سیاسی موسم بدلنے لگا!
06 اپریل 2018 (22:54) 2018-04-06

حافظ طارق عزیز:جمہوری طرز حکومت کی یہی خوبی اسے دوسرے نظام ہائے حکومت سے ممتازکرتی ہے کہ اس میں باہمی اختلافات اور بحث و مباحث کی گنجائش ہوتی ہے۔ دوسروں کے مو¿قف کے بارے میں جاننے اور اپنا نکتہ¿ نظربیان کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس مشق سے جہاں کئی مسائل کا حل سامنے آتا ہے، وہاں کچھ معاملات الجھ بھی جاتے ہیں۔ جذبات کا غلبہ ہوتا ہے، جمہوری اختلافات ذاتیات کے دھارے میں بہہ کر’پولرائزیشن‘میں بدل جاتے ہیں۔ ایسا خاص کر تیسری دنیاکے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں جمہوریت ابھی قدم جمانے کی تگ ودو میں ہے۔ پاکستان اس صورت حال کی نمائندہ مثال ہے جہاں شخصیات کی وجہ سے سیاسی اختلافات کو اس قدرطول دیا جاتا ہے یہ اداروں کے مابین تصادم کی صورتحال اختیارکر لیتے ہیں، پانامہ کیس فیصلے کے بعدکے حالات ایسی ہی سیاسی انتہا پسندی کا نتیجہ تھے، جن کی وجہ سے وطن عزیز میں ایک طوفان کی سی کیفیت رہی ہے۔

اس سارے منظر نامے میں گزشتہ دنوں ایک بار پھر اس وقت”کھسر پھسر“اور سیاسی چہ مگوئیوں نے جنم لیا جب وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ملاقات کی۔ یہ ملاقات دوگھنٹے طویل تھی جس میں شاہد خاقان عباسی نے جسٹس ثاقب نثار کو یقین دلایاکہ عوامی بہبودکے بارے میں ان کے نظریہ کی تکمیل کے لئے حکومت سپریم کورٹ سے مکمل تعاون کرے گی۔ اور سپریم کورٹ کے ایک بیان کے مطابق چیف جسٹس نے وزیراعظم کو بتایا کہ عدالتیں بے خوفی اور خود مختاری سے انصاف فراہم کرتی رہیں گی۔ لیکن سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں اُس وقت بڑھ گئیں جب ایک ایسا وزیراعظم جو چند ہفتے پہلے پارلیمنٹ میں یہ اعلان کر رہا تھا کہ عدالتوں کے دائرہ کار اور اختیار کے بارے میں ایوان میں کھل کر بات ہونی چاہئے اورجس کی حکومت اور پارٹی سپریم کورٹ کے اختیارات محدودکرنے کے لئے آئینی ترمیم کی تگ ودوکرتی رہی ہے ، اب اسی چیف جسٹس سے ملنے کی خواہش کو تکمیل تک بھی پہنچایا ہے۔

اس ملاقات سے پہلے کی کہانی قارئین کے ساتھ شیئرکرتا چلوں کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک ہفتہ قبل اٹارنی جنرل کو چیف جسٹس کے پاس بھیجا تھا جس میں انہوںنے چیف جسٹس کو درخواست کی تھی کہ وہ وزیراعظم ہاﺅس آجائیں جس پر چیف جسٹس نے کہا تھا کہ میں وزیر اعظم ہاﺅس نہیں آ سکتا،کیوں کہ یہ میرے منصب کے شایان شان نہیں ہے کہ میں چیف ایگزیکٹوکے پاس ملنے کے لیے جاﺅں، لہٰذاآپ سپریم کورٹ آجائیں ، آپ کو ہم عزت دیں گے کہ آپ سپریم کورٹ میں آئے اور یہ آپ کا حق بھی ہے۔ پھرکچھ دن بعد اٹارنی جنرل سپریم کورٹ میں آئے اورکہا کہ وزیر اعظم آپ سے ملنا چاہتے ہیں تو محترم چیف جسٹس نے کہا کہ ملاقات سپریم کورٹ کے اندر ہی ہوگی۔

پھر ملاقات ہوئی، ملاقات سے پہلے تک سب کچھ راز میں رکھاگیا، وزیراعظم نے عوام کو سہولتیں بہم پہنچانے کے لئے سپریم کورٹ کو حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا تو دوسری طرف چیف جسٹس نے ریونیوکورٹس میں مقدمات کی جلد سماعت کی یقین دہانی کروائی تاکہ ایف بی آرکی پریشانیاں دور ہو سکیں۔ اب اس ملاقات پرکئی جگہوں سے شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے، اور ایسا ہوتا آیا ہے کہ جب جب دو بڑے اداروں کے سربراہوں کی ملاقاتیں ہوتی ہیں تو وہ بحث اور شکوک کو جنم دیتی ہیں اور آج کل تو ویسے بھی ہرگز معمول کی صورت حال نہیں ہے۔ اور اس ملاقات کے حوالے سے سب سے زیادہ بے چینی پیپلزپارٹی کے حلقوں میں دیکھی جا رہی ہے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اس حوالے سے کئی انٹرویوز اور میڈیا ٹاک کر چکے ہیں وہ بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات فائدے کے بجائے الٹا نقصان دہ ثابت ہوگی۔اداروں کے سربراہان کے درمیان ملاقاتیں ہوتی ہیں اور ہونی بھی چاہئیں لیکن ہر ملاقات اور فیصلے کا ایک وقت ہوتا ہے، چیف جسٹس آف پاکستان سے وزیراعظم کی ملاقات نہیں ہونی چاہیے تھی اوریہ بیک فائرکرے گی جو خطرناک ہے۔ اگر وزیراعظم کو ملنا ہی تھا تو خفیہ ملاقات کرتے، اس ملاقات کے بعد اب چیف جسٹس دفاعی انداز اختیار کریں گے کیونکہ ملاقات کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ دونوں شخصیات کے درمیان کئی معاملات پر بات ہوئی ہے۔

اسی طرح کئی تجزیہ کار اسے کسی خفیہ ڈیل کا رنگ دے رہے ہیں اورکچھ کہہ رہے ہیں کہ یہ وہی عدالت ہے جو نواز شریف کو دو مرتبہ نااہل قرار دے کر ان کا سیاسی مستقبل ختم کرنے کا اعلان کرچکی ہے اور ابھی تک اس نے اس اہم مقدمہ کا فیصلہ سناناہے جس میں آئین کی شق 62 اور 63 کے تحت نااہل ہونے والے سیاست دانوں کی نااہلی کی مدت کا تعین کیا جائے گا۔ اس مقدمہ کی سماعت چند ہفتے قبل مکمل ہو چکی ہے لیکن ابھی تک فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح نہال ہاشمی کے علاوہ شاہد خاقان عباسی کی کابینہ کے دو وزیروں کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات کی سماعت بھی سپریم کورٹ ہی کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے ہی جج جسٹس اعجاز الحسن نیب عدالت میں نواز شریف اور ان کے اہل خاندان کے خلاف کرپشن کے الزامات میں دائر مقدمات کی سماعت بھی کر رہے ہیں۔ اب اسی عدالت کے چیف جسٹس نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ملاقات کی ہے جو بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ عدالتیں جو بھی کہیں یا فیصلہ جو بھی ہو مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور فیصلہ ساز نواز شریف ہیں اور اگر انہیں جیل بھی بھیج دیا گیا تو وہ وہاں سے بھی پارٹی معاملات طے کریں گے۔ یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ حکومت کے تمام اہم فیصلے وزیر اعظم ہائوس کی بجائے جاتی عمرہ میں ہوتے ہیں اور موقع بے موقع وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی خود نواز شریف کے پاس مشورے کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ جب کہ سپریم کورٹ کا مو¿قف ہے کہ نواز شریف کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور وہ پارٹی یا حکومت کے بارے میں کسی قسم کاکوئی فیصلہ کرنے کے مجازنہیں ہیں۔ یہ سوچنا محال ہوگاکہ چیف جسٹس نے اس تضادکے بارے میں وزیراعظم سے استفسارکیا ہوگا کہ وہ دراصل سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں یا نواز شریف کے سپاہی ہیں۔

خیر یہ تو وہ سرگوشیاں ہیں جو زبان زد عام ہیں لیکن ہمیں اس ملاقات سے توقع یہ رکھنی چاہیے کہ انصاف کی فراہمی میں جو مالی اور انتظامی مسائل حائل تھے امید ہے وزیر اعظم اُن کو دورکر دیں گے۔ ججز کی تعداد کے مسائل ختم ہوں گے، اور جولوگ 8,8 سو کلو میٹر دور ہائیکورٹس کے چکر لگاتے ہیں، جن کی جیب میں کرایہ تک نہیں ہوتا، ان کی راہ میں رکاوٹوں کو دورکر دیں گے، نئی عدالتیں بنائی جائیں گی، ہم چیف جسٹس سے یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ مفاد عامہ کے کاموں کو تیزکردیں گے۔ فلاح اور انصاف کے راستوں کو آگے بڑھائیں گے اور عوام یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ اس ملاقات میں لاکھوں کیسزکو نمٹانے کے لیے ججزکی اسامیاں پرکرنے کی بھی بات ہوئی ہوگی۔ اور یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ چوروں اور ڈاکوﺅں کے لیے کسی رعایتی منصوبے کی کوئی گنجائش پیدا نہیں کی جائے گی۔ اور ہم توقع کرتے ہیں کہ سو موٹو ایکشنزکی تعداد میں اضافہ ہوگا تاکہ لوگوں کو انصاف مل سکے۔

پاکستان میں انصاف کا بول بالا قائم کرنے کے لیے کام کریں گے۔ لیکن (خاکم بدہن ) اگر ایسا نہیں ہے تو ہم توقع رکھتے ہیںکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی دریائے راوی، دریائے چناب اور دریاستلج پر موٹر وے بنا دیں گے کیوں کہ اُن میں پانی تو ہے نہیں اس لیے وہاں حکومتی ترجیحات کے عین مطابق وہاں پل بنیں گے اور موٹرویز ہی بن سکتی ہیں اور ملک کی تمام نہریں جی ٹی روڈز میں تبدیل کردیں گے کیوں کہ اس ملک کے حالات تو ختم ہو چکے ہیں اور ویسے بھی پاکستان دنیا بھر میں قانون کی سر بلندی، قانون کی حکمرانی اورانصاف کے حصول کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 153واں ہے، اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش132ویں، بھارت93، سری لنکا86، سعودی عرب 58، عرب امارات37 ویں نمبر پر ہے۔ جبکہ تمام یورپی و امریکی ممالک اس فہرست میں بہترین پوزیشن پر ہیں۔ یہی وجہ ہے پاکستان جیسے ملکوں میں کوئی بھی لیڈر انہیں انصاف کی جلد فراہمی کا ”لالچ“ دیتا ہے تو لاچار عوام اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ جماعتوں میں سے درجنوں ایسی جماعتیں ہیں جن کا نام ہی ”انصاف “پر رکھا گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال ”تحریک انصاف“ہے۔ جس کے ایک نعرے پر عوام کا سونامی اس جماعت کے پیچھے ہو لیا تھا۔ اور آج یہ جماعت پاکستان کی دوسری بڑی جماعت بن چکی ہے۔ اسی طرح انصاف کے نام پر کوئی بھی شخص عوام میں جاتا ہے اسے پذیرائی ضرور ملتی ہے۔اور اگر چیف جسٹس واقعی ملک کی حالت بدلنا چاہتے ہیں تو پھرآپ یہ تین کام کر دیں، قانون، انصاف اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کردیں، یہ ملک بدل جائے گا، پھر نہ ملاقاتوں کی ضرورت پڑے گی، نہ وزیر اعلیٰ کو نوٹس لینے کی ضرورت پڑے گی اور نہ چیف جسٹس کوکھلی عدالتیں لگانے کا موقع مل سکے گا۔ نہ عدالتیں عوامی بہبودکاکوئی منصوبہ روکیں گی، نہ پانی کی کوئی سکیم بند ہوگی، نہ اورنج لائین ٹرین کا منصوبہ رکے گا، اور نہ ہی کسی ہسپتال کو بننے سے روکا جا سکے گا! چیف جسٹس سے دست بستہ گزارش ہے کہ قانون کی سربلندی کے لیے رول آف لا کے لیے اور سسٹم کی بہتری کے لیے ہمارے ادارے ٹھیک کر دیں یہی وقت کی ضرورت ہے! اور چوروں کو سزا دے دیں اور اس کے لیے کسی بڑی سے بڑی”سفارش“کو بھی خاطر میں نہ لائیں یہی ملک کی سب سے بڑی خدمت ہوگی جس کا وہ عزم رکھتے ہیں۔

خیر اس ملاقات کے بارے میں جو بھی چہ مگوئیاں کی جائیں، جتنے بھی نتائج اخذکر لئے جائیں۔۔۔ایک بات کہی جا سکتی ہے کہ اس سے حکومت اور عدلیہ کے درمیان جاری سرد جنگ کی شدت کم ہونے کا امکان نظرآرہا ہے۔ جیساکہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ وزیراعظم شاہد خان عباسی تمام معاملات میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے مشورہ کرتے، ان کی صلاح سے آگے بڑھتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے وزیراعظم کی چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ حالیہ ملاقات میں میاں صاحب کی مرضی بھی شامل ہو۔ اگر ایسا ہے تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ تصادم کی فضا چھٹنے والی ہے اورایسا ہو بھی جانا چاہے کیونکہ یہی ملک وقوم کی بہتری کے لازم ہے۔


ای پیپر