گردن میں سریا ۔۔۔ ترقی کے خواہشمند پولیس والے۔۔۔؟
06 اپریل 2018 2018-04-06



ہمارے ایک دوست پہ الزام ہے کہ وہ بڑا ’’مغرور‘‘ ہے اس کی گردن میں ’’ سریا ‘‘ ہے اور وہ بھی خاصا موٹا بڑے سائز کا ۔۔۔
اصل بات یہی ہے کہ آجکل گردنوں میں ’’ سریا ‘‘ عام ہے اور لوگ اس گردن کے ساتھ پھرتے ہیں محفلوں میں جاتے ہیں اور لوگوں کو بڑے فخر سے اپنی ’’ سریا ‘‘ والی گردن دکھاتے ہیں، ویسے یہ گردن گھوم نہیں سکتی ۔۔۔ وجہ آپ کو معلوم ہے ۔۔۔سنا ہے نہ ’’ سریا ‘‘ نرم ہوتا ہے نہ ہی ’’ سریا ‘‘ والی گردن ؟ ۔۔۔ تو پھر ایسی چیزوں کا انجام ۔۔۔ بلا شبہ ایسی چیزوں کو بالآخر ٹوٹ ہی جانا ہوتا ہے؟ نہ ہی ٹوٹے دلوں کا کوئی علاج ہوتا ہے اور ٹوٹی گردن تو پھر ۔۔۔ باعث عبرت ہی ہو سکتی ہے۔ اور ہمارے ہاں عبرت کا نشان ۔۔۔؟! آج خیبر پختونخوا میں پولیس والے ایک امتحان کے دوران بڑے ’’مقدار‘‘ میں نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے ۔۔۔؟! ’’مت پوچھئے‘‘ ۔۔۔یہ فیس بک والے ۔۔۔ اس قدر ’’ گردن میں سریا ‘‘ ان نام نہاد ’’دانشوروں‘‘ کی گردنوں میں آتا دیکھا ۔۔۔ کیا کہنے ۔۔۔؟ یہ وہی ہیں جنہوں نے ماسٹر ڈگری پہلے لی ۔۔۔ میٹرک بعد میں کیا۔ ہمارے دوست خالد وقار صاحب سے پچھلے دنوں میری ریڈیو پاکستان پر تفصیلی بات ہوئی اس حوالے سے کہ خبریں پڑھنے والے بظاہر اردو میں خبریں پڑھتے ہیں لیکن تلفظ پنجابی والا ہوتا ہے اُن کا ۔۔۔ جسے عوام انجوائے کرتے ہیں ۔۔۔ ’’باجیاں‘‘ تو خاص طور پر جب کسی حادثے کی تفصیلات بتا رہی ہوں تو پنجابی ملی اردو عوام کی تفنن طبع کے لیے ۔۔۔ واہ واہ کیا کہنے ۔۔۔؟
ایسے ہی ایک بہت زیادہ پڑھے لکھے حکیم صاحب کے پاس محمد حسین اپنی نیلی ٹانگ کے ساتھ گیا تو حکیم نے غصے اور پریشانی میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔’’کاٹ دو کاٹ دو ۔۔۔ اس ٹانگ کو اس کو زہر باد ہو گیا ہے؟‘‘ ٹانگ کٹ گئی۔ وہ شخص چند ماہ بعد پھر گیا دوسری ٹانگ بھی نیلی ہوئی پڑی تھی۔ حکیم نے پھر اِدھر اُدھر ٹانگ گھمائی اور حکم دیا ۔۔۔ ’’کاٹ دو ۔۔۔ کاٹ دو ۔۔۔ اس ٹانگ کو بھی زہر باد نے گھیر لیا ہے‘‘ ۔۔۔چند مہینوں بعد مریض پھر اپنی نقلی ٹانگوں کے ساتھ اسی بہت پڑھے لکھے حکیم کے پاس گیا کہ پھر سے مصنوعی ٹانگ بھی نیلی ہوئی پڑی ہے ۔۔۔؟حکیم شدید غصے میں آ گیا اور ہنسی ضبط کرتے ہوئے بولا ۔۔۔ ’’ارے بے وقوف ۔۔۔ تیری تو دھوتی کا رنگ اترتا ہے‘‘ ۔۔۔!
یہ فیس بک رنگ برنگے حکیموں سے بھرا پڑا ہے۔ یہاں پھدکتے مینڈک ہر دن اپنی اوقات سے نکل کر نئے نئے بیان جاری کرتے ہیں۔ ہر دن نئی بکواس کرتے ہیں اور شوشے چھوڑتے ہیں۔ پچھلے دنوں ان ’’جاہلوں‘‘ نے پاک فوج کے حوالے سے بھی بکواس سلسلہ شروع کیا تھا ۔۔۔ ان بے غیرتوں کو ہماری مسلح افواج کے وہ ہزاروں شہید یاد نہیں آتے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس ملک کی سلامتی کو یقینی بنایا ۔۔۔ ’’گندی بات‘‘ کرتے ہیں یہ لوگ تو دس بیس Like مل جاتے ہیں سو پچاس ان جیسے ہی Comments پاس کر ڈالتے ہیں اور عقل کا استعمال ۔۔۔ عقل کا استعمال تو ویسے بھی عام نہیں ہے۔ یا شاید بڑی عمارتوں میں اب ڈگریاں تقسیم ہوتی ہیں عقل نہیں ۔۔۔ نہ ہی شاید علم بانٹا جاتا ہے ویسے بھی علم جب بانٹا جاتا ہے تو کچھ لوگ گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں اور کچھ کی پرورش ایسی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ عقل کی بات وصول ہی نہیں کرتے ۔۔۔آجکل فیس بک کے دانشوروں پر برا وقت آیا ہوا ہے۔ وہ اپنے ہی الفاظ سے منکر ہیں اپنی ہی تحریر سے انکاری ہیں اور اپنے ہی کیے پر شرمندہ نہیں ہیں۔ جو خود کو عقل کل سمجھتا ہے وہ کب شرمندہ ہوتا ہے۔ جو غلطی تسلیم نہیں کرتا اُسے بھرے بازار رسوا ہونا پڑتا ہے ۔۔۔ ویسے ’’سر بازار‘‘ رسوا اور اُس پر ذرہ برابر بھی شرمندہ نہ ہونا ہمارے ہاں اب معمول کی بات ہے کیونکہ جب سے کمپیوٹر ہماری دسترس میں آیا ہے ہم نے اپنے رہن سہن کے ساتھ ساتھ اپنا چال چلن بھی بدل ڈالا ہے خاص طور پر ہماری نئی نسل تو اس ’’عذاب‘‘ میں پوری طرح گرفتار ہو چکی ہے ۔۔۔
میں اس سے پہلے نامور شاعر فرحت عباس شاہ کے اس دوست کا ذکر کر چکا ہوں جو میوزک ماسٹر ہی نہیں ’’موسیقی کی تاریخ‘‘ مانا جاتا ہے لوگ فیس بک اور انٹرنیٹ پر ہزاروں کی تعداد میں اس سے منسلک تھے ’’Daiser‘‘ ایک انیس سکیل کی نوکری سے ریٹائر ہوا اور فیس بک کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بن گیا ۔۔۔کسی راگ پر بات شروع کرتا تو ہزاروں لوگ اُمڈ آتے۔ ہزاروں Like کرنے والے آ جاتے ۔۔۔ اور ’’بے چارہ‘‘ ’’Daiser‘‘ غلط فہمی کا شکار من مرضی کے بیانات جاری کرتا ۔۔۔ حالانکہ سائنس دان کہتے ہیں کہ ایک خاص حد تک بلندی پر پہنچ جانے کے بعد بلند پرواز والے ’’بے قابو‘‘ ہو جاتے ہیں اور پھر خلا میں بھٹکتے رہتے ہیں؟ یہ سائنسی بات شاید فیس بک کے ’’دانشوروں‘‘ کے پلے نہ پڑے ۔۔۔؟! کیونکہ صدی کا سب سے بڑا سائنس دان برطانیہ میں شدید بیماری کی حالت میں بیسیوں سال گزار کے حال ہی میں فوت ہوا تو بہت سے ’’فیس بک دانشوروں‘‘ نے اُس پر بھی تنقید کر ڈالی حالانکہ مجھے سو فیصد یقین ہے کسی نے بھی اُس کی تھیوریاں نہ پڑھی ہوں گی نہ سنی ہوں گی ہم اُس کتاب پر تنقید کرنے میں بڑی تیزی دکھاتے ہیں جو ہم نے پڑھی ہی نہیں ہوتی ۔۔۔ ’’Daiser‘‘ بارہ بارہ گھنٹے کمپیوٹر پر لائف انجوائے کرتا، ہزاروں فیس بک ’’دانشوروں‘‘ کے گھیرے میں رہتا، خوشامدیوں کے نرغے میں ۔۔۔؟ایک دن فرحت عباس شاہ صاحب کا فون آیا ۔۔۔؟’’سنائیں ہمارے عالم فاضل نامور فنکار دوست کا کیا حال چال ہے؟ ‘‘ ۔۔۔’’ہائیں‘‘ میں نے حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھا اور شاہ جی سے پوچھا ۔۔۔’’شاہ جی ۔۔۔ آپ کا فیس بک دوست ’’Daiser‘‘ تو پندرہ بیس دن پہلے فوت ہو چکا ہے اور آپ کو خبر بھی نہیں ہوئی؟ ‘‘ ۔۔۔ایک سہ پہر میری بیوی کا فون آیا ۔۔۔ وہ پریشان تھی خوفناک انداز میں بولی ۔۔۔وہ آپ کے دوست فرحت عباس شاہ کا میوزک ماسٹر ’’Daiser‘‘ فوت ہو چکا ہے عصر کے بعد جنازہ ہے ۔۔۔ جنازے میں دو چار فیملی ممبر ہی صرف دکھائی دے رہے ہیں آپ خود بھی آ جائیں اور اپنے دوستوں کو بھی بلا لیں تا کہ اس بیچارے کا جنازہ اُٹھایا جا سکے ۔۔۔
نہ آدمی کا کوئی بھروسہ نہ زندگی کا کوئی ٹھکانہ
وفا کا بدلہ ہے بے وفائی، عجب زمانہ ہے یہ زمانہ


ای پیپر