معرکہ 6 ستمبر:واہگہ سے ظفر وال تک
05 ستمبر 2018 2018-09-05

پانچ اور چھ ستمبر65ء کی درمیانی شب جنرل چوہدری بھارتی فوج سے مخاطب تھا: ’’ہمیں یہاں رکنا نہیں ، صف بندی کر کے آگے بڑھنا ہے ، لاہور تک میدان بالکل صاف ہے ۔ فوج کل دوپہر کا کھانا لاہور کھائے گی‘ ‘۔اسی رات بھارتی فوج نے واہگہ پر پوری قوت سے حملہ کردیااورمیجر جنرل نرنجن پرشاد کی قیادت میں ٹینکوں کا پچیسواں ڈویژن خاک اور دھواں اڑاتاہوا تیزی سے لاہور کی جانب بڑھنے لگا ۔دشمن کو پورا یقین تھا کہ مٹھی بھر پاکستانی محافظ پچیسویں ڈویژن کے سیلاب کے آگے خس و خاشاک کی طرح بہہ جائیں گے ، ان کا خیال تھا کہ واقعی میدان بالکل صاف ہے لیکن جس وقت ٹینکوں کاپہلا دستہ واہگہ پر پہنچا تو ستلج رینجرز کے چندبہادرجوانوں نے انہیں للکارا ‘ہر طرح کے کیل کانٹے سے لیس پچیسویں ڈویژن کے لئے یہ للکار بالکل غیر متوقع تھی ۔رات کے اس سناٹے میں ستلج رینجرز کے میجر عارف کی آواز گونجی ‘میرے جوانو! نتائج سے بے پرواہ ہو کر دشمن کے آگے ڈٹ جاؤ ، پوری قوم کی نظریں تم پر لگی ہیں۔پھر اس محاذ پرمیجر عارف اور ان کے جانثار اس بے جگری سے لڑے کہ قلم ان سپوتوں کی رُودادِوفالکھنے سے قاصر ہے ۔ میجر عارف نے فرنٹ پر لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اورچشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا کہ ان کے تمام ساتھی ایک ایک کر کے شہید ہوگئے‘ دشمن آگے نہ بڑھ سکاور ان شہداء کی جگہ لینے والے محافظوں نے اسے مزید پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ واہگہ محاذ کے سب سے پہلے شہید یہی میجر عارف تھے۔

دیکھا جائے تو بھارتی فوج پر لاہورپہنچنے کا جو بھوت سوار تھا وہ بے جابھی نہ تھا کیونکہ ان کی تیار ی ہی اس قدر تھی کہ انہیں اپنی فتح کا پورا یقین تھا۔پاک فوج کی کم تعداداور اسلحہ کی کمیابی ان کے پیش نظر تھی تو دوسری جانب بھارتی فوج کے پندرہ ڈویژن(ایک ڈویژن میں تقریباً بارہ ہزار سپاہی یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ انفینٹری دستوں کی تعداد ہے ۔ آرمرڈ دستوں کی تعداد اس سے آدھی ہوتی ہے) بیک وقت پاکستان پر حملے کے لئے تیار تھے اور عین حملے کے وقت مزید آٹھ ڈویژن بھی اس جنگ میں شامل ہو گئے ۔ اکھنور سیکٹرپر تین ڈویژن فوج جمع تھی ،چونڈہ کے مقام پر تین ڈویژن انفینٹری فوج ، ایک ڈویژن بکتربند اور ٹینکوں کی دو رجمنٹیں اشارہ ملنے کی منتظر تھیں۔لاہور پربراہ راست حملے کے لئے تین ڈویژن انفینٹری متعین تھی، واہگہ پر حملے کے لئے جنرل نرنجن پرشاد کا پچیسواں ڈویژن حرکت میں آچکا تھا۔قصور کی سرحد پر ایک ڈویژن سپاہ اورراجھستان میں انفینٹری کے دو ڈویژن حملے کے لئے پر تول رہے تھے اور فضائی تیاریاں اس کے علاوہ تھیں۔ جنگ ستمبر کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی خالد محمود کہتے ہیں:’’ وہ منظربڑا عجیب تھا جب سرفروشوں نے طاقت ور دشمن کی تباہ کن یلغار کو نہ صرف روکا بلکہ کئی کلومیٹر تک اس کی سرزمین میں داخل ہو گئے ۔ایسا ہرگز نہیں تھا کہ بھارتی فوج فوری طور پر بھاگ کھڑی ہوئی تھی بلکہ ہمارے محافظوں نے سردھڑ کی بازی لگانے کے بعد اسے شکست سے دوچارکیا تھا‘‘۔

اس موقع پرصدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے یہ الفاظ ذرائع ابلاغ پر گونجے جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز بن گئے ، انہوں نے کہا:’’دس کروڑ پاکستانیو! تمہاری آزمائش کاوقت آن پہنچا ہے ‘دشمن نے تمہاری دھرتی پر حملہ کر دیا ہے ۔ تمہارے دلوں میں لاالہ الااللہ محمد الرسول اللہ بسا ہوا ہے ، ایک جذبے سے اٹھو اور دشمن کو دندان شکن جواب دے کر اسے کچل کر رکھ دو ۔ اے محافظو! مردانہ وارآگے بڑھو کیونکہ دشمن نے تمہاری سرحدوں پر سراٹھایا ہے ‘‘۔ فیلڈ مارشل کے ان الفاظ کے گونجنے کی دیر تھی کہ ہمارے محافظ دشمن پر ٹوٹ پڑے ۔ جوڑیاں پر قبضہ کرنے کے لئے پاک فو ج کے ٹینکوں کا ایک کالم چھمب کی جانب اور دوسراسکھرانہ سے آگے بڑھا اور بھارتی فوج کے عقب میں پہنچ کرقیامت برپا کر دی ، اس محاذ پردشمن نے جم کر پاکستانی سپاہیوں کا مقابلہ کیا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس نے پاک فوج کو شکست دینے کی ٹھان رکھی تھی ۔ آخر کار تروٹی کے مقام پر ٹینکوں کی زبردست لڑائی ہوئی اور ہمارے محافظ دشمن کے علاقے بھگوان چک تک جاپہنچے ۔ ہماری فوج کی پیشقدمی جاری رہی ‘رات بھر کی لڑائی کے بعد صبح آٹھ بجے دشمن بھاگ کھڑا ہوا اور جوڑیا ں پر پاکستانی پرچم لہر ادیاگیا۔اکھنور میں بریگیڈیئر ظفر علی نے زبردست جنگ لڑی اور دشمن کے پانچ سو سے زائد فوجیوں کوٹھکانے لگا دیا اور دشمن یہ لاشیں چھوڑ کر پسپاہو گیا۔ بی آر بی کے محاذ پر بریگیڈیئر سرفراز اوران کے جانباز دشمن کے حلق کا کانٹا بن گئے، چونڈہ میں آرمڈ کے دستوں نے گھمسان کا رن برپا کر کے انڈین شرمن ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا ۔ آٹھ ستمبر کی شب پاکستانی فوجی کھیم کرن کا محاذ فتح کرنے کے بعد بھارتی علاقوں میں بہت اندر تک چلے گئے۔ فاضلکا کے مقام پر پاکستانی جانثاروں نے دست بدست لڑائی کر کے دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔بیدیاں میں گھمسان کا رن پڑا اور جوانوں نے بھاری قربانی دے کر سرحد کی حفاظت یقینی بنائی ‘ انڈین آرمی کے چودہ افسروں اور درجنوں جوانوں کو زندہ گرفتا ر کر لیاگیا۔

ظفر وال میں انفینٹر ی دستوں کی طوفانی یلغار جاری رہی اوربھاگتے دشمن نے نہر وں اور ندی نالوں کے پل توڑ کر ان جانبازوں کو روکنے کی ناکام کوشش کی۔ بریگیڈیئر افتخار کی قیادت میں ہمارے جوانوں کی مختصر جمعیت نے بیاربیٹ میں بھارتی فوج کو بوکھلا کررکھ دیا۔ رن کچھ کے بے برگ و گیاہ علاقے میں پاکستانی جوان اپنی چوکیوں پربڑی استقامت کے ساتھ ڈٹے رہے ،اسی علاقے میں لاتعدادبھارتی دستوں کو ہماری صرف ایک پلاٹون نے مار بھگایا ، اس علاقے میں دشمن بھاری مقدار میں اسلحہ بھی چھوڑ گیا ۔یہ تھی اس ولولہ انگیز جنگ کی انتہائی مختصر سی رُوداد۔بلاشبہ ہمارے شہیدوں اورغازیوں نے اس موقع پرجرات و ہمت کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا، یہی وجہ ہے کہ ایک مدت بیت جانے کے بعد آج بھی ان غازیوں کا دبدبہ ، طنطنہ اور ہیبت دشمن پربدستور طاری ہے ۔زندہ قوموں کا یہی شعار رہا ہے کہ وہ اپنے ہیروز کی قربانیوں کا تذکرہ فخر سے کیا کرتی ہیں۔چھ ستمبر کی آمد آمد ہے ‘یہ بڑی ناانصافی ہو گی کہ اس موقع پر ہم اپنے ان ہیروز کو یاد نہ کریں جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر میرے اورآپ کے وطن کی خاطرایک خوفناک جنگ کا سامنا کیااور دشمن کے عزائم ریزہ ریزہ کر دیئے ۔ان غازیوں اور شہیدوں کو یاد کرنا ، انہیں خراج تحسین پیش کرنا ہمارا قومی فرض ہے اور یہ شہداء کی روحوں کا ہم پر قرض بھی ہے ۔ قلم کاروں، شعراء ، ادباء ، علماء اور دانش وروں کو چاہیے کہ معرکہ چھ ستمبر کو ایک ملی فریضہ سمجھتے ہوئے بیان کریں ۔ غازیوں اور شہیدوں کی داستانیں ، ان کی یادیں تازہ کی جائیں تاکہ نسل نو میں ایک نیاجذبہ اور ولولہ بیدار کیا جا سکے اور اسے اس بات کا احساس ہوکہ ہمارے محافظوں نے کس طرح اپنے خون کا نذرانہ دے کر اس وطن کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا تھا۔


ای پیپر