’’پلانٹ فار پاکستان‘‘10بلیئن ٹری سونامی پروگرام
05 ستمبر 2018 2018-09-05

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے اپنی انتخابی منشور میں پہلے 100دن کے اقدامات کی جو پبلسٹی مہم شروع کی تھی اس میں سادگی اپنانے اور کرپشن کے خاتمے کے عزم کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اگلی نسل کے رہنے کے قابل بنانے کے لیے ملک میں وسیع پیمانے پر شجرکاری مہم کا آغاز کرنا شامل تھا پروگرام کے مطابق پلانٹ فار پاکستان کے عنوان سے لانچ کی جانے والی اس سکیم کو 10بلیئن ٹری سونامی کا نام دیا گیا جس کے تحت اگلے 5سالوں میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت ملک میں 10ارب نئے درخت لگائے جائیں گے اس پروگرام کیا مانیٹرنگ بین الاقوامی تحفظ جنگلات کے ادارے WWF( ورلڈ وائیڈ فنڈ فار خیبرفیچر) نے اپنے ذمے لی ہے اس سے پہلے خیبرپختونخوا میں گزشتہ دور میں بھی WWFاس پروگرام میں معاونت کرچکا ہے۔

10بلیئن ٹری سونامی اس وقت دنیا بھر کے ماحولیاتی بہتری کے لیے کام کرنے والے اداروں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا جو ہمیشہ پاکستان کے بارے میں جھوٹی خبریں اور غلط تبصرے کرنے میں مشہور ہے اس نے اس پروگرام پر رپورٹ شائع کی ہے اس میں نہ صرف یہ کہ کوئی منفی بات نہیں کی بلکہ اسے بڑے قابل رشک انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان سیاست سے قطع نظر اس سے قبل ورلڈ کپ جیتنے، کینسر اسپتال بنانے اور برطانیہ کے معیار کی یونیورسٹی قائم کرنے جیسے اقدامات کرکے بین الاقوامی شہرت حاصل کرچکے ہیں یقیناً ان کا 10بلیئن ٹری سونامی پروگرام ان کے Credentialsمیں ایک بہترین اضافہ سمجھا جائے گا عمران خان کو بطور وزیراعظم یاد نہ بھی کریں لیکن ماحولیات کے شعبے میں انہوں نے اتنا بڑا پراجیکٹ شروع کرکے تاریخ کے سینے میں اپنا نام محفوظ کرلیا ہے۔

اس پراجیکٹ کا آغاز خیبر پختونخواکے ضلع ہری پور سے کیا گیا جہاں مخنیال کے علاقے میں عمران خان نے پودا لگاکر اس مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا جہاں وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان اور ضلعی انتظامیہ کے افسران موجود تھے اس افتتاح کے ساتھ ہی بیک وقت پورے ملک میں اس کا آغاز کردیا گیا ہے جہاں اطلاعات کے مطابق ایک دن میں پورے ملک کے 200مقامات پر 15لاکھ پودے لگائے جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ اگلے 5سال تک جاری رہا تو یہ پاکستان میں گرین انقلاب کی طرف ایک بہت بڑا قدم ہوگا۔

یہ حسن اتفاق ہے کہ ہری پور کے ڈپٹی کمشنر محترم زاہد وڑائچ میرے دوست اور عزیز ہیں جب میں نے میڈیا پر انہیں عمران خان کا استقبال کرتے دیکھا تو ان سے اس پراجیکٹ کی مزید تفصیلات کے لیے رابطہ کیا زاہد وڑائچ کا شمار خیبرپختونخوا کے لائق اور محنتی ضلعی افسران میں ہوتا ہے بطور ڈپٹی کمشنر ہری پور یہ ان کی پہلی پوسٹنگ ہے انہوں نے بتایا کہ اس وقت عالمی سطح

پر درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے جسے مخصوص اصطلاح میں گلوبل وار منگ کہا جاتا ہے پاکستان کا شمار دنیا میں ان ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پر ہے جہاں گلوبل وارمنگ کے اثرات خطرناک حدتک بڑھ رہے ہیں جس میں کمی کے لیے درخت لگانا ناگزیر ہے زاہد وڑائچ نے بتایا کہ ملک میں فضائی آلودگی میں اضافے سے مختلف بیماریاں پیدا ہورہی ہیں جس کا سارا بوجھ صحت کے بجٹ پر پڑتا ہے جو پہلے ہی ضرورت سے کم ہے درخت لگانے سے آلودگی کو کم کرنے میں مددملتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر ہری پور نے بتایا کہ 2015ء میں جب بلیئن ٹری پروگرام کا آغاز کیا گیا تو اس کا افتتاح بھی ہری پور ہی سے کیا گیا تھا جو ہری پور کے لیے ایک تاریخی اعزاز ہے۔ زاہد وڑائچ نے کہا کہ پلانٹ فار پاکستان پروگرام کے تحت ہری پور میں ایک لاکھ 20ہزار پودے لگائے جائیں گے یہ ہماری آنے والی نسلوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں جنگلات کے ذخائر میں کمی آرہی ہے ایک اندازے کے مطابق 200بلیئن ڈالر مالیت کے درخت کاٹ دیئے گئے یہ صرف گزشتہ دس سال کے اعدادوشمار ہیں۔

ڈپٹی کمشنر زاہد وڑائچ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 2015ء سے جو شجرکاری کی گئی اس میں 80فیصد پودے کامیاب ہوچکے ہیں درخت لگانا ایک قومی فریضہ ہے یہ کسی حکومت یا سیاسی پارٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ بلاامتیاز پوری قوم کا مسئلہ ہے انہوں نے یاد دلایا کہ 2010اور 2011میں پاکستان میں تاریخ کے بدترین سیلاب میں نقصانات میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جہاں درخت کم تھے وہاں نقصان زیادہ ہوا کیونکہ درخت زمین کے کٹاؤ کو روکتے ہیں اس سلسلے میں صوبہ سندھ میں نقصان کی زیادتی کی وجہ یہ تھی کہ وہاں درخت بہت کم ہیں۔

درختوں سے جہاں درجہ حرارت کم ہوتا ہے وہاں آلودگی کم کرنے میں مددملتی ہے اس کے علاوہ جنگلات والے علاقوں میں بارشیں نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں پانی کے اندر گراؤنڈ لیول میں مثبت اضافہ ہوتا ہے اور زمین کی زرخیزی بڑھتی ہے۔ دوسری طرف اگر درخت لگانے کو اہمیت نہ دی گئی اور اس اہم مسئلے کو نظرانداز کیا گیا تو پاکستان Dead Zoneمیں تبدیل ہوجائے گا۔ ہماری زراعت پہلے ہی پانی کی کمی ڈیم نہ ہونے اور انڈیا کی طرف سے ہمارے پانی کے حصے میں کمی کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا ہے۔

درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے اس سے انسانیت کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے دوران درخت کاٹنے سے منع فرمایا تھا۔ فارسی ادب کی مشہور شخصیت شیخ سعدی نے باغبان لیکوکار کے نام سے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ کہیں سے گزررہا تھا اس نے دیکھا ایک 80سالہ باغبان آم کا پودا لگارہا تھا بادشاہ رک گیا اور اس سے پوچھا کہ یہ پودا پھل دینے کے مرحلے تک پہنچنے کے لیے 10سال لے گا کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ اس کے پھل کے انتظار میں 10سال زندہ رہ سکوگے اس پر بوڑھے باغبان نے کہا کہ ہمارے بڑوں نے جو پودے لگائے تھے ان کا پھل ہم نے کھایا اب ہمارے لگائے ہوئے پودے سے ہماری اگلی نسلیں فائدہ اٹھائیں گے۔ بادشاہ اس جواب پر اتنا خوش ہوا اس نے باغبان کو کثیر انعام واکرام سے نوازا اور آگے بڑھنے لگا باغبان نے پیچھے سے آواز دی اور ہنس کر کہا کہ بادشاہ سلامت آپ نے دیکھا نہیں کہ اور لوگوں کے پودے تو دس سال بعد پھل لاتے ہیں میرا پودا تو اسی دن پھل لے آیا ہے بادشاہ باغبان کی دانشمندی پر اتنا خوش ہوا کہ اس کے لیے مزید انعامات کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہاں سے جلدی نکل چلو یہ بوڑھا باغبان کوئی اور بات سنا کر کہیں ہمارا خزانہ خالی نہ کردے۔

زندگی کے ناہموار راستوں پر قدم قدم پر ہمیں درختوں کے سائے اور ان کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے زمانۂ قدیم کو پتھر کا زمانہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ لوگ پتھر کے گھروں یعنی غاروں میں رہتے تھے اور ان کے ہتھیار ان کے برتن اور ساراقصی کہن پتھر سے بنایا گیا ہوتا تھا اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارا آج کا دور لکڑی کا دور ہے جہاں دفترگھر ہرجگہ لکڑی کا استعمال نظر آتا ہے یہ لکڑی جنگلات سے حاصل ہوتی ہے اور جنگلات کے فروغ کی بنیادی اکائی درخت ہے۔ ترقی کے اس بے ہنگم سفر میں انسانیت نے عارضی ذرائع میں پناہ حاصل کی ہے جس کی وجہ سے درختوں کی اہمیت سے انکار کیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمیں گلوبل وارمنگ آلودگی اور Smogجیسے مسائل نے اس قدرگھیرلیا کہ سانس لینا دشوار ہونے لگا۔ اس تباہی کے ذمہ دار کوئی دوسرا نہیں بلکہ ہم خود ہیں :

اپنی دنیا کی تباہی کا ہمیں ہوش نہیں

اپنے ماحول کا کیا حال کئے جاتے ہیں

آپ نے سنا ہوگا کہ قحط سالی یا جنگوں کی بہت سی پرانی کہانیوں اور واقعات میں ملوث کردار درختوں کے پتے کھاکر کئی کئی مہینے زندہ رہنے پر مجبور ہوئے لیکن آج کے دور کا سوال یہ ہے کہ اگر درخت ہی نہ ہوں گے تو پتے کہاں سے آئیں گے۔ ماحولیات کے بحران کے خطرے کے پیش نظر کسی ماہر ماحولیات کا قول ہے کہ

"When the last tree is cut down ,the last fish eaten & the last stream poisoned, you will reahse that you cannot eat"جب آخری درخت کٹ جائے گا آخری مچھلی کھالی جائے گی اور آخری جھیل زہرآلود ہو جائے گی تو تب کہیں جاکر آپ کو احساس ہوگا کہ آپ محض پیسوں سے تو اپنا پیٹ نہیں بھرسکتے۔

ہمارے شعروادب میں جگنوؤں اور تتلیوں کی باتیں بلبل کے نغمے، جھیلوں کے منظر اور بارش کا موسم پڑھنے والوں کو سہانا لگتا ہے مگر اگر غور کریں تو یہ ساری رونقیں درختوں کے دم قدم سے ہیں۔ کبھی کتابوں میں پھول رکھنا کبھی درختوں پہ نام لکھنا، جیسی شاعری درختوں کے وجود سے ہی جنم لیتی ہے لہٰذا ہمیں اپنے کلچر میں درختوں کو واپس لانا ہوگا پروین شاکر نے کیا خوب لکھا تھا کہ

اس بار جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے

چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے


ای پیپر