یوم یکجہتی کشمیر،وفاقی کابینہ کا مستحسن فیصلہ
06 اپریل 2018 2018-04-06

1948ء میں قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی دور اندیشی کا مظاہر ہ کرتے اور کشمیر کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے وادی جنت نظیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔شہ رگ کا مطلب ہے پاکستان اس کشمیر کے بغیر مردہ جسم کی مانند ہے۔اس سے دستبردار ہو نے کا سوال ہی پید ا نہیں ہو تا۔ ہندوستان کے حکمراں پاکستان کو تر نوالہ سمجھتے ہیں۔ ان کے حوصلوں میں اس وقت جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا ، پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا تھا ۔مگر اس کے باوجود بر صغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ انڈین ایک بزدل قوم ہے اور مکاری سے وار کرنا ان کا وتیرہ ہے۔ 1971ء میں بھی ہندوستان نے ایسی ہی شرمناک حرکت کی تھی ۔برصغیر کی تقسیم دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہو ئی کیونکہ صدیوں اکٹھا رہنے کے باوجود ہندو اور مسلمان اپنی الگ الگ شناخت رکھتے تھے ۔ہندوستان کی تقسیم ہندوؤں کا کبھی مطالبہ نہیں

رہی بلکہ وہ تو بس انگریزوں سے آزادی کا نعرہ لگا رہے تھے مگر مسلمان نہ صرف انگریزوں سے آزادی چاہتے تھے بلکہ وہ ہندوؤں کے تسلط کو بھی قبول کرنے کو تیا ر نہیں تھے ۔ اس لئے الگ ملک کا قیام مسلمانوں کا اولین مطالبہ تھا ۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی بھارت کھلے دل سے پاکستان کے وجود کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے بد ترین ریاستی دہشت گردی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے 20افراد کو شہید کر دیا گیا تھا جس پر پورے پاکستان میں نہ صرف اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی بلکہ وفاقی کابینہ نے آج جمعتہ المبارک کے دن پور ے ملک میں ’’ یوم یکجہتی کشمیر‘‘ منانے کا بھی اعلان کر رکھا ہے ۔جو کہ بلاشبہ ایک خوش آئند اقدام ہے مگر اتنا ہی کافی نہیں ہے ۔ضرورت ا س امر کی ہے کہ پاکستان کی حکومت حقیقی معنوں میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے اقوام متحدہ میں منظور ہونے والی قراردادوں کے مطابق حل نکالنے کے لئے عالمی براداری پر دباؤ ڈالے اور مجبور کیا جائے کہ بھارت کی بے لگام حکومت کشمیریوں کو اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق دے ۔ گزشتہ70برسوں میں بھارت نے ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔ 5054937زخمی 226449گرفتار، 10314لاپتہ،7038حراستی قتل، چالیس ہزار ہجرت پر مجبور ،10167خواتین کی اجتماعی بے حرمتی کے واقعات ،22778بیوگان، 107545بچے یتیم ہو گئے ہیں۔اب تک 106051 مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔جو کہ ہندوستان کے مظالم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ ظلم رکا نہیں بلکہ مودی سرکار نے تما م سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ اب بھی مقبوضہ کشمیر میں چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو رہا ہے اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔خواتین کی بے حرمتی کے واقعات اور اجتماعی قبروں کے انکشافات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ بھارتی حکومت اور بھارتی میڈیا کی جانب سے ایک طرف تو پاکستان کے ساتھ دوستی،محبت اور تجارت کا ڈھونگ رچایا جارہا ہے تودوسری جانب بھارت مکروفریب، دھونس اور دھمکیوں سے کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کے لئے عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرکے دنیاکی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ہر گزرتے دن کے ساتھ ان پر تشدد کارروایؤں میں اضافہ تشویشناک امر ہے ۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، یہ کسی بھی صورت میں بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ۔ کشمیر سے بہنے والے دریاؤں کا رخ پاکستان کی طرف ہے ۔وہاں سے نکلنے والے تمام دریا پاکستان کی سر زمین کو سیراب کرتے ہیں ۔کشمیر کے تین کروڑ عوام بھارت کو ایک قا بض کے سوا کچھ نہیں سمجھتے ۔ الحاق پاکستان کے لئے وہ اپنی نسلیں قربان کر رہے ہیں۔آج بھی کشمیری شہدأ کا پاکستانی پرچموں میں دفن کیا جانا اپنے لئے کسی ا عزاز سے کم نہیں تصور کرتے ۔ وادی میں ہند وستان اپنی آٹھ لاکھ فوج رکھنے کے باوجود کشمیری عوام کا جذبہ حریت کو ختم نہیں کر سکا ۔اور وہ اگلے ہزار سال میں بھی اپنے نا پاک عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکے گا ۔در حقیقت بھارت اپنے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے نریندری مودی حکومت دوٹوک الفاظ میں اقتصادی راہداری پر تشویش کااظہار کر چکی ہے۔ ہندوستان کوپاکستان میں اتنی بڑی بیرونی سرمایہ کاری کاہوناہضم نہیں ہورہا۔یہی وجہ ہے کہ وہ سرحدوں پرحملے

کے ساتھ ساتھ اہم تنصیبات پر بھی حملے کررہا ہے۔عالمی برادری انڈیاکے جارحانہ عزائم کانوٹس لے۔ بلااشتعال گولہ باری اور پاکستان میں تخریب کاری کے واقعات نے بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کردیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک بھارت کو اس کی جارحیت اورہٹ دھرمی کامنہ توڑ جواب نہیں دیاجائے گا وہ باز آنے والا نہیں ہے۔ ناپاک عزائم خاک میں ملانے کے لئے سیاسی وعسکری قیادت بھارت کے خلاف سخت کارروائی کرے ،پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ المیہ تو اس بات کا ہے کہ روایتی کے بعد اب کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی خبریں بھی میڈیا میں گردش کر رہی ہیں ۔اس کی زد میں آنے والے فر د کی لاش کو شناخت کرنا بھی ممکن نہیں رہتا ۔مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام ،مانیں، بہنیں،بچے ،بوڑھے اس وقت بھارت کی جانب سے ہونے والے بد ترین مظالم کی زد میں ہیں۔


ای پیپر