وہی زادِ رَس میرا وہی ”فریادِ“ رَس میرا
06 اپریل 2018 2018-04-06

میںنے پڑھ رکھا ہے کہ بعض اوقات دو شاعر ایک جیسا شعر، اور دو لکھاری ایک جیسی تحریر اپنی ”پٹاری“ میں بیک وقت بند کر لیتے ہیں، حتٰی کہ سائنسدان ایک ہی جیسی ”ایجاد“ بیک وقت کر لیتے ہیں، مگر جو پہلے اعلان کر دیتا ہے وہ واجب تحسین قرار پاتا ہے، یہ خیال میرے ذہن کے دریچوں میں اس وقت دَر کر آیا۔ جب میں نے ”فریاد“ کے نام سے کالم لکھا، تو صبح اخبار کھولتے ہی اس عنوان پر نظر پڑی، مگر بجائے حیرت کے مجھے خوشی ہوئی کہ میں اب کالم نگار بن گیا ہوں، اور میرے موضوع کا انتخاب ہی قابل داد ہے، کیونکہ میری سوچ بھی ایک بڑے لکھاری والی ہو گئی ہے۔ اب
مجھ کو تو یہ دنیا نظر آتی ہے، دگرگوں
معلوم نہیں دیکھتی ہے تیری نظر کیا
ہماری ”حزب ہر چیز کے مخالف“ کو لفظ فریاد پہ اعتراض ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بھی یہ عرض کی تھی کہ پاکستان میں سب سے بڑا منصب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا ہوتا ہے۔ قاضی کا مطلب، حاجت پورا کرنے والا بھی ہوتا ہے۔ اور چیف جسٹس کو قاضی القضاة، یعنی سب سے بڑا قاضی کہا جاتا ہے، قاضی کا تو پیادہ بھی پندار پر آمادہ ہوتا ہے۔
وزیراعظم کو بھی اپنے منصب سے چلتا کر دینے والا، اگر وزیراعظم سے علانیہ ملتا ہے تو ملاقات کے ایجنڈے کو علانیہ بتانا چاہئے تھا۔
کسی کے منصب کومتنازع بنانے اور گہنانے کی بجائے ”قاضی الحاجات“ کے آگے لہو و لعب اور شعور و شغف میں مبتلا امت مسلمہ اپنے اسلاف، اور سید لُولاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر چل کر اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے فریاد کیوں نہیں کرتی؟
رحمتِ الٰہی جوش میں آئے تو چٹانوں میں سے بھی چشمے نکال دیتا ہے۔ چاہتا تو ایک چشمہ نکلتا مگر اس نے تو کسی قبیلے کو بھی مایوس نہیں کیا، اور ہر قبیلے کا چشمہ علیحدہ علیحدہ جاری کر دیا۔ اب بھی نماز استسقاءپڑھنے سے کیا رحمتِ الٰہی جوش میں نہیں آ جاتی، اور ابرِ کرم تھر اور چولستان میں طوفان بادوباراں نہیں بن جاتا؟ جہاں ہندو بھی رب سے بارش کی دعا مانگتے ہیں۔ اللہ تو وہ ہے جو اپنے بتائے ہوئے اصولوں اور ضابطہ حیات پر چلنے والوں کو اپنی طرف سے سلام بھیجتا ہے، تو پھر چڑیا کی چونچ میں آ جانے والی چھوٹی سے کنکریاں بھی کعبے پر چڑھ دوڑنے والے ابرہہ کے ہاتھیوں کے لئے سنگ وخشت نہیں، توپ و تلوار کے وار بن جاتے ہیں، 1965ءکی جنگ میں شکستِ ہنود کی وجہ کیا بنی؟
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اصول اٹل ہیں، وہ ازل سے ابد تک، ایک ہی جیسے معجزے سرزد کرا سکتا ہے۔ سلٰم قولاً من رب رحیم کہہ کر روز ِجزا اہل جنت کو کہا جائے گا، کیونکہ شیطان جو انسانوں کا کھلا دشمن ہے۔ اور وہ ایک کثیر تعداد کو گمراہ کر چکا ہے۔ اس دن ان کے ہاتھ اور پاﺅں شہادت دیں گے، جو کام یہ دنیا میں کرتے رہے تھے، اللہ تعالیٰ اسی بات کا بدلہ دیں گے، کہ وہ شیطان کے بہکانے اور ورغلانے کے باوجود بھی اسکے دام ِفریب و الفت میں نہیں آئے، دوسرے موقع پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سلمµ علی نوح فی العلمین حضرت نوح علیہ السلام کو کہا، اور پوری روئے زمین پر مخلوقات کو غرق کر دیا مگر حضرت نوح علیہ السلام کو ان کے حمایتیوں سمیت بچا لیا، حضرت نوحؑ جب وہ کئی منزلہ جہازنماز کشتی بنا رہے تھے، اور جس کی لمبائی اور چوڑائی دیکھ کے اورخشک موسم کی بنا پر کافر اُن کی تضحیک و مذاق اڑاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے سورة الصٰفت آیت نمبر 74 میں فرمایا ہے کہ ”سو ہم خوب فریاد سننے والے ہیں“۔
اسی ارشاد فرمان الٰہی کو جب حضرت حفیظ تائب اشعار میں ڈھالتے ہیں تو ہم دل و جگر سنبھالتے رہ جاتے ہیں۔
وہی زادِ نفس میرا، وہی فریادِ رَس میرا
میں جب کرتا ہوں‘ اس کے سامنے فریاد کرتا ہوں
سلمµ علی ابراہیم تیسری مرتبہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیمؑ پر سلام بھیج کر یہ فرمایا کہ ہم اپنے مخلص بندوں کو ایسا ہی صِلہ دیا کرتے ہیں، اور پھر حضرت ابراہیمؑ کی نسلوں سے حضرت اسحاقؑ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ اور فخر انبیاءحضرت محمد مصطفی کو بھی نبی آخرِ زمان و کون ومکاں بنا کر رحمت اللعالمین کا القاب و اختیار دے کے مبعوث فرمایا۔
اس کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سلمµ علی موسی و ھٰرون، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام پر بھی سلام بھیجا، اور پھرفرمایا کہ ہم اپنے مخلص بندوں کو ایسا ہی صِلہ دیا کرتے ہیں۔
فرعون جیسے خدائی کے دعوے دار اور مکار انسان کو جو طاقت ور ترین بادشاہ ہونے کے بعد نعوذ باللہ خدا بھی بن بیٹھا تھا۔
اللہ تعالیٰ کی بخشنے کی تو شرط ہی صرف ایک ہے کہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے، خدائی دعوے کی بنا پر وہ ”بندگانِ خدا“ کو یعنی 60ہزار بندوں کو کھانا ”لنگر“ کھلاتا تھا، اس نے اپنے مشیروں اور وزیروں کے کہنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے اور فوجی تیاریوں کے لئے وہ لنگر بند کرنے کا اعلان زمین پر کیا اور خدا حقیقی نے آسمان پر اس کی غرق یابی کا اعلان کر دیا، اورا پنے فرمانبردار بندے کی خاطر جیسے چٹانوں میں چشمے چلا دیئے تھے اسی طرح دریائے نیل میں خشک گزرگاہ بنا دی، اور اپنے مخلصین کو بچا لیا، حفیظ تائب کے بقول
اسی کے فکر میں گم سم ہے کائناتِ وجود
اُسی کے ذکر کی صورت ہے نغمہ اِنفاس!
اگر ہیں نعمتیں اُس کی شمار سے باہر!!
تو حکمتیں بھی ہیں اُس کی ورائے عقل و قیاس!
پانچویں دفعہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سلمµ علی ال یاسین ،بنی اسرائیل کے پیغمبر حضرت الیاس علیہ السلام پر سلام بھیجا، اور پھر فرمایا کہ بے شک ہم اپنے مخلص بندوں کو ایسے ہی صِلہ دیا کرتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے بوقت آزمائش و امتحان حضرت لوط علیہ السلام کو بھی بچا لیا اور حضرت یونس علیہ السلام کو بھی بچا لیا۔ اور انہیں مچھلی کے پیٹ میں سے زندہ نکال لیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورة الصٰفت کی آیت( 141 )میں فرمایا ہے کہ سو اگر وہ اس وقت تسبیح کرنے والوں میں نہ ہوتے تو قیامت تک اس کے پیٹ میں رہتے۔
اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو بندوں کا تسبیح و تحلیل میں مصروف رہنا کس قدر پسند ہے کہ ”آئی ہوئی بلاﺅں اور آزمائشوں کو بھی ٹال دیتا ہے“ ۔اور وبال سے نجات دے دیتا ہے۔ یہ سات سلام اول آخر درود شریف پڑھنے والے کی بھی ہر جائز دعا قبول ہوتی ہے، سلمµ علی المرسلین، اس کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی تمام خوبیوں کا سزاوار اپنی ہی ذات و صفات کو قرار دے کے اب تک زمین پر بھیجے گئے تمام پیغمبروں پر سلام بھیجا ہے، کیونکہ یہ سب کے سب اس کے انتہائی مخلص پیغام بر تھے، اور ساتواں سلام آپ نے یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورة القدر میں یہ فرما کر بھیجا ہے سلمµ ھی حتی مطلع الفجر یعنی لیلة القدر کی رات جو ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل رات اور سلامتی والی رات ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے انسانوں کی بھلائی کیلئے ہوتے ہیں حتیٰ کہ کسی قوم کی تباہی کا فیصلہ بھی دوسروں کی خیر کیلئے ہوتا ہے، اسی لئے توفرمایا کہ تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ وہ رات سراسر سلامتی ہے، طلوع فجر تک
میں دعا گو ہوں کہ اللہ نہ کرے کہ میرا یہ کالم برادرم حسن نثار صاحب کی نظروں سے گزرے، کیونکہ وہ ضرور کہیں گے کہ اسلام تو یہ کہتا ہے کہ اپنے گھوڑے تیار رکھو، مگر ”کُھوتے“ کھا جانے والی قوم کو کھوتے گھوڑے کا کیا پتا، چودہ سو سالوں سے جو جنگیں ہم پر مسلط کر دی گئیں، ان میں ہمیں کب عددی برتری تھی؟ جس میں تھی صرف وہی جنگ ہم ہارے ہیں، جس ملک میں نوزائیدہ بچیاں بھی محفوظ نہ ہوں، جہاں بچے اپنی مائیں (گائیں) سمجھ کر بیچ دیتے ہوں، جس ملک کا انسان نما حکمران قوم کی قابل فخر بیٹی عافیہ صدیقی کو چار سوڈالر دلالی لے کر بیچ دیتا ہو، اس ملک کے عوام یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ معجزات، ان کے حق میں رونما کرا دے گا؟ جب تک ہم مل کر اس سے فریاد نہیں کریں گے اور سابقہ گناہوں کی معافی نہیں مانگیں گے ہماری توبہ قبول نہیں ہو گی کیونکہ حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ :
جلوہ طور تو موجود ہے، موسیٰ ہی نہیں


ای پیپر