موازنہ عمران و نواز
06 اپریل 2019 2019-04-06

عمران خان کی حکومت اس لحاظ سے منفرد ہے کہ عنان اقتدار سنبھالے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں گزرے یعنی آٹھ ماہ ہو گئے ہیں ان کی ناکامیوں کا چرچا زبان زد عام ہے۔۔۔ حکومت میں شامل لوگوں سے قطع نظر خان بہادر کے وہ حامی بھی خواہ ان کا تعلق میڈیا سے ہے یا رائے عامہ تشکیل دینے والے دوسرے اداروں سے ، اب اس اعتراف پر مجبور نظر آتے ہیں کہ موصوف محترم نے تو قعات کا جو سماں باندھا تھا اور اپنی زیر قیادت پے در پے کامیابیوں کی امیدوں کی جو جوت لگائی تھی ان میں سے شاید ایک کو بھی دن کی روشنی دیکھنا نصیب نہیں ہو رہی۔۔۔ اب شاید ان کی اس دلیل میں بھی وزن نہیں رہا کہ مجھے حکومت سنبھالے عرصہ ہی کتنا گزرا ہے جو لوگوں نے میری کامیابیوں اور ناکامیوں کا حساب لگانا شروع کردیا ہے۔۔۔ اگر یہ سب کچھ جلدی میں کیا جا رہا ہے اور عمرانی حکومت کو مناسب موقع نہیں مل پا رہا تو اس کے ذمہ دار بھی وزیراعظم خود ہیں۔۔۔ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے پہلے آٹھ روز کے اندر یقین دہانی کرائی تھی کہ تین ماہ یا سو دن گزر لینے دیجئے پھر دیکھیے گا میری نئی نویلی حکومت کے قدموں تلے کیا کیا انقلاب رونما ہونے شروع ہو گئے ہیں کیونکہ ہم نے تیاری خوب کر رکھی ہے۔۔۔ وژن شاندار ہے۔۔۔ منصوبوں کی شین قاف درست کی جا رہی ہے جن کی جھلکیاں جلد سامنے آنی شروع ہو جائیں گی۔۔۔ یہ عرصہ گزر گیا تو وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے کہا گیا کم از کم چھ ماہ تو ملنے چاہئیں۔۔۔ اب جو آٹھ مہینے یا تقریباً اڑھائی سو دن ہو چکے ہیں تو صورت حال بد سے بد تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔۔۔ مایوسیوں کے پہاڑ کھڑے ہونے شروع ہو گئے ہیں۔۔۔وجہ اس کی یہ ہے کہ انقلاب نہ بھی برپا ہو کسی شعبے میں بہتری کے آثار تو رو نما ہونا شروع ہو جاتے۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہو پایا۔۔۔ ناکامیاں منڈلا رہی ہیں۔۔۔ اس کا سب سے نمایاں پہلو معاشی طور پر قوم و ملک کی زبوں حالی ہے۔۔۔ اشیائے ضرورت کے نرخ آسمانوں کو چھو رہے ہیں۔۔۔ آمدنی کے ذرائع سکڑتے چلے جا رہے ہیں۔۔۔ بے روزگاری تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کے گھروں کا دروازہ کھٹکا رہی ہے۔۔۔ شرح نمو کا گراف نیچے کی جانب لڑھک رہا ہے۔۔۔ دھڑا دھڑ نوٹ چھاپے جا رہے ہیں۔۔۔ بیرونی قرضوں کے حصول کی بھر مار ہے۔۔۔ اس سب کے با وجود معیشت کی کوئی سمت واضح نہیں۔۔۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے شرائط کڑی کر دی ہیں اور وزیر خزانہ نے پہلے بھول چوک میں کہہ دیا کہ ایسی مہنگائی آئے گی کہ لوگوں کی چیخیں نکل جائیں گی۔۔۔ پھر تازہ ترین بیان میں ارشاد فرمایا ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے جا رہا ہے۔۔۔ برسراقتدار آنے سے پہلے آئی ایم ایف کو جتنا برا بھلا عمران اور ان کے ساتھیوں نے کہا مثال نہیں ملتی اب ۔۔۔ ان کے پاس آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانے کے سوا حل کیا ہے اس کا کسی کو علم نہیں۔۔۔ عمران خان مسلسل ایک راگ الاپتے چلے آ رہے ہیں کہ پچھلی حکومت خاص طور پر نواز شریف کے گناہوں کی صف مجھے لپیٹنا پڑ رہی ہے ۔۔۔ لوگوں کے کان یہ سن سن کر پک گئے ہیں۔۔۔ موصوف کی راگنی اس پر آ کر ٹوٹتی ہے سب کو جیل میں ڈال دوں گا۔۔۔ اس کے بعد نیب حکومت مخالفین کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو فرمایا جاتا ہے یہ آزاد ادارہ ہے ہمارا اس سے ناطہ نہیں۔۔۔ سوال مگر یہ ہے نیب اور حکومتی ارکان کی جانب سے ایک ہی قسم کی طعن و تشنیع اور الزامات کا بازار کب تک گرم رکھا جائے گا اور کیوں۔۔۔ اب دقّت یہ آن پڑی ہے کہ لوگوں کی بنیادی ضروریات ، آسمان کو چھوتی مہنگائی اور تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کی بے روزگاری یہاں تک کہ عام آدمی کی جھولی میں کچھ نہ پڑنے کی بنا پر لوگوں کے اندر بے چینی اور اضطراب کی جو زبردست لہریں اٹھنی شروع ہو گئی ہیں، ان کا مداوا کیسے کیا جائے۔۔۔ہفتہ کے روز جس وقت یہ سطور قلم بند کی جا رہی ہیں ماڈل ٹاؤن لاہور میں حمزہ شہباز کی رہائش گاہ پر جو مناظر گزشتہ ایک دن سے نظر آ رہے ہیں، نیب کا عملہ، پولیس اور رینجرز مل کر حمزہ شہباز کی گرفتاری کا ہنگامہ بپا کیے ہوئے ہیں۔۔۔ کارکنوں کی جانب سے مزاحمت کی جا رہی ہے۔۔۔ اس کے پیچھے بھی یہ عامل کار فرما نظر آتا ہے کہ اس طرح کا کھڑاک کھڑا کر کے لوگوں کی توجہ انہیں درپیش محرومیوں سے ہٹا دی جائے اور خود کو تسلی دی جائے کہ نا ن ایشوز کو ایشوز بنا کر اور سیاسی حریفوں پر عرصۂ حیات تنگ کر کے کیسے کیسے کرتب دکھانا ہمیں آتے ہیں۔۔۔ وگرنہ شہباز شریف یا حمزہ کو 10 روز کا نوٹس دے کر بھی گرفتار کیا جا سکتا تھا۔۔۔ لیکن اس سے یہ مقصد حل نہ ہوتا جو پیش نظر ہے۔۔۔گزشتہ دو دن سے چینلوں پر اسی کی چیخ و پکار ہے اور اخبارات کی سرخیوں کا موضوع بھی یہ بن گیا ہے کہ حمزہ شہباز گرفتار ہوتے ہیں یا نہیں۔۔۔بیانات کی بھرمار ہے۔۔۔ حکومت کی تمام تر ناکامیاں ، نا اہلیاں اور ان کا چرچا اور وہ جو کہتے ہیں Back Burner پر چلا گیا ہے۔۔۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

یہ کامیابی ہے یا ناکامی۔۔۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کا عمل ہے یا کچھ اور عمران خان کو سب سے بڑا اطمینان یہ حاصل ہے کہ ریاستی ادارے اس کی پشت پر ہیں۔۔۔ نیب ان کادست و بازو بنی ہوئی ہے۔۔۔ وہ جنہیں اپنا سیاسی حریف یا مخالف سمجھتے ہیں بالائی قوتوں کی آنکھوں میں بھی وہی کھٹکتے ہیں اور ان کا تیا پانچہ کر کے رکھ دینا چاہتی ہیں۔۔۔ لہٰذا خوف یا ڈر کس بات کا جب حکومت کے عہدے پر فائز سیاستدان اور اس ملک کی اصل حکمران قوتیںیا طاقتیں ایک پیج پر ہوں، عوام کو جان لیوا مہنگائی اور دوسرے عذاب سے نکل آنے کی مہلت مل پائے گی یا نہیں اس کی زیادہ پرواہ نہیں کرنی چاہیے اور قارئین اکرام تازہ ترین خبر یہ ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے نیب کو کل پیر تک حمزہ شہباز کی گرفتاری سے روک دیا ہے نیب کے اعلانات اور حکومتی ترجمانوں کے بیانات دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔۔۔ مسلم لیگ والوں اور حمزہ کے وکلاء کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی۔۔۔ ان کا أوقف درست ثابت ہوا ہے کہ نیب کے مقابلے میں ان کی قانونی پوزیشن کہیں زیادہ مستحکم تھی۔۔۔بنیادی سوال مگروہی ہے کہ اگر دو دن کے لیے یہ شور قیامت نہ بھی بپا کیا جاتا تو کونسا زلزلہ آ جاتا۔۔۔ مگر مقصد چونکہ یہ تھا کہ اصل مسائل بلکہ شدید ترین ناکامیوں سے فوری طور پر توجہ ہٹا دی جائے۔۔۔ حمزہ شہباز گرفتار ہوتا ہے یا چند روز کے لیے نیب کے شکنجے سے محفوظ رہتا ہے۔۔۔ ایک دو ہفتوں کے لیے خبروں اور تبصروں کا موضوع بنا رہے گا۔۔۔ اس کے بعد کوئی اور ایشو کھڑا کر دیا جائے گا۔۔۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم صاحب کہ ایم کیو ایم کے کوٹے سے شامل حکومت ہیں ان کے بارے میں خبر ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا ہے آئین کے آرٹیکل 149 کے تحت وفاقی حکومت سندھ کے معاملات کو اپنی دسترس میں لے لے وہاں گورنر راج قائم کر دیا جائے یا پیپلز پارٹی کی حکومت کو کسی اور آئینی اقدام کی آڑ میں منجمد کر کے رکھ دیا جائے۔۔۔ لیجئے صاحب اگلے کھڑاک کے لیے زمین ہموار ہو گئی۔۔۔اگر یہ اقدام کر لیا گیا تو ساری قوم کی توجہات اس جانب مبذول ہو جائیں گی۔۔۔ پورا ملک نئے سیاسی اور احتجاجی طوفان کی لپیٹ میں آ جائے گا۔۔۔ خان بہادر کی حکومت کی ناکامیوں کا چرچا ایک مرتبہ پھر پس منظر میں چلا جائے گا۔۔۔ وہ تقریریں کریں گے میڈیا پر زندہ و تابندہ رہیں گے اور اپنے اور اسٹیبلشمنٹ کے مشترکہ حریفوں کو خوب خوب مطعون کریں گے۔۔۔ خاصہ وقت اسی ہنگامی صورت حال کی نذر ہو جائے گا۔۔۔

مگر یہ بیساکھیاں کب تک کام آئیں گی۔۔۔ اگر عوامی مسائل حل نہ ہونے کے لچھن یہی رہے تو ایک دن کاٹھ کی ہنڈیا نے سرعام ٹوٹنا ہے۔۔۔ جن تکیوں پر بہت سہارا ہے ان کا ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے کہ زیادہ دور یا دیر تک ساتھ نہیں چلتے۔۔۔بیچ راستے کے سگنل بدل دیتے ہیں۔۔۔ ماضی کی حکومتوں سے تقابل کیجئے تو شاید کسی ایک کو بھی پہلے سات آٹھ ماہ کے دوران بد نامیوں یا ناکامیوں کا اتنا بڑا ٹوکرا سر پہ اٹھانا نہ پڑا ہو۔۔۔ عمران خان جیسے بھی آئے یا جس طرح بھی انتخاب جتوا کر لائے گئے۔۔۔ خان بہادر نے نواز شریف کی جگہ لی۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد بھی اگرچہ ایک مرتبہ اپنی مدت پوری نہ کر سکے۔۔۔ اس لحاظ سے ناکام تو انہیں بھی کہا جائے گا۔۔۔ مگر میاں صاحب اور خان بہادر دونوں کی ناکامیوں میں جوہری فرق پایا جاتا ہے۔۔۔ پہلی دفعہ وہ بھی لائے گئے تھے تب انہوں نے 1991 ء کا Water Accord کیا جس کا ابھی تک کوئی متبادل نہیں نکالا جا سکا۔۔۔ موٹروے کا عظیم منصوبہ شروع کیا جو اب لاہور تا اسلام آباد کیا پشاور تا ملتان پھیل گئی ہے۔۔۔ ایک سال کے اندر کراچی اور پشاور کو ایک کر کے رکھ دے گی یہ وہ سڑک ہے جس کی تعمیر کے آغاز کے دوران بھی کرپشن کے ڈھیروں الزامات لگائے گئے ایک کا ثبوت نہ مل سکا مگر سر زمین پاک پر ایسی شاہراہ وجود میں آ گئی جو بنائی تو گئی ٹرانسپورٹ کی جدید ترین سہولیات مہیا کرنے کے لیے تھی مگر ہماری قابل فخر فضائیہ کے لیے جنگی مشقوں کا کام بھی دے رہی ہے۔۔۔strategic depth کی جو ضرورت محسوس کی جاتی تھی اس کی کمی خاصی حد تک اس کے ذریعے پوری کر لی گئی ہے۔۔۔ تاہم پہلے عرصۂ اقتدار کو اڑھائی سال نہ گزرنے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ ناراض ہو گئی صدر مملکت کے صوابدیدی اختیارات کے ذریعے حکومت اڑا کر رکھ دی گئی۔۔۔دوسری مرتبہ منتخب ہوئے تو مملکت خدا داد کے مسلمہ ایٹمی طاقت بننے میں جو کمی باقی رہ گئی تھی پوری کر دکھائی۔۔۔ واجپائی لاہور آنے پر مجبور ہوا ۔۔۔ مینار پاکستان پر حاضری دے کر اپنے الفاظ میں پاکستان کی حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ کو ان کی یہ ادائیں پسند نہ آئیں وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے باوجود اس کے معطل کیا جا چکا تھا ساتھی جرنیلوں کی مدد سے بزور طاقت چلتا کیا۔۔۔ یہاں پھر کارکردگی کا سوال نہیں اوپر والوں کی ناراضی تھی جو میاں صاحب کے ساتھ آئین اور جمہوریت دونوں کو لے ڈوبی۔۔۔ لمبی کہانی کو مختصر کرتے ہیں۔۔۔2013ء میں عوام نے تیسری دفعہ اقتدار کے سنگھاسن پر لا بٹھایا۔۔۔اس مرتبہ بھی آئینی مدت مکمل نہ ہونے پائی۔۔۔ مگر چار سال مل گئے۔۔۔ چین کے ساتھ مل کر سی پیک کا سب سے بڑا تعمیری منصوبہ شروع کرایا۔۔۔ کراچی کا امن بحال کرایا۔۔۔ نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق رائے حاصل کیا۔۔۔ مہنگائی پر کمند ڈالی۔۔۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں پہلے کی نسبت اضافہ ہوا۔۔۔ لوڈشیڈنگ کے جن کو قابو میں کیا۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ معاشی ترقی کی شرح نمو نے 6 فیصد کی حدوں کو چھونا شروع کر دیا۔۔۔ غلطی مگر پھر وہی تھی۔۔۔ اصل حکمران طاقت کے ساتھ بن نہ آئی۔۔۔ اس کا عتاب مول لے لیا۔۔۔ پھر جو کچھ ہوا سب کو معلوم ہے اقامہ جیسے کھوکھلے الزام کی بنیا دپر حکومت ان کی بیک گونی دو گوش تہہ خاک دفن کر کے رکھ دی گئی۔۔۔ یعنی عمران خان کے برعکس نواز شریف کی ناکامیوں کی اصل وجہ کارکردگی نہیں تھی۔۔۔ غیر آئینی قوتوں کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرنے کی ضد تھی۔۔۔ جو اب تک ان کے رگ و پے میں سرائت کر چکی ہے۔۔۔ موصوف سویلین بالادستی کے مشن کی علامت بن گئے ہیں۔۔۔ یہ کامیابی ہے یا ناکامی اس کا فیصلہ آگے چل کر ملک کے حالات اور تاریخ کے اوراق کریں گے۔۔۔


ای پیپر