تحریک انصاف کی حکومت اور منقسم حزب اختلاف
05 ستمبر 2018 2018-09-05

جب تک یہ سطور قارئین تک پہنچیں گی اس وقت تک تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی پاکستان کے نئے صدر منتخب ہو چکے ہوں گے۔ حزب اختلاف کے منقسم ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کو صدارتی انتخاب میں کسی خاص دشواری کا سامنا نہیں ہوا۔ اجلاسوں اور مشاورت کے لامتناہی سلسلے کے باوجود حزب مخالف متفقہ امیدوار لانے میں ناکام رہی۔ ڈاکٹر عارف علوی کے مقابلے میں حزب اختلاف کے دو امیدواروں کی موجودگی کی وجہ سے صدارتی انتخاب ایک قریبی مقابلہ نہیں بن سکا۔ صدارتی انتخاب کے مکمل ہوتے ہی تحریک انصاف ایوان صدر سے لے کر تین صوبوں کے گورنرز ، وزیر اعظم دو صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے اعلیٰ ترین سیاسی اور انتظامی عہدوں پر براجمان ہو چکی ہے۔ تمام ریاستی ادارے بھی تحریک انصاف کی پشت پر کھڑے ہیں۔ صرف سینیٹ ہی وہ واحد ایوان ہے جس میں تحریک انصاف کو اکثریت حاصل نہیں ورنہ تحریک انصاف کے سامنے اپنے ایجنڈے اور منشور کو لاگو اور نافذ کرنے میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ سینیٹ میں تحریک انصاف کو قانون سازی اور دیگر معاملات پر حزب مختلف کا ساتھ درکار ہو گا۔ بلوچستان میں تحریک انصاف کے اتحادیوں کی حکومت ہے۔ صرف سندھ میں تحریک انصاف حزب مخالف میں بیٹھی ہے۔

تحریک انصاف کے سامنے ایک منقسم حزب مخالف ہے۔ بڑی عددی قوت رکھنے کے باوجود متضاد سیاسی مفادات کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کا ساتھ دینے میں دقت محسوس کرتی ہیں۔ تحریک انصاف کے سامنے اس وقت کوئی بڑا سیاسی چیلنج نہیں ہے جو کہ اس کی حکمرانی میں حائل ہو سکے یا رکاوٹ بن سکے۔ تحریک انصاف کی خوش قسمتی ہے کہ حزب اختلاف کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اس وقت اپنے بچاؤ کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو تقریباً ایک ہی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔ اس وقت دونوں جماعتیں اس قابل نہیں ہیں کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنا سکیں یا اقدام اٹھا سکیں۔ اگلے کچھ عرصے میں دونوں جماعتوں کی حکمت دفاعی نوعیت کی ہو گی۔ جس سے تحریک انصاف کی حکومت کو خاص مشکل کا سامنا نہیں ہو گا۔

مقتدر قوتیں بھی تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ وہ تحریک انصاف کی حکومت کو پورا موقع دینے کی موڈ میں نظر آتی ہیں تا کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت اپنے ایجنڈے پر عملدر آمد کرتے ہوئے اپنے وعدے پورے کر سکے۔ پاکستان کی پارلیمانی اور سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حزب مخالف اس وقت تک حکومت کا زیادہ نقصان نہیں کر پاتی جس تک مقتدر قوتیں اس کے ساتھ نہ ہوں۔ اس وقت حزب مخالف اس تائید و حمایت سے محروم ہے۔

پیپلز پارٹی کے سامنے اس وقت دو بڑے چیلنج ہیں۔ ایک تو سندھ میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا اور دوسرا پورے ملک میں اپنی کھوئی ہوئی حمایت اور مقبولیت کی بحالی پیپلز پارٹی کو بحیثیت سیاسی جماعت یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کے تحت فیصلے کرے اور اپنی آزادانہ سیاست کو فروغ دے اور ایسے فیصلے کرے جو کہ اس کی سیاست کو تقویت دیں۔

حزب مخالف میں ہونے کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی بی ٹیم بن جائے یا اپنی سیاسی قسمت کو مسلم لیگ (ن) کے ساتھ نتھی کر لے۔ پیپلز پارٹی کو اس وقت آزادانہ اپنی سیاسی حکمت عملی کو تشکیل دینے کی ضرورت ہے اور ترقی پسند ایجنڈے اور عوامی مسائل پر سیاست کرنی چاہئے۔ مگر پیپلز پارٹی کو یہ بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر اس نے پنجاب میں اپنی کھوئی جگہ واپس لینی ہے تو ایسا صرف مسلم لیگ (ن) کو نشانہ بنانے سے نہیں ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) اس وقت اقتدار کے ایوانوں سے مکمل طور پر باہر ہے اور وہ تحریک انصاف اور مقتدر قوتوں کے نشانے پر بھی ہے ۔ اس صورت حال میں اسے ہدف بنانے سے پیپلز پارٹی کے مقاصد پورے نہیں ہوں گے اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست پر تنقید نہ کی جائے اور اسے کھلی چھٹی دے دی جائے۔ مگر پیپلز پارٹی نے اگر پنجاب میں اپنی کھوئی ہوئی حمایت اور مقبولیت واپس حاصل کرتی ہے تو اسے تحریک انصاف کے بیانیے کے خلاف میدان میں اترنا ہو گا۔ ایسا کوئی تاثر کہ پیپلز پارٹی تحریک انصاف کی فرینڈلی اپوزیشن ہے اسے سیاسی نشان پہنچائے گا اور اسے تاثر کا فائدہ مسلم لیگ (ن) کو ہو گا۔ پیپلز پارٹی اگر اپنی آزادانہ سیاسی حیثیت اور متوازن حکمت عملی اپنانے میں ناکام رہی تو اسے مزید نقصان ہو گا۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کی قیادت مکمل طور پر ابہام کا شکار نظر آتی ہے۔ اس وقت بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی تمام تر توجہ اپنی قوتوں کی مجتمع رکھنے اور اسے ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رکھنے پر ہے۔ مسلم لیگ (ن) زیادہ تر پارلیمنٹ اور پنجاب اسمبلی کے اندر ہی حزب مخالف کا کردار ادا کرتی نظر آئے گی۔ مسلم لیگ ڈن) کبھی بھی سڑکوں اور احتجاج کی جماعت نہیں رہی۔ شہباز شریف کی پوری کوشش ہو گی کہ کسی بھی طرح مقتدر قوتوں کی قربت حاصل کر سکیں تا کہ ان کی جماعت پر سے دباؤ کم ہو سکے۔ موجودہ حالات میں تحریک انصاف کے لئے سب سے بڑا چیلنج ان امیدوں، توقعات اور وعدوں کو پورا کرنا ہے جو ان کے حمایتیوں میں پائی جاتی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے دو ہفتوں میں تو اب تک محض کمیٹیاں بنانے ٹاسک فورسز تشکیل دینے اور سادگی و بچت کے خطبوں پر ہی سارا زور ہے۔ جس بڑی تعداد میں ٹاسک فورسز تشکیل دی جا رہی ہیں۔ اس سے تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی نے حزب مخالف کے طور پر صرف حکومت پر تنقید کی اور متبادل حکمت عملی کے حوالے سے خاص ہوم ورک نہیں کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ افسر شاہی کے بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ اور تبادلوں کے ذریعے ہی تبدیلی کے آثار نظر آتے ہیں۔ جن اصلاحات اور اقدامات کی تحریک انصاف سالوں بات کرتی تھی ان پر عملدر آمد کے لئے تو ابھی تک کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ دو ہفتے گزر جانے کے باوجود ابھی تک حکومت کی واضح معاشی پالیسی اور حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔

جس قسم کی ویژنری قیادت اور پالیسیوں کی سالوں باتیں کی جاتی تھیں وہ ابھی تک نظر نہیں آ رہیں۔ خارجہ پالیسی ، معیشت اور داخلی سلامتی کے اہم ترین مسائل کو چھوڑ کر سارا زور غیر اہم مسائل پر دیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے بارے میں عمومی تاثر یہ تھا کہ یہ بڑی زبردست تیاری کے ساتھ حکومت میں آئیں گے۔ ان کے پاس پالیسیاں بنانے اور ان پر عملدر آمد کرنے والی زبردست ٹیم موجود ہے جو پہلے سے ہی جس پالیسیاں اور حکمت عملی بنا چکے ہیں۔ بس حکومت میں آتے ہی پہلے 100 دنوں میں ملک کی سمت درست کر دی جائے گی اور فوری طور پر اہم اقدامات اٹھا لئے جائیں گے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ جو کام حکومت میں آنے سے پہلے کرنا چاہئے تھا وہ اب کیا جا رہا ہے۔

تبدیلی اور نیا پاکستان بنانے کے لئے پہلے سے کئی بار آزمودہ چہروں کو دوبارہ آزمایا جا رہا ہے۔ عمران خان نے جو ٹیم چنی ہے اس ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی جنرل (ر) مشرف کی حکومت کا حصہ تھے۔ ابھی تک سنجیدہ اور بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی تیاری اور ان پر عملدر آمد ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ پاکستان کو اس وقت جس قسم کے معاشی ، سماجی ، تذوبراتی اور علاقائی مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے وہ روایتی سطحی اقدامات اور پالیسیوں کے ذریعے حل نہیں ہوں گے۔

تحریک انصاف کا اصل امتحان ان عوامی توقعات اور امیدواروں پر پورا اترنا ہے جو اس نے اپنے وعدوں اور دعوؤں کے نیتجے میں پیدا کی ہیں۔ تحریک انصاف کا حزب مخالف سے زیادہ سخت مقابلہ اپنے وعدوں اور دعوؤں کے ساتھ ہے جو اس نے عوام کے ساتھ کئے ہیں۔

اس حکومت نے شجرکاری اور سادگی اپنانے کے حوالے سے چند ایک اچھے فیصلے کئے ہیں۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی کئی اقدامات اٹھائے تھے۔ اس ملک کو بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے تا کہ عوام کی مشکلات اور مسائل میں کمی واقع ہو سکے۔ سطحی اور نمائشی اقدامات سے وقتی طور پر میڈیا کے ذریعے ڈھنڈورا تو پیٹا جا سکتا ہے اور داد بھی وصول کی جاتی ہے مگر اس کے ذریعے بنیادی مسائل حصل نہیں ہو سکتے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے لئے اصل امتحان عوامی توقعات اور امیدواروں پر پورا اترنا ہے۔ اس میں ناکامی تحریک انصاف کے لئے مشکلات پیدا کرے گی۔


ای پیپر