ایک اور بڑا امتحان !کرونا وائرس ،اب پھر امداد آ رہی ہے ۔۔۔ اور ۔۔۔؟
06 اپریل 2020 (18:40) 2020-04-06

شائستہ اسد:

8اکتوبر 2005ء جب آزادکشمیر پر قیامت برپا تھی، 7.6کی شدت سے آنے والے زلزلے نے قیامت صغریٰ برپا کردی،ہر طرف چیخ وپکار، ہر طرف تباہی ہی تباہی، ہر طرف خون ہی خون، ہر طرف لاشے ہی لاشے، ہر طرف آنسو ہی آنسو، ہر طرف انسانی جسموں کے اعضاء کا بکھرنا، ہر طرف کسی کا بازو کسی کا ہاتھ تو کسی کی ٹانگ تھی ، موت نہیں رہی تھی، انسانیت مدد کو پکار رہی تھی۔ 2005ء اور آج 2020ء ہے یعنی 15سال بیت گئے۔ آج بھی اس تباہی کے حوالے سے جب وہاں کے حالات دیکھتے ہیں تو وہ نہیں بدلے، اربوں روپے کی امداد کہاں گئی؟ کسی کو گھر نہ ملا ،کوئی آج بھی گھر کا منتظر ہے، یہ تو مادی چیزوں کی باتیں ہیں جب ایک دفعہ تباہی آجائے تو کم ازکم پاکستان میں دوبارہ وہاں نہ تو ترقی ہوتے دیکھی، نہ وہاں کے پہلے جیسے حالات واپس لائے گئے اور نہ حکومتوں نے توجہ دی۔ دعوے، دعوے اور دعوئوں میں تو فائلیں بھر جاتی ہیں مگر تباہی کا سامنا کرنے والوں کے زخم نہیں بھرتے۔ آپ انہی کالموں میں جو تصاویر دیکھ رہے ہیں یہ انسانی زندگی کے گزرے تلخ واقعات کی نہ مٹنے والی نشانیاں ہیں۔

نہ ختم ہونے والے دُکھ

نہ ختم ہونے والی حقیقتیں

نہ ختم ہونے والے دن اور نہ ختم ہونے والی تلخ یادیں ہیں، قدرت ہر ایک سے امتحان لیتی ہے مگر حکومتیں جس امتحان میں ڈال دیتی ہیں وہاں سے نکلنا ان کی نسلوں کیلئے بھی آسان نہیں،تاہم ان لگے زخموں کا کسی مالی امداد کی شکل میں کچھ تو مداوا ہوسکے۔

کہاں گئیں وہ تنظیمیں جو دن رات کام کرنے کی دعویدار تھیں؟

کہاں گئیں وہ این جی اوز جنہوں نے انسانی زندگی کی بحالی کے لیے آسمان اور زمین ملا دینے کے وعدے اور دعوے کیے تھے، کہاں گیا وہ میڈیا جو دن رات وہاں اپنے کیمرے کی آنکھ سے کرب ناک مناظر پیش کررہا تھا اور

آج بھی تباہی کے وہی مناظر ہیں

آج بھی انسانیت زخمی زخمی ہے

آج بھی لاتعداد معذور افراد ان کی راہ تک رہے ہیں کہ وہ ان کے حق میں آواز اُٹھائیں

کہاں ہے وزیراعظم عمران خان جنہوں نے جیو کے ساتھ مل کر اربوں روپے اکٹھے کیے۔

کہاں ہے ابرارالحق جنہوں نے گھر بنائے اور پھر…؟

کہاں ہے شہزادرائے بہت فنڈز اکٹھے کیے اور…؟

کہاں ہیں حکومتیں، کون ان کا پیسہ کھاگیا، کون ان کے زخموں کو رستا چھوڑ گیا؟

دل کے زخم تو بھر جاتے ہیں، جسم کے زخم نہیں بھرتے، ٹوٹی ٹانگ، ٹوٹا بازو، ٹوٹا پائوں، نکلی آنکھ، کبھی واپس نہیں آسکتی۔ زخموں کے لگے نشان جب جسم میں نقش ہو جائیں تو وہ مٹ نہیں سکتے، وہ کرب ناک المناک قیامت کی نشانیاں بن کر زندگی کا پیچھا کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان کے نامور صحافی اور ٹی وی اینکر عامر غوری کی کتاب ’’A Divine Destruction‘‘ میرے سامنے پڑی ہے۔ یہ کتاب نہیں یہ تصاویر کی شکل میں جمع کی گئی انسانیت کی وہ تصویر ہے جس کی ایک ایک کہانی انسانیت کو جھنجھوڑ رہی ہے، ایک ایک تصویر دیکھ کر نہ صرف دل دہل جاتا ہے، آنکھ اشکبار ہو جاتی ہے، جسم کانپ جاتا ہے اور قیامت کے آنے سے پہلے ہی قیامت نظر آجاتی ہے۔ معصوم بچوں کے چہروں پر لگے پھٹ، کسی کا بازو، کسی کی آنکھ، کسی کی ٹانگ تو کسی کا پائوں تو کوئی دونوں ٹانگوں سے محروم … یہ بڑے ہونے والے بچے زندگی بھر اپنے جسموں کو دھرتی پر لے کر چلتے پھرتے رہیں گے، ان کو دیکھنے والوں کے پاس وقت نہیں ہے، ان کی مدد کے لیے کوئی نہیں آئے گا، ان کو اکیلے ہی یہ دُکھوں بھری زندگی بسر کرنا ہے، یہ ہمارے معاشرے کی وہ تصویریں ہیں جو آنے والی نسلوں کو بھی باور کراتی رہیں گی کہ انہوں نے قیامت کے بعد قیامت ہی دیکھی ہے۔ ان کے نصیبوں کو کوئی نصیب نہ دے سکا کہ نصیب تو خدا نے لکھنے ہوتے ہیں مگر زمین میں ان کی مسلسل مدد سے کم ازکم ان کے دل کے زخم تو بھر جائیں گے۔ کون سوچے گا ایسا اور کون ان کے زخموں پر امداد کا مرہم رکھے گا؟

٭٭٭


ای پیپر