ہم نبھائیں گے کہ ہم لوگ زباں والے ہیں
06 اپریل 2018 2018-04-06

تین روزہ قومی اردو کانفرنس بہت ساری یادیں چھوڑتی ہوئی اپنے اختتام کو پہنچی۔ کراچی‘ نوشہرہ‘ سندھ‘ فیصل آباد‘جہلم‘اسلام آباد‘لاہور‘سرگودھا اور گجرات سمیت پاکستان بھر سے مندوبین اس یادگار قومی کانفرنس کا حصہ بنے۔منڈی بہاؤالدین ایک پس ماندہ ضلع ہے اور ادبی حوالے سے ہمیشہ نظر انداز کیا ہوتا رہا۔کوئی بھی قومی اہلِ قلم کانفرنس ہویا کراچی اور لاہور کی عالمی کانفرنسز ‘اس ضلع سے کسی مندوب کو مدعو نہیں کیا جاتا۔مجھے اس بات کا ہمیشہ دکھ رہا اور میں نے کئی بار اکادمی کے چیئرمین سے اس بات کا اظہار بھی کیا۔بلکہ کراچی اور لاہور میں کانفرنسیں کروانے والے منتظمین سے بھی کئی بار شکوہ کیا کہ منڈی بہاؤالدین بھی ایک ذرخیز ضلع ہے اور ادب کی پرورش میں اس ضلع نے بھی ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا۔اس کی سب سے بڑی مثال ’’صوفی ‘‘میگزین ہے ۔مجلہ ’’صوفی ‘‘نے صوفیائے کرام
کی تمدنی و معاشرتی خدمات اور سرگرمیوں کو شد و مد کے ساتھ پیش کر کے مسلمانوں کے سامنے تصوف کی ایسی تصویر پیش کی جو رہبانیت سے کوسوں دور تھی۔صرف یہی نہیں ’’صوفی‘‘ نے تصوف کے صحت مند نظری مباحث کو مسلمانوں کے سامنے پیش کیا اور ان جعلی پیروں فقیروں کی قلعی کھول کر رکھ دی جو تصوف اور اہل تصوف کے لیے بد نما داغ کا رتبہ رکھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ صوفی کی تحریروں میں جہاں اسلام کا پرچار ہوا وہیں ہمیں ہندو ازم پر بھی تفصیل کے ساتھ اخلاقی تحریریں ملتی ہیں ۔ ’’صوفی‘‘نے ہر پلیٹ فارم پرجہاں ہندوؤں اور انگریزوں کی چالوں کا پردہ فاش کیا وہیں مسلمانوں کو نہ صرف حوصلہ دیا بلکہ ان کی قدم قدم پر رہنمائی کی۔یہی نہیں بلکہ ’’صوفی‘‘نے مقامی سطح پر پنڈی بہاء الدین اور منڈی بہاء الدین کے علاقے میں مسلم تشخص کو اجاگر کرنا بھی اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور مدرسے ،سکول، مساجد بنانے کے لیے وقتا فوقتا چندے کھولے اور علاقے میں مسلم اقلیت کے لیے ناممکن کام کر دکھائے ۔اگر ’’صوفی‘‘میں لکھنے والوں کی بات کریں تو پہلے ہی شمارے میں مدیر’’ صوفی ‘‘نے برصغیر کے اچھے لکھنے والوں کو اکٹھا کر لیا مثلاً سرور جہاں آبادی‘اکبر الٰہ آبادی‘منشی و نائک پرشاد طالب بنارسی‘سوامی رام تیرتھ اور علامہ اقبال کے نام پہلے شمارے کے قلمی معاونین میں شامل ہیں ۔پھر ۱۹۱۷ء میں ایسا وقت تھا کہ ’’صوفی‘‘ پنجاب کی تمام زبانوں کے اخبارات و رسائل میں تیسرے نمبر پر اور مسلم صحافت کے اخبارات و رسائل میں پہلے نمبر پر تھا گویا مسلم صحافت کے افق پر اس کا کوئی ثانی نہیں تھا‘اسی بنا پر مختلف اوقات میں خواجہ حسن نظامی اور علامہ اقبال نے اپنے خطوط میں اس رسالہ کو ’’قلم الفقراء‘‘ کا خطاب دیا جو میگزین کے ٹائٹل پر لکھا گیا۔ماہنامہ ’’صوفی‘‘کو اپنی اشاعت کے طویل دور میں برصغیر کے نامور شعراء‘مصنفین و محققین کی معاونت حاصل رہی ان میں اکبر الٰہ آبادی‘ الطاف حسین حالی‘نیاز فتح پوری‘سید سلمان ندوی‘غلام قادر گرامی‘سیماب اکبر آبادی‘عبدالحلیم شرر‘نوح ناروی‘ قاضی حمید الدین‘اختر جوناگڑھی‘ناصر نذیر ‘فراق دہلوی‘خواجہ حسن نظامی‘علامہ اقبال‘میر ولی اللہ‘مولانا ظفر علی خان‘عبد الحی فاروقی‘ جوش ملیح آبادی‘حکیم احمد شجاع‘مولانا حسرت موہانی‘احمد ندیم قاسمی‘سید جماعت علی شاہ‘ مو لانا عبد السلام ندوی‘مولانا ابوالکلام آزاد‘مولانا اشرف علی تھانوی‘منشی تلوک چند مرحوم‘غلام احمد پرویز‘ مولانا عبد المجید سالک‘سید عابد علی عابد‘یوسف سلیم چشتی‘محمد دین تاثیر‘عبد الماجد دریا آبادی‘حجاب امتیاز علی اور مولانا ابوالحسن ندوی وغیرہ کے نام نمایاں ہیں ۔جس مجلے کو خوش قسمتی سے ایسے مصنفین کا تعاون حاصل ہو اس کی کامیابی مسلم ہے۔وہ بام عروج حاصل کیے بغیر نہیں رہ سکتا بس یہی وجہ ہے کہ صوفی کے زیر اثر جو نسل تیار ہوئی اس نے منڈی بہاؤالدین کی ادبی فضا کو مزید تقویت بخشی اور اسے معطر کیا۔(اس حوالے سے صبغہ فاروق نامی طالبہ کا ایم فل کی سطح کا مقالہ’’علامہ اقبال اور مجلہ صوفی‘‘اور آسیہ جبیں نامی طالبہ کا ایم فل کا مقالہ’’منڈی بہاؤالدین کی مزاحمتی شاعری ‘‘دیکھا جا سکتا ہے) ۔
اس بات کا میرے دل میں ہمیشہ افسوس رہا کہ اس شہر کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔نیشنل بک فاؤنڈیشن ہو یا اکادمی ادبیات‘یہاں سے کسی ادیب یا شاعر کو کبھی بھی واضح نمائندگی نہیں ملی۔پچھلے چند سالوں سے مجھے کئی کانفرنسوں میں مدعو تو کیا گیا مگر مجھے اپنے شہر کو ادبی پہچان دینی تھی سو اردو کانفرنسوں کا سلسلہ شروع کیا۔حالیہ کانفرنس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جسے ادبی دنیا کی طرف سے بھرپور پذیرائی نصیب ہوئی۔ڈاکٹر ناصر عباس نیر‘ڈاکٹر زاہد منیر عامر سمیت علمی و ادبی دنیا کے نامور محققین اور ادیبوں کی موجودگی نے اس کانفرنس کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔انتظامی امور میں کافی کمیاں رہ گئیں جن کا مجھے شدید رنج ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کمیوں کو دور کیا جائے گا۔میری ٹیم نے دن رات کی کوششوں سے اتنے بڑے پروگرام کو یادگار بنایا۔منڈی بہاؤالدین جیسے پس ماندہ ضلع میں سامعین کی تعداد کم ضرور تھی مگر پھر بھی حیران کن رہی جس پر مجھے خوشی ہے۔دکھ تو تب ہوا جب اد ب کے فروغ کا شور ڈالنے والے میرے اپنے ہی احباب کمٹمنٹ کے باوجود منڈی بہاؤالدین کے لیے وقت نہ نکال سکے مگر چلو اچھا ہوا کچھ لوگ تو پہچانے گئے۔ایسے لوگ وہاں جانا ضروری سمجھتے
ہیں جہاں سے اعزازیہ زیادہ ملے یا پھر ہزارو ں لوگ سننے والے ہوں حالانکہ ایسا آج تک نہیں ہوا۔میں ان تمام دوستوں کا ممنوں ہوں جنہوں نے اس کانفرنس کو کامیاب بنانے میں ایک فیصد بھی میرا ساتھ دیا‘ان تمام احباب کی معاونت کے بغیریہ کانفرنس کبھی بھی کامیاب نہ ہو پاتی۔منڈی بہاؤالدین کو ہم ادبی لحاظ سے ’’نیشنل پٹی‘‘پر لانے کے لیے یہ کوششیں جاری رہیں گی اورانشاء اللہ یہ کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور دوستوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں گی۔باقی جہاں تک سوال مندوبین اور حاضرین کی شرکت کاہے تو اس سے ہمارے حوصلے کبھی پست نہیں ہوں گے کیوں کہ ہمارا مقصد بڑا ہے۔ ہم اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے اپنے ضلع کی طرف سے حصہ ڈالنا چاہتے ہیں سو ہم کوشش کرتے رہیں گے کیونکہ مالی کا کام پانی دینا ہے‘پھل لگانا اوپر والے کا کام ہے۔میری ٹیم گزشتہ پانچ سال سے اردو کے فروغ کا کام اس پس ماندہ ضلع میں کر رہی ہے تاکہ ہم اس مرتی ہوئی زبان کو زندہ کر سکیں جس پر وہ خراج تحسین کی مستحق ہے۔بقول شاعر
مالی دا کم پانی دینا ‘بھر بھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پھل پھل لانا‘او لاوے یا نہ لاوے


ای پیپر