معافی نامہ!.... (چوتھی قسط)
06 اپریل 2021 2021-04-06

معافی نامہ کی تیسری قسط میں، میں سابق آئی جی جناب ذوالفقار احمد چیمہ کا ذکر کررہا تھا ، اُن کے ساتھ میرا تعارف عطا الحق قاسمی صاحب نے ہی کروایا تھا، میں اُس وقت گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا تھا ، وہ لاہور میں ایس پی سٹی تھے، اُس وقت پورے لاہور کو ایک ہی ”ایس ایس پی“ چلاتا تھا، اب کئی ایس ایس پی، اور ڈی آئی جی مل کر بھی چلا نہیں پارہے، دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے اُس وقت کے حالات اورجرائم میں اور اب کے حالات اور جرائم میں زمین آسمان کا فرق ہے، نیتوں کا فرق الگ سے ہے، اُس وقت لاہورکے صرف چار ڈویژن ہوتے تھے، سٹی، صدر، کینٹ اور چوتھا ڈویژن شاید ماڈل ٹاﺅن تھا، اُس دور کے ایس ایس پی اور ایس پی صاحبان بہت تگڑے ہوتے تھے، پی ایس پی کلاس اپنی عزت کروانا جانتی تھی، ایس پی صاحبان کی زیادہ تر مصروفیات گھر اور دفاترتک محدود ہوتی تھیں، آج ہمارے کچھ نوجوان ایس پیز کی ”نامعلوم مصروفیات“ اس قدربڑھ گئی ہیں دفتروں میں وہ کم ہی پائے جاتے ہیں، البتہ کسی نے ”خصوصی طورپر “ اُن سے مِلنا ہو رات کو ایم ایم عالم روڈ لاہورکے مختلف ”کیفیز“ یا ریسٹورنٹس میں باآسانی وہ دستیاب ہوتے ہیں، اب ”ممی ڈیڈی افسروں“ کی پوری ایک کھیپ تیار کرکے ”مارکیٹ“ میں پھینک دی جاتی ہے، اللہ جانے کس قسم کی اُنہیں ٹریننگ دی جاتی ہے بجائے اِس کے اُن کے کسی عملی کردار سے معاشرے میں کوئی سدھار پیدا ہو اُلٹا تباہی بڑھتی جارہی ہے، تقریباً سارے شعبے ہی تباہی کے آخری مقام پر ہیں پر جوحال ہماری انتظامیہ اور پولیس کا ہے اُسے بیان کرتے ہوئے متلی آتی ہے،....ذوالفقار چیمہ کی مصروفیات بڑی علمی وادبی قسم کی ہوتی تھیں، وہ اولڈراوین تھے، گورنمنٹ کالج لاہور سے اُنہیں خصوصی لگاﺅ تھا، وہ جب ایس پی سٹی لاہور بنے اُن کے لیے سب سے زیادہ خوشی کا مقام یہ تھا اُن کا دفتر گورنمنٹ کالج لاہور کے سامنے جُڑا ہوا تھا۔ کالج کے زمانے کے اُن کے قریبی دوستوں نے اولڈر اوینزایسوسی ایشن کے نام سے ایک تنظیم بھی بنا رکھی تھی، شہباز احمد شیخ اُس کے بڑے فعال سیکرٹری جنرل ہوتے تھے، اِس تنظیم کے زیراہتمام ایک سالانہ ڈنر ہوتا تھا جس میں بڑی قدآور شخصیات شرکت فرماتی تھیں، اِن ” قدآورشخصیات“ میں اُس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ (مرحوم) بھی شامل تھے، اُن کے بعد شاید ایس ایم ظفر چیئرمین بن گئے، اِس ڈنر کا سب سے مزیدار آئیٹم ذوالفقار چیمہ صاحب کی تقریر ہوتی تھی، وہ اکثر اہم موضوعات کو بڑی دلچسپی سے بیان فرماتے۔ اُن کی تقریر کے دوران ہال تالیوں سے گونجتا رہتا، یہ بڑے مزے کے دن تھے، اب اُن دنوں کے بارے میں لکھتے ہوئے میری آنکھیں بھیگ رہی ہیں ،”یاد ماضی عذاب ہے یارب....چھین لے مجھ سے حافظہ میرا....اولڈراوین ایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر کی ایک خصوصیت اِس کے آخر میں ہونے والی ”محفل موسیقی“ ہوتی تھی، نامور گلوکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے ....ابرارالحق کو پہلی بار میں نے لائیو اولڈراوین ایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر میں ہی سُنا تھا، اُن دِنوں اُن کا گانا”کِنے کِنے جانا ایں بِلو دے گھر“ مقبولیت کے جھنڈے گاڑرہا تھا، نوجوان نسل کے لیے یہ گانا ایک ”ترانا“ تھا، اِس گانے سے بے چاری بِلو نام کی لڑکیاں اس قدر مشہور یا بدنام ہو گئیں اُن دِنوں میں نے کچھ اخبارات میں ”تبدیلی نام“ کے اشتہارات پڑھے جِن میں لکھا ہوتا تھا ”ہم نے اپنی بیٹی کا نام بلو سے بدل کر رانی، شہزادی یا کچھ اور رکھ لیا ہے، ....ابرارالحق پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تو یہ راز ہم پر کُھلا وہ ”بِلوکا گھر“ کسے سمجھ رہے تھے؟، خیر ”بلوکے گھر“ کی مقبولیت علی ظفر کے گانے ”چھنوکی آنکھ میں اِک نشاہے“ آنے تک برقرار رہی، ”چھنواور بِلو“ کو تقریباً ایک جیسی مقبولیت ملی، علی ظفر اور ابرارالحق دونوں ہمارے ملک کا عظیم ثقافتی سرمایہ ہیں، میرے دل میں اِن دونوں کا بڑا مقام ہے ،....لاہور میں بطور ایس پی سٹی چیمہ صاحب نے بڑانام کمایا، جرائم پیشہ افراد کو ایسی ”نتھ“ ڈالی وہ چوڑیاں پہن کر بیٹھ گئے۔ اُن کے اِن کمالات اور مشہوریوں کی وجہ سے بے شمار سماجی تنظیموں نے اُنہیں اپنی تقریبات میں بطور مہمان خصوصی مدعو کرنا شروع کردیا۔ پھر جلد ہی اُن کی پوسٹنگ بطور ایس ایس پی رحیم یارخان ہوگئی، تب کسی ضلع کے ڈی پی او کو ایس پی یا ایس ایس پی کہا جاتا تھا۔ وہ رحیم یارخان میں بھی بڑے مقبول ہوگئے۔ لاہور سے جب اُن کا تبادلہ ہوا، اُنہیں تو پتہ نہیں یاد ہوگا یا نہیں، میں نے اپنے ادارے ”ہم سخن ساتھی“ کے زیراہتمام آواری ہوٹل لاہورمیں اُن کے اعزاز میں ایک شاندار عشائیے کا انعقاد کیا تھا، اِس تقریب کی صدارت اُس دورکے مقبول ترین صوفی دانشوار اشفاق احمد نے کی تھی، اُن کے علاوہ عطا الحق قاسمی، امجد اسلام امجد، بیگم بشریٰ رحمان، اصغر ندیم سید، جاویداقبال کارٹونسٹ، بیگم ریحانہ علیم مشہدی سمیت بے شمار علمی، ادبی، سیاسی وثقافتی شخصیات نے اُنہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ مجھے یاد ہے اُن دِنوں میری مالی پوزیشن بڑی کمزور ہوتی تھی، میری والدہ نے محلے میں ایک کمیٹی ڈالی ہوئی تھی، اُنہی دِنوں وہ کمیٹی نکلی، امی سے میں نے کہا ” میں نے چیمہ صاحب کے تبادلے پر اُن کے اعزاز میں کھانا دینا ہے، کمیٹی میں سے کچھ پیسے مجھے دے دیں، بعد میں میرے جیب خرچ میں سے وہ پیسے آپ کاٹتی رہنا “،میرے امی بڑے دِل والی تھیں، اُنہوں نے کمیٹی کے سارے پیسے مجھے دے دیئے .... چیمہ صاحب کو لاہورسے بڑی شان وشوکت سے میں نے رخصت کیا، اُس کے بعد بھی جب کبھی وہ لاہورآتے میں اُن کے اعزاز میں چھوٹی موٹی محفل سجاتا رہتا تھا، اُن سے کوئی حلفاً یہ پوچھ لے اِس محبت کے بدلے میں ایک پائی کا فائدہ اُن سے میں نے کبھی اُٹھایا ہو ؟، کبھی کوئی غلط سفارش اُن سے کی ہو؟ ناجائز تو کیا کبھی کوئی جائز کام ہی اُن سے کہا ہو؟....ہاں اُن کا ایک احسان مجھ پر ضرور ہے جس کے پیش نظر میں ہمیشہ یہ سوچتا ہوں اُن کے اور میرے درمیان غلط فہمیوں کے عرصے میں جو چولیں میں نے ماریں یہ زیادتی تھی، اِس احسان کا میں آپ کو اگلے کالم میں بتاﺅں گا (جاری ہے) 


ای پیپر