1965ء کا ہیرو۔۔۔ ایم ایم عالم!
05 ستمبر 2018 2018-09-05

چھ ستمبر۔۔۔ جب دشمن اپنی پوری خباثت، مکاری اور اپنے ناپاک عزائم کیساتھ رات کی تاریکی میں شب خون مارنے کی نیت سے اس دھرتی ماں پر حملہ آور ہوا تو اس دھرتی کی حب سے جڑے والدین کے جگر گوشے ‘بہنوں کی عصمتوں کے امین‘بیویوں کے سر تاج‘وطن کیلئے اپنا تن‘من‘دھن قربان کرنے کے جذبوں سے سرشار سرحدوں کے پاسبان ایم ایم عالم جیسے جری سر فروش ہی تھے جنہوں نے دشمن کو اس کے مذموم عزائم سمیت چاروں شانے چت کر کے نشان عبرت بنا دیا۔ ایم ایم عالم (محمد محمود عالم ) اس جنگ کی کہانی کا وہ مرکزی کردار ہے جس نے دشمن بھارت کے تیس سیکنڈ میں چار اور ایک منٹ میں پانچ ہنٹر گرا کر راکھ اور خاک کے ڈھیر میں تبدیل کر کے بین الاقوامی ریکارڈ قائم کیا۔ اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم نے اس جنگ میں مجموعی طور پر بھارت کے نو طیارے تباہ کئے اور دو طیاروں کو نقصان پہنچایا۔دشمن بھارت کے اس جنگ میں پاک فوج کے جری سرفروشوں نے مجموعی طور پر پینتیس طیاروں کو فضا میں اور تینتالیس طیاروں کو زمین پر تباہ کیا دشمن کے ایک سو دس طیاروں کے مقابلے میں پاکستان کے انیس طیارے تباہ ہوئے تھے۔ ایم ایم عالم نے بین الاقوامی ریکارڈ قائم کر کے دشمن کو شکست فاش سے دوچار کرتے ہوئے اس کے سینے پر جو جرات و بہادری کی انمٹ تاریخ رقم کی وہ آج بھی بھارت کے سینے پر سانپ کی طرح لوٹ رہی ہے۔کولکتہ میں جنم لینے والے ایم ایم عالم فائٹر لیڈر اسکول میں بطور انسٹرکٹر‘تین اسکواڈرنگ کے کمانڈنگ آفیسر‘ڈائریکٹر آف ریسرچ اور فضائی ہیڈ کوارٹر میں اسسٹنٹ چیف آف ائیر اسٹاف کے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں۔ ایم ایم عالم کی ملک کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔کتاب دوست ایم ایم عالم جب وفات پاگئے تو انکی چکلالہ ائیر بیس روالپنڈی رہائش گاہ پر تقریبا چار ہزار کتابوں کی کولیکشن موجود تھی۔انہوں نے حکومت شام کی درخواست پر پانچ

سال شامی ائیر فورس کی تربیت بھی کی ایم ایم عالم کی زندگی کے گوشے جہد مسلسل‘قربانیوں‘ملکی بے پناہ خدمات سے عبارت ہیں یہ تحریر قرطاس کرنے سے قبل کارگل کے مصنف اسکوڈرن لیڈر زاہد یعقوب عامر کی ایم ایم عالم کے حالات زندگی پر لکھی گئی کتاب کا مطالعہ کیا تو اس کتاب کی تحریریں ایم ایم عالم کی زندگی کے منفرد گوشے وا کرتی ہیں جن سے اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ مصنف نے ایم ایم عالم کے حالات زندگی کو کتابی شکل دینے سے قبل انکی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کے کیا کیا مراحل طے کئے اس کتاب سے چند اقتباسات نذر قارئین ہیں 6 جولائی1935ء کوایم ایم عالم ( محمد مسعود عالم )کے ہاں ایک بچے نے جنم لیا وہ بچہ جس کے مقدر میں تاریخ بنانے کے فیصلے ہو چکے تھے۔یہ بچہ بھی ایم ایم عالم ہی تھا مگر یہ محمد محمود عالم تھا وہ محمد محمود عالم جو ہوا بازی کی تاریخ میں ایم ایم عالم کے نام سے پاکستان کیلئے بالخصوص اور عالم اسلام کیلئے بالعموم وجہ شہرت بنے۔تاریخ کے ماتھے پر ایک بے مثال جھومر‘دشمن پاکستان کیلئے وجہ ہزیمت‘6ستمبر 1965ء کی شام دشمن کی طرف سے پاکستان پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی ۔دشمن پر حملے کیلئے متعدد فارمیشن ترتیب دی گئی پٹھان کوٹ کے انڈین ائیر بیس پر دشمن کے دس جہاز تباہ ہوئے جس کا تذکرہ انڈیا نے اپنے سرکاری اعداد و شمار میں بھی کیا ہے مزید براں یہ اعداد و شمار ثابت بھی کرتے ہیں کہ دشن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تاہم آدم پور اور بلواڑہ کے اوپر کئے گئے حملوں کے نتائج بہت زیادہ توقعات کے مظابق نہیں تھے۔بلواڑہ پر حملہ کرنے کے دوران پاک ٖفضائیہ اپنے دو بہترین ہوا بازوں سے محروم ہو گئی سکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی اور فلائیٹ لیفتینٹ یونس حسن خواجہ اس معرکے میں جام شہادت نوش کر گئے جبکہ سیسل چوہدری واپس آئے۔ ایم ایم عالم سرگودہا میں پاک فضائیہ کے سکواڈرن نمبر گیارہ کی کمان کر رہے تھے ۔انہوں نے نمبر 33ونگ کے پائلٹوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ ہم سرفراز رفیقی اور یونس حسن کے خون کا بدلہ لیں گے۔ ایم ایم عالم آدم پور پر کئے جانیوالے ایک ہنٹر جہاز کو نشانہ بنا چکے تھے مگر ان میں دشمن کو تباہ کرنے کا عزم مزید زندہ تھا۔ ایم ایم عالم نے اپنی ایک ملاقات میں ایک عزیز کو بتایا کہ جب 7ستمبر کو ائیر ڈیفنس الرٹ کیلئے وہ لوگ تیار بیٹھے تھے تو انہیں حکم یھا کہ جہاز کے کاک پٹ میں ہی بیٹھیں وہ کاک پٹ میں مستعد بیٹھے تھے ۔ایسے میں انہوں نے قرآن پاک کا نسخہ جیب سے نکال کر تلاوت شروع کردی وہ تلاوت کر رہے تھے کہ انہیں ہلکی سی نیند آگئی اور اس سائرن کیساتھ انکی آنکھ کھلی جو کہ دشمن کے حملے سے خبردار کرنے کیلئے بجایا جاتا ہے۔سات ستمبر کی سہانی صبح کے پانچ بجکر سینتالیس منٹ پر یہ اطلاع ملی کہ دشمن کی ایک فارمیشن جس کا نمبر ستائیس ہے اور جس کی کمان انڈین ائیر فورس کے سکواڈرن لیڈر ڈی۔ایس جوگ کر رہے ہیں نے سرگودہا پر حملہ کر دیا ہے پہلے یہ فارمیشن ’’چھوٹا سرگودہا ‘‘ کی لینڈنگ ائر سٹریپ کو نشانہ بنانے کیلئے کی گئی۔جب یہ وہاں پہنچی تو کسی جہاز کو وہاں نہ پا

کر واپس پلٹی اور سرگودہا کے مین بیس پر حملہ کرنا چاہا ایم ایم عالم نے فوری طور پر اپنے جہاز کو سٹارٹ کیا اور پھر مقررہ وقت میں ہوا میں موجود تھے۔آپ اپنی ایمان پرور کارکردگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں ہوا میں پہنچ کر بھی تلاوت کا اثر محسوس ہو رہا تھا۔بے شک ایسے معرکے اور حریت و حکمت کے باب رقم ہونے میں وہ قرآنی طاقت بھی شامل تھی جو ایم ایم عالم کے ایمان کا حصہ تھی جب فتح پاکستان کا مقدر اور شکست و ریخت کی راکھ مکار دشمن کا رزق بنی توعظیم باپ محبت اور فخر کے جذبات میں اپنے عالم کو یاد کرتے جس نے ایک عالمی ریکارڈ قائم کر دیا تھا عالم ریکارڈ کیساتھ ساتھ انہوں نے دشمن کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی بیشک وہ بیٹے سے جلد از جلد ملنے کیلئے بہت تاب رہتے تھے مگر بیٹا تو پاک فضائیہ اور دھرتی ماں سے کیا گیا وعدہ نبھا رہا تھا۔یہ 1966ء کی ایک پر سوز رات تھی ایک بیٹا اپنے والد سے ملنے جا رہا تھا وہ بیٹا جس کے مقدر میں ایک عالمی ریکارڈ لکھا گیا تھا اس نے پاک فضائیہ‘پاکستان اور اپنے والد محترم کا نام روشن کیا تھا باپ اور اس عظیم بیٹے کی یہ جنگ ستمبر 1965ء کے بعد پہلی ملاقات تھی۔مگر نہ بیٹا آگے بڑھ کر باپ کا ہاتھ چوم سکا اور نہ ہی باپ بیٹے کو اپنے بازوؤں کے حصار میں لے کر سینے سے لگا سکتا تھاکہ ایم ایم عالم کے والد محترم محمد مسعود عالم انتقال کر گئے تھے۔۔۔صرف چشم تصور سے دیکھیں اور گوش تصور سے سنیں کہ وہ باپ اور بیٹے کی گفتگو کیا ہوتی جس نے ایک عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا ایم ایم عالم 18مارچ2013ء کو کراچی میں انتقال کر گئے ایم ایم عالم نے ثابت کیا کہ جنگیں افرادی قوت اور اسلحہ سے نہیں بلکہ ایمانی قوت‘صادق جذبوں اور عزم صمیم کیساتھ لڑی جاتی ہیں ۔اللہ تعالی ایم ایم عالم سمیت اس پاک سر زمین کی سرحدوں کے امانت دار شہداء کے درجات بلند کرے(آمین)


ای پیپر