تحریک انصاف اور کارکن فراموشی
05 ستمبر 2018 2018-09-05

عمران خان کی ذات کے ساتھ پاکستان کے عوام کا رومان ہمیشہ سے رہا ہے ۔ خاص کر 70 اور 80 کی دہائی میں پیدا اور پروان ہونے والی کرکٹ کی شیدائی نسل کے ساتھ ان کا خصوصی رومان رہا ہے۔ عمران خان کی شہرت دو طرح کی رہی ہے ایک کرکٹ میں محنت اور جانفشانی سے حاصل ہونے والی اور دوسری رنگینیِ مزاج سے۔ کرکٹ میں ان تھک محنت نے انھیں دنیا کا بہترین آل راؤنڈر بنایا اور مزاج کی رنگینی نے پلے بوائے۔ کرکٹ کے میدان میں اُس وقت ظہیر عباس، سرفراز نواز ، جاوید میانداد سمیت اور کھلاڑی بھی تھے لیکن عوام کے ساتھ جو رومان عمران خان کا رہا وہ کسی اور کھلاڑی کے حصے میں نہیں آیا۔ پاکستان کی ہاکی ٹیم اولمپک چیمپئین رہی، چیمئینز ٹرافی بھی متعدد بار جیتی اور ورلڈ کپ بھی۔ لیکن ہاکی ٹیم کے کپتان اور کھلاڑی رومان کا وہ درجہ حاصل حاصل نہ کرپائے جو فقط ایک بار کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان کو نصیب ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے دیگر کھلاڑی بھی اس پذیرائی سے محروم رہے ۔ عمران خان کی والدہ کی وفات شوکت خانم کینسر اسپتال کے قیام کا سبب بنی جو انھیں سماجی خدمت کے میدان میں لائی اور قوم نے اس میدان میں بھی کرکٹ ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خوب سراہا ۔ جماعت اسلامی ، جس کی سماجی خدمت کا دائرہ ملک اور ملک سے باہر بھی پھیلا ہوا ہے، وہ بھی سماجی خدمت کے میدان میں اتنی پذیرائی حاصل نہ کرسکی جو کینسر کا ایک اسپتال بنانے والے عمران خان نے سمیٹی۔ جماعت اسلامی بھی اگر اپنی سماجی خدمت کی مار کیٹنگ کے لیے بھارتی ادکاروں کی کہکشاں اور موسیقی کی محفلیں برپا کرتی تو وہ بھی اس قسم کی داد پاتی ۔
قوم کے اسی ہیرو نے ایاک نعبد و ا یاک نستعین کی دعا کے ساتھ ملک میں ایک منصفانہ معاشی و سماجی نظام قائم کر نے کی غرض سے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی ۔ سیاست سے متنفراور سیاست دانوں کو طاقت کے مراکزکی اختراع سمجھنے والے عمران خان نے اپنے سیا سی منشور میں اقبال کی روحانی جمہوریت، اسلام کے منصفانہ معاشی اور سماجی نظام کے قیام پر زور دیتے ہوئے امریکہ اور اس کے حواریوں کو پاکستان کے مسائل کی جڑ قرار دیا ۔ ملک میں رائج بدترین طبقاتی نظامِ تعلیم ان کے نشانے پرتھااور وہ جاگیر داروں اور وڈیروں کو پاکستان کے مسائل کی جڑ قرار دیتے تھے۔ مگر کرکٹ کے میدانوں میں عمران کے بنائے گئے ہر ایک رن اور حریف ٹیم کی گرائی جانے وکٹوں پر داد دیتی اور کینسر اسپتال کی تعمیر میں رقوم نچھاور کرنے والی قوم نے عمران کے سیاسی نظریات کی پذیرائی نہ کی اور اپنے ووٹ کو ذات برادری، مذہب ، فرقہ اور سیاسی تعصب کے زندان میں قید رہتے ہوئے استعمال کیااورووٹ کا حقدار ان سیاسی جماعتوں کو ہی سمجھا جو پاکستان کی سیاست پر اپنا اثر و رسوخ رکھتی تھیں۔
ایسے وقت میں کرکٹ کے پرستاروں کی بجائے عمران خان کے دست و بازو وہ لوگ بنے جو ملک میں مثبت تبدیلی کے حقیقی خواہش مند تھے۔ محمود مرزا مرحوم، عارف علوی، میاں ساجد پرویز ، ائر مارشل(ر) شاہد ذوالفقار، ایڈمرل (ر) جاوید اقبال، عمر سرفراز چیمہ،میاں فاروق، فاروق امجد میر،ڈاکڑ عثمان ملک، احمد علی بٹ، امین ذکی، خواجہ جمشید امام، عرفان حسن ، محمد خالد ، عمران اسماعیل، مرحومہ سلونی بخاری ، شمسہ علی ایڈوکیٹ، احسن رشید، میجر (ر) بشیر چوہدری، طارق فاروق مرزا، شبیر سیال، اعجاز چوہدری، محمود الرشید، یاسر گیلانی،طلعت نقوی، طارق اسماعیل ،ارشدملک ،ملک اشتیاق، نوید احمداکبر ایس بابر، سردار طارق، محمد زبیر، سرور راجپوت،سبحان علی، اور راقم سمیت سینکڑوں لوگ تھے جو خالصتاََ نظریاتی تھے ۔ جو وڈیرے تھے نہ جاگیردار اور نہ ہی کسی پیر کے گدی نشین ۔ یہ عمران خان کے ساتھ اس وقت قدم سے قدم ملا کر چلے جب اقتدار کی منزل تو کیا اقتدار کا نام بھی تحریک انصاف کے لیے غیر مانوس تھا۔
اوپر بیان کیے گئے چند ناموں سمیت بے شمار نظریاتی کارکنوں نے بھرپور کام کیا ۔ لیکن پنجاب اور خاص کر لاہور میں احمد علی بٹ اور خواجہ جمشید امام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انہوں نے عملی اور فکر ی محاذ وں پر پارٹی کی ترجمانی کی اور نوجوانوں میں فلسفہ انقلاب کی آبیاری میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی:
اِ س دشت بے چراغ میں کرتا ہوں روز و شب
پیدا ہر اک ببول سے سرو و سمن کو میں
ایسا ممکن نہیں کہ لاہور میں کسی بھی سیاسی اور مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والا کارکن احمد علی بٹ اور خواجہ جمشید سے واقف نہ ہو۔ دونوں حریت فکر کے جانبازوں کی سیاسی جدوجہد دہائیوں پر مشتمل ہے ۔احمد علی بٹ تین بار شاہی قلعے کی قید اور اذیتیں کاٹ چکے ہیں اور جمشید امام ضیاء اور مشرف کی آمریتوں کے خلاف بھرپور طریقے سے متحرک رہے۔ احمد علی بٹ اور خواجہ جمشید امام پاکستان پیپلز پارٹی اور معراج محمد خان کی قومی محاذِ آزادی سے سفر طے کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ معراج محمد خان تو عمران خان کی غیر مستقل مزاجی سے دل برادشتہ ہوکر تحریک انصاف کو خیر آباد کہے بیٹھے۔ مگر احمد علی بٹ اور جمشید امام نے تحریک انصاف ہی میں رہنے کو ترجیح دی کہ وہ اپنے انقلابی سیاسی تصورات اور نظریات کی تعبیر اسی جماعت میں ڈھونڈ رہے تھے۔ دونوں اسی جذبے کے ساتھ پارٹی کی نظریاتی اساس کی مضبوطی اور ترویج کے لیے سرگرم رہے ۔ورنہ تو اس دور میں شاداب جعفری جیسے لوگ بھی تحریک انصاف لاہور کی صدارت پر فائز رہے جو ہرنئے آنے والے فردکو عمران خان کے ساتھ ملاقات اور تصویر بنوانے کا جھانسہ دے کر پارٹی کا رکنیت فارم پُر کروا لیا کرتے تھے۔ اب شاداب صاحب ایک عرصہ سے مسلم لیگ ق میں بہت شاداب ہیں۔
تحریک ِ انصاف کے ان نظریاتی کارکنوں کے ساتھ حادثہ یہ ہوا کہ جیسے جیسے عمران خان میں حصولِ اقتدار کی خواہش شدت اختیار کرتی گئی پرانے نظریاتی کارکن پچھلی نشستوں پر بیٹھتے گئے اور اگلی نشستوں پر موقع پرست اور زمانہ شناس قابض ہوگئے ۔ یہاں داد دینی پڑے گی ان نظریاتی کارکنوں کے صبر، استقامت اور سادگی کی، جو پارٹی میں موقع پرستوں،وڈیروں، جاگیرداروں اور پراپرٹی ٹائیکونز کی موجودگی میں بے داغ سبزے کی بہار دیکھنے کے لیے پارٹی کے ساتھ منسلک رہے اورعمران خان کے الیکٹبلز کے انتخاب پر داد و تحسین دیتے ہوئے غالب کی زبان میں عمران خان کو یہ بھی کہتے رہے :
تو مشقِ ناز کر خونِ دو عالم میری گردن پر
اب جب کہ عمران خان وزیراعظم کے منصبِ جلیلہ پر فائز ہوچکے ہیں۔ اپنے ’’ویژن‘‘ کی تکمیل کے لیے انہوں نے جو ٹیم منتخب کی ہے اس کی ایک بڑی تعداد پرویز مشرف کی کابینہ کا حصہ رہی ہے۔ امید ہے کہ عمران خان اپنی منتخب کابینہ کے ارکان کی مثبت خصوصیات سے خاطر خواہ استفادہ حاصل کریں گے۔ اگرچہ خوشامدی اور موقع پرستوں کا غول ان کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہے ۔ذوالفقار علی بھٹو جیسی عقبری شخصیت جن میں ایک بلند پایہ سیاسی رہنما کی تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود تھیں وہ تک خو شامدیوں کے جھمگٹے میں پارٹی کی تنظیم پر توجہ نہ دے سکے۔ یہی سبب تھاکہ جب بھٹو صاحب پر مشکل وقت آیا تو کارکن منتشر تھے۔اسی قسم کا معاملہ نواز شریف کے ساتھ ماضی اورماضی قریب میں بھی ہوا۔ سیاستدانوں کی انھی کمزرویوں سے حریف ثانی نے ہر مرتبہ فائدہ اٹھایاہے۔
ضمنی انتخابات کا انعقاد ہونے والا ہے۔ لیکن افسوس کہ ابھی تک کسی دیرینہ کارکن کو اس حوالے سے توجہ کا مستحق نہیں سمجھا گیا ہے۔ خواتین کی مخصوص نشتوں پر بھی اشرافیہ ہی کی رشتہ دار خواتین کو نواز ا گیا ہے ۔ تحریک انصاف کو یہ زعم ہے کہ اگر انتخابات میں وہ کھمبا بھی کھڑا کرے تو جیت جائے گا ۔ تو پھرکیا امر مانع ہے کہ پارٹی کے مخلص نظریاتی کارکن فتح کی اس غیر معمولی صورتحال میں بھی نظر انداز ہورہے ہیں اور ایسی کیا افتاد آن پڑی ہے جس پر ہمایوں اختر یا ان جیسا کوئی اور چھاتہ بردار ہی قابو پاسکتا ہے؟ اور پارٹی کے دیرینہ کارکن وہ خلاء پُر نہیں کرسکتے۔پارٹی کے دیرینہ کارکنوں کی نظر اندازی پر اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ:
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد!


ای پیپر