بلین سونامی ٹری
06 اپریل 2018 2018-04-06

چند پروجیکٹ اور منصوبے ایسے ہوتے ہیں جن کا تعلق نسلوں کی بہتری سے ہوتا ہے اور ایسے منصوبے کسی بھی سیاسی پارٹی کی طرف سے ہو ں توقابل ستائش ہو تے ہیں۔ پاکستان تحر یک انصاف اور خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بلین سونامی ٹری نامی منصوبے کا اعلان کیا، ہمیں عمران خان کے اس منصوبے کو داد دینی ہو گی۔ ہاں البتہ اس چیز کی یقین دہانی ابھی تک باقی ہے کہ واقعی ہی بلین ٹری لگائے گئے کیوں کہ ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ دراصل ما حول کے تحفظ کے حوالے سے دو چیزیں سب سے اہم ہیں۔ ایک جنگلات اور دوسرا پانی۔جنگلات اگر موجود ہوں گے تو ماحول بھی صحت مندہوگا۔ فضاکو آلودگی سے بچانے کے لیے بھی وسیع پیمانے پر جنگلات کا اگاؤ بہت ضروری ہے۔ پانی حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بارش ہے اور بارش کا براہ راست تعلق جنگلات سے ہوتاہے۔ اس لیے درخت اور نباتات کی حفاظت کے عمل کو کار ثواب (صدقہ جاریہ)نہ صرف دنیا میں بتایا گیا بلکہ آخرت میں بھی ثواب عطا کیاگیاہے تا کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ درخت لگا کرموسمی تغیرات اور پانی کی کمی سے محفوظ رہیں ۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے اور زمین کو ہم نے بچھایا اور ہم نے اس میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے اور پھر اس میں ہر قسم کی چیزیں تناسب کے ساتھ اگائیں اور ہم نے اس میں تمہاری معیشت کے سامان بھی رکھے اور ان کی معیشت کے جن کو تم روزی نہیں دیتے اور کوئی شے ایسی نہیں ہے جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں لیکن ہم ان کو معین انداز کے ساتھ اتارتے ہیں (سور ہ ا لحجر 19-21) اس لیے جنگلات کا اگانا اوران کی حفاظت کرنا ہمارے اخلاقی فریضہ کے ساتھ ساتھ مذہبی فریضہ بھی ہے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق کسی خطے کے ماحولیاتی توازن کے لیے کم از کم 10تا15فیصد علاقے کا جنگلات پر مشتمل ہونا ضروری ہے۔ ماحولیاتی توازن خطے کی آب وہوا،انسانی اور حیوا نی نشوونمااور معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور قانون کا موثر نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے قدرتی سرمایہ آج تباہی کی دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ جنگلات کی کٹائی میں حکومت کی غفلت کا اہم کردار رہا ہے۔ ٹمبر مافیا میں بھی حکومتی عہدیدار ،جنگلات کے کارندے اوربا اثر گروہ شامل ہیں۔ علاقے کے عوام عمومی طور پر معاشی مجبوریوں اور شعور کی کمی کی وجہ سے جنگلات کی تباہی کا سبب بنتے جا رہے ہیں ۔جنگلات کے قریب رہنے والے جنگلات سے توانائی حاصل کرتے ہیں کیوں کہ دوسرے ذرائع مہنگے ہیں۔ دوسرا ماحول کے اندر آلودہ مادے زیادہ مقدار،زیادہ وقت اور زیادہ رقبے میں اگر موجود ہوں تو وہ ماحول کی صحیح پوزیشن کو خراب کر تے ہیں۔ درخت چونکہ کاربن ڈائی اکسائیڈ،کاربن مونو آکسائیڈ اور دوسرے زہریلے مادوں کو جذب کرتے ہیں اس لیے درخت کی کٹائی کا نقصان کا تعلق براہ راست انسان کی زندگی سے ہے۔ اوزون جو کہ زمین کے اوپر ایک قدرتی غلاف ہے جس نے زمین کی آب ہوا کے نظام کو ڈھانپ رکھا ہے یہ زمین کو سورج کی مضر شعاعوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ اس کی بدولت زمین پر زندگی کا وجود قائم ہے اوزون آکسیجن کی ایک خاص قسم ہے جس کا کیمیائی فارمولا 03ہے اس کو وجود میں لانے کے لیے جن قدرتی عوامل کا ہاتھ ہے اس میں آسمانی بجلی کا سب سے بڑا کردار ہے جو فضا میں موجود آکسیجن کو اوزون میں تبدیل کرتی ہے یعنی 02کو 03میں تبدیل کرتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے موجودہ صنعتی اور سائنسی ایجادات اور جنگلات کی کٹائی نے اس قدرتی غلاف کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اس سے درجہ حرارت بڑھ رہاہے۔ گلیشیر ز پگھلتے جا رہے ہیں۔ جنگلات میں کمی کے باعث بارشوں کا نظام متاثر ہو رہا ہے ۔ہم جنگلات کے قیمتی سرمائے کو تباہ کر کے خودکشی کے عمل کی طرف جا رہے ہیں ، اس لیے تحریک انصاف کا بلین ٹری کا منصوبہ ایک عظیم منصوبہ ہے۔ ہاں جہاں تک خامیوں کی بات ہے تو اس میں جتنے درخت بتائے جا رہے ہیں اتنے درخت آنکھوں کی نظر سے اوجھل ہیں۔ فارسٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ کام پرائیویٹ نرسریوں کے حوالے کیا ہے اس میں سے کئی نرسریاں اتنے درخت لگانے میں ناکام رہی ہیں جتنے بتا ئے جا رہے ہیں۔ دوسرا جتنے پودے لگ چکے ہیں ان کی دیکھ بھال کاانتظام نہ ہونے کے برابر ہے ۔سب سے بڑھ کر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی انتظام نہیں جس کی وجہ سے کرپشن کے الزامات زبان پر عام ہیں۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ عوام حکومت کے ساتھ مل کر اس قیمتی قدرتی عطیے کے تحفظ اور نشونما کیلئے فوری اقدامات کریں ورنہ قدرت نے اس عالم کو عالم اسباب بنایا ہے۔ مکافات ایک قدرتی قانون ہے کہیں اس کی زد میں ہم جان بوجھ کر نہ آجائیں۔ اس کے علاوہ حکومت کو چاہیے کہ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کے ذریعے جنگلات کی اہمیت کے بارے میں عوام کے اندر شعور اجاگر کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ شجر کاری کے موسم میں یونین کونسلز اور گاؤ ں کی سطح پر عوام کی شمولیت کو یقینی بنائے اس کے علاوہ محکمہ کو اہداف دے کر اس پر چیک اینڈ بیلنس کورکھا جائے۔ بحیثیت انسان ہم آج قدم قدم پر کائناتی توازن کے بگاڑ میں مصروف ہیں لیکن اس کے بر عکس ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا تخفط کر کے اعتدال اور قدرتی ماحول میں جینے کا ہنر سیکھیں ۔بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ ایک متوازن ماحول ہی انسانی بقا ء کا محفوظ ترین راستہ ہے۔ اس لیے ہمیں محفوظ راستے کے لیے حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کو بروئے کار لانا ہو گااور زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہوں گے۔ اور حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس پروجیکٹ کے اوپر چیک اینڈ بیلنس رکھے۔ اس پروجیکٹ کی افادیت کو سا منے رکھتے ہوئے معیار کو یقینی بنائے۔


ای پیپر