جنگِ ستمبر۔۔۔ مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا۔۔۔!
05 ستمبر 2018 2018-09-05

ستمبر 1965ء کی 17 روزہ جنگ کو پیش آئے ترپن سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی میری طرح بے شمار پاکستانیوں کو ستمبر 1965ء کے ان 17 دنوں کا ایک ایک لمحہ یاد ہے ۔ ایسا کیوں نہ ہو جنگِ ستمبر کا تذکرہ آج بھی دلوں کو گرماتا ، جوش وجذبے کو اُبھارتا اور ایمان ویقین کو تازہ کرتا ہے ۔ آج بھی جنگِ ستمبر کی یادیں ایک عجیب کیفیت سے دوچار کرتی ہیں ۔ جذبات و احساسات میں ایک تلاطم بپا ہو جاتا ہے ، خون جوش مارنے لگتا ہے اور قوم وطن سے محبت اور فخرو انبساط کی ایک لہر پورے جسم میں رواں دواں ہو جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ستمبر 1965ء کی یہ 17 روزہ جنگ پاکستان کی بقا اور اُس کے وجود کے تحفظ کی ایسی جنگ تھی جس میں ہماری مسلح افواج کے ایک ایک فرد نے جس جرات و دلیری، عزم وحوصلے، ایمان و یقین اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا اس کی نظیر ہماری قومی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ جنگ فی ا لواقع پوری قوم کے لیے ایک آزمائش تھی ایک کڑا امتحان تھا ، جس میں پوری قوم سُر خرو ہوئی اور قوم کے اندر ایسا ولولہ ، ایثار و قربانی کا ایسا جذبہ اور اتحاد و یکجہتی کی ایسی فضا پیدا ہوئی جو نہ پہلے کبھی دیکھنے میں آئی تھی اور نہ بعد میں دیکھنے کو ملی۔
1965ء کے گر میوں کے وہ دن کیسے بھلا ئے جا سکتے ہیں ۔کرا چی سے آگے مشرق کی طرف ساحل سمند ر سے ملحقہ رن آف کچھ میں پا کستانی فو جی دستوں کے مقا بلے میں بھا رتی فو جی دستوں کی پسپا ئی کے بعدبھا رتی وزیر اعظم لال بہا در شا ستر ی نے اعلا ن کر رکھا تھا کہ وہ پا کستان سے اپنی شکست کا بد لہ لینے کے لیے اپنی مر ضی کا محاذ کھو لے گا اگست 1965ء میں کشمیر میں حد متا رکہ جنگ (عارضی سر حد) کی خلا ف ورزی کر تے ہو ئے بھمبر سیکٹر میں بھا رتیو ں نے شدید گو لہ باری کی تو اعوان شریف کے گا ؤں میں کتنے ہی رہا ئشی مکان کھنڈر بن گئے اور بیسیوں افراد شہید ہو گئے ۔یکم ستمبر کو پا کستانی مسلح دستوں نے حد متارکہ جنگ کو عبو ر کر تے ہو ئے چھمب جو ڑ یاں سیکٹر میں پیش قدمی شروع کر دی تو مقا بلے میں بھا رتی دستے اسلحے کے انبا ر چھو ر کر پسپا ئی پر مجبو ر ہو گئے ۔بھا رتی کما نڈر نے اپنی فضا ئیہ سے کمک طلب کی تو پا ک فضا ئیہ کے دو طیا رے جو فضا میں مو جو د تھے انہو ں نے دو بھا رتی مسٹیئر طیا روں کو نشانہ بنا لیا اور با قی طیا رے دم دبا کر بھا گ گئے یکم ستمبر کی شام کو ریڈ یو پا کستان سے خبروں میں بھا رتی طیا روں کی تبا ہی اور پا کستانی فو ج کی پیش قدمی کی خبر سنا ئی گئی تو سننے والے بے ساختہ اللہ اکبر کے نعرے بلند کر رہے تھے ۔چھمب جو ڑیا ں سیکٹر میں پا کستا نی فو جی دستوں کی پیش قدمی جا ری رہی اور وہ اکھنو ر تک جا پہنچے تھے کہ 6ستمبر کی رات کو بھا رت نے واہگہ کی سرحد عبور کر کے پا کستان پر حملہ کر دیا ۔
5 اور 6 ستمبر 1965 ء کی درمیانی رات کو بھارت نے واہگہ سرحد پا ر کر کے پاکستان پر حملہ کیاتو اُس کا خیال تھا کہ لاہور پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہوجائے گا۔اسی بناپر بھارتی کمانڈر انچیف جنرل چوہدری نے 6 ستمبر کی شام کو جمخانہ کلب لاہور میں فتح کا جشن منانے کا اعلان کر رکھا تھا لیکن اُسے منہ کی کھانی پڑی اُس کی سپاہ 23 ستمبر کو جنگ بندی کے اعلان تک بی آ ربی نہر کے اُس کنارے سے ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکی اور ہمارے جانباز دلیری، بہادری، جانثاری اور سرفروشی میں اپنی مثال آپ ثابت ہوئے۔ 6 ستمبر کی صبح گیارہ بجے جب صدرِ مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کومعلوم نہیں کہ اُس نے کس قوم کو للکارا ہے ، دس کروڑ پاکستانیوں کے سینے قرآن کے نور سے منور ہیں تو ان الفاظ میں ایک جادو تھا، ایک ایسا اثر تھا کہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند دُشمن کے مقابلے میں اُٹھ کھڑی ہوئی اور اُس نے ایسی یکجہتی ، اتحاد و اتفاق، عزم و حوصلے اور ایثار وقربانی کا مظاہرہ کیا کہ دُشمن کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔ لاہور کے محاذ پر 6 ستمبر کی رات اندھیرے میں اچانک اور چوری چھپے حملے کی وجہ سے دُشمن کو کچھ ابتدائی کامیابی ضرور حاصل ہوئی لیکن اس کے بعد 17 دنوں تک وہ آگے بڑھنے کی کوشش میں سر پٹختا رہا اور بی آ بی نہر کے اس کنارے پر متعین جنرل سرفراز کا دسواں ڈیژن اس کے راستے میں سدسکندری بن کر حائل رہا۔
بر کی کے محاذ پر میجر عزیز بھٹی شہید کی داستانِ شجا عت کو کون بھلا سکے گا اپنی کمپنی کی مختصر نفری کے ساتھ وہ دشمن کی اپنے سے کئی گنا بڑی تعداد کے مقابلے میں کئی دنوں تک سینہ سپر رہے اور دشمن کی پو زیشنوں پر اپنی توپوں کی ایسی صیحح نشانوں پر گو لہ باری کرا تے رہے کہ دشمن بو کھلا اٹھا با لآخر وہ دشمن کی توپ کی گولی کا نشانہ بنتے ہو ئے شہا دت سے ہمکنا ر ہوئے اور نشان حیدر کا اعلیٰ اعزاز حا صل کیا۔
سیالکوٹ کے محاذ پر دُشمن اپنے فرسٹ آرمڈ ڈویژن ’’فخرِ ہند‘‘ کی ٹینک رجمنٹوں کی پوری قوت کے ساتھ اس اُمید پر حملہ آور ہوا تھا کہ وہ گوجرانوالہ تک ہر چیز کو روندتا ہوا لاہور کے عقب میں جی ٹی روڈ پر جا پہنچے گا لیکن ہمارے ایک انفنٹری بریگیڈ نے تین دن تک فخرِ ہند کی ٹینک رجمنٹوں کو چونڈہ ریلوے اسٹیشن کے اس طرف آگے نہ بڑھنے دیا اور یہ مشہور ہو ا تھا کہ ہمارے جانباز سینوں پر بم باندھ کر دُشمن کے ٹینکوں کے سامنے لیٹتے رہے اس دوران ہماری ٹینک رجمنٹیں دُشمن کے مقابلے میں پہنچ گئیں اور چونڈہ کا میدان دُشمن کے’’ فخر ہند ‘‘ڈویژن کے شرمن ٹینکوں کا قبرستان بن گیا اور اُس کا آگے بڑھنے کا منصوبہ ایک ڈراؤنے خواب کا روپ دھار گیا۔قصور سیکٹر میں ہمارے بکتر بند دستے بھارتی سرحد کے اندر کھیم کرن کے قصبے تک جا پہنچے تو دُشمن نے مادھوپور نہر کا پشتہ توڑ دیا جس کی وجہ سے ہمارے ٹینکوں کی پیش قدمی رُک گئی ورنہ فیروز پور تک کا بھارتی علاقہ فتح کرنے سے ہمیں کوئی روک نہیں سکتا تھا۔ راجستھان کے محاذ پر بھی ہماری پیش قدمی جاری رہی اور کھوکھرا پا ر کے مونا باؤ ریلوے اسٹیشن تک کئی ہزار مربع میل کا بھارتی علاقہ ہمارے قبضے میں آگیا۔
ستمبر 1965ء کی جنگ میں ہماری فضائیہ اور بحریہ کی کارکردگی بھی ہر لحاظ سے قابلِ فخر رہی بھارتی فضائیہ کے نٹ، مسٹئیر، ہنڑ لڑاکا اور کینبرا بمبار طیارے شروع کے ایک دو دن پاکستان کی فضاؤں میں بڑھ چڑھ کر حملہ آور ہوئے لیکن 7 ستمبر کی صبح سرگودھا کے ہوائی اڈے پر حملہ آور بھارتی طیاروں کو سکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم نے اپنے سیبر طیارے کی مشین گنوں کا نشانہ بنایا اور چند سیکنڈ کے وقفے میں پانچ بھارتی حملہ آور طیاروں کو مار گرایا تو پھر بھارتی طیاروں کو دن کی روشنی میں پاکستانی اڈوں کا رُخ کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔ بھارتی فضائیہ کے اہم مراکز پٹھان کوٹ ، انبالہ ، جام نگر، آدم پوراور ہلواڑہ ہمارے F-86 سیبر ، F-104 سٹار فائٹر اور B-57 بمبار طیاروں کا خاص طور پر نشانہ تھے اور ریڈیو پاکستان کے سینئیر نیوز ریڈر شکیل احمد جن کا خبریں پڑھنے کا ایک خاص انداز تھا اپنے مخصوص لہجے اور بلند آواز میں خبروں میں جب بتاتے کہ ہمارے شاہینوں نے دُشمن کے ہوائی اڈوں ، ہلواڑہ، آدم پور اور جام نگر پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے ہیں تو ریڈیو کے گرد بیٹھے خبریں سننے والوں کی زبانوں پر بے ساختہ اللہ اکبر کے نعرے بلند ہو جایا کرتے تھے۔جنگ ستمبر کے دوران دشمن کے سو سے زیا دہ طیا رے تبا ہ ہو ئے جبکہ ہما را نقصان اس کے مقابلے میں پا نچو یں حصے سے بھی کم تھا ۔
بھارتی بحریہ اگرچہ ہماری بحریہ کے مقابلے میں کئی گنا بڑی تھی لیکن پوری جنگِ ستمبر کے دوران اُس کے تباہ کن لڑاکا بحری جہاز ہماری واحد آبدوز ’’غازی‘‘ کے ڈر سے اپنی گودیوں میں دبکے رہے اور گجرات کاٹھیاواڑ کے ساحل پر قدیم سومنات کے مندر کے قریب واقع بھارتی بحری اڈہ ’’دوارکا ‘‘ ہماری بحریہ کا نشانہ بنا اور اُس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ جنگِ ستمبر کے یہ چیدہ چیدہ حالات و واقعات ایسے ہیں جن پر ہم بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں بھارت کی طرف سے اگرچہ اپنی کامیابیوں کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں اور شاید اُسے کچھ کامیابی حاصل بھی ہوئی ہو لیکن اس کی سب سے بڑی ناکامی یہ تھی کہ اُس نے پاکستان کو شکست دینے یا تاراج کرنے کا جو منصوبہ بنایا تھا وہ بُری طرح ناکام ہوا۔ ہم بجا طور پر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہمیں بھارت کے مقابلے میں اگر کوئی بڑی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی تو ہمیں کسی ناکامی کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ ستمبر 2018 ء میں ستمبر 1965 ء کی جنگ کو ترپن بر س گزر چکے ہیں۔ آ ج ہم فخر سے اپنی نئی نسل کو اپنی مسلح افواج کے بہادری کے کارناموں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ دُشمن کے ناکارہ’’ شرمن ‘‘ٹینک اور اُس کے تباہ شُدہ ہوائی جہازوں کے بڑے بڑے حصے پاکستان کی چھاؤنیوں کے چوراہوں، چوراستوں اور چوکوں میں چبوتروں پر ایستاد ہ ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کو ہم نے کس بری طرح ہزیمت سے دوچار کیا تھا اور کیسے چونڈہ کے میدان اُس کے شرمن ٹینکوں کا قبرستان بنا ان کے ساتھ ہماری فضائیہ میں اُس دور میں استعمال ہونے والے F-86 سائبر طیارے بھی کئی جگہوں پر پلیٹ فارموں پر ایستادہ نظر آجاتے ہیں اور میری طرح کے لوگوں کی نگاہوں میں وہ منظر گھومنے لگتے ہیں کہ سکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم، سکوارڈن لیڈر سرفراز رفیقی ، ونگ کمانڈر سیسل چوہدری، سکوارڈن لیڈر علاؤالدین ، فلائیٹ لیفٹیننٹ امتیاز بھٹی ، فلائیٹ لیفٹینٹ یونس شہید اور ونگ کمانڈر سجاد حیدر جیسے پاکستان کے مایہ ناز ہوا باز اور قابلِ فخر سپوت کیسے دُشمن کے طیاروں اور فارمیشنز کو اپنے سیبر طیاروں کی مشین گنوں سے نشانہ بناتے رہے ۔ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان اور پاکستان کی مسلح افواج نے انتہائی کم وسائل اور کم تعداد میں ہو نے کے باوجود دُشمن کو پسپائی پر مجبور کیا تھا۔۔۔ افواجِ پاکستان زندہ باد!


ای پیپر