زرداری صاحب کی چالیں اور مجبوریاں
05 ستمبر 2018 2018-09-05

تحریک انصاف کے امید وار ڈاکٹر عارف الرحمن علوی اپوزیشن کے دو امیدواروں مولانا فضل الرحم اور بیرسٹر اعتراز احسن کے مقابلے میں صدر پاکستان کا انتخاب جیت گئے ہیں۔۔۔ مخالفین جماعتوں کے ووٹ منقسم ہو جانے کی وجہ سے انہیں اپنی جماعت کی پارلیمانی طاقت کے تناسب سے زیادہ بڑی کامیابی ملی ہے۔۔۔ پیپلزپارٹی نے حزب اختلاف کی بقیہ دس جماعتوں سے ہٹ کر اپنا امیدوار کھڑا کر کے اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہونے کا ثبوت دیا ہے۔۔۔25 جولائی کو عام انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی دھاندلی کے خلاف جو آوازیں بلند ہوئیں، ان میں بھٹو صاحب اور بینظیر مرحومہ کی وارث جماعت بھی پیش پیش تھی مولانا فضل الرحمن کے احتجاج میں زیادہ شدت تھی۔۔۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی اسمبلیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔۔۔ عوام کو سڑکوں پر لا کر عمران خان کی دھاندلی زدہ حکومت کا ناطقہ بند کر کے رکھ دیا جائے اسے چلنے کے قابل نہ رہنا دیا جائے۔۔۔ تا آنکہ مقتدر قوتیں انتخابات کے از سر نو انعقاد پر آمادگی ظاہر کر دیں۔۔۔ مگر پی پی پی نے اس کے برعکس رائے دی کہ اس نوعیت کی احتجاجی تحریک سے ملک میں انتشار پھیلے گا۔۔۔ تیسری قوت کے لیے راستہ ہموار ہو جائے گا۔۔۔ بہتر اور مؤثر طریق عمل یہ ہو گا کہ نئی اسمبلیوں میں بیٹھ کر ملکی تاریخ کی سب سے بڑی، مضبوط تر اور مؤثر اپوزیشن وجود میں لائی جائے۔۔۔ جو تحریک انصاف کی حکومت کو سخت دباؤ میں رکھے۔۔۔ انتخابی دھاندلیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے باقاعدہ پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے۔۔۔ جو دودھ اور پانی کا پانی کر کے دکھ دے گا۔۔۔ عمران کو ملنے والے مینڈیٹ کی اصل اوقات کو سامنے لے آئے گا۔۔۔ اس کی روشنی میں اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔۔۔ تا کہ نظام بھی چلتا رہے اور دھاندلیوں کے نتیجے میں اقتدار سنبھالنے والا حکومت کے پاؤں بھی اکھڑے رہیں۔۔۔ انتخابی نتائج سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی اور عددی لحاظ سے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے اس حکمت عملی سے اتفاق کیا۔۔۔ جیل میں بیٹھے اس کے قائد میاں نواز شریف نے اس پر صادر کیا۔۔۔ دیگر چار پارلیمانی جماعتوں نے ساتھ دینے کا اعلان کیا۔۔۔ مولانا فضل الرحمن اور ان کے پانچ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو قائل کر لیا گیا۔۔۔ سب نے مل کر ’اتحاد برائے شفاف و آزادانہ انتخابات‘ Alliance for fair & free elections کے نام سے مشترکہ پارلیمانی پلیٹ فارم قائم کیا۔۔۔ فیصلہ ہوا پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ مؤثر احتجاج کیا جائے گا یہ بھی طے ہوا کہ وزیراعظم، سپیکر ، ڈپٹی سپیکر اور آخر میں صدر مملکت کے چناؤ کے لیے اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کھڑے کیے جائیں گے۔۔۔ ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔۔۔ امکان ظاہر کیا گیا کہ تحریک انصاف کی پتلی اکثریت کی وجہ سے اسے ایک دو اہم عہدوں پر شکست بھی دو چار کیا جا سکتا ہے۔۔۔ غیر جانبدار مبصرین کی معتدبہ تعداد نے اتفاق کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی قوت عمران کی آنے والے حکومت کو لوہے کے چنے چبانے پر مجبور کر سکتی ہے۔۔۔ چنانچہ اسی اعتماد کے عالم میں اور سرشاری کی کیفیت کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کی متحدہ مجلس عمل کے نمائندوں سمیت اپوزیشن کے تمام ارکان نے مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت کا حلف اٹھایا۔

اس کے بعد جناب آصف علی زرداری نے ترپ کا دوسرا پتا کھیلا۔۔۔ وہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے نئی حکومت کی پشتیبانی کرنا چاہتے تھے۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کو صاف جواب دے دیا پنجاب اسمبلی میں اس کی معمولی اکثریت کے باوجود وزیراعلیٰ کے انتخاب میں اپنے چھ ووٹوں کا وزن اس کے حق میں نہیں ڈالا جائے گا۔۔۔ یوں تحریک انصاف کو آزاد ارکان پر ہاتھ صاف کرنے اور مصنوعی اکثریت کے ذریعے اپنا وزیراعلیٰ لانے کا حوصلہ ملا۔۔۔ اس کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کی باری آئی تو باوجود اس کے کہ پیپلزپارٹی سمیت تمام مخالف جماعتوں نے اتفاق کر رکھا تھا کہ عمران خان کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے حق میں ووٹ ڈالے جائیں

گے۔۔۔ عمران خان اگر منتخب بھی ہو گئے تو انہیں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا کہ کتنے پانیوں میں کھڑے ہیں اور کتنی طاقتور اپوزیشن سے پالا پڑا ہے۔۔۔ لیکن عین آخری مرحلے پر (ن) لیگ کو ٹھینگا سا جواب دے دیا گیا۔۔۔ مؤقف اختیار کیا گیا چند برس پہلے شہباز شریف نے زرداری صاحب کو سخت تنقیدی حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔۔۔ لہٰذا انہیں ووٹ نہیں دیا جا سکتا۔۔۔ وزیراعظم کا چناؤ ہوا۔۔۔ پیپلزپارٹی کے اراکین اپنے بنچوں پر بیٹھے رہے۔۔۔ عمران خان اس کے ’’غیر جانبدار‘‘ہاتھوں سے سرخ رو ہوئے۔۔۔ اپوزیشن کی بقیہ دس اتحادی جماعتوں نے اس کے باوجود وعدے کے مطابق سپیکر کے چناؤ کی خاطر پی پی پی کے نامزد امیدوار سید خورشید علی شاہ کو ووٹ دیے۔۔۔ اب صدر مملکت کے انتخاب کا مرحلہ در پیش تھا۔۔۔ توقع تھی کہ اس مرتبہ اس زردار صاحب سجی دکھا کر کھبی نہ ماریں گے۔۔۔ اپوزیشن ارکان کی بھاری تعداد کے بل بوتے پر مشترکہ صدارتی امیدوار کے حق میں قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اندر آزاد اراکین کی اچھی خاص تعداد کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا جائے گا۔۔۔ یوں پورا زور لگا کر وفاق کی علامت کے حامل کے اس منصب پر ملک بھر کی اپوزیشن کی نمائندہ شخصیت کو فائز کرنے کی ہر ممکن پارلیمانی کوشش کی جائے گی۔۔۔ اس کی وجہ سے ملکی سیاست اور سیاسی نظام کے اندر کچھ تو توازن وجود میں آئے گا۔۔۔ مگر جناب زرداری نے جو ایک کے بعد دوسری سیاسی چالیں چلنے کی شہرت تامہ رکھتے ہیں۔۔۔ اور اس ’سیاسی‘ مہارت میں بھٹو اور بینظیر دونوں کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔۔۔ کیونکہ وہ اصولی سیاست کا کوئی نہ کوئی بھرم ضرور رکھتے تھے۔۔۔ مگر اب ان کی سیاسی وراثت پر قابض داماد اور شوہر نے ایسا عریاں کھیل کھیلا ہے کہ چال چال نہیں رہی۔۔۔ کرتب کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔۔۔ محرکات بھی چھپے نہیں رہے۔۔۔ یکطرفہ طور پر بیرسٹر اعتزاز احسن کو اپنا صدارتی امیدوار نامز دکردیا اور اپوزیشن کی بقیہ دس جماعتوں سے طالب ہوئے اسے ووٹ دیتے ہو تو دو ورنہ جو چاہتے ہو کر لو۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کو بھی وہی اعتراض تھا اعتزاز صاحب نے بیگم کلثوم نواز کی بیماری پر بھی ان کی تضحیک کی تھی معاف نہ کیا۔۔۔ مصالحت کی بہت کوشش ہوئی۔۔۔ پی پی پی کو پیشکش کی گئی بیرسٹر صاحب کے سوا کوئی تین نام دے دیں کسی ایک پر اتفاق کیا جا سکتا ہے۔۔۔ جناب زرداری کسی بات کو خاطر میں نہ لائے۔۔۔ ڈاکٹر عارف علوی، مولانا فضل الرحمن اور بیرسٹر اعتزاز کے مقابلے میں اس سے کہیں بڑے فرق کے ساتھ کامیاب ہوئے ہیں جس کی توقع تحریک انصاف والے کر رہے تھے۔

تو کیا وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت کو ’’اپوزیشن‘‘ لیڈر زرداری کا شکرگزار ہونا چاہیے جنہوں نے ان کی کشتی کو پار لگانے میں بہت مدد کی ۔۔۔ تحریک انصاف والے شاید یہ سوچ نہیں رکھتے۔۔۔ ان کے نزدیک زرداری صاحب کی مجبوریاں حکومت والوں کے لیے مددگار ثابت ہوئی ہیں۔۔۔ موجودہ انتخابی عمل کے پس پردہ جو کچھ ہوا اس نے صرف عمران خان کو وزیراعظم نہیں بنایا۔۔۔ جناب زرداری کو بھی اندرون سندھ ان کے اندازوں سے کہیں بڑھ کر نشستیں ملی ہیں۔۔۔ ان کی صوبائی حکومت کا واضح اکثریت کے ساتھ قیام یقینی ہو گیا۔۔۔ حالانکہ انتخابات سے ایک دن پہلے تک محسوس کیا جا رہا تھا کہ پیرپگاڑہ اور کئی سندھی قوم پرستوں کی قیادت میں ’جی ڈی اے‘ نامی محاذ نے بہت بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔۔۔ پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی میں بمشکل اپنی اکثریت قائم رکھ پائے گی۔۔۔ ایسا مگر نہیں ہوا۔۔۔ پیپلز پارٹی کو اپنے روایتی اقتدار کے صوبے میں پہلے سے زیادہ اور فیصلہ کن اکثریت ملی۔۔۔ اس کی صوبائی حکومت کو قدم قدم پر عمران خان کی وفاقی انتظامیہ کے تعاون کی ضرورت ہو گی کیونکہ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے قومی اور صوبائی کی نشستیں وافر مقدار میں تحریک انصاف کی جھولی میں آن گری ہیں۔۔۔ اس عالم میں زرداری صاحب اوپر کی دونوں طاقتوں یعنی ریاستی اداروں اور وفاقی حکومت کے ساتھ بگاڑ مول نہیں لے سکتے۔۔۔ اس پر مستزادسپریم کورٹ میں زیرسماعت منی لانڈرنگ کے ذریعے 35 ارب روپے کے فراڈ کے وہ مقدمات ہیں جن کی بنا پر سیاسی چالوں میں پی ایچ ڈی سے بھی بلند درجہ ڈگری رکھنے والے استاذ گرامی زرداری صاحب اور ان کی ہمشیرہ محترمہ ضمانت پر ہیں۔۔۔ ان کے دو تین کاروباری ساتھی جیل میں ڈال دیے گئے ہیں۔۔۔ اس وجہ سے موصوف اصل اور ثانوی درجے کے حکمرانوں سے ٹکر لینے کے قابل نہیں رہے۔۔۔ 2015ء کے ماہ جون کے وسط میں انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف چونکا دینے والی للکارپیدا کی تھی۔۔۔ ’والیان ریاست‘ کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے تھے۔۔۔ جنرل راحیل شریف سے بالوابطہ مخاطب ہو کر کہا تھا آپ تین سال کے لیے ہیں میں سیاستدان ہونے کے ناطے ہمیشہ کے لیے ہوں۔۔۔ اس کے فوراً بعد دبئی جا بیٹھے۔۔۔ مگر پیچھے رینجرز والوں نے ان کے معتمد خاص ڈاکٹر عاصم کی جو درگت بنائی اس نے یوں کہیے کہ کڑاکے نکال دیے۔۔۔ جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد زرداری صاحب وطن لوٹے اور اوپر والوں سے بنا کر رکھنے کا عہد کر لیا۔۔۔ ان کی موجودہ سیاست اسی ایک نکتے کے گرد گھومتی ہے۔۔۔ جو اپوزیشن باقی رہ گئی ہے وہ مسلم لیگ (ن) کی قابل لحاظ پارلیمانی قوت کے ساتھ دس جماعتوں پر مشتمل ہے۔۔۔ یہ کم درجے کی طاقت نہیں۔۔۔ اس کا فوری ہدف انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن کا جلد از جلد قیام ہونا چاہیے۔۔۔ سوموار 3 ستمبر کو سینٹ میں اس حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں کے نمائندگان نے دھواں دار تقریریں کیں۔۔۔ مرضی کے نتائج کے حصول کے لیے فارم 45 اور ’’آر ٹی ایس‘‘ کی آڑ میں کی جانے والی منصوبہ بندی کو ایک مرتبہ پھر واشگاف کیا لیکن کیا مسلم لیگ (ن) والی اپوزیشن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اندر اچھی خاصی تعداد کے بل بوتے پر دھاندلی کی تحقیقات کو آخری نتیجے تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائے گی۔۔۔ اس کا امتحان اسی میں پوشیدہ ہے۔


ای پیپر