بلاکانام ہے۔؟یہ توکوئی خشک روٹی کے ایک ایک نوالے کیلئے رلنے ،تڑپنے اورترسنے والوں سے ہی پوچھیں کہ دوجمع دوکتنے ہوتے ہیں۔؟جن کواشیائے ضروریہ کے بھائواوربھوک کی تائوکابھی علم نہیں ان کوکیامعلوم کہ مہنگائی ،غربت،بیروزگاری ، بھوک اورافلاس کسے کہتے ہیں۔؟تاریخ کی بدترین مہنگائی،غربت اوربیروزگاری نے کراچی سے گلگت اورچترال سے کاغان تک عوام کابراحال کردیاہے لیکن مجال ہے کہ حکمرانوں سے لیکرگلی محلوں میں لینڈکروزرپرگھومنے ،پھرنے،دوڑنے اوراڑنے والے سیاستدانوں کواس کی ذرہ بھی کوئی پروا ہو۔ عوام ڈھائی سال سے روٹی روٹی کررہے ہیں مگروزیراعظم عمران خان سے لیکراپوزیشن کے مونااورمولاناتک سب سیاست سیاست کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔حکومت ہویااپوزیشن اس وقت اس ملک میں ایساکوئی شخص اورشخصیت ایسی نہیں جسے سچ میں اس ملک اورقوم کی کوئی فکر ہو۔ وزیراعظم ،وزیر،مشیریااپوزیشن کی پوزیشن سنبھالنے والے مفادپرست سیاستدان اورنام نہادلیڈران قوم ہرایک اپنااپناچورن بیچنے میں مصروف ہیں۔سچ پوچھیں تواس وقت ن اورجنون سے لیکرالف وی تک کسی کوبھی عوام کاکوئی احساس نہیں۔کوئی بھوک سے مرے یاتڑپے۔انہیں کیا۔؟ٹھنڈے دل ودماغ سے اگرسوچااورانصاف کی نظروں سے دیکھاجائے تونظام کی تبدیلی کے خشک نعرے لگانے والے انہی حکمرانوں اورسیاستدانوں نے ہی اس ملک کوآج اس مقام تک پہنچایاہے۔یہی وہ حکمران اورسیاستدان ہوتے ہیں جوڈی اورسی چوک میں کھڑے ہوکرنا صرف عوام عوام کے نعرے لگاتے ہیں بلکہ مہنگائی،غربت اوربیروزگاری پر ہزاربار لعنت بھی بھیجتے ہیں لیکن جب یہ کنٹینرسے اتر کر اقتدارکی سیڑھیوں پرچڑھتے ہیں توپھرانہیں عوام یادرہتے ہیں اورنہ ہی مہنگائی،غربت اوربیروزگاری سے ان کاکوئی لینادیناہوتاہے۔اسی طرح عوام کے وہ تمام منتخب نمائندے جوالیکشن سے پہلے غریبوں کی جھونپڑیوں میں عوام کی حالت زار،غربت،مہنگائی اوربھوک وافلاس کاوردکرکے مگرمچھ کے آنسوبہاتے ہیں۔ایم این اے اورایم پی اے بننے کے بعدانہیں پھرغریبوں کی وہ جھونپڑیاں کبھی یادرہتی ہیں اورنہ ہی انہیں غریبوں کے سروں پرمنڈلانے والے بھوک وافلاس کے وہ کالے بادل کبھی نظرآتے ہیں ۔تپش 

وہیں محسوس ہوتی ہے جہاں آگ لگی ہو۔دردوہیں ہوتاہے جہاں زخم لگے ہوں۔ماہانہ لاکھوں کی تنخواہیں اورروزانہ ہزاروں کے مراعات لینے والے غریبوں کادکھ ،درد،پریشانی اورفکروغم کیاجانیں۔؟جن کے اپنے محل نماگھروں اورفارم ہائوسزمیں منی شوگر، فلورملز،فیکٹریاں اور کارخانے قائم اوراشیائے ضروریہ کے ڈھیرلگے ہوں انہیں غریب کی خالی جھونپڑی اوربھوک سے بلکتے بچوں سے کیا سروکار۔؟ مہنگائی،  غربت، بیروزگاری، بھوک اورافلاس کی قیمت، درد، تپش اورتکلیف توجھونپڑی میں رہنے والے اس غریب سے پوچھیںجن کی جھونپڑی میں آٹاہے نہ چینی۔چاول ہے نہ گھی۔گیس ہے نہ بجلی۔ دودھ ہے نہ دہی۔صابن ہے نہ سرف۔چادرہے نہ چاردیواری۔دال ہے اور نہ ہی بھوک وافلاس سے بچنے کے لئے کوئی ڈھال۔لاکھوں نہیں کروڑوں میں سینیٹ کیلئے ٹکٹ خریدنے اورضمیربیچنے والوں کوکیاغم۔؟کہ غریب کے گھرمیں آٹااورچینی ہے کہ نہیں۔ وزیراعظم۔ وزیر،مشیراورکسی ایم این اے اورایم پی اے کوکیافکر۔؟کہ غریب کے بچے نے کچھ کھایاہے کہ نہیں۔کچھ پہناہے کہ نہیں۔ویسے بھی اپناپیٹ بھراہوتوپھرہرانسان کودوسرے کاپیٹ بھی بھرانظرآتاہے۔پھرہمارے ان خدمتگاروں یاقومی چوروں کے پیٹ توعرصے سے کبھی خالی نہیں ہوئے ۔یہ توسونے کے چمچے منہ میں لئے دنیامیں آتے ہیں۔آنکھیں کھلنے سے پہلے بڑے بڑے بینکوں میں ان کے اکائونٹ کھل جاتے ہیں۔مرنے تک ان کویہ نہیں پتہ ہوتاکہ اس دنیامیں آٹا، چینی، دال، گھی، چاول، دودھ،سبزی اورروٹی کی بھی کوئی قیمت ہوتی ہے۔ ایسے میں انہیں پھربھوک سے بلکنے ،چیخنے اورچلانے والے عوام کی یہ چیخ وپکارکیسے سنائی دے یاروٹی کے ایک ایک نوالے کے لئے روز روز کایہ رونا، دھونا اور تڑپناکیسے نظر آئے۔ لوگ بھوک سے بلک اور تڑپ رہے ہیں اورحکمرانوں وسیاستدانوں کواقتدار،ذاتی مفادات اوراپنی پڑی ہوئی ہے۔جس صاحب نے اس ملک کو چلانا تھا، آگے لیکرجاناتھا،غریبوں کو روٹی، کپڑا اور مکان دینے کے ساتھ دلاسہ دیناتھاوہ صاحب ڈھائی سال سے نوازشریف چور،زرداری ڈاکو، مولانا ڈیزل اورمیں کسی کواین آراونہیں دونگاکے نعروں اوردعوئوں سے باہرنہیں نکل رہے۔ڈھائی سال سے چورنواز،ڈاکوزرداری اوراین آراوجیسی کہانیاں سن سن کرعوام کے کان پک گئے ہیں۔اب تو بھوک سے بلکتے اورمہنگائی سے تڑپتے ولرزتے عوام کو اس سے کوئی سروکارہی نہیں رہا کہ نوازشریف چورہے یازرداری ڈاکو۔لوگوں کوتواب اندراندرسے یہ فکرکھائی جارہی ہے کہ حالات اگرمزیدیہی رہے تو ہماری روزی روٹی کاکیاہو گا۔۔؟یہ عوام تونہ چور ہے اورنہ ڈاکو۔انہیں مہنگائی ،غربت، بیروزگاری، بھوک اورافلاس کی صورت میںیہ سزائوں پرسزائیں اورعذابوں پرعذاب کیوں دئیے جارہے ہیں۔۔؟ خداکاکوئی بندہ اب تو ان صاحب کوبتائے یاسمجھائے کہ صاحب نوازشریف چوراورزرداری ڈاکووالی کہانی بہت ہوگئی۔آپ نے احتساب کے نام پرانتقام کی جوتاریخ رقم کی وہ بھی پوری دنیانے اپنی آنکھوں سے دیکھ ہی لی۔سیاست کوکرکٹ سمجھ کرجوکھیل آپ نے کھیلناتھاوہ ڈھائی سال تک آپ نے کھیل لیا۔اب توان غریبوں پرکچھ رحم کرلیں۔یہ غریب کوئی گیندہیں اورنہ ہی کوئی بلاکہ جسے آپ شارٹ پرشارٹ مارکربائونڈری سے باہرپھینکتے رہیں گے۔یہ انسان ہیں اوروہ بدقسمت انسان کہ جنہیں آج تک ہرحکمران اسی طرح کھلونے کے طورپراستعمال کرتے رہے ۔صاحب۔یہ بے زبان مخلوق آخرکب تک ظلم پریہ ظلم سہتی رہے گی۔جوچوراورڈاکوہیں انہیں آپ بے شک بھوک سے ماردیں یافقروفاقوں پر مجبور کر دیں لیکن خدارا۔۔خدارا۔۔ان مظلوموں،بے سہارا وبے کس عوام کوتواس طرح مہنگائی ،غربت، بیروز گاری اور بھوک وافلاس کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ آپ کاسیاسی مخالفین سے کوئی تنازع ہے یاکوئی مسئلہ۔ وہ آپ کودن میں تارے دکھائیں یاآپ ان کوستارے۔اس سے عوام کاکوئی لینا دینا  نہیں۔ آپ بھی بے شک سابق حکمرانوں کی طرح سیاست سیاست کھیلتے رہیں اس پرکسی کوکوئی گلہ نہیں لیکن خدارااقتداراورکرسی بچانے کی سیاست میں عوام کورگڑناچھوڑدیں۔یہ غریب لوگ آخرکب تک مہنگائی،غربت،بیروزگاری اور بھوک وافلاس کی صورت میں آپ کی اس منافقانہ سیاست کی قیمت چکاتے رہیں گے۔؟ملک کس نے لوٹا۔؟آٹاچوری ،چینی چوری وادویات سکینڈل میں کون لوگ ملوث نکلے۔؟اورادھربدترین مہنگائی کی صورت میں اب سزاکن کودی جارہی ہے۔؟ملک جی بھرکرحکمران وسیاستدان لوٹیں اورخزانہ پھرغریب خون پسینے کی کمائی سے بھریں۔جرائم حکمران وسیاستدان کریں اورگناہ گار پھر عوام ٹھہریں۔۔ کیوں۔؟ صاحب یہ انصاف نہیں۔ آپ کی حکمرانی میں اگرانصاف کایہ معیارہے توپھرنہ جانے چوروں اورڈاکوئوں کی حکمرانی میں انصاف کاکیاحال ہوگا۔؟آپ جن بے زبانوں کومہنگائی ،غربت،بیروزگاری اوربھوک وافلاس کی سزادے رہے ہیں واللہ واللہ یہ مجرم اورگناہ گارنہیں۔اسی لئے ہمیں کہناپڑرہاہے کہ ۔مٹ جائے گی مخلوق توانصاف کروگے۔۔منصف ہوتواب حشراٹھاکیوں نہیں دیتے۔


ای پیپر