ہم سب کالی بھیڑیں ہیں !
05 ستمبر 2019 2019-09-05

ایک پولیس کے رویے کو ہم کیا روئیں آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے .... اگلے روز ایک بڑے افسر مجھے بتارہے تھے، بتاکیا رہے تھے اپنی بے بسی کا ماتم کررہے تھے کہ وہ اپنے محکمے میں اصلاح کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں ، اس کوشش میں ان کی صحت تک متاثر ہورہی ہے۔ کتنے ہی دن گزرگئے وہ چین سے نہیں بیٹھے امریکہ سے ان کی بیٹی آئی ہوئی تھی ، وہ دو ہفتے لاہور قیام کے بعد واپس امریکہ چلی گئی، دوہفتوں میں دوگھنٹے کا وقت بھی وہ اپنی سرکاری مصروفیات کے باعث اسے نہیں دے سکے، اِس کے باوجودہ ایک میٹنگ میں وزیراعظم عمران خان کی اُن پر نظر پڑی وہ اُن سے کہنے لگے ”سیکرٹری صاحب آپ کے کام کا مزہ نہیں آرہا“ .... دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے وزیراعظم نے اُن سے گلہ کیا کہ اپنے محکمے کی اصلاح کے لیے اپنی طرف سے جو کچھ تم کررہے ہو میں اُس سے مطمئن نہیں ہوں“،.... ادب اور نوکری یعنی افسری کے آداب کا تقاضا یقیناً یہی تھا وزیراعظم کے اس شکوے پر خاموشی اختیار کی جاتی، ورنہ ان کی خدمت میں عرض کیا جاسکتا تھا ”سرجی جس طرح آپ کو میرے کام کا مزہ نہیں آرہا اِسی طرح عوام کو بھی آپ کے کسی کام کا مزہ نہیں آرہا “ ۔وفاقی کابینہ کے کتنے ارکان ہیں جنہوں نے ایک برس اپنی حکومت کا پورا ہونے کے بعد کوئی پریس کانفرنس کی ہو اور مکمل شواہد کے ساتھ بتایا ہو ایک برس میں اپنے محکمے کی کارکردگی میں کیا بہتریاں وہ لے کر آئے؟۔ البتہ وزیراعظم کو مطمئن کرنے کے لیے کابینہ کا ہر رُکن اپنے اس کردار کوہی کافی سمجھتا ہے وہ کسی چینل پر بیٹھ کر سابقہ حکمرانوں کو بُرا بھلا کہے، اُنہیں گالیاں دے اور اپنے ”آقا“ کو خوش کرنے کے لیے بداخلاقی کی ہر حد پھلانگ جائے“۔ اگر اِس ”مشن“ میں وہ کامیاب ہو جائے پھر اپنے محکمے میں کوئی اصلاح وہ کرے نہ کرے، کوئی مثبت تبدیلی لے کر آئے نہ آئے، کوئی اُسے پوچھنے والا نہیں ہے، بلکہ ایسی صورت میں اپنے محکمے کو مزید تباہ بھی وہ کردے، کوئی اُسے نہیں پوچھے گا .... مراد سعید اور زلفی بخاری کو البتہ ہرطرح کا استثنیٰ حاصل ہے، وہ کوئی کارکردگی دکھائیں نہ دکھائیں، حتیٰ کہ کسی چینل پر بیٹھ کر اپوزیشن کو بُرا بھلا بھی وہ چاہے کہیں نہ کہیں ان کے ساتھ محبت میں کوئی کمی واقع ہونے والی نہیں ہے، .... اصل میں سارے کا سارا کرپٹ اور کریمینل سسٹم ایک دوسرے سے جُڑااور جکڑا ہوا ہے اور ایک دوسرے کو مکمل سپورٹ کررہا ہے، ان حالات میں کوئی ایک آدھ نیک نیت شخص سسٹم ٹھیک کرنے کا جذبہ لے کر میدان میں اُترے کچھ عرصے بعد ہوتا یہ ہے اس بے چارے نے سسٹم کیاٹھیک کرنا ہے اُلٹا سسٹم اُسے خراب کردیتا ہے، اور وہ اس احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ جو مزے خراب سسٹم میں ہیں ، ٹھیک سسٹم میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا.... یہی معاملہ ہمارے محترم وزیر اعظم کے ساتھ بھی ہوا، اپنی طرف سے وہ بڑا جذبہ لے کر سسٹم تبدیل کرنے آئے تھے، اس مقصد کے لیے غیر جمہوری قوتوں کا سہارا بھی خوش دلی سے اُنہوں نے قبول کرلیا ، کیونکہ 23برسوں کی مسلسل سیاسی جدوجہد کے بعد وہ ایمان کی حدتک اس یقین میں مبتلا ہو چکے تھے کہ عوام کی طاقت کے بل بوتے پر اقتدار حاصل نہیں کیا جاسکتا، اُوپر سے عمر یا بھی بیتتی جارہی تھی، الیکشن سے پہلے ہم پر یہ حقیقت کھل چکی تھی، ہم نے اسے بادل نخواستہ اس لیے بھی قبول کرلیا تھا برس ہا برس سے گندے نظام پر سانپ بن کر بیٹھے ہوئے چوروں، ڈاکوﺅں سے نجات مِل جائے گی، ہم یہ سوچ رہے تھے ممکن ہے جب سیاسی وعسکری قیادت ایک پیج پر آجائے ملک بہتری کی جانب رواں دواں ہو جائے، غربت، مہنگائی اوربے روزگاری میں کمی ہو، معاشرہ جو بدترین اخلاقی بیماریوں کا شکار ہے کچھ نہ کچھ سدھر جائے، عدالتیں اپنا کام ٹھیک کرنے لگیں۔ ہمارے عدالتی نظام سے یہ غلیظ تاثر جو جڑا ہوا ہے کہ ”یہاں وکیل کے بجائے جج کر لیا جاتا ہے“اِس سے ہمیں نجات مل جائے، نظام تعلیم اور نظام صحت میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں، اس ملک کی اصل قوتیں اپنے بجٹ کا کچھ حصہ کم کرکے سیاسی قیادت یا حکومت سے گزارش کریں کہ یہ رقم تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خرچ کرکے ان کی حالت بہتر بنائی جائے، کیونکہ کوئی معاشرہ اُس وقت تک صحت مند قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک اُس کے تعلیم اور صحت کے شعبے درست نہ ہوں۔ قانون سب کے لیے برابر ہو، قانون سے بالاتر کسی کام کا تصور تک موجود نہ ہو، ....افسوس ہمارے سارے خواب ایک ایک کرکے ٹوٹتے گئے، مزید خواب اب ہم نے خود ہی دیکھنے چھوڑ دیئے ہیں ، کیونکہ ” ہم نے پھولوں کی آرزو کی تھی .... آنکھ میں ”موتیا“ اُتر آیا“ .... منیر نیازی کا ایک شعر ہم نے سن رکھا تھا ” ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو .... ایک دریا کے پار اُتراتو میں نے دیکھا“ .... ہم دعاگو ہیں یہ ” دریا ‘، ہمارے لیے ”سمندر“ نہ بن جائے، چوروں اور ڈاکوﺅں سے عارضی یا مستقل طورپر نجات تو مِل گئی ، فی الحال اس نجات کا نقصان ہی ہورہا ہے، اللہ نہ کرے یہ المیہ ثابت ہوجائے کہ اس ملک کو ستربرسوں میں کرپشن کا اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا ایک برس کی نااہلی سے پہنچ گیا، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے جو کچھ ہورہا ہے سب ”خواب“ ہے، عمران خان کی حکومت ابھی آئی ہی نہیں....گزشتہ الیکشن میں نون لیگ، پیپلزپارٹی اور مشرف لیگ نے مل کر حکومت بنالی تھی جو ان سے چل نہیں رہی، کچھ عرصے بعد یہ حکومت ختم ہوجائے گی، پھر عمران خان کی حکومت آئے گی، جو سب کچھ ٹھیک کردے گی “،.... کاش یہ واقعی اک خواب ہوتا، پر حقیقت سے کب تک ہم منہ موڑتے رہیں گے ؟ ....جب تک سزا اور جزا کا کوئی واضح نظام متعارف نہیں کروایا جاتا، ہر شعبے کی تباہی کا باعث بننے والی چند کالی بھیڑوں کی ”قربانی“ یا ”صدقہ“ نہیں دیا جاتا کسی شعبے میں کوئی بہتری آنے والی نہیں ہے، مگر یہ ہوگا نہیں، اس لیے کہ ہر شعبے میں خرابیاں اور تباہیاں مچانے والے سب ایک دوسرے کے رشتے دار ہیں ، کسی جج صاحب نے اپنی بیٹی کسی جنرل صاحب کے گھر بیاہی ہوئی ہے، کسی وزیر نے اپنی بہن کسی سیکرٹری صاحب کے بیٹے سے بیاہی ہوئی ہے، کسی ایم این اے کا بھائی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ہے تو کسی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کا سالہ یا بہنوئی ایم پی اے، ایم این اے ہے، یہ سب ”پیٹی بند بھائی“ اپنے اپنے مفادات میں اکٹھے ہیں ، اور قومی مفاد کی کسی کو پروا ہی نہیں ہے، یہ انتہائی دکھ بھری داستان ہے جس کا احاطہ دوچار کالموں میں کیا دوچار کتابوں میں بھی نہیں ہوسکتا ،.... فی الحال مجھے پنجاب پولیس سے متعلق حالیہ دو واقعات بلکہ دو ”سانحات“ کا ذکر کرنا ہے، جو میں اگلے کالم میں کروں گا۔ (جاری ہے)


ای پیپر