ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مقدمہ : مقدمۂ آزادی!بہادر شاہ ظفر
06 اپریل 2020 (18:36) 2020-04-06

جبران علی:

1526ء میں بابر کی قائم کردہ مغل سلطنت کی آخری تاجدار ابوظفر دہلی کے بادشاہ اکبر ثانی کا لڑکاتھا۔ 1837ء میں تخت نشین ہونے کے بعد انہوں نے ابوظفر محمد سراج الدین بہادر شاہ غازی کا لقب اختیار کیا، ان کا شاعرانہ تخلص ظفر تھا۔

ابوظفر کے بچپن کے واقعات بہت کم روشنی میں آئے ہیں حتیٰ کہ ان کا مقام پیدائش بھی پردۂ راز میں ہے۔ انہوں نے حسب دستور اُردو، فارسی اور عربی میں درس پایا اور فنونِ سپہ گری کی تربیت، گھڑسواری، تلوارزنی، تیراندازی اور آتشی اسلحہ میں پائی اور خوب مہارت حاصل کی۔ ان کو ایک بہترین نشانے باز اور ملک میں ایک ماہر گھڑسوار سمجھا جاتا تھا۔ وہ ایک عمدہ کاتب، صوفی مزاج، ماہر فارسی داں اور شاعر تھے۔ اس دور کے دو عظیم شاعر ابراہیم ذوق اور اسداللہ خاں غالبؔ ان کے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں۔ ملک بدری کے دور میں ان کی کہی گئی غزلیں اپنی جذباتیت اور غنائیت کے سبب ادب میں ایک مقام رکھتی ہیں۔ وہ شراب اور تمباکو کے عادی نہیں تھے مگر عمدہ وخوش ذائقہ کھانوں کے شوقین تھے۔

انہوں نے متعدد شادیاں کیں ۔ ان کی سب سے چہیتی بیوی زینت محل، جس سے انہوں نے اپنی عمر کے آخری حصہ میں شادی کی اور وہی ان کے ایام ملک بدری کے سخت دور میں ان کے ساتھ تھیں۔

بہادرشاہ ظفر ہندوستان کے باضابطہ بادشاہ تھے اور 1765ء میں اپنے دادا شاہ عالم کے دستخط کردہ قانونی معاہدہ ’’دیوانی بنگال‘‘ کے تحت ہندوستان میں موجود انگریزوں کو اپنی رعایا شمار کرتے تھے مگر ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی سرکار ان کو ایک وظیفہ پانے و الا برائے نام بادشاہ گردانتے تھے جس کا دائرہ اختیار صرف لال قلعہ کی فصیل کے اندر محدود تھا اور وہ ایک لاکھ روپیہ ماہوار وظیفہ کا حقدار تھا۔

جب 1857ء کا ہنگامہ عمل میں آیا اس وقت بہادر شاہ ظفر کی عمر 82سال تھی۔ میرٹھ سے آئے ہوئے باغی سپاہی اور افسران 11مئی 1857ء کو زبردستی قلعہ کے اندر داخل ہوگئے اور انہوں نے جبراً بہادر شاہ ظفر کو اپنی حمایت اور سرپرستی کے لیے تیار کیا۔ بہ دل نخواستہ بہادر شاہ ظفر رضامند ہو گئے مگر یہ صفائی سے کہہ دیا کہ انگریزوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی خزانہ، جنگی سازوسامان یا ذرائع نہیں ہیں۔ بعد کے آنے والے مہینوں میں بہادر شاہ ظفر کا عملی کردار بھی کوئی قابل ذکر نہیں رہا ہے۔ ستمبر کے آخر میں جب دہلی کو شکست ہوئی تو انہوں نے ہمایوں کے مقبرہ میں پناہ لی جہاں بعد میں جان کی امان پانے کے وعدہ پر خود سپردگی کردی۔ بعدازاں ان پر ایک فوجی عدالت میں غداری، مجرمانہ سازش، بغاوت اور قتل کے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ اس مقدمہ میں پیش کردہ شہادتیں بڑی حد تک قانوناً غیرمتعلقہ اور ناقابل تسلیم تھیں مگر ان کو عائدکردہ تمام الزامات میں مجرم قرار دیا گیا اور سزایابی میں ملک بدر کر کے رنگون بھیج دیا گیا۔ کچھ ہندوستانی تاریخ دانوں نے 1857ء کی جنگ آزادی میں ان کی شرکت پر مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے۔ بہادرشاہ لڑائی کے فن میں انتہائی کمزور، لاعلم اور قطعی ناتجربہ کار انسان تھے اور برطانوی فوج کے خلاف مہم میں بحیثیت ایک بادشاہ اور سربراہ اعلیٰ کے کردار کی صحیح انجام دہی کے لیے ان کے پاس ذرائع کا فقدان تھا۔ ان کے مقدمہ کی کارروائی سماعت اور سزایابی انصاف کی تضحیک اور ایک انتقامی کارروائی تھی،عدالتی اجلاس ملتوی ہوگیا۔ 9مارچ 1858ء کو اجلاس دوبارہ منعقد ہوا اور عدالت نے فیصلہ سنایا۔’’عدالت اپنے سامنے موجودہ شہادت کی بنیاد پر اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ قیدی محمد بہادر شاہ سابق بادشاہ دہلی کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات پوری طرح ثابت ہوتے ہیں‘‘۔

2اپریل 1858ء کو یہ فیصلہ میرٹھ ڈویژن (کیمپ سہارنپور) کے اعلیٰ کمان میجر جنرل پی این پینی نے تصدیق کردیا اور عدالت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔قانونی ضابطہ کے مطابق یہ تمام کاغذات، دستاویز، بیانات، فیصلے کیساتھ چیف کمشنر پنجاب سرجان لارنس کو بھیج دئے گئے جن کو اس فیصلہ پر نظرثانی کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ انہوں نے ان پر غوروفکر کرنے کے بعد بہادرشاہ کے لیے تاعمر سمندرپار جلاوطنی کی قید کی سزا تجویز کی۔

بہت سے مصنّفین نے اس مقدمہ کو قبول کرنے کے لیے بہادر شاہ پر تنقید کی ہے۔ وہ برطانوی رعایا نہیں تھے اس لیے برطانیہ سرکار کا ان پر عدالت میں مقدمہ چلانے کا اقدام عدلیہ کے منافی تھا۔ اصولی طور پر برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے بادشاہ کے خلاف بغاوت کی تھی تاہم بہادرشاہ ظفر میں کچھ کہنے کی اہلیت، قوت اور خواہش کا فقدان تھا۔

اس مقدمہ کی کارروائی میں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے تحت ایک بادشاہ پر ایک عام انسان کی مانند مقدمہ چلایا جانا ممکن ہے؟ بلاشبہ بہادرشاہ ظفر ایک بادشاہ تھا اور قانونی طور پر ان کا منصب تسلیم شدہ تھا، وہ خودمختار دائرہ اختیار رکھتے تھے، یہ ایک چھوٹی مملکت تک محدود تھا۔ 1857ء سے قبل انگریز ہندوستان کے مقتدر اعلیٰ حکمران نہیں تھے اور ان سے وظیفہ پانے کے باوجود بھی بہادرشاہ ظفر کی قانونی حیثیت ان کی رعایا کی نہیں تھی۔ بین الاقوامی قانون کے تحت ان کی حیثیت ایک مقتدر اعلیٰ حکمران کی تھی۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران جب دہلی کا علاقہ قانونی اور واقعاتی طور پر کمپنی سرکار سے نکل کر خودمختارانہ ہو گیا تھا تو وہاں بطور شہنشاہ کے بہادر شاہ کی تخت نشینی ہوئی تو پھر ایسے حالات میں بہادر شاہ پر بدعہدی وغداری کا مقدمہ چلانا قانوناً مناسب نہیں تھا اور اس مقدمہ کو کسی بھی زاویہ سے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ہے حالانکہ قانون شہادت کے تحت وکیل استغاثہ نے عدالت کے روبرو ان پر لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کافی مواد ثبوت میں فراہم کیا تھا مگر اس کی قانونی زاویہ سے جانچ نہیں ہوسکی کیونکہ بہادرشاہ گواہوں سے جراح کرنے یا اپنا قانونی دفاع کرنے کے اہل نہیں تھے اور نہ ہی ان کو اس سلسلہ میں کوئی قانونی صلاح یا مدد فراہم کی گئی۔ اس وقت ملک کے حالات اس طرح کے تھے کہ سب ہی لوگ قانونی علم سے بے بہرہ تھے اور سامنے آکر بہادر شاہ کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں کرسکتے تھے۔ دونوں فریق کی پوری بات سنے بغیر صادرشدہ فیصلہ عدلیہ کے میزان پر پورا نہیں اُترتا ہے، یہ قطعی طور پر یک طرفہ اور سیاسی فیصلہ تھا۔

شکست پانے کے بعد جس انداز میں بہادر شاہ ظفر کو دہلی لایا گیا اور ان کے خلاف جیساثبوت فراہم کیا گیا وہ اس مقدمہ کی قلعی پوری طرح کھولتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک محض ڈھکوسلہ ان کو قید اور جلاوطنی کی سزا دینے کا تھا۔ خودمختار حکمران ہونے کے ناطے بہادر شاہ ظفر پر مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا تھا، وہ اس وقت ذہنی طور پر اس حالت میں نہیں تھے کہ اس مقدمہ کا سامنا کرسکتے ،اس لیے کارگر دفاع کرنے کے اہل نہیں تھے، ان کی عمر 82سال تھی، تمام دوست اور ہمدرد مع ان کی ملکہ زینت محل کے قریب قریب ان کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ اس طرح کارروائی چلا کر ان کو غیرضروری طور پر پریشانی میں مبتلا کیا گیا اور بے ایمانی سے سزا دی گئی۔

اس مقدمہ کی کارروائی 2ماہ سے زیادہ چلی، شروع سے ہی ہر ہر قدم پر فیصلہ کھلے طور پر ظاہر ہورہا تھا۔ 29مارچ 1858ء کو بہادرشاہ ظفر کو مجرم قرار دیا گیا اور بعدازاں ان کو سزایابی میں تاعمر جلاوطن کر کے رنگون بھیج دیا گیا۔ انہوں نے اکتوبر 1858ء میں دہلی چھوڑی، ان کے ساتھ جواں بخت، چھوٹا بیٹا اور عالم مجبوری میں زینت محل بھی تھی جو اس وقت تک ان سے متنفر ہو چکی تھی اور ان کو ایک تکلیف دہ، گھنائونا وناکارہ بڈھا کہہ کر پکارتی تھی۔ ان کی موت 2نومبر 1862ء کو رنگون میں ہوئی۔

یہ انگریزوں کا چلایا ہوا پہلا قابل ذکر مقدمہ تھا جس نے ہندوستان میں برطانوی اقتدار قائم کیا اور بام عروج پر پہنچ کر آئی این اے کے مقدمہ میں اسکی تقلید کرنے پر برطانوی اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔ اس مضحکہ خیز کارروائی کے بعد ہندوستان میں خاندان مغلیہ اور ایسٹ انڈیا کمپنی دونوں کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔

٭٭٭


ای پیپر