ٹائر جلاکر مال کمانے والی سماج دشمن فیکٹریاں
06 اپریل 2020 (18:26) 2020-04-06

مقبول خان:

کراچی کے مضافاتی اور دوردراز علاقوں میں ٹائر جلاکر ، مرددہ جانوروں کی ہڈیوں اور انتڑیوں سے گھی تیل بنانے والی فیکٹریا ں کام کر رہی ہیں، ان فیکٹریوں کے انسان اور ماحول دشمن مالکان اپنے اس گھناؤنے کاروبار سے نہ صرف انسانی صحت اور جانوں سے کھیل رہے ہیں، وہاں نہ صرف ان علاقوں بلکہ قرب و جوار کی آبادیوں میں فضائی آلودگی اور ہوا کو زہریلی بنارہے ہیں۔ یہ گھناؤنا دھندہ کافی عرصے سے جاری ہے، جن علاقوں میں یہ انسانی صحت کی دشمن فیکٹریا ں قائم ہیں، وہاں ان فیکٹریوں میں ٹائر جلانے سے اٹھنے والے چھوٹے چھوٹے سیاہ بادل کے ٹکڑے اپنے جلو میں زہر پاشی کی صلاحیت لئے قریبی آبادیوں پر قہر کی صورت نازل ہو رہے ہیں۔ اور جیتے جاگتے انسانوں کو پیچیدہ اور مہلک بیماریوں کا تحفہ دے رہے ہیں۔ لوگ سانس ،اور آنکھوں کے مختلف امراض کے ساتھ مختلف اعصابی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو رہے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کے نتیجے میں کراچی میں شوگر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ تحقیقی رپورٹ کے مطابق شوگر کا ہر پانچواں مریض فضائی آلودگی کے سبب اس مرض میں مبتلا ہوا ہے جن میں ہر عمر کے مرد ،عورتیں اور نوجوان یہاں تک کے بچے بھی شامل ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے موثر کارروائی نہ ہو نے کے باعث ٹائر جلانے اور مردہ جانوروں کی ہڈیوں سے گھی تیل بنانے والے مالکان اور بھٹہ مالکان اب ایک طاقتور مافیا کا روپ دھار چکے ہیں، جن کے ہاتھ لمبے ہیں، اور بعض باثر شخصیات کے ساتھ مراسم بھی ہیں۔ اس مافیا نے پیسے کمانے کی لالچ میں انسانی اور اخلاقی اقداراور متعلقہ قوانین کو بھی بری طرح پامال کر رکھا ہے، کراچی کی فضا جو پہلے ہی مختلف حوالوں سے آلودہ ہے، اسے مزید آلودہ اور زہریلا کرنے کیلئے زر پرست مافیااس سطح پر آچکی ہے کہ جہاں دیگر انسانوں کے زندہ رہنے کے تمام حقوق یکسر پامال کئے جارہے ہیں، انسانوں کے ساتھ اس کے منفی اثرات پرندوں پر بھی پڑ رہے ہیں، موسم سرما میں جو مہمان پرندے ملیر ندی اور لیاری ندی پر نظر آتے تھے، اب وہ یہاں موجود نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی میں چیل کوووں اور چڑیاؤں کے علاوہ کوئی پرندہ نظر آتا ہے ۔ اس ماحولیاتی آلودگی نے انسانوں کے ساتھ بے زبان فضائی مخلوق کو بھی سخت نقصان پہنچایا ہے۔ جبکہ حکام محدود وسائل کی بناء پر اس زر پرست مافیا کے خلاف بھر پور کارروائی کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں، ان کی کارروائی کے اثرات عارضی ہوتے ہیں، بسا اوقات تو یہ کارروائی محض دکھاوے کی ہوتی ہے جس کی وجہ سے کراچی جسے بڑے شہر کے مضافاتی اور دور دراز علاقوں میں یہ گھناؤنا دھندا تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی بھی دہشتگردی کی ایک خاموش قسم ہے، اس کے خلاف نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی اور سماجی سطح پر بھر پور مشترکہ کارروائی کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا، اس سماج دشمن زر پرست مافیا کو لگام نہیں ڈالی گئی تو انسانی جانوں کے اتلاف اور لوگوں میں معذوری کی شرح میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ہم یہاں ٹائر جلانے کے مضمرات کا اختصار سے جائزہ لیتے ہیں۔

ٹائر جن اشیاء کو ملاکر بنایا جاتا ہے، ان کا ذکر ہی ہمار لئے سوہان روح سے کم نہیں ہوگا۔ اس میں ربر، لوہے کی تاریں، اور تانبے کے باریک تاروں کا ایک جال ہوتا ہے۔ فیکٹریوں میں مختلف علاقوں سے پرانے اور کٹے پھٹے ٹائر مختلف علاقوں سے خرید کر فیکٹری تک لایا جاتا ہے۔ فیکٹری میں لائے گئے پرانے ٹائروں کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا جاتا ہے۔ پھر ان ٹکڑوں کو ایک بڑے مشینی کڑھاؤ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس بڑے کڑھاؤ کو ایک بوائلر سے منسلک کردیا جاتا ہے۔ ٹائر کے جلنے سے جو فرنس آئل نکلتا ہے، وہ بوائلر سے ہوتا ہوامائع کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جسے فیکٹری مالکان چھوٹے چھوٹے کنٹینرز میں جمع کر لیتے ہیں۔ پرانے ٹائروں کو جلانے سے نکلنے والا فرنس آئل ہی فیکٹری مالکان کے تمام اخراجات بشمول مزدوروں کی تنخواہیں، فیکٹری کی عمارت کا کرایہ ، مشینوں کی مرمت سمیت دیگر اخراجات کی ادائیگی کیلئے کافی ہوتا ہے۔ جبکہ لوہے کی تاریں، تانبے کی باریک تاریں فروخت کرنے سے بھی فیکٹری مالکان بھاری رقم بطور منافع کمالیتے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل زکر ہوگا کہ ٹائر جلانے سے فرنس آئل، لوہے اور تانبے کی تاریں نکلنے کے بعد جو راکھ باقی رہ جاتی ہے، وہ بھی فروخت کی جاتی ہے، ماہر تعمیرات کے مطابق یہ راکھ سڑکیں بنانے کے دوران تارکول بچھانے سے قبل ٹھیکیدار کارپیٹنگ کے طور پر استعمال کرتا ہے، یہ راکھ بیٹری سیل بنانے کے کام بھی آتی ہے۔ اس سیمنٹ فیکٹری مالکان سیمنٹ کو مزید پختہ کرنے کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس راکھ کے خریدار ہمہ وقت دستیاب ہوتے ہیں۔ اس راکھ کی فروخت سے بھی مالکان کو کافی منافع حاصل ہوتا ہے، ٹائر کو جلا کر حاصل ہونے والی ہر چیز قابل فروخت ہوتی ہے، جس سے فیکٹری مالکان کی جیب تو بھر جاتی ہے، لیکن ٹائروں کو جلانے سے نکلنے والا زہریلا دھواں انسان اور ماحول کیلئے زہر قاتل ہوتا ہے ۔ ان فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور عام طور پر دیگر مزدور کی نسبت دوگنا مزدوری لیتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی جان اور صحت کو داؤ پر لگا کر فیکٹری مالکان کو رقم کما کر دیتے ہیں، اس گھناؤنے دھندے میں صرف مالکان کو فائدہ ہوتا ہے، جبکہ اس میں کام کرنے والے اور عوام کو ہر قسم کے خطرات لاحق رہتے ہیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ نے صوبے کے مختلف علاقوں کے عوام کی جانب سے کی گئیں کل 217ماحولیاتی شکایات ماحولیاتی قوانین کی روشنی میں ضابطے کی کارروائی کرتے ہوئے بخیر و خوبی نمٹا دیں جبکہ 76شکایات پر کارروائی جاری ہے جن کے مختلف تکنیکی اور قانونی پہلووں کا جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ ان کیخلاف بھی موثر کارروائی کرتے ہوئے انہیں نمٹایاجاسکے۔اب تک نمٹائی جانے والی سب سے زیادہ 112 شکایات کا تعلق کراچی سے ہے۔ جبکہ 24شکایات حیدرآباد، 24 سکھر 12لاڑکانہ، 14 میرپورخاص اور 31شکایات محکمہ ماحولیات کے دائرہ اختیار سے تعلق رکھتی تھیں۔ سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی خان محمد مہر نے اخبار نویسوں کو بتایا ہے کہ اب تک موصول ہونے والی شکایات کا تعلق زیادہ تر تینوں اقسام کی آلودگیوں یعنی فضائی، زمینی اور آبی سے تھا جبکہ بیشتر خلاف ورزیاں کراچی کے دور دراز مقامات یا شہروں کے مضافاتی علاقوں و بستیوں سے تعلق رکھتی تھیں ،جہاں آلودگی پھیلانے والے براہ راست نگرانی نہ ہونے کے باعث با آسانی ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کراچی کے دوردراز اور مضافاتی علاقوں میںپرانے ٹائر جلانے ، اینٹوں کے غیر قانونی بھٹوں، جانوروں کی ہڈیوں اور آلائشات سے تیل بنانے کے کارخانوں اور آٹو بیٹریوں کی ری سائکلنگ کے کارخانوں میں یہ گھناؤنا دھندا کسی روک ٹوک کے بغیر جاری ہے، جو نہ صرف علاقے میں تینوں قسم کی آلودگی پھیلانے کا مرتکب ہورہا ہے، بلکہ یہ انسانی صحت کیلئے بھی سنگین خطرہ بن چکاہے، سماج اور انسان دشمن عناصر اس گھناؤنے دھندے کیلئے شہر کے دور دراز اور مضافاتی علاقوں کا انتخاب اس لئے کرتے ہیں کہ یہاں قرب و جوار میں رہنے والے افراد نہ صرف پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، بلکہ وہ خود بھی ان علاقوں میں غیر قانونی رہائش رکھتے ہیں، جبکہ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث کارخانے دار یہاں کے لوگوں کو روزگار بھی دیتے ہیں، جس کی وجہ سے پولیس اور دارہ تحفظ ماحولیات کی ٹیموں کو اس گھناؤنے دھندے کی بروقت اطلاع نہیں مل پاتی ہے،اگر کسی طرح پولیس کو مقامی طور پر اطلاع مل بھی جاتی ہے، تو پولیس کسی دباؤ ،مفاد یا مصلحت کی بناء پر خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ جب کسی ذریعہ سے ادارہ تحفظ ماحولیات میں عوامی شکایات سیل کو اطلاع یا شکایت ملتی ہے تو ادارہ ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے تکنیکی اور قانونی پہلووں کا جائزہ لینے کے بعد شکایات کے موثر ازالے کے لیے اورموثر کارروائی کی خاطر اسے مقامی پولیس کی معاونت بھی درکار ہوتی ہے جس کے لیے پولیس کی مقررہ دن دستیابی ممکن بنانے کے لیے ادارہ کو اعلیٰ پولیس افسران کو پیشگی اطلاع دینی ہوتی ہے جبکہ پولیس کی دستیابی بھی اس کے دائرہ کار میں کارروائی کے روز امن عامہ کی صورتحال معمول کی ہونے سے مشروط ہوتی ہے، ٹائر جلانے اینٹوں کے غیر قانونی بھٹوں، جانوروں کی ہڈیوں اور آلائشات سے تیل بنانے کے کارخانوں اور آٹو بیٹریوں کی ری سائکلنگ کے کارخانوں سے متعلق شکایات کے خلاف بھر پورکارروائی کرنے کے لیے پولیس فورس کی زیادہ تعداد کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ اس کے بغیر ان عناصر کیخلاف کارروائی ممکن نہیں ، اس لیے ادارہ تحفظ ماحولیات کو پولیس فورس کی مطلوبہ تعداد کی دستیابی تک شکایت کو روکے رکھنا پڑتا ہے ، ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے عوامی شکایات دور کرنے کے اہداف کو اپنی اولین ترجیحات رکھنے کے باوجود اسے کارروائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماحولیاتی شکایات رفع نہ ہونے کا نہ صرف ماحول کو نقصان ہوتا ہے بلکہ انسانی صحت بھی اس سے براہ راست متاثر ہوتی ہے ان محدود وسائل اور انتظامی مشکلات کے باوجود ادارہ تحفظ ماحولیات میں عوامی شکایات سیل نے جتنی بڑی تعداد میں شکایات کا ازالہ کیا وہ مستحسن ہے، سندھ حکومت کو چاہئے کہ ماحولیات کے خلاف ملنے والی شکایات کے بروقت ازالہ کیلئے ادارہ تحفظ ماحولیات کو اس کی ضرورت کے مطابق پولیس کی نفری فراہم کرنے کیلئے ایسا میکینزم تیار کیا جائے ، جس سے سیپا کو بلا تاخیر مطلوبہ پولیس فورس کی فراہمی ممکن ہوسکے، تاکہ ماحولیات سے متعلق شکایات کا بروقت ازالہ کیا جاسکے ۔اس سلسلے میں سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے سخت سزاؤں اور ان پر بھاری جرمانے عائد کرنے کے حوالے سے قانون سازی بھی کرے، اور قانون کے تحت پولیس اور رینجرز کو پابند کیا جائے کہ وہ ادارہ تحفظ ماحولیات کی ٹیم کے ہمراہ موقع پر جا کر قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف سختی کے ساتھ نمٹے اور انہیں قرار واقعی سزا دلانے میں سیپا کی ٹیموںکے ساتھ بھر پور تعاون کریں۔

٭٭٭


ای پیپر