ہمارے سفارتی مورچے خالی ہیں
06 اپریل 2018 2018-04-06

پاکستان کا قومی میڈیا اور پاکستان کی قومی سیاست دونوں میں ایک قدر مشترک ہے۔ یہاں نظریہ، قابلیت یا سپیشلائزیشن نہیں چلتی۔ یہاں سارا کھیل ایشوز کا ہوتا ہے۔ کرنٹ افیئر پر سارا زور ہوتا ہے۔ جب کوئی معاملہ چل رہا ہوتا ہے تو ہر سیاستدان اور ہر کالم نگار اُس پر اپنی رائے دینا اپنا فریضہ سمجھتا ہے، یہاں تک کہ کوئی اگلا ایشو آجاتا ہے۔ پھر سارے لوگ پچھلی بحث ادھوری چھوڑ کر نئی منزل کی طرف چل پڑتے ہیں ۔ یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ عالمی سطح کے اخباروں میں سفارتکاری، سیاست، معیشت، عالمی امور، ماحولیات، صحت، تعلیم جیسے موضوعات پر لکھنے کے لیے الگ الگ ماہرین ہوتے ہیں جنہوں نے اس پر ریسرچ کی ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ ہمارے ٹاپ ٹین ایسے آل راؤنڈر ہیں کے وہ مذکورہ تمام موضوعات کے ساتھ ساتھ کرکٹ، ہاکی، فٹ بال اور کبڈی پر بھی یدطولیٰ رکھتے ہیں لہٰذا معتبر رائے وہی ہوگی جو وہ لکھیں گے۔ یہ چونکہ قومی معاملات کے trend setters ہیں لہٰذا یہ فیصلہ بھی انہی نے کرنا ہوتا ہے کہ ہفتہ رفتہ کا موضوع کیا ہے ان کا حسن کرشمہ ساز جب چاہے کالا باغ ڈیم کو زندہ کر دے اور جب چاہے آئی ایم ایف کو افسانہ بنا دے آپ کو کوئی نہیں بتائے گا کہ ڈالر کے فری فال کی وجہ 7 ارب ڈالر کی وہ قسط ہے جو ہم نے جون میں ادا کرنی ہے۔ آپ کو کوئی نہیں بتائے گا کہ وزیر اعظم 17 مارچ کے دورۂ امریکہ میں کیا کرنے گئے تھے البتہ یہ ضرور بتائیں گے کہ وہاں ان کی تلاشی لی گئی ۔ امریکی نائب صدر مائک پنس کے ساتھ وزیر اعظم کی ملاقات کے پس منظر پر مجال سے کسی نے بات کی ہو۔ اس وقت پورا پاکستان میاں نواز شریف کی نیب میں ہونے والی پیشیوں میں شریک ہے۔ انہیں لمحہ لمحہ نیب کی پیش رفت سے آگاہ کیا جا رہا ہے حالانکہ وہ ایک سابق وزیر اعظم ہیں ۔ یہ ریاستی یا سرکاری معاملہ نہیں ہے، ایک سابق سیاستدان پر مالی بدعنوانیوں کے الزامات کا معاملہ ہے۔
خارجہ تعلقات کسی بھی ملک کے لیے اہم ترین حیثیت رکھتے ہیں خصوصاً پاکستان کی موجودہ صورتحال اور اس کی سٹریٹیجک پوزیشن نے اسے اور زیادہ اہم بنا دیا ہے لیکن ہمارا میڈیا لوکل ایشوز کے پراجیکٹ میں مصروف ہے۔ قندوز میں حفاظ قرآن کی تقسیم اسناد پر افغان حکومت ،امریکہ اور نیٹو فورسز نے مل کر جو ہوائی حملہ کیا اس میں اطلاعات کے مطابق 200 لوگ مارے گئے جن میں اکثریت حافظ قرآن کی تھی۔ اس حملے کا مقصد یہ تھا کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان عنقریب ہونے والے مذاکرات میں طالبان کی پوزیشن کو کمزور کیا جا سکے۔ اب طالبان نے جوابی حملہ کے لیے کابل کا انتخاب کرنا ہے۔ طالبان نے اشرف غنی سے مذاکرات سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم غیر ملکی حملہ آوروں کے غلاموں سے بات کرنے کی بجائے براہ راست مذاکرات کریں
گے۔ طالبان کی اس اعلیٰ درجے کی سفارتی چال نے امریکیوں کے ہوش اڑا دیے ہیں ۔
خطے کی سفارتکاری کو سمجھنے کے لیے آپ کو چاروں طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر اس ہفتے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مالدیپ کے سرکاری دورے پر گئے۔ جس دن وہ وہاں سے واپس آئے اس سے اگلے دن مالدیپ کے سربراہ مملکت عبداللہ یامین نے انڈیا کی طرف سے تحفے میں ملنے والا ایڈوانس لائٹ ہیلی کاپٹر انڈیا کو واپس کرنے کا اعلان کر دیا۔ یاد رہے کہ انڈیا نے فوجی امداد کی مد میں کافی سازوسامان اور فوجی مالدیپ بھیج رکھے ہیں لیکن چونکہ مالدیپ کے سبکدوش وزیراعظم ناشید اس وقت ملک سے فرار ہو کر سری لنکا میں پناہ حاصل کئے ہوئے ہیں انہوں نے وہاں بیٹھ کر انڈیا اور امریکہ کو قائل کر لیا ہے کہ انہیں دوبارہ مالدیپ میں برسراقتدار لایا جائے جس کے بعد عبداللہ یامین نے انڈیا امریکہ اتحاد کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان اور چائنہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مالدیپ میں گوادر کے طرز پر چائنہ ایک پورٹ بھی بنا رہا ہے اور مالدیپ کو ون بیلٹ ون روڈ میں شامل کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ اس سے سارک اتحاد پر انڈیا کی اجارہ داری ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ سری لنکا اور بھوٹان پہلے ہی انڈیا کے بارے میں تحفظات کا شکار ہیں ۔ صرف بنگلہ دیش اور افغانستان دو ایسے ملک ہیں جو پاکستان دشمنی کی بنیاد پر انڈیا کی حمایت کرتے ہیں ۔
نریندر مودی کو 2019ء میں دوسری بار وزیراعظم منتخب ہونے کی خواہش ہے جس کے لیے اس نے ابھی سے اپنے ہمدرد امریکہ کے ساتھ لابنگ شروع کر دی ہے۔ لیکن کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال مودی کے لیے پریشان کن ہے۔ اب تو انڈیا کے اندر اشرافیہ میں یہ آوازیں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں کہ کشمیر کا زخم زیادہ دیر تک نہیں چلے گا یا اس کا علاج نہ کیا گیا تو یہ پورے ملک کو لے ڈوبے گا۔
امریکہ نے چونکہ مودی کو آلۂ کار بنا کر اسے پاکستان اور چائنہ کے خلاف استعمال کر کے ابھی بہت سے کام لینے ہیں لہٰذا اس نے فیصلہ کیا ہے کہ عالمی برادری کا غصہ ٹھنڈا کرنے اور انڈیا کے مسلمانوں سے 2019 کے انتخابات میں مودی کے لیے ووٹ حاصل کرنے کی خاطر یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان پائے جانے والے ڈیڈ لاک کو ختم کیا جائے امریکہ کے دفتر خارجہ میں پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری فار ساؤتھ اینڈ سنٹرل ایشیا افیئرز ایلیس ویلز اس وقت انڈیا کے دورے پر ہیں جس سے پہلے وہ افغانستان اور پاکستان کا بھی دورہ کر چکی ہیں ۔ ان کے دورے کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی امریکہ تشریف لے گئے جہاں نائب صدر مائک پنس سے ان کی ملاقات ہوئی۔ یہ وہی متنازع ملاقات ہے جس میں اپوزیشن نے اعتراض کیا تھا کے وزیراعظم کے ساتھ Note Takerکیوں نہیں تھا جو مندرجات رقم کرتا اور اس کی تفصیلات سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنائی جاتی۔ انڈین ذرائع کہتے ہیں کہ اس ملاقات میں پاکستان پر زور دیا گیا کہ انڈیا سے مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے البتہ ملالہ یوسف زئی کی اچانک پاکستان آمد کو بھی اسی ملاقات سے جوڑا جا رہا ہے جس کے تانے بانے شکیل آفریدی تک جاتے ہیں ۔ بہر حال ایلیس ویلز کی انڈیا میں سرگرمیوں کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ان کے ایجنڈے میں ریجنل ایشوز ٹاپ پر ہیں جن میں پاکستان اور افغانستان شامل ہیں ۔ ایلیس کو افغانستان معاملات کے ماہر کے طور پر جانا جاتا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ یہ چاہتے ہیں کہ 2020 جو امریکہ میں ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کی دوڑ کا آغاز ہو تو اس سے پہلے وہ افغانستان میں باراک اوبامہ کی طرح امن کا ڈھونگ رچا چکے ہوں اور اس کام کے لیے پاکستان کے ساتھ تناؤ کی موجودہ سطح کو نیچے لانا ضروری ہے۔
یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکمران پاکستان مسلم لیگ ن امریکہ کو یہ باور کرانے کی جدوجہد میں مشغول ہے کے ہمارے اوپر تو پاکستان میں سب سے بڑا پراپیگنڈا ہی یہ کیا جاتا ہے کے نواز شریف نریندر مودی کا یار ہے۔ یہ بات جہاں پاکستان کے اندر ''ن" لیگ کے لیے باعث شرمندگی ہے مگر اس تاثر کا فائدہ یہ ہے کے انڈیا اور امریکہ نواز شریف کو ہمدردی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کا یقین ہے کہ اگر ن لیگ اقتدار میں آ جائے تو ان کے ساتھ معاملات کرنا زیادہ آسان ہے۔
ایلیس ویلزجو اپنے اسلام آباد دورے کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کر چکی ہیں وہ یہ سمجھتی ہیں کہ امریکہ طالبان مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ خطے میں تناؤ کی کیفیت کا خاتمہ نہ ہو جائے۔ دوسری طرف افغان حکومت نے اکتوبر میں عام انتخابات کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا جب افغانستان کا نصف حصہ طالبان کے قبضے میں ہے۔ افغانستان میں امن کے لیے امریکہ نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔
اس طرح نریندر مودی نے سمجھ لیا ہے کہ اسے 2019ء کا انتخاب جیتنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا زہر پینا پڑے گا۔ اس میں کشمیر کی بات بھی ہو گی۔ انڈین نیشنل سکیورٹی ایڈ وائزر اجیت دوول نے ایلیس ویلز کے ساتھ حافظ سعید کے ملی مسلم لیگ کے قیام کا معاملہ بھی اٹھایا ہے کہ کس طرح لشکر طیبہ اب پاکستان میں سیاسی پارٹی بنا رہی ہے۔ اسی لیے حکومت پاکستان نے حافظ سعید کی ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کو التواء میں رکھا ہوا ہے۔
امریکہ کو جان لینا چاہیے کہ اگر افغانستان میں امن کا عمل انڈیا پاکستان تناؤ میں کمی کے بغیر ناممکن ہے تو کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر یہ تناؤ کسی صورت کم نہیں ہو گا۔ ہم میں سے ہر ایک ملکی سیاست کے پیچھے پڑا ہے جبکہ سفارتی محاذ پر ہمارے مورچے خالی ہیں ۔


ای پیپر