اتنی نہ بڑھا پاکئ داماں کی حکایت
06 اپریل 2018 2018-04-06

حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف ۔۔۔عوام ہوں یا خواص سب مانتے ہیں کہ کرپشن کے نظام کا خاتمہ کئے بغیر ملک ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا لیکن جب کسی طاقتور، تگڑے اور بارسوخ کرپٹ کے خلاف کوئی عدالت یا احتسابی ادارہ کوئی کارروائی کرتا ہے تو مقتدر سیاسی طبقات و حضرات اسے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ انتقام سے تعبیر کرتے ہیں۔اسی پربس نہیں بلکہ وہ اداروں کی تحقیر اور عدالت عظمیٰ کے فاضل جج صاحبان کو صبح و مساء ہدف دشنام بنانے کو اپنا ورد اور وظیفہ بنا لیتے ہیں۔ وہ ایک ہی راگنی الاپنا شروع کردیتے ہیں کہ’حکومت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے‘۔عالم یہ ہے کہ موجودہ وزیراعظم ایک ایسے عدالتی نااہل شخص کو جو اخلاقی اور قانونی طور پر سیاست نہیں کرسکتا، آج بھی اپنا وزیراعظم سمجھتے اور کہتے ہیں، حالانکہ وہ بہ خوبی جانتے ہیں کہ نواز شریف کو اعلیٰ عدلیہ نے نااہل قرار دیا ہے ۔ وہ بھول چکے ہیں کہ جب کسی ملک کا وزیر اعظم ہی اعلیٰ عدلیہ کا تمسخر اڑائے، اس کا حکم نہ مانے تو اس ملک میں گورننس قائم ہوسکتی ہے اور نہ ہی حکومت اور حکومتی ادارے چل سکتے ہیں۔ جب حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں تو سول بیوروکریسی بھی کام چھوڑ دیتی ہے۔ گماں گزرتا ہے کہ ایک شخص کو بچانے کیلئے کوششیں ہو رہی ہیں اور ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔صائب الرائے حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ملک کو بنانا ری پبلک بننے سے بچانا ہے تو ن لیگ کو عدلیہ مخالف موجودہ بیانیہ بدلنا ہوگا۔کاش وہ اپنے دیرینہ ساتھی سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حکیمانہ اور دانشمندانہ مشوروں سے استفادہ کرتے۔ وہ کئی ماہ سے پارٹی کی ہائی کمان کو سمجھا رہے ہیں کہ ’ہمارا موجودہ بیانیہ آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو شدید نقصان پہنچائے گا، عدلیہ کو ٹارگٹ نہیں کرنا چاہیے‘۔
عدالتی فیصلہ آنے کے چند روز بعد ہی میاں صاحب محترم نے براستہ جی ٹی روڈ ’عوامی عدالت‘ میں جانے کا فیصلہ کیا۔ انہی دنوں وہ مری سے اسلام آباد پہنچے۔ تجزیہ کار اور قانونی ماہرین کا ایک قابلِ ذکر حصہ اس پر حیران اور معترض تھاکہ عدالت کی طرف سے نا اہل قرار دیے جانے والے سابق وزیر اعظم کو مری سے اسلام آباد آتے ہوئے سربراہِ مملکت کا پروٹو کول کیوں دیا گیا؟ نیز انہوں نے کس حیثیت میں سرکاری عمارت پنجاب ہاؤس میں نئے وزیر اعظم ،کابینہ، ارکانِ پارلیمان اور نئی حکومت کے اتحادیوں اور صحافیوں سے ملاقات کی جبکہ عدالتی حکم کے مطابق وہ کسی بھی سیاسی جماعت کی سربراہی اور اس کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرسکتے ۔ان کے نزدیک وزیر اعظم اور ان کے ساتھی انہیں پروٹوکول دے کر توہینِ عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ جس دن میاں صاحب محترم مری سے اسلام آباد پہنچے، اسی روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چترال میں ایک تاریخی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ سے نا اہل قرار دیے جانے والے وزیر اعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’ ’میاں صاحب کو تختیاں لگانے کا بہت شوق تھا، تختیاں لگاتے لگاتے ان کا تختہ ہو گیا، نااہلی کے ساتھ ان کی منافقانہ سیاست بھی ختم ہوگئی، نااہل وزیراعظم نے نامکمل لواری ٹنل کا افتتاح کیا اور اپنے نام کی تختی لگوائی، میاں صاحب خوش نہ ہوں کہ نااہل ہو کر آپ کی جان بچ گئی، آپ کو اپنے ہر ظلم کا ،قوم کی لوٹی ہوئی دولت کا، ملک اور عوام کے ساتھ جو کیا ا س کا حساب دینا ہوگا، آپ کی جان ابھی نہیں چھوٹی‘‘۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار واشگاف الفاظ میں عوام کو بتا چکے ہیں کہ ’’ سیاسی کچرے سے سپریم کورٹ کی لانڈری کی جان چھوٹے تو باقی عام آدمی کے مقدمے بھی دیکھیں، ہمارے لئے عام شہریوں کے وہ مقدمے اہمیت کے حامل ہیں جن کا تین مرلے کا مکان ہی ان کی کائنات ہے،فیصلوں پر تبصرے کرنے والوں کو حقیقت کا علم نہیں ہوتا، عدلیہ کی نیت پر شک نہ کریں،پلان کہاں سے آ گئے؟ جج آزاد ہیں، عدلیہ میں کوئی تقسیم نہیں،ہر جج اپنے ذہن اور قانون کے مطابق فیصلہ دینے میں آزاد ہے،عدلیہ میں ججز کے لیے اپنے منصب سے بڑی اور کوئی عزت نہیں، قسم کھا سکتا ہوں کہ عدالت پر اندرونی اور بیرونی کوئی دباؤ نہیں، ہم نے آئین اور جمہوریت کے تحفظ کی قسم کھا رکھی ہے،ججز آئین، قانون اور ضمیر کے مطابق فیصلے کرتے ہیں، ہم نے جتنے بھی فیصلے کئے وہ آئین اور قانون کے مطابق ہیں،ججوں پر دباؤ ڈال کر فیصلے کرانے والا پیدا نہیں ہوا، عدلیہ کا وقار شک و شبہ سے بالاہے، ہم نے پارلیمنٹ کی سپرا میسی اور حدود وقیود کو تسلیم کیا ہے،جب مقننہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گی تو ہمیں آگے آنا پڑے گا، ہمیں خود سے نئے طریقے متعارف کروانا پڑیں گے، لوگ انصاف کیلئے ہماری جانب دیکھ رہے ہیں، اگر مقننہ اپنا کام نہیں کرنا چاہتی تو ہمارے پاس بہت سارے راستے موجود ہیں ہم ان راستوں پر چلیں گے‘‘۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر ہونے والے تبصروں کے تناظر میں کہا کہ’’ آپ کے خلاف بھی
فیصلہ آ جائے تو عدلیہ کو گالیاں نہ دیں،عدلیہ کو جمہوریت اور جمہوری اداروں کی اہمیت کا ادراک ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت ہے تو آئین ہے اور آئین ہے تو ریاست ہے ،جوڈیشری ریاست کا وہ بزرگ ہے جو رجوع کرنے پر آئین اور قانون کے تحت فیصلے کرتا ہے‘‘۔
یہ ایک مستحسن امر ہے کہ عدالت ہائے عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے جج کسی کے دباؤ میں نہیں آتے اور اُنہیں آنا بھی نہیں چاہیے ۔ بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مخصوص سیاسی عناصر ملک کی سب سے بڑی عدالت انصاف کی جانب سے آنے والے فیصلوں کو مکمل طور پر تسلیم کرنے کے بجائے انہیں عالم برہمی میں ہدف مطاعن اور مورد تنقید بنا رہے ہیں۔ اگر کوئی فیصلہ ان کے حق میں آجائے تو اسے انصاف اور قانون کی فتح قرار دے کر عدلیہ کی تعریف میں زمیں آسماں کے قلابے ملاتے ہیں لیکن جب کوئی فیصلہ ان کی خواہش اور مرضی و منشا کے بر خلاف آجائے تو عدالتی فیصلوں کے خلاف عوامی عدالتوں میں جانے کی دھمکیاں دیتے اور فیصلے کو عدالتی فیصلہ تسلیم کرنے کے بجائے پانچ افراد کی رائے قرار دینے میں بھی تأمل محسوس نہیں کرتے ۔عوام ان سیاستدانوں سے جو عدالتی فیصلوں کے خلاف ریلیاں نکالنا اور توہین عدالت کو اپنا استحقاق جانتے ہیں ،پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر زمین پر موجود کوئی ادارہ سیاستدانوں کے مالی معاملات کی چھان بین اورتحقیق نہیں کرسکتا تو کیا آسمان سے فرشتوں کی کوئی ٹکڑی اترکر شاہراہِ دستور پر میزان عدل قائم کرے گی۔اسی تناظر میں چیف جسٹس آف پاکستان کو یہ واضح کرنا پڑا کہ ججوں پر دباؤ ڈالنے والا ابھی کوئی پیدا نہیں ہوا۔ بعض مبصرین استفسار کر رہے ہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو اپنی غیر جانبداری پر قسم اُٹھانے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ ایک آفاقی صداقت ہے کہ جج اپنے فیصلوں پر کبھی وضاحتوں کے کٹہرے میں کھڑے نہیں ہوا کرتے لیکن چونکہ معاشرے میں عدلیہ کے خلاف گزشتہ چند ماہ سے اتنی قبیح ذہن سازی اور رائے عامہ سازی سیاستدانوں کے ایک مخصوص گروہ ، قائدین اور میڈیا کے ایک مخصوص گروپ کی جانب سے انتہائی جارحانہ انداز میں کی گئی کہ عزت مآب چیف جسٹس کو اس کا نوٹس لینا پڑا ۔ شاید اسی تناظر میں چیف جسٹس آف پاکستان کو کھلے الفاظ میں بات کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ انصاف میں تاخیر کا بڑا سبب ججوں پر تنقید ہے۔ ان کی اس بات میں یقیناًوزن ہے۔
یہ تو طے ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت عدلیہ ایسے محترم ادارے کے خلاف محاذ آرائی کو اگر اپنا شیوہ و شعار بنا لے تو عوامی سطح پر اس کی ساکھ بری طرح مجروح ہی نہیں معدوم ہو جایا کرتی ہے۔ شخصیات نہیں ادارے بالا دست ہوتے ہیں۔ شخصیات آنی جانی ہوتی ہیں۔ شخصیات کے لیے آئین، قانون اور عدالتوں کو اُن کے تابع مہمل نہیں بنایا جا سکتا۔ حقیقی جمہوریت میں خاندانی اور موروثی جمہوریت کے تسلسل کا کوئی تصور نہیں۔ بدقسمتی سے مسلم لیگ (ن) کے سابق برطرف وزیراعظم میاں محمد نواز شریف 28 جولائی سے بلا توقف اور بلا ناغہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت انصاف اور اس کے عزت مآب جج صاحبان کے خلاف جارحانہ بیانات کی چاند ماری میں مصروف ہیں۔ کاش انہیں کوئی سمجھانے والا ہوتا کہ اگر اس ملک میں عدلیہ کمزور ہوئی تو جمہوری حکومتوں کابھی پرسان حال کوئی نہیں ہو گا۔ ہمارے نزدیک میاں محمد نواز شریف وطن عزیز کے ایک جہاندیدہ اور سرد و گرم چشیدہ سیاستدان ہیں۔ انہیں جذباتیت کے حصار سے باہر نکلنا ہو گا،اب اُنہیں حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے ’مجھے کیوں نکالا؟‘ کی گردان سے اجتناب برتنا ہو گا اور عدلیہ سے محاذ آرائی اور مخاصمت کے لیے اکسانے والے مشیروں سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔ یہ درست ہے کہ اس وقت ملک محاذ آرائی اور کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا اور عدلیہ کے فیصلوں سے عوام اس حد تک بیدار ہو چکے ہیں کہ اُن کا واحد مطالبہ یہی ہے کہ جن بھی بالادست شخصیات ، اُن کا تعلق سیاست سے ہو یا سول و ملٹری بیورو کریسی سے، اُن کے خلاف احتسابی عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھاتے ہوئے اُن سے لوٹی ہوئی قومی دولت کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
میاں محمد نواز شریف اینڈ کمپنی کا عدلیہ مخالف بخار ابھی نہیں اترا۔ وہ انتباہ آمیز لہجے میں جانے کس کو بتا رہے ہیں کہ میں پیچھے ہٹنے والا نہیں۔ میں ڈٹ کر کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔ اُن کے اس تہدید آمیز بیان کو آصف علی زرداری نے مولا جٹ کی بڑھکوں سے تشبیہ دی ہے۔ عام آدمی کو آصف زرداری اور میاں محمد نواز شریف کے مابین جارحانہ مکالموں سے کوئی غرض نہیں۔ عوام تو صرف یہ جاننے کے خواہاں ہیں کہ کیا میاں صاحب محترم اتفاق فاؤنڈری اور حدیبیہ پیپر ملز میں قومی و کمرشل بینکوں کے نادہندہ ہیں؟۔۔۔ کیا انہوں نے میسرز ریڈ کو کو اپنے عہد اقتدار میں مری میں بیش قیمت 15 ایکڑ زمین الاٹ کر کے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی غلطی کی یا نہیں؟۔۔۔ کیا رائے ونڈ میں 1800 ایکڑ زمین جس پر جاتی امرا محلات تعمیر کیے گئے، ان کی تعمیر کے دوران انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری خزانے کو 62 کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے سے اجتناب برتا؟ ۔۔۔ کیا اپنے پہلے عہد حکومت 1990-93ء میں اپنے کالے دھن کو سفید کرنے اور ٹیکس سے بچنے کے لیے انہوں نے قومی خزانے کو 18 کروڑ روپے کا چونا نہیں لگایا؟۔۔۔ کیا نواز شریف اور سیف الرحمن نے لگژری گاڑیوں بی ایم ڈبلیو ز کی درآمدی ڈیوٹی دوسرے عہد اقتدار میں 325 فیصد سے کم کر کے 125 فیصد نہیں کر دی تھی؟۔۔۔ کیا ان کے اس ’’عظیم کارنامے‘‘ کی وجہ سے قومی خزانے کو ایک ارب 98 کروڑ روپے کا نقصان نہیں پہنچا تھا؟۔۔۔ کیا میاں صاحب یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ انہوں نے اور اُن کے ساتھی سیف الرحمن نے ہنگامی ایمرجنسی کے نفاذ کی آڑ میں پاکستانی کھاتہ داروں کے 11 ارب ڈالر پاکستانی بینکوں سے کھاتہ داروں کی منشا کے بغیر غیر قانونی طور پر نہ صرف منجمد کیے بلکہ انہیں لاپتا بھی کر دیا ۔۔۔ کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ 1990ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے شریف خاندان نے 900 کروڑ روپے کا جو قرض لیا تھا، 300 کروڑ روپے کی ادائیگی کے بعد باقی رقم 28 برس گزرنے کے باوجود ابھی تک اُن کے ذمہ جوں کی توں واجب الادا کیوں ہے؟۔۔۔واقفان حال تو یہ بھی بتا رہے ہیں کہ 1990ء میں شریف گروپ نے 4 ارب 63 کروڑ 55 لاکھ 40 ہزار 179 روپے لیے تھے۔۔۔31 مارچ 1998ء کی سٹیٹ بینک کی لسٹ کے مطابق شریف گروپ اس رقم میں بھی نا دہندہ ہے اور ابھی تک انہوں نے اس قرض کے 3ارب 28 کروڑ 20 لاکھ اور 22 ہزار روپے ادا کرنا ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ 18 مارچ 1999ء کو لندن کی ہائی کورٹ کوئین بنچ ڈویژن نے ایک فیصلہ صادر کرتے ہوئے میاں محمد شہباز شریف کو 17.179 ملین امریکی ڈالر اور میاں محمد شریف اور عباس شریف کو 14.712 ملین ڈالرز میسرز التوفیق لیزنگ کمپنی کو ادا کرنے کا کہا تھا۔۔۔سوالات مزید بھی ہیں لیکن اگلی نشست میں اُنہیں اٹھایا جائے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ میاں صاحب محترم کا نام جہاں بھی آتا ہے، بدعنوانیوں، بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں کا ایک وائٹ پیپر حافظے میں تازہ ہو جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی شخصیت کو اپنے صوفی با صفا ، پارسا اور پاکدامن ہونے کا دعویٰ زیب دیتا ہے؟ شاعر نے شاید ایسی ہی کسی شخصیت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا :
اتنی نہ بڑھا پاکئ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ


ای پیپر