ملک میں کسی قسم کی خرابی نہیں چاہتے : میاں نواز شریف
06 اپریل 2018 (14:12)


اسلام آباد: سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں کسی قسم کی خرابی نہیں چاہتے ، پاکستان میں خوشحالی کا سفر چلتا دیکھنا چاہتے ہیں، کبھی اپنے موقف سے ہٹے نہ یوٹرن لیا، این اے 120میں ہمارے لوگوں کو اٹھایا گیا، اگر انہوں نے کرپشن کی ہوتی تو آج محمود خان اچکزئی اور میر حاصل بزنجو ان کے ساتھ کھڑے نہ ہوتے، سمجھ نہیں آتی سپریم کورٹ نے مجھے نااہل کیوں کیا، دیکھ لیتے ہیں فیصلے سے کیا جزا اور سزا نکلتی ہے، اس طرح کے فیصلوں کے اثرات اچھے نہیں ہوتے، گذشتہ روز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے جو باتیں کہی ہیں وہ باتیں بالکل صحیح ہیں، ہم ان باتوں کی حمایت کرتے ہیں، ہم انتخابات کسی قیمت پر ملتوی نہیں ہونے دینگے، میں بار بار کہہ چکا ہوں کیس کے اوپن ٹرائل ہونا چاہئے۔


میاں نواز شریف نے احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس طرح سے ملک کو چلانے کی کوشش کی جائے گی تو ملک نہیں چلے گا یہ ملک ہم سب کا ہے یہ کسی ایک مخصوص طبقہ کا ملک نہیں ہے اور سب صوبوں کا مشترکہ اور متحدہ ملک ہے صرف ایک صوبہ کی اس میں اجارہ داری نہیں ۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے جو باتیں کہی ہیں وہ باتیں بالکل صحیح ہیں۔ہم ان باتوں کی حمایت کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کو یہ بھی اہتمام کرنا چاہیے کہ سب کے لیے برابر مواقع ہونے چاہیں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو معیار سب کے لیے برابر ہو میدان سب کے لیے کھلا ہو یہ نہیں کہ کسی کے ہاتھ باندھ دیئے جائیں اور کسی کو کھلا میدان دے دیا جائے جو مرضی کرے مجھے تو بیٹے سے تنخواہ لینے یا نہ لینے پر نااہل کر دیا۔عمران خان سب کچھ مان گیا اس نے اقبال جرم کیا لیکن اس کے خلاف کوئی سزا نہیں ہے بلکہ اس کو رعایت کے اوپر رعایت دی جا رہی ہے یہ کیا چیز ہے یہ لیول پیلنگ فیلڈ نہیں ہے آپ کسی کے ہاتھ باندھ رہے ہیں اور کسی کو آپ کھلا چھوڑ رہے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں : ایمنسٹی سکیم کیخلاف پی ٹی آئی کا بڑے اقدام کا اعلان


نواز شریف نے کہا کہ ہمارے سینٹ کے امیدواروں کو فارغ کر دیا کہ آپ پارٹی ٹکٹ نہیں لے سکتے کیوں بھائی اس کے بعد جو کچھ بلوچستان میں ہوا جو بلوچستان کی اسمبلی میں ہوا جو وہاں تحریک عدم اعتماد لائی گئی ہے کون لے کر آیا وہ تحریک عدم اعتماد کیا سپریم کورٹ نے اس کا از خود نوٹس لیا لینا چاہیے تھا اور پھر چیئرمین سینٹ کس طرح سے بنا کون سے ووٹ خریدے گئے کون سے ووٹ بیچے گئے کیا اس کا سپریم کورٹ نے کوئی از خود نوٹس لیا نہیں لیا یہ سب چیزیں دیکھنی چاہیں کہ جہاں وہ یہ کہہ رہے کہ میں انتخابات کو التواء کا شکار نہیں ہونے دوں گا آئین میں کوئی گنجائش نہیں پھر اس کو اپنے ایکشنز سے بھی ثابت کریں اگر وہ کہتے ہیں کہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہونے چاہیں تو پھر یہ سب کچھ نہیں ہونا چاہیے جس کی طرف میں نے نشاندہی کی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابات کی قیمت پر ملتوی نہیں ہونے دیں گے نہ انتخابات محمود اچکزئی ملتوی ہونے دیں گے نہ میر حاصل بزنجو ہونے دیں گے نہ پاکستان کی سول سوسائٹی ہونے دے گی نہ پاکستان کے قانون دان ہونے دیں گے نہ پاکستان کی انٹیلی جنس ہونے دے گی اور نہ پاکستان کی قوم ہونے دے گی۔عوام بھی اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہو گی ۔


نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں نہیں چاہا کہ کسی قسم کی کال دینے کی نوبت آئے لیکن اگر نوبت آتی ہے تو کال دی جانی چاہیے اس مل کو اس ملک کے آئین کو بچانے کے لیے پھر دی جانی چاہیے پھر کون روکے گا ہمیں کال سے ہم نہیں رکہیں گے اس کے لیے میں یہاں ہوں اگر مجھے جیل میں ڈالنا ہے جیل میں ڈال دیں باہر ہوں یا اندر سب جگہ سے کال آئے گی میں نے کہاکہ میں جہاں بھی ہوں میں آواز دوں گا میری آواز پر لبیک کہو گے سب کہہ رہے ہیں لبیک کہیں گے یہ ووٹ کو عزت دو نعرہ عوام کی طرف سے اٹھتا ہے ان کی طرف سے آ رہا ہے اور وہ جان چکے ہیں کہ پاکستان میں 70 سالوں سے قوم کا مذاق ہو رہا ہے اب اس مذاق کو وہ مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ۔


ای پیپر