”لوڈشیڈنگ ، بلڈشیڈنگ“ 
06 اپریل 2021 2021-04-06

 وفاقی کابینہ میں حالیہ ردوبدل اس امر کا غماز ہے، کہ ناقدین کی آراءاور تنقید مثبت واقعی درست ہوتی ہے، اس میں صحافی ، سیاستدان عام عوام اور عدلیہ عظمیٰ سے لیکر چھوٹی عدالتوں کے فیصلے ، اکثر معاشرتی ناہمواریوں اور زیادتوں کے مظہر اور مشعل راہ ہوتے ہیں خاص طور پر منصفوں کے بیانات عوام الناس کی ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں ، سیکرٹری پٹرولیم اور نام نہاد بابائے پٹرولیم ندیم بابر جن کا مناظرہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ براہ راست عوام کو دکھایا گیا تھا، اور حکومت بضد تھی کہ ایسا شخص چراغ جلا کر بھی ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گا ، اور عباسی صاحب نے کہا تھا کہ اس کی تباہ کن پالیسیاں جب حکومت کے دماغ کو جھنجھوڑیں گی تو اس وقت پانی سر سے گزر چکا ہو گا، جبکہ ہماری بھی شروع سے یہ رائے ہے ، کہ ملکی ہو خواہ شخصی ، کسی بھی سطح پہ ترقی حاصل کرنے کے لئے نصب العین کا تعین اور اہداف کے حصول کیلئے راستہ ضرور متعین کرنا پڑا ہے۔ بعض لوگوں اور قوموں نے تو محض ، تین چار سال تک حکمرانی کر کے نہ صرف اپنی رعایا کو فلاح کی راہ پر گامزن کر دیا تھا ، جبکہ ابھی تک برصغیر میں صدیوں سے رواں دواں جرنیلی سڑک ، ہماری پلاننگ اور ڈویلپمنٹ منسٹری کا منہ چڑا رہی ہے، ہمارے ہاں کسی بھی حکمران کا عرصہ حکومت کا عہدہ خواہ دس سالوں پہ محیط ہیں خواہ ہمیں آزاد ہوئے پون صدی ہو گئی ہو ، ہمارے وطن عزیز کو جیسے مملکت خداداد پاکستان کہتے ہیں جس کے ماننے والوں کا دین ہمیں یہ بتاتا ہے ، کہ خواہ کوئی بھی اسلامی ملک ہو ہمارا دین ہمیں درس دیتا ہے، کہ اس ملک کو اسلامی فلاحی ریاست یعنی ریاست مدینہ کے اصولوں پہ چلایا جائے ، مگر یہاں یہ حال ہے کہ لوگوں کے چولہے ٹھنڈے اور خاص طور پر نمازوں کے اوقات میں صبح کے وقت تاریکیوں نے نمازیوں کے دماغوں کو ماﺅف کر کے رکھ دیا ہے، لوڈشیڈنگ جس کے نام سے کبھی پاکستانی واقف ہی نہیں تھے، میں یہ سوچ رہا تھا کہ حکومت نے ٹیکسائل انڈسٹریز ، خصوصاً فیصل آباد کے عوام اور مزدوروں کے مظاہروں اور خودکشی کی دھمکیوں کے بعد اس انڈسٹری کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے ، بالکل ایسے ہی ن لیگ کے دور حکمرانی میں ہوا تھا ، قارئین کیا لوڈشیڈنگ رکوانے کے لئے خودکشی اور اپنا حق اور انصاف لینے کے لئے گورنر ہاﺅس ، پارلیمنٹ یا وزیر اعظم ہاﺅس کے راستے میں خود سوزی لازمی ہے؟ ہمارا ہر حکمران اسے ترقی اور خوشحالی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں ، اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ترقی حاصل کرنے کے بعد ہم افریقی ممالک ، ساﺅتھ ایشین ریاستوں اور کیمرون ، کانگو ، نائیجیریا ، نیپال اور زمبابوے کے برابر آ گئے ہیں ، جبکہ زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ بنگلہ دیش اور افغانستان ترقی کی دوڑ میں ہمیں بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ 

جبکہ ہمارا عالمی اعزاز ، مستند اور برقرار تھے ، کہ ہم ”پنج آب“ یعنی پانچ دریاﺅں اور وسائل کی دستیابی کے باوجود ان سے زیادہ لوڈشیڈنگ والے ملک کے باسی بن گئے ہیں ، اور دریاﺅں کی موجودگی کے باوجود اور ہمارے حکمرانوں کی بے حسی اور پانچ سالہ منصوبہ بندی کر کے ذاتی مفاد کو ملکی مفاد پہ ترجیح دی ہے ، حالیہ سینٹ کا انتخاب ہماری منفی سوچ کا مظہر ہے ، سیدھی سی بات ہے ، لوڈشیڈنگ تب ہوتی ہے ، جب طلب اور رسد میں توازن برقرار نہیں رہتا ، اور یہ صورتحال کیوں پیدا ہوتی ہے ، جب اربوں روپے کے بلوں کی ادائیگی نہ ہونے کے باوجود بھی واپڈا بعض اداروں کی بجلی نہیں کاٹتا جبکہ غریبوں کے بل سرچارج کی شمولیت کے باوجود بھی دوسرے مہینے کاٹ دیئے جاتے ہیں سیدھی سی بات ہے ، کہ اگر حکومت پرائیویٹ بجلی پیدا کرنے والوں کی ادائیگی روک دے گی تو یہ صورتحال پیدا ہو گی ، اگر حکومت اتنا ہی کرے کہ فرنس آئل کی سپلائی نہ روکے ، اس کی ادائیگی بھی ہر صارف اپنے بل میں کر دیتا ہے۔ 

ایک دفعہ 1974ءمیں انگلینڈ میں محض تین ماہ کے لئے لوڈشیڈنگ ہوئی تھی، ہماری طرح بغیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ، بلکہ اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہوئی تھی ، ہمارے ہاں فرنس آئل کی وجہ سے اور برطانیہ میں کوئلے کی کمی سے ہوئی تھی۔ جبکہ ہماری حکومت نے برطانیہ کی مثالیں دے دے کر بھی قسم کھائی ہوئی ہے کہ لوگوں کو کسی قسم کی سہولت اور رعایت نہیں دینی ، مثلاً دنیا بھر میں جب پٹرول کی قیمت گری ہے ، حکومت اس پہ اگر منافع بازی بند کر دے تو قیمتیں خود بخود کم سطح پر آ جائیں گی، عمران خان تقریروں میں تو اس بات پہ اتفاق کرتے ہیں ، مگر عملی طور پر اس کے خلاف کرتے ہیں۔ 

قارئین یہ پکی اور مستند بات ہے ، کہ فاٹا اور سندھ کے بعض علاقوں میں بجلی ، گیس اور فون کے بل بالکل ادا نہیں کئے جاتے، اور نہ ہی پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں سے سرچارج وصول کیا جاتا ہے ، اگر بلوں کی وصولی اور ہر صوبے سے بشمول سندھ ہر صوبے سے یکساں انصاف کا سلوک ٹھان لیا جائے ، تو ہمارا ملک لوڈشیڈنگ سے بچ جائے گا ، بلکہ بچ سکتا تھا۔ ایک بات میرے ذہن میں بسی ہے ، کہ منصوبہ سازوں نے ایران گیس لائن منصوبے کو کیوں زیر التوا رکھ رکھ کر فراموش کر دیا ہے ، جبکہ امریکی عہدیداران کو کیوں اکثر ہلالی قائداعظم سے نواز دیا جاتا ہے ، ہمارے وزیر اعظم بات بات پر چین کی ترقی اور احتساب کی بات کرتے ہیں ، تو پھر ان کو یہ بھی پتہ ہونا چاہئے کہ اگر چین کرونا کے باوجود بھی اقتصادی طور پر دنیا میں چھا گیا ہے ، حتیٰ کہ امریکہ بھی اس کا مقروض ہے، اس نے اپنی عوام کو خوشحالی اور امریکی اجارہ داری کو پامال کرنے کے لئے اپنی انڈسٹری کو بجلی گیس حتیٰ کہ فون بھی فری کر دیئے ہیں ، کیا ہمارا ظرف ہمارا حوصلہ اور ہماری اوقات اتنی ہے ، کہ ہم اپنی صنعتوں کے لئے ساری نہ سہی ، صرف بجلی ہی فری کر دیں۔ حالانکہ بھارت میں بھی زراعت کے لئے بجلی فری ہے ، مگر اس کے باوجود بھارتی کسان اپنی مراعات میں سے ایک آدھی کم کرنے پہ بھی بالکل آمادہ نہیں ، جبکہ ہمارے ہاں ایک مہینے میں بجلی اور تیل کی قیمتیں تین تین بار بڑھا کر خزانے کو بھرنے کی آسان ترکیب اپنا لی ہے ، مگر عوام کے گھروں میں بتی اور بلب روشن کرنے کے بجائے اس کے چودہ طبق روشن کر دیئے جاتے ہیں، کالاباغ ڈیم کے اعلانات کرنے کے باوجود ، جنرل پرویز مشرف نے آخر کیس کے ڈر سے ڈیم بنانے کی بات بھی چھوڑ دی تھی ، حالانکہ وہ قوم کے سامنے تقریر بھی لکھوا چکے تھے ، اور یہ تقریر جس شخص نے لکھی تھی وہ خود دم بخود تھے ، کہ ہر چیز مکمل ہونے کے باوجود آخر وہ کون سی طاقت کون سا حربہ ، کون سی شخصیت ، کون سا ملک تھا، جو تقریر کرنے اور اعلان پہ اثر انداز ہوا؟ خدا نہ کرے ، کہ عوام بلڈشیڈنگ پہ بھی کبھی آمادہ ہو جائیں۔ 


ای پیپر