ایں فریادِشہدائے قندوزاَست
06 اپریل 2018 2018-04-06

خواتین وحضرات ! کیسے ہیں آپ ؟ امید ہے کھانا وانا تو وقت پر کھارہے ہوں گے ، صبح سویرے جلد ی یا دیر سے اٹھ کر، میوزک شیوزک لگا کے، گانے وانے بجا کے، جم(Gym) وِم کو بھی خوب انجوائے کر رہے ہوں گے ! بچوں کو صاف ستھرے یونیفارم پہنا کے ،اچھے سے گڈبائے بول کے ،ماڈرن سکول کے دروازے پر چھوڑ کے آتے ہوئے دل تو ہلکان ہوا ہی ہوگا ۔ پھر گھر آئے ہوں گے ، ہوم تھیٹر پر کیبل ٹی وی لگایا ہوگا اور دیسی نیوز چینلز پر روایتی خبریں سنتے ہوئے کافی کا کپ تو انجوائے کیا ہی ہو گا، نہیں کیا ، چلئے کوئی بات نہیں، دفتر کی مصروفیات نے آپ کو ایسا نہیں کرنے دیاتو کیا ہوا ۔دفتر میں تو افسر ہیں آپ ، کسی ملازم کو چھوٹی سی غلطی پر کَس کے ڈانٹ تو پلائی ہوگی ، اور نہیں تو اپنی کُرسی کا رعب تو جھاڑاہی ہو گا۔ ارے یہ کیا !۔۔۔ببلو کو واپس لینے میں لیٹ ہوگئے ؟۔۔۔ بیچارا۔۔۔پاپا کی گاڑی کا انتظار کرتے کرتے رو دیا ہوگا ؟ ، اور نہیں توبیٹے کو لیٹ واپس لانے پر خود کو کوسنے تو دئیے ہی ہوں گے۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔اب تھک گئے ہیں ، ارے کوئی بات نہیں۔۔۔تھوڑا آنکھیں وانکھیں بند کیجئے، قیلولہ کر لیجئے ،تھوڑی دیر کو سستا لیجئے۔۔۔ویسے آپ کونسا جاگ رہے ہیں، جاگتے میں بھی تو آپ سو ہی رہے ہیں ! جاگ رہے ہوتے ۔۔۔تو۔۔۔ سانحہ قندوز میں سو سے زائدحفاظ کرام کی شہادت کی خبر پر آپ کا کلیجہ پھٹ کے منہ کو نہ آجاتا۔۔۔ یہ بات محض بات نہیں ، یہ منظر کشی محض منظر کشی نہیں ۔۔۔ یہ حقائق ہیں ، یہ سچ کے زہر میں ڈوبے ہوئے حق کے وہ نشتر ہیں جو شاید آپ کو خواب غفلت سے جگا دیں۔۔۔ گستاخی ہوئی ہو تو معذرت لیکن یہ گستاخی بنتی ہے۔۔۔سو ہمہ تن گوش رہئے اور سنتے جایئے ۔۔۔ ایں فریادِ شہدائے قندوز است ۔۔۔کھنڈر عمارتیں ،بمباری کی باقیات ، بارود کی بو ، مردوزن کی چیخیں ،قطار اندر قطاربچوں کے لاشے ، جوگزر گئے وہ شہید۔۔۔جو باقی بچ گئے ۔۔۔ اُن کی ’اللہ اکبر‘ اور ’المددیارب العالمین‘ کی صدائیں، حفاظ کرام کی چیخ و پکار میں دبی ہوئی المناک دعائیں۔۔۔نمناک فضائیں۔۔۔ دلگیر نوحے۔۔۔ننھی ننھی میتوں پہ گریاں ہوائیں ۔۔۔یہ مقام۔۔۔مقامِ آہ و گریہ زاری ۔۔۔دورِ حاضرکا نائن الیون۔۔۔یہ جگہ کوئی عام جگہ نہیں۔۔۔ یہ مقام کوئی عام مقام نہیں ۔۔۔یہ شہر۔۔۔بامِ رقص و سرود اور عیاشی کا گڑھ نہیں ۔۔۔یہ لبرل ازم کے نرغے میں گھرا سعودی عرب نہیں۔۔۔یہ انسانیت کی سفاکی سے لبریز داستانوں کی نشاندہی کا مرکز۔۔۔ یہ ہے لہو لہودشتِ آچ�ئ قندوز۔۔۔ وہی مدرسۂ قندوز۔۔۔ جس پر بمباری کرنے والوں کے احساس کی ڈھلتی’ شام ‘۔۔۔کا نوحہ۔۔۔مورخ لکھے گا کہ جس وقت برج خلیفہ کے سائے کے نیچے مندروں کی تعمیرپراتحاد بین المذاہب اور فیشن ایبل عرب کا پرچار جاری تھا، عین اسی وقت امریکی سرپرستی میں افغان اور بھارتی افواج کے ہرکارے۔۔۔ایک دینی درسگاہ کے نہتے بچوں پربمباری کر کے انسانی ’عظمت‘ کی نئی تاریخ رقم کرنے میں مگن تھے۔۔۔ مؤرخ لکھے گا کہ جس وقت افغانی بچوں کے قطار اندر قطارکفن پوش لاشوں پر انسانیت بین کر رہی تھی عین اسی وقت۔۔۔ جی ہاں!عین اسی وقت۔۔۔ اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ۔۔۔متعدد اسلامی ممالک کی افواج کا جھنڈا تھامے۔۔۔ سعودی فرمانرواؤں کے عشائیوں میں ’تاک دھنا دھن! تا تھیا ‘کر رہے تھے ۔۔۔اور بارود کی بو میں دبی انسانیت کی چیخوں پر کانوں میں روئی کی پھریریاں ڈالے۔۔۔ مسلم امہ کی واحد اسلامی ایٹمی ریاست ’ پاکستان‘ کے کرتا دھرتا ’ہنوز دہلی دُور است‘ کے محاورے کی عکاسی کر رہے تھے۔۔۔ لکھنے والا لکھے گا کہ ’مجھے کیوں نکالا‘ ۔۔۔ سے ’میں نہ مانوں‘ ۔۔۔ تک کی کہانی بیان کرتا پاکستانی میڈیا۔۔۔ دیکھ تو سب کچھ رہا تھا لیکن موم بتی مافیا کے ایجنڈے کی محبت اس کے قلم کو صفحۂ قرطاس پر اذنِ جنبش دینے سے روک رہی تھی ۔۔۔ اس کا کیمرہ قندوز پر بمباری کرتے جنگی جہاز تو عکس بند نہیں کر پا رہا تھا لیکن اسے سلمان خان کی گرفتاری اور سری دیوی کی مرگ کے تمام اسرارو رموز واضح دکھائی دے رہے تھے ، ہمارے کمرشل میڈیا کے لئے پاکستان سپرلیگ ، ماڈرن فیشن شوز ، بالی وڈ فلمیں ، عائشہ خان کی شادی ،جسٹن ٹرڈو کی بھارت یاترا ،میلانیا کی ٹرمپ سے دُوریاں ،انڈیا کا نیا گانا ،شاہد آفریدی کا ٹویٹ ، سعودیہ کی اعتدال پسندی ، دبئی میں مندر کی تعمیر ، حرم میں ہراسگی کے واقعات ، نہال ہاشمی کے ہاشمی نسخے ،شرمین عبید چنائے کا آسکر ، ملالہ کی وطن واپسی ، مریم نواز کا میک اَپ ، عمران خان کی مدرسہ حقانیہ کے لئے امداد ، نواز شریف کی شعرو شاعری ، ڈاکٹرشاہد مسعود کی دبڑدوس ، تجزیہ کاروں کے ’تجزیے‘ اور بابارحمتا کی پُھرتیاں زیادہ اہم تھیں ۔۔۔اہمیت نہیں تھی تو قندوز کے مدرسے میں نہتے حفاظ کرام کے گرتے لاشوں اور ان کی ننھی ننھی میتیوں پر بین کرتی ماؤں کے آنسوؤں کی اہمیت نہیں تھی ۔ارے ! بھاڑ میں گئے طالبان ۔۔۔ بھاڑ میں گیا امریکہ ۔۔۔ طالبان سے لڑنا ہے تو جاؤ ان کو تہس نہس کردو ۔مرو اور ان کو اکھاڑ پھینکو ۔۔۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ لیکن طالبان کے نام پر مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے والے ننھے ننھے بچوں پر بارود کی بوچھاڑ کر کے اپنے آپ کو طاقتور کہلانے والو ! یہ کونسی طاقت کا زعم ہے! کہ پیرس اور فرانس سمیت امریکہ کے چھوٹے چھوٹے واقعات میں تو دہشت گردی نظر آتی ہے لیکن کسی مادر علمی پر بمباری کرنے کے واقعے پرمعذرت خواہانہ لب کشائی کرنے پرتمہیں موت پڑتی ہے ، کہاں ہے امریکہ نواز موم بتی مافیا ، جن کے منہ سے اس اندوہناک واقعے کے بعد ہمدردی کا ایک لفظ تک نہیں نکلا۔کیا کسی لبرل نے اپنی فیس بک پروفائل میں افغان جھنڈے پر خون کے دھبے دکھانے کی زحمت کی ؟ کیا انسانیت کے علمبرداروں کے کانوں پر جوں تک رینگی ؟۔۔۔کوئی توان نہتے شہداء کا قصور بتاؤ۔۔۔ ان کا قصور محض اتنا تھا کہ ان کے سر وں پر قرآن کا سایہ اور ماتھے پر محراب تھی ، ان کا قصور اتنا تھا کہ یہ افغان صوبے قندوز کے دشت آچی کے ایک مدرسے میں زیر تعلیم تھے ، ان کا قصور محض اتنا تھا کہ وہ شلواریں ٹخنوں سے اوپر باندھتے تھے اور ان کی دستار بندی ہونے والی تھی ، ان کا قصور اتنا تھا کہ انہوں نے کتاب اللہ کو اپنے سینے میں محفوظ کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ کہنے کو تو ہم بھی مسلمان اور انسان ہیں۔۔۔لیکن کیا واقعی ہم انسان ہیں۔۔۔کیا واقعی ہم مسلمان ہیں۔۔۔ اگر ہم انسان یا مسلمان ہوتے تو اس اندوہناک اور دل سوز سانحے پر اس طرح خاموش نہ بیٹھتے ، کہیں احتجاج ہوتے ، کہیں سفارتی سطح پر اس واقعے کا تذکرہ ہوتا۔۔۔ کسی عالم دین کا فتوی صادر ہوتا۔۔۔کہیں کوئی مذمت جاری ہوتی اورکہیں کوئی نادم دکھائی دیتا تو واقعے سے لاعلم امریکہ کچھ اپنی گریبان میں تو جھانکتا۔۔۔ لیکن آپ سوئیے۔۔۔سوئیے جناب۔۔۔سوتے رہیے۔۔۔ بس سوتے ہی رہئے۔۔۔معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کو جگانے کی کوشش کی۔۔۔ مگر یہ یاد رکھئے ! کہ باریوں کی اس لائن میں کل آپ کے ببلو کی بھی باری لگ سکتی ہے ۔ اس طرح کے واقعا ت طالبان کا تدارک تو شاید نہ کر پائیں لیکن مزید طالبا ن پیدا کرنے کا پیش خیمہ ضرور ہوسکتے ہیں ۔ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے اور اس کا ردعمل بھی شدید ہو سکتا ہے ۔سو اپنی غیرت ایمانی کو جگائیے اورجاگ جائیے۔۔۔ میں سچ میں جگا رہاہوں۔۔۔ ملالہ سے متعلق گزشتہ ہفتے کا میرا کالم تواپریل فول کی مناسبت سےSatire تھا جو انتباہی نوٹ نہ چھپنے کی وجہ سے ادھر کا اُدھر ہو گیا۔۔۔لیکن ابھی جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ سٹائر نہیں ہے۔۔۔ یہ کڑوے حقائق ہیں۔۔۔اہل قندوز کی فریاد آپ تک پہنچانا ایک قرض تھا۔۔۔ اور ہم بحیثیت مسلمان بالخصوص اور بحیثیت انسان بالعموم ،، قرض اور فرض کے اس بوجھ سے نظریں نہیں چرا سکتے ۔


ای پیپر