دکھ بولتے ہیں
06 اپریل 2018

میں نے پوچھا ! با با جی جب پاکستان بنا تو آپ کی عمر کتنی تھی۔ با با جی کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک آ گئی۔ چہرے پر ایک بشاشت جگمگا اٹھی۔ لبوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ ساتھ ہی خوشی کے آنسو خوبصورت آنکھوں میں رقص کرنے لگ گئے۔ ماضی کی ایک ایک یاد نے کروٹ لینی شروع کر دی۔ کئی خزائیں اور کئی بہاریں ذہن کے نہاں خانوں میں جنم لینے لگیں۔ کچھ دیر بعد سکوت ٹوٹا اور با با جی بولے اس وقت میں آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ میں پھر بولا۔ با با جی آپ تو اس وقت بارہ سال کے لگ بھگ کے ہونگے۔ بولے نہیں بیٹا میں چودہ سال کا گبھرو جوان تھا۔ مجھے ہر طرح کی سوچ، سمجھ اور سوجھ بوجھ تھی۔ میں اکیلا کافی سارے مال ڈنگروں کو سنبھال لیتا تھا۔ رات کو اکیلا کھیتوں کو بھی
سراب کر لیتا تھا۔ اس وقت بچے کافی بڑے ہو کر سکول جاتے تھے اور والدین کا مکمل ہاتھ بٹاتے تھے۔ میرے دل میں عجیب سی درد کی ٹیس اٹھی اور تمام طرح کے سوالات ابھر کر ذہن سے باہر نکلنے لگے۔ میں یونہی سوالوں کی ترتیب لگانے لگا۔ ایک ایک سوال با با جی سے پوچھتا جاتا تو میرے اندر کا درد بڑھتا جاتا اور ایسے محسوس ہونے لگتا جیسے آج میرا دل پھٹ جائے گا یا کلیجہ منہ کے راستے باہر نکل آئے گا۔ با با جی نے بتایا کہ جب اجاڑے پڑے (یعنی جب پاکستان بنا) تو وہ ہولناک مناظر اور خون کی نہریں جب سامنے آتی ہیں تو آنکھیں دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں ۔ با با جی بتانے لگے کہ جب مناوی ہوئی کہ پاکستان بن گیا ہے تو ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔ چلو اپنا ملک ہو گا۔۔۔ اپنا وطن ہو گا۔۔۔ اپنی دھرتی ہو گی۔ نہ مذہب کا مسئلہ ہو گا اور نہ ہی گاؤ ماتا کا ٹنٹنا بجے گا۔ اپنے لوگ ہونگے اپنا درد سب کا درد ہوگا۔ اپنا دکھ سب کا دکھ ہو گا۔ پیار محبت انس جیسی جنس ارزاں ہو گی۔ نفرت کے بیج کی آبیاری کہیں بھی نہ ہو گی۔ ان تمام محبتوں کی گٹھری سر پر رکھ کر گھر سے نکلے ہی تھے کہ جو دوست تھے وہ دشمن ہو گئے۔ جن سے سر کی پگڑیاں سانجھی تھیں وہ سر کے دشمن ہو گئے اور جن سے عزتیں سانجھی تھیں وہ ہماری عزتوں کے درپے ہو گئے۔ قتل و غارت کی وہ ہولی مچی کے ساون بھادوں کا برساتی موسم تھا اور ہم نے اپنی آنکھوں سے ندی نالوں اور نہروں میں پانی کی جگہ خون بہتے دیکھا۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے ننھے بچوں کی گردنیں کٹتی دیکھیں۔ ہم نے کربلا کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ہم نے اپنی عورتوں کی عزتیں تار تار ہوتی دیکھیں۔ برہنہ سروں پر دوپٹہ دینے کے لیے میسر نہ تھا۔ پاؤں میں جوتیاں نہ تھیں۔ شام غریباں سے کم منظر نہ تھا۔ پیاس بھوک بیماری نے ایسے ڈیرے ڈالے کہ ہزاروں افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ اور ہزاروں کی تعداد میں بیماری کی حالت میں اس ملک عزیز میں آئے۔ با با جی بولے پُتر! چالیس لاکھ سے زیادہ لوگ تھے جنہوں نے اس وقت ہجرت کی اور دس سے پندرہ لاکھ کے قریب لوگ اس پاک دھرتی پر پہنچنے سے پہلے اور اس دھرتی کا منہ دیکھنے سے پہلے نا حق مارے گئے۔ اور آج ہم ملک کو سمبھالتے سمبھالتے نحیف ہو گئے ہیں ۔۔۔ کمزور ہو گئے ہیں ۔۔۔ بے بس ہو گئے ہیں ۔ پھر با با جی اونچی اونچی آواز میں بین کرنے لگے اور ساتھ درد بھری آواز میں گانے لگے۔
ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے
توں لبھدی پھرے بازار کڑے
اس سے پہلے کہ میں اپنا سر پھوڑ لیتا یا پھر اپنا گریبان تار تار کر لیتا۔ یہ سب کچھ نہ کرتا تو کم از کم اپنا جسم ضرور نوچ لیتا۔ میں نے با با جی کو گلے لگایا۔ دلاسہ دیا اور پوچھا کہ آپ اس قدر دُکھی کیوں ہیں ؟ آپ اس قدر مایوس کیوں ہیں ؟ آپ کیوں زاروقطار رو رہے ہیں ۔ بولے حفیظ جالندھری نے کہا تھا کہ
چلتے پھرتے مردوں سے ملاقاتیں ہیں
زندگی کشف و کرامات نظر آتی ہے۔
بولے۔ میرا دل جلتا ہے۔ میرا دل کڑھتا ہے۔ جب سنتا ہوں کہ فلاں جگہ بچی سے زیادتی کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ تمہی بتاؤ اب ان درندوں میں اور اُن درندوں میں کیا فرق ہے؟ انہوں نے بھی تو ہمارے ساتھ ایسا ہی کیا تھا۔ میں مر جاتا ہوں جب سنتا ہوں کہ فلاں شخص کو ناحق قتل کر دیا گیا۔ بتاؤ ناحق قتل سکھوں نے ہمیں نہیں کیا۔ کیا فرق ہے سکھوں میں اور ان لوگوں میں؟ میں سکون کی نیند نہیں سوتا۔ جب مجھے پتا چلتا ہے کہ تمام حکمرانوں نے کرپشن کی۔ تمام حکمرانوں نے ملک کو لوٹا۔ کیا انہوں نے ہمیں نہیں لوٹا تھا؟ جب ہم نے ہجرت کی تھی انہوں نے ہمارے گھروں جائیدادوں اور زمینوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ میں تڑپ اٹھتا ہوں جب مجھے پتا چلتا ہے کہ مسافروں کو رہزنوں نے لوٹ لیا۔ انہوں نے ہماری دولت نہیں چھینی تھی۔ میں گھر سے باہر نکل جاتا ہوں جب مجھے پتا چلتا ہے کہ ہمارے ہی بھائی ہمیں گدھے اور کتے کا گوشت کھلاتے
ہیں ۔ ہمارے اپنے ہی مردار جانوروں کی انتڑیوں سے آئل بنا کر ہمیں کھلاتے ہیں ۔ لکڑی کے بورے کو رنگ دے کر ہلدی اور سرخ مرچ بنائی جاتی ہے۔ مختلف زہریلے کیمیکل سے دودھ بنایا جاتا ہے۔ مٹی کا تیل ہمیشہ اس لیے مہنگا کرتے کہ وہ ہم لوگ ڈیزل اور پٹرول میں نہ ڈال لیں۔ ہم خربوزوں میں سکرین کا ٹیکہ لگاتے ہیں تا کہ وہ میٹھے ہو جائیں۔ ہم چور بازاری میں اس قدر ماہر ہو چکے ہیں کہ سارے سال کا منافع صرف ماہ رمضان میں حاصل کر لیتے ہیں ۔ ہم اس قدر فراڈیے ہو چکے ہیں کہ ایک مارک کے کئی کئی نمبر بنا لیتے ہیں ۔ ہم اس قدر شاطر ہو چکے ہیں کہ دو نمبر چیزوں کو ملمع سازی سے ایک نمبر بنا کر فروخت کر دیتے ہیں ۔ ہم اس قدر گھٹیا ہو چکے ہیں کہ ادویات میں بے حد ملاوٹ کرتے ہیں ۔ تاکہ مرنے والا سسک سسک کر مر جائے کیونکہ ہم نے تو مرنا ہی نہیں ہے۔ ہم نے تو ہمیشہ اس دنیا میں رہنا ہے حالانکہ نبی ؐ نے فرمایا : ’جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں‘۔ اب آپ ہی بتاؤ کہ وہ کونسی ملاوٹ ہے جو ہم نہیں کر رہے ۔ کیا ہم دھوکے باز، مکار، جھوٹے، دغاباز، قاتل اور مغرور قوم نہیں ہیں ۔ کیا ہم گھٹیا اور ذلیل لوگ نہیں ہیں ؟ بتائیے! بتائیے کہ کونسا محکمہ ایسا ہے جو پوری ایمانداری، دیانتداری اور ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر چل رہا ہو؟ کونسا محکمہ ایسا ہے جس میں مالی کرپشن نہیں ہے۔ ہم تو اخلاقی اور جسمانی کرپشن کی حدوں کو بھی عبور کر چکے ہیں ۔ میرے پاس ان تمام سوالوں میں سے کسی ایک کا جواب بھی نہیں تھا۔ میں بہت شرمندہ تھا۔ میرا سر شرم سے جھکا ہوا تھا۔ بابا جی بولے بیٹا جاؤ ہمارے اندر دکھ بولتے ہیں ۔ آپ کو اور آپ کے حکمرانوں کو یہ ملک بنا بنایا اور بغیر قربانیاں دیئے مل گیا ہے۔ تمہیں اس کی کیا قدر ہے؟ مگر یاد رکھو ایک دن تمہاری کسی نسل کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ بھگتنا پڑے گا۔ جاؤ ہمارے اندر دکھ بولتے ہیں ۔ بابا جی یہ الفاظ دہراتے دہراتے دور نظروں سے اوجھل ہو گئے اور میں گھنٹوں سر جھکا کر سوچتا رہا۔ آخر میرے لاشعور سے بھی آواز نکلی دکھ بولتے ہیں ۔۔۔ دکھ بولتے ہیں ۔


ای پیپر