سندھ حکومت کی کسی تجویز کو ترجیح نہیں دی جا رہی
06 اپریل 2018 2018-04-06

موجودہ اسمبلیوں کی آئینی مدت مکمل ہونے کی طرف جارہی ہے۔ متوقع انتخابات کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ دوسری جانب نئے بجٹ کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ اس موقع پر یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ گزشتہ برسوں میں کیا منصوبے بنائے گئے اور کس پر کتنا کام ہوا؟ یوں گزشتہ دس سال کی حکومتی کارکردگی بھی سامنے آرہی ہے۔ دوسری طرف سندھ کے مرکز کے ساتھ معاملات بھی سر اٹھا رہے ہیں۔

روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ سندھ کے وجود سے متعلق بعض انتہائی اہم معاملات وفاق کے نام پر ان اداروں کے پاس زیر بحث ہیں جو بظاہر وفاق کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ لیکن ان کی بحث کا رخ بتاتا ہے کہ ان کے پاس پنجاب کے حق میں فیصلہ کے علاوہ کوئی اختیار نہیں ۔ گزشتہ روز دو خبریں شایع ہوئی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ خواہ کتنی ہی چیخ و پکار کرتا رہے لیکن اس کی وفاق کے پاس کوئی اہمیت نہیں ۔ ایک خبر ایف بی آر کی جانب سے سندھ کے حصے سے 9 ارب روپے کٹوتی کرنے کے بارے میں ہے۔ خبر کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف بی آر کی جانب سے غیر قانونی طور پر کی گئی کٹوتی سے متعلق وزیراعظم کو خط لکھا جائے گا۔ اور یہ معاملہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں بھی اٹھایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ایف بی آر گزشتہ کئی برسوں سے سٹیٹ بینک کے ذریعے ود ہولڈنگ اور سیلز ٹیکس کی مد میں غیر آئینی کٹوتی کرتا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق صوبائی کنسالیڈیٹیڈ فند نکالنے کا اختیار سندھ حکومت کے پاس ہے۔ لہٰذا کسی بھی صوابدیدی اختیار کے ساتھ اس فنڈ سے رقم نکالنا غیر آئینی ہے۔

اسی طرح سے نیشنل واٹر پالیسی کے نام پر جو منصوبہ زیر عمل ہے اس میں بھی سندھ کے بنیادی مطالبات کو اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ افسران کا اجلاس طلب کر کے معاملے کے مختلف پہلوؤں پر بحث کے بعد یہ بات رکھی کہ دریائے سندھ پر ساحلی علاقے کے باشندوں کا پہلا حق تسلیم کیا جائے۔کیونکہ دریاء میں پانی نہ چھوڑنے کی وجہ سے سمندر ساحلی پٹی پر زرخیز زمین تیزی کے ساتھ نگل رہا ہے۔ جس کو آگے بڑھنے سے روکنا ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مجوزہ واٹر پالیسی میں ڈاؤن سٹریم کوٹری پانی چھوڑنے کا نکتہ لازمی طور پر شامل کیا جانا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچے کے علاقوں کا تحفظ بھی لازمی ہے۔ ہم وزیراعلیٰ کے اس مؤقف کو درست سمجھتے ہوئے اس کی حمایت کرتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت سندھ کے ان مطالبات کو نئی واٹر پالیسی کا حصہ بنانا لازمی ہے۔ اس کے بغیر مرتب کی گئی واٹر پالیسی کسی طور پر بھی مشترکہ مفادات کی عکاسی نہیں کر سکے گی۔

یہ امر مسلسل دیکھا گیا ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت سندھ کی کسی بھی تجویز کو وہ ترجیح نہیں دے رہی ہے جو وفاق کی ذمہ داری ہے۔ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرنے والی ہے، لیکن جاتے جاتے بھی اس حکومت کی پالیسیوں کا محور پنجاب سے ہٹ نہیں سکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کو چھوٹے صوبوں میں پزیرائی نہیں مل سکی ہے۔ سندھ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ کما کر دینے والا صوبہ ہے ۔ جس کو جائز حصے سے ویسے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ لیکن جو تھوڑی بہت رقم اس کے حصے میں آتی ہے اس میں بھی وفاقی ادارے کٹوتی کرتے رہتے ہیں۔ اس سے آخر سندھ کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں آج تک پنجاب کی ہٹ دھرمی ملک میں مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے سامنے دیوار بنی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے مالی اور انتظامی معاملات ہیں ان میں بھی گھپلے کرنے سے سندھ میں مایوسی بڑھے گی۔ پانی کا مسئلہ اتنا ہی اہم ہے جتنا مالی وسائل کی تقسیم کا معاملہ ۔ لہٰذا وفاقی حکومت کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ سوچنا چاہئے کہ اس کی پالیسیاں ملک کو کس طرف لے جارہی ہیں۔

روزنامہ کاوش ’’ خراب حکمرانی اور انتظام کاری کا مثالی ماڈل‘‘ کے عنوان سے اداریے میں لکھتا ہے کہ سندھ میں خراب حکمرانی کے مثالی ماڈل میں اب چار چاند لگ گئے ہیں۔ خبر ہے کہ سندھ کے 400 منصوبے ہر سال فنڈ مختص کرنے کے باوجود 2003 ء سے اب تک مکمل نہیں ہو سکے ہیں۔ 2003ء ، 2005ء، 2007ء، 2008ء اور 2010 ء میں بجٹ رکھ کر ان منصوبوں کو شروع کیا گیا تھا۔ لیکن 15 سال گزرنے کے بعد بھی یہ منصوبے مکمل نہیں ہو سکے ہیں۔ان منصوبوں میں صنعتی علاقوں کا قیام، سڑکوں کی تعمیر اور مرمت، تعلیمی اداروں کو مضبوط کرنا، ہسپتالوں میں نئے وارڈ قائم کرنا جیسے اہم منصوبے شامل تھے۔ لیکن ایک عشرے کے بعد بھی یہ منصوبے مثالی طرز حکمرانی اور مثالی انتظام کاری کا نمونہ بنے ہوئے ہیں۔

یہ منصوبے اس مدت کے دوران کیوں مکمل نہیں ہو سکے؟ محکمہ خزانہ کے قائم مقام سیکرٹری فرماتے ہیں کہ متعلقہ محکموں کے افسران میں اہلیت اور ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے یہ منصوبے مکمل نہیں ہو سکے۔ ایسا ہی سوال وزیرعلیٰ نے بھی اٹھایا ہے۔ سرکاری افسران اور عملے کی صلاحیت ایسی کیوں ہے؟ ان کی بھرتی کے وقت ایسے معیار کیوں نہیں مقرر کئے جاتے کہ ایسے افراد میرٹ پر آسکیں جو منصوبوں کووقت پر مکمل کر سکیں؟ یہ کام بھی حکومت کو ہی کرنا ہے۔ منصوبے مکمل نہ ہونے پر یہ افسران ہی ہوتے ہیں جو ایک دوسرے پر الزام لگا کر خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں۔

ظلم یہ ہے کہ عوام حکومت اور افسران کی چکی میں پس رہے ہیں۔ عوام کو سہولت نہ ملے ، اس پالیسی پر دونوں فریق متفق اور متحد ہیں۔ اگر فرداً فرداً ان سے مسائل اور ناکامیوں کا پوچھا جاتا ہے تو حکمران اور سیاستدان اس کے لئے بیورو کریسی کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ جبکہ افسران تمام ناکامیوں کا بوجھ حکمرانوں یعنی سیاستدانوں پر ڈالتے ہیں۔ عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر آنے والے نمائندے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ عوام کے ٹیکس سے تنخواہ اور دیگر سہولیات حاصل کرنے والے افسران بھی اصولی اور اخلاقی طور پر عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ بدقسمتی سے مصیبت کے مارے عوام حکمرانوں اور بیوروکریسی کے سامنے جوابدہ بنے ہوئے ہیں۔ جن کو پوچھنا ہے یا احتساب کرنا ہے وہ پوچھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ جن کو اپنے شعبے کی ناکامی اور کوتاہی پر خاموش رہنا ہے وہ مسلسل بولے جارہے ہیں۔

ان نامکمل منصوبوں کی لسٹ میں ایسے منصوبے بھی شامل ہیں جو اگر مکمل ہوتے تو سندھ کی تصویر یہ نہیں ہوتی جو آج ہے۔


ای پیپر