ریٹنگ والا دور اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا !
06 اپریل 2020 (18:32) 2020-04-06

صحافت کی دُنیا کا بڑا نام بڑا کردار بڑی تاریخ، قدآور تجربہ اور آواز کی دُنیا کا جادوگر مجاہد بریلوی ۔ جن کا تعارف صرف لفظوں میں سمیٹا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے بعد صحافت کو مشن کے طور پر اپنایا اور آج وہ اپنی صحافت کے پانچویں دور سے گزر رہے ہیں۔ زندگی میں بے شمار مشکلات کا سامنا کیا، کئی بار جھکانے کی کوشش ہوئی، جھکے نہیں۔ مگر وہ اتنی ہی طاقت سے اُبھرے جتنی طاقت اس دور میں صحافت کی تھی۔ اپنے ویژن پر قائم مجاہد بریلوی سے ہم نے گزشتہ دنوں ایک ملاقات کی جو ذیل کے کالموں میں دی جارہی ہے۔

کہاں سے سفر شروع ہوا ، کہاں سے قلم نے لکھنا سکھایا؟

میرے والد سید الطاف علی بریلوی سر سید اسکول آف تھاٹ کے تھے۔پاکستان میںہجرت کی تو آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس کے نام سے ایک ادارہ بنایا۔ جس کے تحت سن 1950میں سر سید گر لز کالج قائم کیا۔یوں لکھنا پڑھنا ورثے میں ملا۔ پڑھے لکھے لوگ اُس وقت بھی اور غالباً اب بھی مڈل بلکہ لوئر مڈل کلاس کے ہوتے ہیں۔تو ہم نے بھی ایسے ہی ماحول میں آنکھ کھولی۔ سرکاری اسکول سے میٹرک کیا۔اُس ہی زمانے میں سیاست بلکہ کامریڈیت کی لت یا علت لگ گئی۔بڑی مشکل سے بی اے ،ایم اے پاس کیا۔اسی دوران کراچی پریس کلب آنا جانا شروع ہوگیا تھا۔ریڈیو سے بھی تعلق رہا۔جس سے روزی، روزگار چلتا رہا۔

یونیورسٹی سے باہر نکلے تو بائیںبازو کی تنظیم جس سے وابستہ تھے اس کا بکھرنا شروع ہوگیا تھا۔اس وقت سیاسی کارکنوں کے لئے دو ہی آزاد پیشے تھے۔ایک صحافت ،دوسرے وکالت۔کیونکہ ورثے میںلکھنا پڑھنا ملا تھا تو ضرورت بھی تھی اور شوق بھی۔یوں پہلا عملی صحافت میں ماہنامہ پاکستانی ادب سے آغاز کیا۔جو ہمارے مارکسی استاد سید سبطِ حسن نے ایک اور خوشحال گھرانے کی لکھاری سعید ہ گزدر کے ساتھ نکالا ۔اسی دوران لندن سے فہمیدہ ریاض کراچی آچکی تھیں۔سخت قوم پرستی اور اشتراکیت اُن پر غالب تھی۔پریس کلب میں اُن سے ملاقات ہوئی تو انہیں لے کر پاکستانی ادب کے دفتر پہنچے۔سو پاکستانی ادب میں ہم چاروں کا نام مجلس ِ ادارت میں شامل تھا۔ ہمارے لئے اعزاز کی بات اس لئے تھی کہ چار لائنیں بھی لکھنے کے قابل نہ تھے ۔اور نام چھپ رہا تھا سبطِ حسن اور فہمیدہ ریاض کے ساتھ۔پاکستانی ادب چند ماہ چل کر بند ہوگیا۔سن1976ء میں سنا کہ پیپلز پارٹی کے حامی صحافی محمود شام ایک ہفت روزہ رسالہ نکال رہے ہیں۔ ہمیں اس میں ہمارے صحافتی استاد اشرف شاد لے کر آئے ۔ہفت روزہ معیار سے وابستہ ہوئے ۔سال نہیں ہوا تھا کہ رسالہ بھی مارشل لاء حکومت نے بند کردیا۔اور خود بھی چھ ماہ کے لئے جیل چلے گئے۔باہر واپس آئے تو بیشتر وقت پریس کلب میں زندہ باد مردہ باد میں گذرتا۔ہفت روزہ معیار کے ایڈیٹر ان چیف محمود شام تھے۔ایڈیٹر اشرف شاد جنہوں نے ہمارے قلم کو رواں کرنے میں بڑی مدد کی۔تنخواہ ساڑھے تین سو روپے تھی۔پھر جیل جانے کے بعد بند ہوگئی۔آج بھی سوچتاہوں کہ اگلے تین چار برس کس طرح گزارا ہوا۔ مگر ہاں،اس وقت شادی جیسی ذمہ داری کا بوجھ نہیں پڑا تھا۔اس لئے زندگی اتنی مشکل نہ تھی۔

ہفت روزہ کے جب ہم اسسٹنٹ ایڈیٹر تھے تو رسالہ بند ہونے سے پہلے پی این اے (پاکستانی قومی اتحاد) کی تحریک اپنے زوروں پہ تھی۔ایک دن ہمارے ایڈیٹر نے کہا یہ لو 50روپے اور ملتان چلے جاؤ جہاں یہ تحریک بڑے زوروں پر ہے۔تو پہلی خبر بائی لائن ہماری ملتان ہی سے چھپی۔

عملاً کسی اخبار میں کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ہفت روزہ معیار کے بعد ایک غیر سیاسی رسالہ ’’بینکاری‘‘ نکالنا شروع کیا۔ہاں،اس دوران ایک اہم واقعہ یہ ہوا کہ اپریل سن1978ء میں کابل میں نور محمد ترہ کی کی کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی تو ہمارے کراچی کے ایک کامریڈ ڈاکٹر نے کہا کہ اجمل خٹک ان دنوں کابل حکومت میں مشیر خاص ہیں۔کیوںنہ کابل جا کر وہاں کے حالات و واقعات دیکھو۔اور پھر یہاں آکر کہیں شائع کروادیں گے۔اب مسئلہ یہ تھا کابل کیسے جایا جائے۔اُس زمانے میں کمیٹی ڈالنے کا بڑا رواج تھا۔سو دس دوستوں نے مل کر جو ہزار روپے کی کمیٹی ڈالی وہ پہلی ہمیں ملی۔کراچی سے پشاور گئے۔وہاںپر ہمارے ایک سینیئر کامریڈ ڈاکٹر شیر افگن ملک اور ماسٹر خان گل کے بیٹے مصطفی کمال ہوا کرتے تھے، اُن کا ایک ہوٹل تھا۔وہیں رہائش اختیار کی۔اورہاں، اُس زمانے میں پاکستانی بذریعہ ویزا گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کی بس سے پشاور سے کابل جاتے تھے۔کرایہ 50روپے ہوا کرتا تھا۔ پشاور کے کامریڈوں نے ہمارے جانے کا سارا بندو بست کردیا۔اور یہی نہیں بلکہ کابل میں اجمل خٹک کو ہمارے آنے کی اطلاع بھی دے دی۔سو ایک سرد شام میں پشاور پہنچ کر ،2بسیں بدل کر، اجمل خٹک کے گھر پہنچے۔طالب علمی کے زمانے سے ان سے نیاز مندی تھی۔وہیں ملاقات صوفی جمعہ سے ہوئی جو پاکستان کی کمیونسٹ پارٹی اور نیپ کے نمائندے کی حیثیت سے نور محمد ترہ کی کی حکومت میں بڑا معتبر مقام رکھتے تھے۔اور پھر ہمارے لئے صحافتی اعتبار سے ایک اہم واقعہ یہ ہوا کہ دو دن بعد افغان صدر سے ہمارا انٹرویو بھی ہوگیا۔پاکستان ہی نہیں ،کسی غیر ملکی سے بھی افغان صدر کا یہ پہلا انٹر ویو تھا۔جو ہمارے ہوتے ہوئے وہاں کے سرکاری اخبار ’’کابل ٹائمز ‘‘ میں شائع ہوا۔ہفتے بھر بعد واپسی ہوئی۔کراچی میں روزنامہ مساوات کی بحالی کے لئے پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری تھا۔تو ہم نے بھی پی ایف یو جے کے صدر منہاج برنا کے حکم پر رضاکارانہ گرفتاری ریگل چوک صدر سے پیش کی۔کراچی اور حیدر آباد جیل کی یاترا کا فائدہ یہ ہوا کہ اس دوران ’’طورخم کے اُس طرف‘‘ کے نام سے ایک کتاب بنا لی کہ ہم باقاعدہ ادیب تو تھے نہیں۔سبطِ حسن صاحب نے اس کی نوک پلک درست کی۔پریس کلب کے دوست پھر کام آئے۔ پانچ ہزار روپے میں یہ شائع ہوئی۔ قیمت 20روپے تھی۔مہمانِ خصوصی ممتاز بلوچ گوریلا لیڈر شیر محمد مری تھے۔صدارت سبط ِ حسن صاحب نے کی۔سینکڑوں کا مجمع تھا۔پہلا ایڈیشن اُس ہی روز ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگیا۔یوں ہمیں مصنف یعنی ادیب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوگیا۔بعد کے برسوں میں اخباروں میں کالم نویسی تو کی۔مگر کبھی ڈیسک پر یا رپورٹر کی حیثیت سے کام نہیں کیا۔

پرنٹ میڈیا کیوں زوال پذیر ہوا؟

یہ تو بتا ہی چکا ہوں کہ ہم جیل سے واپس آنے کے بعد جریدے ’’بینکاری ‘‘ سے وابستہ ہوگئے تھے۔اردو بینکنگ میں یہ پہلا جریدہ تھا۔ڈٹ کر محنت کی اور یقین کریں کہ اس کی اشاعت دس ہزار مہینے سے بڑھ گئی۔یوں اس جریدے کے سبب اگلے دس برس یعنی پورے مارشل لاء دور میں بڑی خوشحالی میں گذرے ۔غیر ممالک کے بھی سفر کئے کہ سن 2000ء آگیا۔بہرحال کریڈٹ جنرل پرویز مشرف کو جائے گا کہ انہوں نے نجی ٹیلی ویژ ن کی اجازت دے دی۔اب جو سیاست میںہمیں تھوڑی بہت دلچسپی تھی اور پریس کلب کے دور میں جو ہم کئی مرتبہ سکریٹری رہے تو اس دوران ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے ذاتی تعلق بن گیا۔پاکستان کے پہلے انڈیپنڈنٹ نیوز چینل انڈس نیوز میں ہمارا آنا حادثاتی طور پر ہوا۔کیونکہ انڈس نیوز کے مالک غضنفر علی نے، جنہیں میں نجی ٹیلی ویژن کا god fatherکہوں گا،ہمیں کہیں ریڈیو پر بولتے سن لیا تھا۔ بلا کر کہا ’’تمہیں پروگرام بی بی سی کے Hard Talkکی طرح ’’دوٹوک ‘‘ کے نام سے کرنا ہے۔اور ہاں، اس میں ہر پارٹی کا مرکزی قائد ہونا چاہئے۔‘‘تو جہاں تک یاد آرہا ہے کہ پہلا انٹرویو پروفیسر غفور احمد کا کیا۔دوسرا اسفندیار ولی خان کا ۔تیسرا غنویٰ بھٹو کا ۔چوتھا غالباً ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر کا۔ غضنفر صاحب نے ہمیں یہ نصیحت کی کہ اگلے دوماہ تک کسی پبلک مقام پر نہ جانا۔ورنہ وہ تمہیں اپنے طور پر متاثر کرنے کی کوشش کریں گے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ سیاست سے آشنا ئی تھی۔پریس کلب کے سیکریٹری ہونے کے سبب کمپیئرنگ بھی اچھی خاصی کرلیتے تھے۔’’دوٹوک‘‘ پروگرام ایسا چلا کہ دوماہ بعد جب ہم با ر بی کیو ریستوران میں کھانا کھانے گئے تو ہر دوسرا اور تیسرا گرمجوشی سے ہاتھ ملا رہا ہوتا تھا۔اگر اُس وقت سیلفی کا زمانہ ہوتا تو معذرت کے ساتھ ،خود نمائی اچھی نہیں لگ رہی ،مگر دن میں سینکڑوں کی تعداد میںسیلفیاں تو بنتیں۔انڈس میں پہلی تنخواہ 10ہزار کی ملی۔اس دوران جیو اور اے آر وائی اور آج ٹی وی آچکے تھے۔2002ء کے الیکشن بھی آگئے۔اس ہی دوران ہمارے کرم فرماانڈس ٹی وی کے مالک کے ذہن میںیہ خیال آیا کہ کہیں ہم دوسرے چینل میں نہ چلے جائیں ،ایک توخیر ہم روایتی آدمی ہیں۔سینئرز نے جو کچھ بھی دیا ،اُس کاہمیشہ احترام کیا۔اور پھر انڈس نے تو ہمیں چہرہ آشنائی جو دی سودی۔مگر سال بھر میں تنخواہ ایک لاکھ روپے ہوگئی۔ساتھ میں کلٹس گاڑی بھی۔اتنی تنخواہ اور اتنی مراعات اُس زمانے میں چند ہی صحافیو ں کو ملتی تھی۔اور ہم تو خیر سے کیونکہ سُر خا سرخ کامریڈ تھے، احباب اور خاندان کا یہی خیال تھا کہ ساری زندگی قلم کی گھسائی میں جوتا گھسائی جاری رہے گی۔ خود اندازہ لگا لیں کہ 20سال پہلے ایک لاکھ تنخواہ کتنی بڑی ہوا کرتی تھی۔

سوشل میڈیا کیا ہے؟

اس کے باوجود کہ یہ دور سوشل میڈیا کا ٹھہرایا جاتا ہے، مگر معذرت کے ساتھ میں اسے سنجیدگی سے نہیں لیتا۔یہ ایک ایسا اصطبل ہے جس میں گھوڑے ،گدھے،خچر بغیر لکھے پڑھے نہ صرف داخل ہوسکتے ہیں بلکہ قبول ِ عام بھی ہوجاتے ہیں۔مگر ابھی بھی میری یہ رائے ہے کہ لکھا ہوا لفظ آج بھی معبتر ہے۔غالبؔ،اقبالؔ کو گذرے صدی،ڈیڑھ صدی ہونے کو آرہی ہے۔مگر آج بھی ان کا کلام ہزاروں کی تعداد میں چھپتا ہے۔سینکڑوں کتابیں ان پر لکھی جاتی ہیں۔اسی طرح کیاکوئی ایساسوشل میڈیا کا کوئی چینل ہے جو بی بی سی اورسی این این جیسی شہرت رکھتا ہو؟پاکستان میںبھی ایسے کئی میڈیا گروپ کے نام لے سکتا ہوں مگر کسی کا نام نہیں لینا چاہتا۔

ایڈیٹر کا وجود اب کیوں نظر نہیں آتا؟

پہلی بات تو یہ کہ صحافت ایک مشن نہیں ،اب انڈسٹری ہے۔اس کا مالک و مختار اس کا پرنٹر پبلشر ہی ہے،یا جس نے اس میں سرمایہ لگایا ہوتا ہے۔پہلے اخبارات کی شہرت اُس کے ایڈیٹر کے نام سے ہوتی تھی۔مولانا ظفر علی خاں کا’’ ذمہ دار‘‘،مولانا ابولکلام آزاد کا ’’الہلال‘‘ ۔مولانا چراغ حسن حسرتؔ کا ’’امروز‘‘ ۔فیض احمد فیضؔ کا ’’پاکستان ٹائمز ‘‘۔مجید نظامی کا ’’نوائے وقت‘‘۔ ۔ ۔ صدی نصف صدی گزرنے کے بعد یہ اخبارات ان ہی ناموں سے جانے جاتے ہیں۔آج کہا جاتا ہے کہ یہ میڈیا گروپ گھی والے کا ہے، بحریہ والے کا ہے، بیکری والے کا ہے،تو پھر جب مالک یہ ہوں تو ایڈیٹر کہاں سے آئے گا؟ اور پھر جسے خبر کہتے ہیں ،کہ جو حکومتوں کو گرا اور دہلا دے ،کہاں سے آئے گی؟ چلتے چلتے، اپنے ایک دوست اینکر کالم نویس کا ذکر کردوں۔ ۔ ۔ جو کثیر الاشاعت اخبار میں اپنے کالم میں اپنے مالک کی مدحا کس طرح کرتے نظر آتے ہیں۔کہ 70سال پہلے بڑے میر نے آزادی ِ صحافت کا پرچم بلند کیا۔اورآج یہ پرچم چھوٹے میر نے اٹھا رکھا ہے۔کوئی ان سے پوچھے کہ حضور، 80کی دہائی میں ان گنہگار آنکھوں نے دیکھا کہ ان ’’میر ِ صحافت ‘‘کا قلم نائن زیرو کے قائد کی چپلوں پہ رکھا ہوتا تھا۔مارشل لاء دور میں جب 4صحافیوں کو کوڑے لگے تو 4سطری خبر اس آزادیٔ صحافت کے چیمپئین اخبار میں شائع نہیں ہوسکی تھی۔پھر معذرت کے ساتھ کہ برسبیل تذکرہ کہ جب صحافت پر بات ہوگی تو زبان پر ایسا جملہ آنے سے نہیں رک سکتا ۔ہاں،میں یہ ضرور چاہوں گا کہ اگر اس میں غلط بیانی کی گئی ہے تو موصوف کالم نویس کا ہاتھ اور میرا گریبان حاضر۔

ریٹنگ کا چکر کیا ہے؟

یقینا جب ہم نے الیکٹرانک میڈیا جوائن کیا تو چند چینل تھے۔اور تین چار پانچ اینکرز تھے۔زیادہ اینکرز صحافت سے آئے تھے۔ پھر نیا ٹیلی ویژن آیا تو محض سیاست تک محدود نہیں تھا۔اپنی مثال دینا اچھا نہیں لگتا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میں Independent NEws channelکاپہلا اینکر تھا۔اور میرے پیچھے دو دہائی سے اوپر کا صحافتی پس منظر بھی تھا۔اور اس وقت جب ہم نے دوٹوک میںone on oneانٹرویو کرنے شروع کئے تو اس میں تمام پارٹیوں کے مرکزی رہنما تو تھے ہی،مگر ساتھ میں جو مشہور شاعر تھے جیسے احمد فراز،منیر نیازی،فہمیدہ ریاض ،امجد اسلام امجد وغیرہ کے بھی انٹرویو کئے۔اسی طرح عبد الستار ایدھی ،ادیب الحسن رضوی، ڈاکٹر عطا الرحمان کے انٹرویو بھی کئے ۔عاصمہ جہانگیر کے انٹرویوز کئے۔اس سلسلے میں ایک دلچسپ بات یہ بتا تا چلوں کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا کسی بھی نجی چینل میں یہ پہلا انٹرویو تھا ۔کرکٹ کے حوالے سے تو بہت سے اینکر ان کا انٹرویو لینے کے مشتاق تھے لیکن سیاسی حوالے سے انہیں کوئی اہمیت حاصل نہیں تھی۔ پہلے انٹرویو میںجب میں نے ان سے یہ سوال کیا کہ ابھی تو آپ سیاست کے بارہویں کھلاڑی ہیں،اور یہ سفر بڑا لمبا ہے ۔۔۔ توخان صاحب نے جو جواب دیا بہر حال وہ ایک سیاست داں نہیں ،ایک کرکٹر ہی کا تھا۔ جس میں ان کا دعویٰ تھا کہ میں ورلڈ کپ کی طرح الیکشن بھی جیت جاؤں گا۔’’دو ٹوک ‘‘ کے جب تقریباً سو انٹرویو ہوچکے تو ہم سے کہا گیا کہ اس میں تبدیلی لائی جائے، تو ہم نے ’’مجاہد آن لائن‘‘ کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا ۔جس میں براہ راست لائیو کال لی جاتی تھی۔اس کی بھی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی تھی۔یہ کرچکے تو پھر ’’شہر شہر ،گاؤں گاؤں‘‘ پروگرام کیا۔پاکستان کے کوئی 22شہروں میں جاکر وہاں کے مسائل اور پھر جو وہاں ترقیاتی کام ہورہا تھا وہ سب دکھایا۔یہ بھی بتاتا چلوں کہ پہلی بار الیکشن کوریج جو میں نے کی، سن 2002ء میں،تو اسے’’ الیکشن ٹرین ‘‘کا نام دیا اور پورے ایک مہینے تک پاکستان کے شہروں شہروں سفر کئے ۔جہاں ٹرین نہیں جاتی تھی وہاں گاڑیوں میں چلے جاتے تھے۔اُس کے ساتھ ساتھ ایجوکیشن ،فلاحی و رفاحی اداروں کی کاکردگی کو بھی کوریج دی۔2005ء میں زلزلہ آچکا تھا۔کم از کم سال بھر میں کوئی درجن بار ضرور کشمیر ،خیبر پختونخوا اور زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں جاکر پروگرام کئے۔تو اس وقت ہم نے ایک ٹرینڈ سیٹ کیا۔ اور اس حوالے سے میں بہت زیادہ کریڈٹ اپنے چینل کے مالک غضنفر علی کو دوں گا کہ جب میں کوئی آئیڈیا دیتا تو فوراً اُس کو اپنے تجربے کی بنیاد پہ گائیڈ کرتے کہ اسے اس طرح کرنا ہے۔لیکن 2004-5کے بعد جب بڑی تیزی سے چینل آنے شروع ہوئے تو بڑے بڑے میڈیا گروپ اور بزنس کلاس بھی اس میں داخل ہوگئی۔اور آپ کو علم ہے کہ اس کلاس کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہے۔دیگر چھاتا بردار اینکرز تو آئے ہی ہیں۔مگر ہمارے جیسے صحافتی پس منظر رکھنے والے اینکروں کو بھی اس کی بھینٹ چڑھنا پڑا۔اور ساتھ ہی خواتین کی جو ایک خاص طور پر کھینپیں آنی شروع ہوئیں تو میں شاید انگلیوں پر ہی گِن سکتا ہوں کہ اُن میں سے کسی کا صحافتی پس منظر ہو۔اوریوں بتدریج اسکرینوں کا چہرہ تبدیل ہوتا رہا۔اور پھر مارننگ شوز،نیلام گھر ،حتیٰ کہ رمضانوں تک کی منڈی لگا دی گئی۔سو،ایسے میں تو اُس اینکر کو تو ختم ہونا ہی تھا کہ جو انڈین اور یورپی اور سی این این اور بی بی سی جیسے چینلوں کی طرح صحافتی پس منظر رکھتا تھا۔سیاست اور تاریخ کو جس نے پڑھا اور پڑھتا تھا۔ یوں ہمیں اپنے سامنے اس مقدس پیشے اور اداروں کو اُس قماش کے اینکروں کے ہاتھوں چڑھتے دیکھا کہ جن کا ادب،سیاست،تاریخ سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔اور نہ ہی جو ایک جد وجہد اور مشقت سے گذر کے اس پروفیشن میں آتے تھے۔

ایسا کب تک چلے گا؟

ایسا لگتا ہے کہ یہ جو ریٹنگ والا معاملہ ہے یا جو اینکروں کو جو منہ مانگے بلکہ اس سے بڑھ کر معاوضے ملتے تھے، وہ اب بتدریج معدوم ہوتے جارہے ہیں۔نام نہیں لینا چاہتا تھا لیکن اجاز ت دیں تو کم از کم دو مثالیں ضرور دے دوں ۔ایک شائستہ واحدی ،جن کی 20افراد پر مشتمل ٹیمہوتی تھی۔میک اپ کرنے والیا ں بھی دو ہوتی تھیں۔ایک دہائی تک ان کا طوطی بولتا رہا ۔کم از کم دو سال سے تو میں نے انہیں کسی اسکرین پر دیکھا نہیں۔ایک ہمارے شہر کے ڈاکٹر عامر لیاقت ہوتے تھے۔ایک چینل سے نکلتے تو دوسرے چینل پر زیادہ بڑی ٹیم اور زیادہ بڑے ٹھیکے کے ساتھ رمضان شریف بیچ دیا کرتے تھے۔ گزشتہ اور اس سے پیوستہ سال میں اور شاید غالباً اس سال بھی اگر کہیں ان کی دوکان کھلی تو وہاں پھیکے پکوان ہی بِک رہے ہوں گے۔جہاں تک صحافتی پس منظر رکھنے والے اینکروں کا تعلق ہے تو ایک طلعت حسین کی مثال ہے۔سال اوپر سے گھر بیٹھ گئے ہیں۔کتنا ہی اختلاف کروں ،مگر حامد میر ،کامران خان بہرحال دو دہائی سے دیکھے بھی جاتے ہیں اور سنجیدگی سے لیے بھی جاتے ہیں۔کم از کم 15چینلوں میں اگر 60اینکر پروگرام کررہے ہیں تو معذرت کے ساتھ اس دشت نوردی میں دودہائی گذارنے کے بعد شاید دس نام بھی چہروں کے ساتھ یاد نہ ہوں۔ تو میرے خیال میںریٹنگ والا دور تو اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔

صحافت کے بنا ڈگری والے علمبردار؟

اگر اس سوال کا یوں جواب دیا جائے کہ میڈیا ساری دنیا میں مختلف رجحانا ت کا حامل ہوتاہے۔جسے آپ تقسیم بھی کہہ سکتے ہیں۔مثلاً ، امریکہ میں سی این این ٹرمپ کا کٹر مخالف ،تو دوسری طرف فوکس نیوز ان کا زبردست حامی۔اس حوالے سے ہمارا آئیڈیل تو بی بی سی ٹیلی وژن ہے ، جو برسہا برس سے نہ لیبر کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے نہ کنزرویٹو کے۔پاکستان میں میڈیا اُس وقت تقسیم ہوا جب مشرف کے خلاف بحیثیت ایک فرد بھی ٹیلی وژن چینلز کو ایک پارٹی بنایا گیا۔صحافی اور اینکر کالے کوٹوں اور سیاست دانوں کے ساتھ مل کر نعرے بازی میں مصروف ہوگئے۔اور 2007میں ہونے والی یہ تقسیم پھر آگے چل کر اتنی بڑی ہوگئی کہ چینل اور اینکر باقاعدہ پرو اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ میں تقسیم ہوگئے۔اب باقاعدہ فخریہ اینکر اور کالم نویس حکمرانوں کے ساتھ نجی تعلقات کا بڑے فخر سے ذکر کرتے ہیں۔اور اب یہ بات بھی کس سے پوشیدہ نہیںہے کہ ہم جیسے لوگ جنہوں نے تین دہائی صحافت میں گذاری آج تک کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں۔اور یہ نام نہاد اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی اکثریت کا اگر پتہ معلوم کیا جائے تو بحریہ ٹاؤن بتایا جاتاہے۔باقاعدہ ایک لسٹ ابھی کچھ عرصے پہلے شائع ہوئی جس سے درجن بھر سے اوپر اینکروں کو جو ایک رئیل اسٹیٹ آئیکان نے کروڑوں روپے دئیے تھے،باقاعدہ اُنکے اکاؤنٹ نمبروں کیساتھ رقوم دی گئی تھیں۔ان میں سے چند نے عدالت میں جانے کا بھی کہا تھا۔ لیکن اگر باقاعدہ بینک اکاؤنٹ نمبر کیساتھ رقوم کا ذکر تھا تو اُن بینکوں سے اسٹیٹمنٹ لا کر شائع کرانا تھا نا! کہ یہ رقوم انکے اکاؤنٹس میں منتقل نہیں ہوئیں۔ سیاست دانوں، تاجروں اور جنرلوں سے اثاثوں کی تفصیل مانگی جاتی ہے ،کیا جیو ،اے آر وائی ،دنیا،سماء کے سرخیل اینکروں سے یہ نہیں کہا جاسکتاکہ وہ اپنے اثاثوں کی تفصیل بتائیں۔اور ہاں ،اپنے مالکان کی بھی۔اگر کبھی ان سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے تو بیانات آنے لگتے ہیں،کہ یہ آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے۔ایجنسیاں ہم پر دباؤ ڈال رہی ہیں وغیرہ۔

کن صحافیوں کے ساتھ کام کیا؟

سبط حسن صاحب جیسے صحافی اور دانشوروں کی رہنمائی میں قلم پکڑنا سیکھا۔محمود شام، اشرف شاد جیسے صحافیوں نے زبان درست کی۔منہاج محمد خاں برنا،نثار عثمانی جیسے صحافیوںاور ٹریڈ یونینسٹ کے ساتھ اصولی صحافت اور اس کے لئے ڈٹ جانے کا سبق سیکھا۔اپنے کراچی پریس کلب کے صدر عبدالحمید چھاپڑاسے دوست نوازی ،دلداری،اور درویشی اور ساتھ ہی جتنا کمانا ،اُس سے زیادہ اڑانے کا ایسا سبق سیکھا کہ جن کے سبب آج جو کچھ ہیں وہ اِ ن ہی کی دین ہے۔الیکٹرانک چینل میں اگر غضنفر علی ہمیں لاکر اسکرین پر نہ بٹھالیتے تو آج ہم شاید اس طرح نہ ہمارے گھر کا چولہا جل رہا ہوتا اور نہ ہی اپنی بچیوں کواس طرح تعلیم دلواتے۔غضنفر علی کے بعد سماء کے ظفر صدیقی کے بھی بڑے احسانات ہیں۔صحافت ایک ایسا پروفیشن ہے کہ جس میں سینئر یعنی اساتذہ کے بغیر نہ تو آپ آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی مقام حاصل کرسکتے ہیں۔وقتی طور پراسکرینوں پہ چمک دمک چند برسوں دکھائی جاسکتی ہے ،مگر یہ دیر پا نہیں ہوتی۔کہ سینئر ہی صحافتی اور اسکرین کے استاد ہیں کہ جن کے سبب ہمیں آپ وہ جگہ دے رہے ہیں،جہاں گزشتہ ہفتے ہمارے استاد ِ محترم حسین نقی کو آپ نے دی تھی۔

کسی خبر پر گرفتار ہوئے؟

یہ تو پہلے بتا ہی چکا ہوں کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ابھی اڑان کے لئے پر بھی نہیں تولے تھے کہ چھ ماہ قید بامشقت کی سزا جھیلی۔دہائی اوپر بے روزگاری کی خاک چھانی اور پھانکی۔اسکرین پر آئے تو تواتر سے مالکان اور پنڈی کی کالوں پر پروگرام سنسر بھی ہوتے رہے اور اکثر بند بھی۔مالکان کی اپنی مجبوریاں تھیں۔اور پنڈی کے اپنے نیشنل انٹرسٹ ۔مگر ایک بات گرہ میں باندھ کر رکھ لیں کہ اگر سچ بولنے کی جرأت نہیں تو خاموشی بہتر ہے۔ہاں،صحافت میںجھوٹ بولنا ایک ناقابل معافی جرم ہے۔یہ بول کر بینک بیلنس بڑھایا جاسکتا ہے ۔بنگلے بنائے جاسکتے ہیں۔مگر اعتبار اور لوگوں کی محبت اور وارفتگی حاصل نہیں کی جاسکتی۔

بہتر عشرہ کون سا تھا؟

سیاسی اعتبار سے اسلئے نہیںکہوں گا کہ بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو اور ہاں، جنرل پرویز مشرف کو ضرورموقع ملا تھا ۔ ۔ ۔ ۔مگر یہ کہ انہوں نے بعض اچھے کاموں کے باوجود مجموعی طور پر گنوا دیا۔موجودہ وزیر اعظم عمران خان سے قربت کا دعویٰ تو نہیں ،دہائی اوپر ساتھ بہت رہا۔توقعات بھی ان سے بہت تھیں کہ واقعی خدمت کا جذبہ رکھتے تھے۔مگر افسوس کہ آج جن کے درمیان وہ نظر آتے ہیں،یہ وہی جانے پہچانے چہرے ہیں جو وطن ِعزیز کی تباہی اور بربادی میں کچھ کم اور کچھ زیادہ شامل رہے۔

کامیاب لیڈر ؟

ایک صحافی کی حیثیت سے ذاتی طور پر آپ چاہے ان سے قریب بھی ہوں اگر وہ اپوزیشن میں ہوں تو ان کا ساتھ ضروری بھی ہوتا ہے اور پروفیشن کی مجبوری بھی۔مگر ہمارے سینئر کہا کرتے تھے کہ صحافی کو پاور کاریڈور سے دور رہنا چاہئے۔

کس آمر کا دوراچھایا برا تھا؟

یقینا ایوب خان نے مارشل لاء جیسی برائی کی بنیاد ڈالی۔یحییٰ خان جیسا حکمراں اس بدقسمت قوم کا سربراہ بنا جوآدھے پاکستا ن کو جام صبح میں پی گیا۔ضیاء الحق کا پورا دور کیونکہ ہم نے پورے طور پر برتااور ہم پہ گذرا بھی، اس لئے ان کی مخالفت کرتے ہوئے انکی ذات پر گفتگو کرتے ہوئے بھی زبان پر قابو نہ پاسکے۔شریفوں اور زرداریوں نے جو ستم ڈھائے، اس کے سبب ایک عرصہ پرویز مشرف کے لئے سوفٹ رہے۔لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ 2002ء میں وہ اقتدار منتقل کر کے رخصت ہوجاتے۔تو بعد میں انہیں یہ رسوائیاں نہ دیکھنی پڑتیں۔ضیاء الحق کے حوالے سے ابھی سال بھر پہلے کا ایک واقعہ نہیں بھولا جاتا۔۔۔میں لندن جانے کے لئے کراچی ایئرپورٹ پر کھڑاتھا۔اتنے میں دیکھا کہ ایک خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ ہماری بیگم صاحبہ آپ کے پروگرام بڑے اشتیاق سے دیکھتی ہیں۔وہ آ پ سے ملنا چاہتی ہیں۔قریب جا کر غور سے دیکھا تو وہ جنرل ضیاء الحق کی بیٹی زین تھیں۔جن سے ضیاء الحق کو بہت پیار تھا۔یقین کریںکہ جب وہ ہمارے لئے تشکر آمیز الفاظ استعمال کررہی تھیںتو اس لمحے ذاتی طور پر بڑی ندامت اور پشیمانی ہوئی کہ ہمیں ضیا ء الحق کے خلاف ذاتی طور پر اتنا نیچے نہیں اترنا تھا۔بعد میںکوشش بھی کی کہ جب لکھوں یا بولوں تو احتیاط کا دامن ساتھ رہے۔

کوئی بڑا صحافی کیوںنہ آسکا؟

اب یہ تو حقیقت ہے کہ غالبؔ جیسا کوئی دوسرا شاعر دو سو سال میں نہیں پیدا ہوسکا۔جواہر لال نہرو اور قائد اعظم محمد جناح کے پائے کا کوئی سیاستداں بھی سامنے نہ آیا۔ایسے ہی جیسے برطانیہ میںپچھلے پچاس سال میں چرچل جیسا سیاستداں پیدا نہیں ہوا۔ابراہام لنکن اور نیلسن منڈیلا جیسے بھی اب دوسرے پیدا نہیں ہونگے۔برطانیہ ،انڈیا اور خود ہمارے sub-continentمیں بھی کہاں اس پائے کے صحافی پیدا ہورہے ہیں؟ تو ہم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔

آپ کے آخری سوال کا جواب دینے پر آؤں تو کم از کم اتنا ہی طویل ایک اور انٹرویو لینا پڑے گا۔کسی دوسرے کو موردِالزام ٹھہرانے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں اورجتنی ممکن ہوسکے اپنی اصلاح کرسکیں۔لیکن سسٹم اتنا بگڑ چکا ہے کہ ہم اب اُس سے نکل نہیں سکتے۔صحافت اب غربت میں نہیں ہوسکتی! چینل کو کروڑوں روپے چاہئیں ۔صحافت ایک مشن نہیں ،انڈسٹری ہے۔جی ہاں ،ایک ایسی انڈسٹری جس میں صنعتکار اور محنت کش کا اپنا اپنا کردار ہوتا ہے۔ان میں کوئی ملاپ نہیںہوتا۔سو، اس وقت جو میڈیا مالکان ہیں، وہی ہمارے مائی باپ ہیں۔چاہے ہمارے کثیر الاشاعت اخبار اور سب سے زیادہ دیکھے جانے والے چینل کے کھڑپینچ، کالم نویسوں اور اینکروں سے پوچھ لیں کہ کبھی انہوں نے کبھی بھی کوئی ایک لفظ اپنے مالک کے خلاف بولا اور لکھا ہے؟ ہوسکتا ہے وہ کچھ مثالیں بھی پیش کردیں کہ فلاں فلاں وقت میں ہم نے اختلاف کیا تھا۔یہ اختلاف بتاتے ہوئے تھی بعد میں تان ان کی عظمت پر ٹوٹے گی۔ان میں سے کسی کو بھی اس ادارے کے چوکیدار نے گیٹ پر روک کر گھر واپس نہیں بھیجا ہوگا۔

٭٭٭


ای پیپر