جارج ، یتیم بچی اور گولڑہ کے’ مینی ملز‘
06 اپریل 2019 2019-04-06

20ستمبر 2017 ء بروز بدھ ایرانی صوبے اردبیل کے ایک شہر پارس آباد کے مرکزی چوک میں اسماعیل جعفر زادہ نامی ایک شخص کو سر عام پھانسی دیدی گئی ، پھانسی کی اس سزا کے پیچھے محرکات سے قطع نظر لوگوں میں اشتعال اس بات کا تھا کہ اسماعیل نامی اس بدبخت نے جرم بہت سخت کیا تھا، پھانسی کے مناظر لوگوں نے دُور دُور سے آکر دیکھے اور عکس بند کئے اور بعد ازاں اسے انٹرنیٹ پر بھی ڈال دیا گیا ۔۔ پھانسی کیوں ہوئی یہ بتانا تو ضروری ہے ہی لیکن اس کہانی میں ’ جارج ‘کا کیا کردار ہے پہلے ذرا وہ سن لیجئے ،جس چوک پر اسماعیل جعفرزادہ کو پھانسی دی جارہی تھی اس کے عین مشرق میں ایک ہوٹل نما ریستوران تھا جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاح قیام پذیر تھے ۔۔ ان سیاحوں میں سے ایک کانام جارج تھا ، جارج کا تعلق سکاٹ لینڈ سے تھا ، بنیادی طور پر صحافی ہونے اوردنیا کے بہترین خطے سے تعلق رکھنے کے باوجود جارج کو تیسری دنیا کے ممالک کے سفر اور وہاں کے لوگوں سے میل جول کا بہت شوق تھا ، اسی شوق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جارج نے اسکاٹ لینڈ سے رخت سفر باندھا اور تہران سے گھومتا گھامتا اردبیل صوبے کے شہر پارس آباد آن پہنچا ، انیس ستمبر کی شام ساڑھے سات بجے پارس آباد کے ایک ہوٹل میں چیک اِن کرنے کے بعد اسے خبر ملی کہ کل صبح یعنی دس بجے مرکزی چوک میں اسماعیل جعفرزادہ نامی ایک شخص کو پھانسی دی جائی گی ، جارج نے اس خبر کو سنی ان سنی کرتے ہوئے ٹی وی کا ریمورٹ ہاتھ میں پکڑا اور مختلف چینلز کا مشاہدہ کرنے لگا ، اسے ایرانی چینلز کی زیادہ سمجھ نہ آئی تو استقبالیہ کاونٹر پر کال کی اور کسی بہتر انگریزی چینل کی فرمائش کر ڈالی ، ہوٹل انتظامیہ نے فرمائش کا احترام کرتے ہوئے ایک امریکی انگریزی ٹی وی چینل لگا دیا ۔۔ جارج کے لئے اس چینل نے ڈوبتے کے لئے تنکے کے سہارے والا کام کیا۔۔اُس چینل پرایک انگریزی ڈرامہ سیریز نے اسے اپنی جانب متوجہ کر لیا ۔۔ اس سیریز کے مرکزی کردارکا چہرہ انسان جیسا تھااوروہ باربار جانوروں کی مبہم شکلیں بدلنے کی صلاحیت رکھتا تھا ، یہ مافوق الفطرت قسم کی مخلوق تھا تو انسان نما ۔۔لیکن دوسروں کی مدد کے لئے کسی بھی جانور یا پرندے کا روپ دھار لیتا تھا ۔۔ڈاکٹر جوناتھن چیس (Dr.Jonathan Chase) کے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے کردارپر مبنی یہ ڈرامہ سیریز 1983 کے ماہ ستمبر میں این بی سی ٹی وی پر پہلی مرتبہ براڈ کاسٹ کی گئی تھی اوراتفاق سے جارج کو اس انگریزی چینل پرنشر مکرر کے طور پر دیکھنے کو مل گئی۔۔ اس ڈرامے کا نام مینی مل (Manimal)تھا ۔ لفظ مینی مل دو مختلف الفاظ کا مرکب ہے ۔۔ لفظ مین(Man) ہیومن سے لیاگیا ہے جبکہ لفظ مَل(Mal) جانور یعنی اینیمل سے لیا گیا ہے ۔۔ یعنی ایسا انسان جو کہلانے کو تو انسان ہو لیکن اس میں مختلف جانوروں کی خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہوں۔۔(یاد رہے کہ مینیملز کی اصطلاح ویسے تو منفی ہے لیکن اس ڈرامہ سیریز میں سپرمین جیسی بتائی گئی جو دوسروں کی مدد کرتا ہے ) چالیس منٹ دورانیے پر مشتمل قسط دیکھنے کے بعد جارج نے اس کردار کو عملی زندگی میں ٹٹولنے کی کوشش کی تو اسے جواب نفی میں ملا ۔۔ قصہ مختصر مینیمل ڈرامے کی کہانی کے اُس کردار کو ایک غیر عملی کردار گردانتے ہوئے جارج کافی دیر تک ڈرامہ سیریز کے ڈائریکٹر پر ہنستا رہا اور یہ بھی سوچتا رہا کہ کم ازکم اس طرح کا کوئی بھی کردار انسانی زندگی میں عملی طور پر نہیں پایا جاتا ۔۔ جو جانوروں کا روپ دھارتا ہواور لوگوں کی مدد کرتا ہو ۔۔ مغرب ہو یا مشرق اسے انسان ایسے منفی مینملز کی شکل میں ضرور دکھائی دیتا ہے جو اپنی نفسانی خواہشات پوری کرتا ہے ، بچوں کا ریپ کرتا ہے ان کا قتل کردیتا ہے ، نہتی یتیم بہن پر جبر کرتا ہے ، باقی بھائیوں کے ساتھ مل کر کئی کئی مہینوں تک اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا ہے ، پکڑے جانے پربھی نہیں شرماتا ہے ۔۔ اور خود کو انسان کہلانے پر اتراتا ہے ۔۔ان تمام سوچوں کے ساتھ جارج اپنے بستر میں چلا گیا اور نیند کے مزے لینے لگا ۔۔ اگلے دن صبح ہوتے ہی جارج کے کمرے کے عین سامنے موجود شیشے کے اس پار سے لوگوں کا بڑا ہجوم دکھائی دیا ، یہ ہجوم اسماعیل جعفر زادہ کی موت کی سزا دیکھنے کیلئے چوک پر اکٹھا ہوا تھا ۔۔ جارج نے ویٹر کو بلایا اور معلوم کیا کہ اس شخص کو کیوں سرعام لٹکایا جا رہا ہے ، ویٹر جس کا نام علی روحانی تھا ، پہلے ہچکچایا اور پھر بولا ، کہ آج سے چار مہنے پہلے بیالیس سالہ اسماعیل جعفرزادہ نے ایک سات سالہ بچی ایتنا اے انیس کو اس کے محلے سے بہلا پھسلا کر اغوا کیا اور اس کے بعد کئی دنوں تک زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ۔۔ معصوم ایتنا۔۔ اسماعیل کے آگے آہ وزاری کرتی رہی لیکن بے رحم جانور صفت انسان کو ذرا برابر ترس نہ آیا ۔۔ لوگوں کی نظروں سے بچنے اور اپنے گناہ پر پردہ ڈالنے کے لئے اس نے ایتنا اے انیس کا گلا دباکر قتل کیا اور بعد ازاں بچی کی لاش اپنے گھر کے گیراج میں دفن کر دی۔۔ پولیس کو واقعے کی اطلاع ملی تو تفتیش کا دائرہ بڑھایا گیا اور کڑیوں سے کڑیاں ملاتے ہوئے شواہد کو اکٹھا گیا ، کچھ دن بعدبچی کی لاش ملی ، پوسٹمارٹم کیا گیا اور بالآخر اسماعیل جعفرزادہ نے پولیس کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کر لیا۔۔بعدازاں ایرانی عدالت اور ایرانی صدر کے حکم پر اس درندہ صٖفت شخص کو سرعام سُولی پر چڑھانے کے احکامات جاری کئے گئے ۔۔ اس واقعے کو سنتے سنتے جارج کی آنکھیں نم ہو گئیں ۔۔ یہ وہی جارج تھا جس نے اُس پھانسی کے مناظر کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا اور بعدازاں ایک آرٹیکل لکھا کہ وہ کون سے عوامل ہوتے ہیں جن سے انسان ۔۔ مینی ملز میں بدل جاتا ہے جبکہ ڈرامہ سیریز میں دکھائے گئے اختراعی مثبت کردار مینیمل کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ۔ جارج لکھتا ہے کہ جب حکمران انسانوں کی جگہ پلوں اور سڑکوں کو اپنی ترجیحات میں اولیت اور فوقیت دیں تو رعایا کی نسلیں انسانوں سے مینیملز میں بدل جاتی ہیں ۔۔ پھر کسی بچے کے ایکٹ کا اس کے والد کو دوشی نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کسی والد کی سفاکی کا کسی استاد کو ذمہ دار نہیں گردانا جا سکتا اور کسی معاشرے کی بے حسی کا کسی ایک طبقے کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔۔بات قصور کی زینب کی ہو ،ایران کی ایتنا اے انیس کی یا گولڑہ میں اپنے سگے بھائیوں کے ہاتھوں مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی یتیم بچی کی ، یہ طے ہے کہ ہم سب بحیثیت انفرادی اپنی اپنی جگہوں سے ہٹے ہوئے ہیں ، ہم بٹے ہوئے ہیں ۔۔ اور جب حکمرانوں کی سطحی سوچ کے طرز حکمرانی میں ہیومن ڈویلپمنٹ سے زیادہ مینیمل ڈویولپمنٹ کوترجیح دی جائے تو قصوروار کسے کہا جائے ، ان حکمرانوں کو کیا غرض کہ ننھی زینب اور اس جیسی کئی معصوم جانوں نے اپنے کلیجے پر کیسے ستم سہے ہونگے ،مرنے سے پہلے کس کرب سے گزرے ہونگے ۔۔ ایران کی ایتنا اے انیس کو تو اسماعیل جعفرزادہ کی سرعام پھانسی کی صور ت انصاف مل گیا لیکن جس ملک میں تین عورتوں کو ماڈل ٹاؤن میں گولیاں مار کر بھون دیا جاتا ہو، معصوم لڑکوں کے چہروں پر پٹیاں باندھ کر کسی ویران بنگلے میں اینکاونٹر کر کے ترقی کے میڈلز سینے پرسجائے جاتے ہوں ، جہاں انصاف نہ ملنے پر احتجاج کرنے والے طلبا کو جواب میں پولیس کے ڈنڈے اور سیدھے فائرز لگتے ہوں، جہاں مائیں اس خوف سے بچوں کو باہر نہ بھیجتی ہوں کہ کسی پولیس والے کی درندگی کا نشانہ نہ بن جائے ، جہاں رات کے سائے میں حکمران ناچتے ہوں اور عوام سوکھی روٹی کو ترستے ہوں ، جہاں جرنلزم کاروبار ہو اور کاروبار پر حکمرانوں کی حکمرانی ہو تو وہاں کوئی زینب اجڑ بھی جائے تو کسی کو کیا پرواہ، وہاں کئی خلیل بمعہ خاندان سرراہ بھون بھی دئیے جائیں تو کیا ہو ا، وہاں یتیم بچیوں کا ریپ بھی ہوتا رہے تو کیا ہوا ۔۔ سو باتوں کی ایک بات کچرے سے ملنے والی لاش صرف زینب کی نہیں پوری انسانیت کی لاش تھی ، ساہیوال کے خلیل کی فیملی پر حملہ کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے نہیں اس سسٹم کے فرسودہ حرکاروں نے کیا اور گولڑہ کی یتیم بچی کو سگے بھائی مسلسل زیادتی کا نشانہ نہیں بناتے رہے بلکہ نظام انصاف کے منہ پرزوردار طمانچے مارتے رہے ہیں ۔ میں چیلنج کرنے کے لئے تیار ہوں کہ اگر اس ملک میں یکساں نظام تعلیم اور نظام حصولِ بروقت انصاف رائج ہوجائے تو جرم جرم نہ رہے ۔ دودن پہلے گولڑہ کی یتیم بچی کی آپ بیتی سن کر کلیجہ پھٹ کے منہ کو آگیا ۔ درندہ صفت تین بھائی سگی بہن کے ساتھ مسلسل کئی مہینوں تک زیادتی کرتے رہے ۔ زمین پھٹی نہ آسمان دہلا ۔ خبر آئی ، دل دہلے ۔ وقت گزرے گا اور سب بھول جائیں گے ۔ جیسے سانحہ ساہیوال اور نقیب اللہ محسود کے قتل کو بھول گئے ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ایسے درندہ صفت اور سفاک بھائیوں کو سرعام پھانسی لٹکایا جائے تاکہ ایسے لوگ تمام معاشرے کے لئے نشان عبرت بن سکیں ۔ ہم سے توعرب و عجم کے معاشرے اچھے ہیں جہاں چوری کرنے پر ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ، جرم کی سزا فورا ملتی ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں ہمارا قانون ہی ملزم یا مجرم کے لئے حفاظتی شیلڈ کا کام کرتا ہے ۔ اب ایسے معاشرے میں زیادتی زدہ بچوں یا بچیوں کے لاشے کچرے سے ملیں یا گٹر سے ، دوشی والدین کو نہیں بلکہ حکمرانوں کو ٹھہرایا جاتا ہے ۔۔ وہی حکمران جوانسانوں کو وعدوں اور جھوٹے ڈھکوسلوں کے سہارے بے خبر اور بے علم رکھتے ہیں تاکہ نہ پڑھ لکھ سکیں ،نہ انسان بن سکیں اور نہ انسان پیدا کر سکیں۔انہیں بس موٹرویز اور انڈرپاسزکی چکاچوند میں بدمست رکھا جاتا ہے۔۔۔ انہیں معاشی بدحالی اور مہنگائی کے اعدادوشمار میں الجھائے رکھا جاتا ہے ۔دہائیوں پر دہائیاں گزرتی جاتی ہیں ، امیر اشرافیہ میں بدلتے جاتے ہیں اور غریب غربت کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں ۔۔ ایسے معاشروں کے انسان کیسے انسان ہوتے ہوں گے اخبارات اور نیوزچینلز کی سرخیاں چیخ چیخ کر بتا رہی ہوتی ہیں۔ جارج کو مطلوبہ ڈرامہ سیریز والے مینمیلز شاید کسی معاشرے میں مل ہی جائیں لیکن سچ یہی ہے پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ملک کوجیسے مینیملز کا سامنا ہے اس سے چھٹکارا بہتر تعلیم ، تربیت اور بروقت انصاف ہی دلا سکتا ہے۔ ورنہ مینیملز روزانہ کی بنیادوں پر بڑھتے جائیں گے ۔ اور بڑھتے جا رہے ہیں ۔۔ نہیں یقین آتا تو اپنے اردگرد نظر دوڑائیے ۔


ای پیپر