واپس آﺅ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں!
05 ستمبر 2020 2020-09-05

حیران ہونے کی ضرورت نہیں‘ یہ جو کالم کا عنوان ہے‘ یہ میں نہیں کہہ رہا‘ نہ میری یہ خواہش ہے۔ نوازشریف پاکستان میں بیمار رہیں یا باہر جا کر تندرست رہیں‘ ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ جس طرح ہمارے کئی جرنیل ریٹائر یا بیمار وغیرہ ہونے کے بعد پاکستان میں رہیں یا باہر رہیں؟ ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ پر ہم چونکہ کوئی سیاستدان یا جرنیل وغیرہ نہیں ہمارا جینا مرنا ہمیشہ پاکستان میں ہی رہے گا‘ جہاں تک نواز شریف کا تعلق ہے ہم تو چاہتے ہیں ”سیاسی نحوست“ اسی طرح ملک سے باہر رہے جس طرح ”غیر سیاسی نحوست“ مشرف ملک سے باہر ہے۔ جب ان ملزموں یا مجرموں کو ان کے جرائم کی کوئی عملی سزا ہی نہیں ملنی پھر وہ کہیں بھی رہیں ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ مشرف کی باقیات پر بات کرتے ہوئے ظاہر ہے ہمارے پَر جلتے ہیں۔ البتہ نواز شریف کی ”خاندانی باقیات“ بھی باہر چلی جائے پاکستان کا اس سے بھلا ہی ہوگا۔ پر ظاہر ہے یہ عمل ہماری ”خاکی جمہوریت“ کو وارا نہیں کھاتا۔ اس ملک کی حقیقی قوتوں نے اپنے اُلو ہمیشہ اس ملک کی سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرکے یا ایک دوسرے کو لڑا کر ہی حاصل کئے ہیں۔ اگر یہ مقصد انہوں نے حاصل نہ کرنا ہو‘ ملک کی تمام سیاسی قوتوں کو دیس سے نکال دینے میں ایک سیکنڈ بھی وہ نہ لگائیں۔ ایک سیاسی قوت خصوصاً حکمران سیاسی قوت کو مختلف اقسام کے خوف یا دباﺅ وغیرہ میں رکھنے کیلئے دوسری سیاسی قوت کو اس کے مقابلے میں کھڑے کرنا یا قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔ بس یہی وہ مقصد ہے جس کے تحت شریف خاندان کا پاکستان میں رہنا اور زرداری خاندان کا ایک حصہ صوبے میں اقتدار میں رہنا ناگزیر ہے۔ البتہ جمہوریت کے تمام فائدے نقصانات ایک طرف رکھتے ہوئے نواز شریف اگر حقیقی معنوں میں اپنی سیاسی ساکھ بچانا یا بڑھانا چاہتے ہیں‘ انہیں واپس آنا پڑے گا‘ جہاں تک اپنی ذاتی ساکھ بچانے کا تعلق ہے اس کی کوئی اہمیت ان کے نزدیک ہوتی اقتدار میں آنے کے بعد ان کے اثاثوں میں ہوش ربا اضافے کے بجائے کمی ہوگئی ہوتی۔ اب ہو یہ رہا ہے موجودہ حکمرانوں کی مسلسل نااہلیوں کے باعث ” شریف خاندان“ کے پاکستان میں حکمرانی لحاظ سے دوبارہ پاﺅں جمنے کے چانسز بڑھتے جارہے ہیں۔ ممکن ہے بڑھتے ہوئے ان چانسز میں خیر و برکت کیلئے ہی نواز شریف کو واپس آنا پڑ جائے۔ ویسے میں سوچ رہا تھا مریم نواز اور حمزہ شہباز کی نیب میں پیشیوں کے موقع پر تھوڑا ہلا گلا کرکے گونگلوﺅں سے مٹی جھاڑنے والے ”مبینہ سیاسی کارکن“ اگر کرایے کی سواریاں نہیں تو انہیں چاہئے جہاں اس موقع پر وہ دیگر نعرے بلند کرتے ہیں وہاں یہ نعرہ بھی وہ لگا دیا کریں ” واپس آﺅ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں“۔ ہوسکتا ہے ان نعروں کے بعد ہی وہ واپس آنے کا ارادہ کرلیں۔ ممکن ہے وہ یہ سمجھ رہے ہوں ان کی حکمرانی ختم ہونے کے بعد کوئی ان کے ساتھ نہیں رہا۔ سو مسلم لیگی کارکن اپنے ”قائد محترم“ کو واقعی واپس اپنے درمیان دیکھنا چاہتے ہیں‘ انہیں چاہئے مہنگائی و دیگر حکمرانی خرابیوں کے خلاف چاہے اکٹھے ہوکر کوئی اجتماع وغیرہ وہ کریں نہ کریں پر حمزہ شہباز شریف اور مریم شریف کی نیب میں پیشیوں کے موقع پر جب اکٹھے ہونے کا موقع مل جائے تو ” واپس آﺅ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں“ کے نعرے ضرور بلند کریں اور اتنے ”باآواز بلند“ کیا کریں کہ ان کی آواز دیواروں‘ پہاڑوں‘ چٹانوں اور سمندروں کو چیرتی ہوئی نواز شریف کے ان کانوں تک پہنچ جائے جن پر واپسی کی جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے بیچ میں کوئی این آر او وغیرہ نہیں ہے تو واپس آ کر سیاسی حوالے سے حکمرانوں کیلئے وہ اچھے خاصے مسائل کھڑے کرسکتے ہیں۔ یہ عمل شہباز شریف کے بس کا روگ نہیں‘ نہ زرداری کے بس کا روگ ہے۔ فضل الرحمن ویسے ہی اندرونی و بیرونی اشاروں کے منتظر رہتے ہیں۔ صرف ایک نواز شریف ہیں جو سیاسی حوالے سے حکمرانوں کیلئے مسائل کھڑے کرسکتے ہیں۔ سو ”ادھار“ پر پی ٹی آئی کو دیئے گئے کچھ وزیروں‘ مشیروں کو چاہئے اپنے بیانات یا انٹرویوز وغیرہ میں نواز شریف کی واپسی پر زیادہ بات نہ کیا کریں۔ ان کے مسلسل بیانوں اور بلاوے کی صورت میں نواز شریف واقعی واپس آگیا تو ان کے اپنے لئے مسائل کھڑے ہوجائیں گے‘ البتہ اس کا ایک حوالے سے انہیں فائدہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک بار پھر پارٹی بدلنے میں وہ آسانی محسوس کریں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے نواز شریف کی کوئی ”رگ شرم“ اچانک خود ہی پھڑک اٹھے اور وہ اپنی تمام تر چھوٹی موٹی یا ”جھوٹی سچی“ بیماریوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے واپس آ جائیں۔ ان کا ایمان اگر واقعی مضبوط ہے اور اس کے مطابق وہ اگر واقعی یہ سمجھتے ہیں موت کیلئے جگہ اور وقت مقرر ہے‘ وہ عزت کی زندگی جینا چاہتے ہیں‘ یا عزت کی موت مرنا چاہتے ہیں‘ یہ سب ان کے پاکستان میں رہ کر ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ زرداری مجھے کبھی اچھا نہیں لگا‘ پر آج ایک حوالے سے اس کی تعریف کرنے کو جی چاہ رہا ہے‘ اگلے روز شہباز شریف کے ساتھ اپنی ملاقات میں وہ نواز شریف سے زیادہ بیمار و کمزور لگ رہا تھا۔ اس کے باوجود اس نے حکومت سے یا کسی عدالت سے اپنے بیرون ملک علاج کی بھیک نہیں مانگی‘ نہ ہی اس کی ”سیاسی فطرت“ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس ملک کی ”حقیقی قوتوں“ نے اس کیلئے ایسا کوئی بندوبست کرنے کی ضرورت محسوس کی ورنہ ان کیلئے بھی ہمارے پیارے خان صاحب یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ”میں نے اپنی خصوصی ٹیم و شوکت خانم کے خصوصی ڈاکٹرز سے چیک کروایا ہے زرداری واقعی بہت بیمار ہے اور اس کے بیرون ملک علاج کی سخت ضرورت ہے“۔ پھر ہماری پیاری وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کی وزارت اور اہلیت بھی دوسری بار آزمائش کا شکار ہوجاتی۔ ایک بات میں کچھ نون لیگی بے شرموں کی خدمت میں بھی عرض کرنا چاہتا ہوں‘ وہ نواز شریف کی واپسی کو مشرف کی واپسی سے کیوں جوڑتے ہیں؟۔ مشرف کو بھی واپس آنا چاہئے۔ اس کی بیماریوں کا علاج بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے‘ پر وہ نواز شریف کی طرح لندن کی سڑکوں پر مٹر گشت کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتا‘ نہ کسی کیفے میں کافی پیتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں نواز شریف ایک خصوصی ایجنڈے یا خصوصی این آر او کے تحت اتنا بیمار ظاہر کردیا گیا تھا ہم یہ محسوس کرنے لگے تھے کہیں ان کی ”صفائی“ ہی نہ ہوجائے۔ اب اگر ان کی صحت واقعی بہتر ہے‘ آگے پاکستان میں موسم بھی بہتر ہے‘ تو واپس آ کر عدالتوں کے سامنے ”سرنڈر“ کرنے میں انہیں کوئی دقت محسوس نہیں ہونی چاہئے۔ اس سے ان کی عزت بحال ہوگی جو کہ مشرف کی نہیں ہوگی۔ ہوسکتا ہے ان کی واپسی کے بعد مشرف بھی واپس آنے کا کوئی ارادہ یا فیصلہ کرے۔ اس کے نتیجے میں ہماری عدلیہ کو بھی اپنے ”سابقہ آقاﺅں“ پر تھوڑا اور ترس کھانے کا موقع مل جائے گا جس کے نتیجے میں ممکن ہے جنرل مشرف اور سیاسی جنرل نواز شریف دنیا سے ”باعزت بری“ ہوکر رخصت ہوں۔


ای پیپر