سکستھ جنریشن وار فئیر
05 ستمبر 2019 2019-09-05

تو طے یہ ہوا کہ جنگ طے ہے۔

70ء کی دہائی میں جب سوویت یونین نے افغانستان میں گریٹ گیم کی بساط بچھائی، اسکا نظریاتی دوست، ہم پیالہ اور ہم نوالہ بھارت ایٹمی دھماکے کرکے خطے میں اپنی دھونس جما چکا تھا۔ پاکستان دولخت ہونے کے بعد بقا کی جنگ سے دوچار، حکومتی جماعت پیپلز پارٹی میں کامریڈز کی بھرمار، سب کو ماسکو سے پیار، مطلب کابل سے کراچی تک راستے میں کوئی بڑی رکاوٹ نہ تھی۔ غیرمسلم ریاست افغانستان میں بھی کمیونسٹ جماعت پیپلز پارٹی کی حکومت قائم تھی، ایسے میں کمیونزم کی سرخیل ریاست کیلئے اس پر قبضہ کرنا بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کا کھیل ہونا چاہئے تھا۔ اور وہی ہوا، وہ آئے اور آ گئے، قبضہ مکمل۔ بس کراچی میں اگلا پڑاؤ ڈالا جانا تھا، لیکن شاید دیر ہوچکی تھی، پاکستان میں راتوں رات سوشلسٹ بھٹو کی حکومت ختم کرکے ایک آمر اقتدار پر قابض ہوچکا تھا۔ اب پاکستان میں ماسکو کیلئے عقیدت رکھنے والے حکومت میں نہ تھے۔ اور ایک جرنیل کی حکومت رہتے کراچی ہنوز دور است (کراچی ابھی دور ہے)۔ پھر مار خور سانپ کے شکار پر نکلا اور صرف نو برسوں میں سانپ کے نو ٹکڑے کر ڈالے۔

تیسری ہزاروی کے پہلے برس سپر پاور امریکا نے 30 ممالک کو ساتھ ملایا، اور افغانستان پر چڑھ دوڑا، توقع کے عین مطابق کسی خاص مشکل کے بغیر کابل پر قبضہ کرلیا گیا، تورا بورا کی سنگلاخ چٹانوں کو راکھ کا ڈھیر بنا کر اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا اعلان کردیا گیا، افغانستان پر امریکا کا مکمل قبضہ ہوگیا۔ دنیا بھر کے میڈیا میں مضامین چھپ رہے تھے، ڈاکومنٹریز چل رہیں تھیں کہ کابل کے بعد تہران اور اسلام آباد کی باری ہے۔ پاکستان کو بتا دیا گیا یا تو ہمارا ساتھ دو ورنہ ہم سے لڑنے کیلئے تیار ہوجاؤ، مار خور نے دونوں ہی آپشنز قبول کرلئے، اس بار تھوڑا زیادہ وقت لگا، تھوڑی زیادہ قربانی دینی پڑی، لیکن ہمیں غار کے زمانے میں بھیجنے کی دھمکی دینے والا آج غاروں سے نکلنے کیلئے ہم سے مدد کی بھیک مانگ رہا ہے۔

5 اگست کے ایک ماہ بعد پاک فوج کے ترجمان نے پہلی بار پاک فوج کا باضابطہ ردعمل میڈیا کے سامنے رکھا، حاصل جس کا یہ ہے کہ کشمیر میں ظلم بند نہ ہوا تو جنگ چوائس نہیں مجبوری بن جائے گی، جنگ کیسے لڑنی ہے، کہاں لڑنی ہے، کب لڑنی ہے، یہ فیصلہ قوم پاک فوج پر چھوڑ دے، پاک فوج مایوس نہیں کرے گی۔ ویسے ٹریک ریکارڈ دیکھا جائے تو پاک فوج پر اعتماد نہ کرنے کی کوئی وجہ، اور بھارت کے بچ نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

ففتھ جنریشن وار فئیر کا کافی عرصے سے کافی چرچا ہے، کسی ملک کی نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا، عوام کو حکومت اور فوج سے مکمل مایوس کرنا، معاشی عدم استحکام اور معاشرتی انتشار وغیرہ وغیرہ اس طریقہ جنگ کے ایٹمی میزائل ہیں۔ پاکستان پر گزشتہ چند برسوں کے دوران مسلسل کئی میزائل فائر کئے جا چکے ہیں، تباہی نظر بھی آ رہی ہے، لیکن یہاں تو انتہائی مہلک سکستھ جنریشن وار فئیر شروع ہوچکا۔

سکستھ جنریشن وار فئیر کے دوران ریاستوں کے بدلتے موقف ہارنے اور جیتنے والے کی نشاندہی کرتے ہیں، ذیل کے نمونے سے اسے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔

سولہ سترہ برس تک پاکستان چیخ چیخ کر کہتا رہا وہ امریکا کا فطری اتحادی ہے، لیکن امریکا پاکستان کو ڈبل کراس کرنے کا طعنہ دیتا رہا، ناقابل اعتبار کہہ کر ڈو مور کا مطالبہ کرتا رہا۔ آج پاکستان امریکا کو ناقابل اعتبار اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا طعنہ دے رہا ہے اور امریکا پاکستان کو اپنا فطری اتحادی اور قابل اعتماد دوست مان کر تعاون کی درخواست کررہا ہے۔

5 اگست اور اس کے بعد بھارت اور پاکستان کے موقف بھی حال اور مستقبل کا احوال بیان کررہے ہیں۔

بھارت: آرٹیکل 370 منسوخ کردیا گیا، کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا۔

پاکستان: ہم تو خود آرٹیکل 370 کا خاتمہ چاہتے تھے۔

بھارت: اب مظفرآباد بھی ہمارا ہوگا

پاکستان: کرفیو ہٹاؤ، پھر دیکھتے ہیں، کشمیری کس کے ساتھ ہیں۔

بھارت: سرحد پار سے جنگجو جموں و کشمیر میں داخل ہو رہے ہیں

پاکستان: ہم جنگ نہیں چاہتے، بھارت ایل او سی کے پار جھوٹی کارروائی کرکے الزام پاکستان پر دھر سکتا ہے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے۔

بھارت: ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی بدل سکتے ہیں۔ بھارت ایٹمی حملے میں پہل کرسکتا ہے۔

پاکستان: دنیا جان لے، ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم جنگ نہیں چاہتے۔

بھارت: پاک فوج نے ہماری انتہائی خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کرلی

پاکستان: ہم جنگ نہیں چاہتے

بھارت: مسلسل کرفیو نافذ کرنے اور ہمہ وقت حالت جنگ میں رہنے سے 9 لاکھ فوجی جسمانی اور اعصابی طور پر بری طرح تھک چکے، متبادل تازہ دم دستے بھی دستیاب نہیں۔

پاکستان: کشمیریوں کی آزادی کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ آخری گولی اور آخری فوجی تک لڑیں گے۔

بھارت: ممکنہ جنگ کا خطرہ بھارتی معیشت کیلئے بھونچال بن گیا، سرمایہ کار بیرون ملک بھاگ رہے ہیں، بھارتی روپیہ اور اسٹاک مارکیٹ تنزلی کا شکار ہے۔ فیکٹریاں ملیں بند ہو رہی ہیں۔ غربت بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔

پاکستان: ہمارے ہاں تو " نو فرسٹ یوز" پالیسی کا وجود ہی نہیں۔ اپنے دفاع کیلئے جو مناسب لگا استعمال کریں گے۔

ماضی میں سویت یونین اور امریکا پاکستان کو ایزی لے کر بھاری خمیازہ بھگت چکے ہیں۔ 80ء کی دہائی ہو یا نائن الیون کے بعد کی صورتحال، آغاز میں پاکستان کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ پاکستان کو تنہا ہوکر بھی پاور فل کی فلٹوس اکڑ نکالنے کی عادت سی ہوگئی ہے۔ اس بار تو آغاز سفر میں ہی چین پاکستان کے شانہ بشانہ ہے۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جب آسان اردو میں بول دیا کہ کشمیر چھیننے والوں کو ہماری لاشوں سے گزر کر جانا ہوگا تو بپن راوت کو ایک ماہ سے ایک ٹانگ پر کھڑی فوج کو اب زخمی شیروں کا سامنا کرنے کیلئے تیار کرنا چاہئے، طبل جنگ تو بج چکا۔

آسان شکار بن کر، شکاری کی سکستھ سینس کا ستیاناس کرکے، آسانی سے شکاری کا شکار کرنا ہی سکستھ جنریشن وار فئیر ہے۔


ای پیپر