اٹھارہویں ترمیم سے دیوالیہ ہونے والے
06 اپریل 2019 2019-04-06

کہا جاتا تھا کہ قبر ایک تھی اور مردے دو۔ پھر بھٹو قبر میں پہنچ گئے اور ضیا الحق اقتدار کے مزے لیتے رہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایک تازہ بیان میں فرمایا ہے کہ ’’ اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاق کے پاس فنڈز کی کمی ہے اور وہ دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے‘‘۔ اٹھارہویں ترمیم اور عوام کی چیخوں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق بن رہا ہے۔ کپتان کا وہ پرانا بیان یاد آیا جب انہوں نے کہا تھا کہ ’’وہ آئی ایم ایف سے قرضہ مانگنے کے بجائے خودکُشی کرنا بہتر سمجھیں گے‘‘۔ تو جناب خود کشی تو ہو گی مگر اب دوبارہ ایک قبر اور دو مردوں والی تاریخ دہرانی جا رہی ہے۔ خود کشی ایک اور فریق دو ٗتو طے یہ پایا کہ اس بار خود کشی کیلئے عوام کو چنا جائیگا۔ کرپٹ سیاستدانوں کی چیخیں چند سال کیلئے موقوف اور پہلے چیخوں کا ٹیسٹ عوام پر کیا جائیگا ۔مگر کپتان نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک پنتھ ٗدو کاج والا معاملہ فرمایا ہے۔وفاق جس غربت کا شکار ہے ٗ صوبوں کو آمدن میں سے نصف سے زائد دینے کے بعد جو رقم دفاع ٗ حکومتی معاملات ٗ ترقیاتی کاموں اور قرضوں کی واپسی کیلئے بچتی ہے اب اس میں بھی صوبوں کے وسائل چاہئیں۔ وزیر اعظم یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم میں موجود ایک شق کی وجہ سے وفاق کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس شق کے مطابق ’’آرٹیکل 38کے تحت صوبائی اکائیوں کے درمیان موجود وسائل اور دیگر خدمات کی غیر منصفانہ تقسیم کا خاتمہ کیا گیا ہے اور صوبائی خود مختاری کو یقینی بنایا گیا ہے ‘‘۔جبکہ محسوس ایسا ہو رہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم سے کچھ اور مسائل بھی درپیش ہیں اور وفاق کا دیوالیہ ہونا ہی واحد مسئلہ نہیں ہے۔

2010ء میں قومی اسمبلی سے منظور ہونے والی اٹھارہویں ترمیم دراصل فوجی آمر جنرل ضیاالحق کے دور میں کی گئی ترامیم کے خاتمہ کیلئے تھی ۔ جنرل ضیا نے 1973 کے وفاقی آئین میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے90 سے زائد آرٹیکلز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ اٹھارہویں ترمیم کا بہت اہم نقطہ آئین آرٹیکل 6کے تحت ریاست اور آئین سے غداری میں ملوث افراد کیخلاف سخت سزاؤں کی تجویز کا بھی ہے۔ اس میں آرٹیکل 2۔6 الف کا اضافہ بھی کیا گیاتھا جس کے تحت آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کو سپریم کورٹ سمیت کوئی بھی عدالت معاف نہیں کر سکتی اب اگر موجودہ سیاسی منظر نامے پر نظر دوڑائی جائے تو جنرل پرویز مشرف اسی آرٹیکل کی زد میں آ سکتے ہیں کیونکہ ان کو کٹہرے سے باہر رکھنے کے معاملے کو جتنا طول دیا جا سکتا تھا دے دیا گیا اور واحد حل اب اٹھارہویں ترمیم کا ’’مکو‘‘ ٹھپنا ہی ہے ۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں آرٹیکل 58 (2) بی جس کے تحت صدر کو پارلیمان تحلیل کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اسے اسی ترمیم میں ختم کیا گیا ۔ اسی ترمیم میں ججز کی تعیناتی کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی پہلے یہ اختیار صرف صدر مملکت کو حاصل تھا، اب اس کا اختیار جیوڈیشل کمیشن اور پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے( اس ترمیم کو بعد ازاں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں ایک 17رکنی بینچ میں بہت حد تک تبدیل کر دیا تھا)۔اسی ترمیم کے ذریعے پارلیمانی نظام حکومت کو واپس لاگو کیا گیا ۔صدارتی اختیارات، عوام کے منتخب و نمائندہ وزیر اعظم، پارلیمان، صوبائی اسمبلیوں کو منتقل کر دیے گئے ۔ جبکہ اسی ترمیم میں آئین سے آمر ضیاء الحق کے لیے‘‘صدر’’کے لفظ کو نکال دیا گیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان دراصل یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ انہیں حکومت چلانے کیلئے جن مشکلات کا سامنا ہے اور معیشت کی کشتی جس بھنور میں پھنس چکی ہے اس سے نکلنے کیلئے اٹھارہویں ترمیم بنیادی رکاوٹ ہے ۔ جبکہ دراصل پاکستان میں آئے مہنگائی کے طوفان کی اصل وجہ وہی ’’خود کشی‘‘ ہے جس کی خواہش عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے کی تھی۔

قوم کو نوید ہو کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کی ڈیل تقریباً مکمل ہو چکی ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کا جو طوفان عوام کیلئے ٹھاٹھیں مار رہا ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی بہت سی شرائط مانتے ہوئے ان پر عمل درآمد بھی کر ڈالا ہے۔آئی ایم ایف کے ساتھ پی ٹی آئی حکومت کے مذاکرات گزشتہ سال اگست سے جاری ہیں۔ آئی ایم ایف نے شرط رکھی تھی کہ قرضے سے پہلے کچھ مطالبات پر عمل کیا جائے تاکہ عالمی ادارے کو یہ یقین ہو کہ نئی ’’جمہوری‘‘ حکومت اس مالی بحران سے نکلنے کیلئے سنجیدہ ہے۔ ہمیشہ کی طرح عالمی ادارے کا سب سے پہلا مطالبہ عوام کیلئے سبسڈی ختم کرنے کا تھا جسے حکومت نے من و عن تسلیم کر لیا ۔گزشتہ سال جیسے ہی مذاکرات کا آغاز ہوا حکومت نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جس کے نتیجہ کے طور پر عوام کو گیس کے اضافی بل موصول ہوئے اور وزیر اعظم نے اس پر سخت ایکشن بھی لیا۔ اب پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ بھی آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا ہی ہے ۔آئی ایم ایف حکومت سے یہ مطالبہ بھی کر رہی ہے کہ سرکاری اخراجات میں کمی کی جائے اسی وجہ سے عمران خان نے ’’آسٹیریٹی ڈرائیو‘‘شروع کی اور جب وزیر اعلیٰ پنجاب نے تنخواہ میں اضافے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہیں یہی کہا گیا کہ آئی ایم ایف کے قرضے میں رکاوٹ آئے گی۔ یہ سال معیشت کیلئے کچھ اچھا نہیں ہونے والا کیونکہ آئی ایم ایف اپنی کڑی شرائط کیساتھ حکومت کو قرضے کی پہلی قسط فراہم کرے گی اسی وجہ سے پچھلے سال 5 فیصد سے زیادہ تیز رفتاری سے سفر کرنے والی معیشت چار فیصد سے کم سطح پر آ جائے گی اور عام پاکستانی کو بے روزگاری ٗ مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آئی ایم ایف کا ایک اور مطالبہ جو پورا کر دیا گیا ہے وہ روپے کی قدر میں کمی ہے ۔ دبئی میں کرسٹین لیگارڈ سے ہونیوالی ملاقات میں بھی خان صاحب کو یہ کہا گیا کہ آپ روپے کو اس کی فطری سطح پر لے کر آئیں اسی وجہ سے قرض کی پہلی قسط پہنچنے سے پہلے روپے کی قدر کم کی گئی ہے اور ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور اشیائے خورد و نوش عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرضے ملنے کے بعد عوامی منصوبوں کیلئے پیسے دستیاب نہیں ہوں گے ٗ عوام پر ٹیکسز میں مزید اضافہ ہو گا ٗ شرح سود میں اضافہ اور کسانوں کیلئے مشکلات بڑھیں گی جبکہ سرکاری اداروں میں کام کرنے والوں کی مراعات میں کمی کا بھی امکان ہے۔

سارے سپیرے ویرانوں میں گھوم رہے ہیں بین لئے

آبادی میں رہنے والے سانپ بڑے زہریلے تھے

کون غلام محمد قاصر بے چارے سے کرتا بات

یہ چالاکوں کی بستی تھی اورحضرت شرمیلے تھے

ہمیشہ تاریخ کی سب سے الگ نکڑ پر کھڑے ہو کر دانشوری کرنے والوں سے دست بستہ درخواست ہے کہ عوام سے سچ بولنا شروع کر دیں۔ اٹھارہویں ترمیم سیاسی عزائم کی راہ میں رکاوٹ تو ہو سکتی ہو لیکن پاکستان کے معاشی حالات کی بہتری کیلئے کچھ مختلف قسم کے اقدامات کی ضرورت ہے۔


ای پیپر