’’سدا بہار تحریریں‘‘ اور ’’بہترین کالم ‘‘
06 اپریل 2018



ایک بہت ہی مشہور مقولہ ہے ریڈرز ہی لیڈرز ہوتے ہیں۔یہ جملہ کتابوں کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔انٹرنیٹ کی وجہ سے لوگوں کے پاس اب کتا ب پڑھنے کا وقت نہیں رہا،حالانکہ انسانی شعور کے ارتقاء میں کتابوں نے ہی مرکزی کردار اد ا کیا ہے ۔دنیا جب لکھنے کے فن سے آشنا ہوئی تو شروع میں درختوں کے پتوں،چمڑے اور پتھروں پر الفاظ کشید کر کے کتابیں لکھنے کا کا م شروع کیاگیا،جیسے ہی انسانی تہذیب نے ترقی کی ویسے ہی کتاب نے بھی ارتقاء کی منزلیں طے کرنا شروع کر دیں،درختوں کی چھال سے لے کر پرنٹنگ پریس اور پھر ای بکس تک کا سفرجاری ہے۔
ضیا شاہد لفظوں کا ا یسا جادو گر ہے کہ وہ اپنے جادوئی قلم سے لکھتا جاتا ہے اور خوب لکھتا ہے پڑھنے والا حیران ہوجاتا ہے اسے یقین ہی نہیں ہوتا کہ یہ ضیاشاہد نے ہی لکھا ہے ، قاری ان کی تحریر وں کو پڑھتے ہوئے کہیں دور کھو جاتا ہے کہ ایک درد دل رکھنے والا ایک عظیم انسان، غریبوں ،بے سہاروں کا مسیحا ،لوگ بھی اپنے محسن کو نہیں بھولتے اور ضیا شاہد کو ہاتھ اٹھا کر دعائیں دیتے ہیں کہ اگرآج ضیا شاہد اور اس کے ادارے والے نہ ہوتے تو ہمارا کیا بنتا ،جب ہمارے مقامی ایم پی اے اور ایم این اے سمیت سیاست دان بھی ہماری مدد نہ کر سکے ،تو ہماری مدد کے لئے اللہ نے ایک فرشتہ نما انسان کو بھیج دیا ،جس کی بدولت ہمیں انصاف تک رسائی ممکن ہوئی۔ضیا شاہد ایک بہترین قلم کار،دانش ور بھی ہیں ایک معتبر ادارے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ساری کتابوں کے مصنف بھی ہیں ، ان کی شائع ہونے والی تازہ ترین کتابوں،باتیں سیاستدانوں کی،قلم چہرے،گاندھی کے چیلے اورامی جان کی پاکستان سمیت پوری دنیا میں دھوم مچی ہوئی ہے ۔ ان کی زیادہ تر کتب کے دوسرے اور تیسرے ایڈیشن بھی شائع ہوچکے ہیں ،صحافتی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں یوں کہہ لیں کہ وہ ہر فن مولا ہیں۔ سیاست سے صحافت تک،پاکستان سے لے کر دنیا تک،ہرشعبہ زندگی کے حوالے سے انہوں نے خوب لکھا جو اپنی آنکھوں سے دیکھا ،زمین سے لیکر آسمان تک جتنے بھی رنگ دیکھے ،ان رنگوں کو لفظوں کا پیرہن پہنا کر قرطاس پر بکھیر دیا۔
چند روز قبل ضیا شاہد کی مزید دو نئی کتابیں شائع ہوئیں ،جن میں ایک کتاب کانام میری سدا بہار تحریریں اور دوسری کا نام میرے بہترین کالم ، دونوں کتابیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ،ان میں حقیقت پر مبنی کالم ،تجزیوں اور تحریر وں کو سمو دیا گیا کہ جب بھی قاری اسے پڑھے گا تو اسے سدا بہار تحریریں اور سدا بہار کالم ہی لگیں گے ویسے آپس کی بات ہے ہم جیسے صحافت ، کالم نویسی کے طفل مکتب طالب علموں کے لئے کسی نایاب تحفے سے کم نہیں ہیں ،تحفے سے یا د آیا کہ راقم الحروف کو یہ دونوں کتابیں محترم ضیا شاہد صاحب نے بطور تحفہ بھیجی ہیں اور ان کتابوں کا مجھ ناچیز تک پہنچنے کا سہرا محترم علامہ عبدالستار عاصم کے سر جاتا ہے جو اتنی محبت اور چاہت کے ساتھ اپنے ادارے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے تحت شائع ہونے والی ہر نئی کتاب کو بطور تحفہ بجھواتے ہیں جس پر میں ان کا انتہائی شکر گزار ہوں ۔اب بات کرتے ہیں ان کی کتابوں پر ،دونوں کمال کی لاجواب کتابیں ہیں ،وہ اس طرح کہ ان کی ہر تحریر میں کوئی نا کوئی عوامی مسئلہ اجاگر ہوتا ہے ،کسی سماجی ایشو پر بات ہوتی ہے ،کسی سیاسی موضوع کو کالم کا حصہ بنایا ہوتا ہے ،کسی غریب کے دکھ پر مرہم لگا کر اس کے درد کا مداو اکیا جاتا ہے ، ضیا شاہد کو دور حاضر میں عوام کا مسیحا کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ ضیا شاہد ہی سب سے پہلے آگے بڑھ کر عوامی مسائل کو اپنے قلم سے اجاگر کرتے ہیں اور جب تک حکام بالا اس کو حل نہیں کرتے تب تک انہیں چین نہیں آتا ۔ ضیا شاہد کا دوسرا نام روشنی ہے اور وہ اپنی روشنی تقسیم کرتے چلے جارہے ہیں،اپنی تحریروں میں ،اپنے کالموں میں ، اپنی کتابوں میں لفظوں کی صورت میں روشنی در روشنی پھیلاتے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں ۔
ضیا شاہد کی دونوں کتابیں صحافت سے وابستہ افراد اور صحافت کے طالب علموں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوں گی کیونکہ ان کی تحریروں اور کالموں میں معلومات کا ایک سمندر موجود ہے جس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ، ان کی تحریریں اور کالم عوامی مسائل اور مشکلات کی ترجمانی کرتے اور ان مسائل اور مشکلات کے حل کے لئے حکمرانوں کوآئینہ دکھاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ضیا شاہد خود ہی کہتے ہیں کہ انسان کو ہمیشہ سچ کے ساتھ سچائی کے راستے پر چلنا چائیے جس میں بے شمار رکاوٹیں،مصیبتیں اور قید وبند کی صعوبتیں بھی جھیلنا پڑتی ہیں،اللہ سچ اور سچائی کے ساتھ ہوتا ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہو وہ ہمیشہ کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوتا ہے اورمیری کامیاب زندگی کا راز سچ بولنا اور سچائی کے رستہ پر چلنا ہے ۔
ضیا شاہد علم کا سمندر رکھتے ہیں ،حکومت کو چائیے کہ ان کی علمی خزانہ سے بھر پور تمام کتابوں کو ملک بھر کی لائبریریوں کا حصہ بنایا جائے اوران کی علمی و ادبی کاوشوں کو نصاب کا حصہ بنا کر آنے والی نسل تک پہنچایا جائے ،ویسے بھی ہماری آج کی نوجوان نسل کتاب سے دور ہو رہی ہے،موبائل، انٹرنیٹ،سوشل میڈیا نے کوسوں دور پہنچادیا ہے،کتب بینی کا رواج ختم ہوتا جارہا ہے مگر آج کے تیز ترین دور میں کتاب دوستی کا دور ابھی زندہ ہے۔


ای پیپر