یومِ دفاعِ پاکستان قومی تاریخ کا روشن باب
05 ستمبر 2018 2018-09-05

6ستمبر 1965ء پاکستان کی قومی تاریخ میں وہ تاریخ ساز دن ہے جب قوم سو رہی تھی لیکن پاک سرحد کی نگہبان آنکھیں جاگ رہی تھیں۔ وطن کے سپاہیوں کے لئے اپنی وفاؤں کا عہد پورا کرنے کا وقت آ گیا تھا۔ ہر بچہ، جوان بوڑھا سر پر کفن باندھے اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ ملک کے دفاع کے لئے دشمن کے مقابل تھا۔ اس دن پاکستان کے شہیدوں جری جوانوں نے اپنی سرحدوں کے بہادر اور غیور پاسبانوں کی فہرست میں اپنا نام رقم کیا۔ ان کا تن، من، دھن دیس پر قربان تھا۔ اب ہر سپاہی ناقابلِ شکست فصیل تھا، جس نے دشمن کی پیش قدمی روک دی۔ ان کی شجاعت کے ناقابلِ یقین کارناموں کی کوئی نظیر پیش نہیں کی جا سکتی۔ ان کی فرض شناسی اور حب الوطنی جدید جنگوں کی تاریخ میں درخشندہ مقام پر فائز کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک تاریخی معرکہ تھا جس میں ہمت اور حوصلوں کی بے مثال کہانیوں نے جنم لیا۔ پوری دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ پاکستان کے عوام اور افواج دشمن کے عزائم کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور اس کے منصوبے خاک میں ملا دئے۔ افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ ایک چھوٹی مگر خود دار قوم نے ثابت کیا کہ جدید اسلحہ اور فوجی برتری ہی نہیں بلکہ قوتِ ایمانی ، اتحاد، جرأت، اپنے مقصد پر یقینِ محکم اور دھرتی سے محبت ہی وہ جذبہ ہے جو کسی بھی جنگ میں کامیابی اور سرفرازی کا سبب بنتے ہیں۔ قوتِ ایمانی عسکری قوت پر غالب رہی اور دشمن کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ اپنی فوجی طاقت کے نشے میں چور بھارت کے لئے پاکستانی افواج اور عوام کی جانب سے وہ بے مثال جوش و جذبہ اور اتحاد کا مظاہرہ غیر متوقع تھا۔ آزمائش کی اس گھڑی نے ہمیشہ کی طرح کلمہ گو مسلمانوں کے تمام

فروعی اختلافات مٹا کر انہیں یک جاں کر دیا تھا اور قوم کا ہر فرد اپنے وطن کا محافظ اور جاں نثار مجاہد بن چکا تھا۔ 17روز تک جاری رہنے والی اس جنگ کے دوران پاکستان کی بحری، بری اور فضائی افواج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مہارتوں کا لوہا ساری دنیا میں منوانے کے ساتھ ساتھ بہادری و جانبازی اور جذبۂ شجاعت کی ایسی قابلِ تقلید مثال دنیا کے سامنے پیش کی جس کے لئے وہ آج بھی خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔

6ستمبر کا دن ہمارے اس عزم کی علامت ہے کہ اگر کسی نے ہماری سرحدوں کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کی تو ہم جارحیت کو کچلنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے۔ جنگِ ستمبر کا جذبہ ایک کسوٹی ہے جس پر ہم بحرانوں سے نمٹنے کے لئے اپنے کردار اور کارکردگی کو پرکھ سکتے ہیں اور بحیثیتِ قوم اپنے رویوں اور صلاحیتوں کو جانچ سکتے ہیں۔ 1965ء کی جنگ نے جہاں ہمیں اپنے سپاہیوں کی جرأت و استقامت اور بے لوث قربانیوں کو دیکھنے کا موقع فراہم کیا وہاں اس نے ہمارے اجتماعی رویوں کے ان روشن پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا جن میں ملی وحدت، تنظیم، حب الوطنی اور قومی افتخار نمایاں ہیں۔ اس دن پوری قوم جارحیت کرنے والوں کو سبق سکھانے کے لئے فردِ واحد کی طرح اٹھ کھڑی ہوئی ۔ ہماری بہادر مسلح افواج اور عوام کے مابین ایک ایسا جذباتی رشتہ استوار کیا جو ہمیشہ دلوں کو گرماتا رہے گا۔ یہ ہمارے قومی شعور کا ایسا بھرپور اور جانفزا تجربہ ہے جو باعثِ افتخار بھی اور قابلِ تقلید بھی۔ آج ہم اپنے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور اپنے غازیوں کے لئے سراپا سپاس ہیں ہمیں جنگ کے ایک اہم سبق کو یاد رکھنا چاہئے کہ ایمان و اتحاد اور مشکل حالات کا مقابلہ کرنے اور قربانیاں دینے کے عزم و حوصلے سے ہم کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔ ہمارے دشمن کے بالا دستی کے عزائم میں آج بھی ذرہ برابر تبدیلی نہیں آئی۔ اس کا مقصد خطے میں اپنی بالا دستی قائم کرنا ہے۔ وہ اپنے غریب عوام کا پیٹ کاٹ کر تمام وسائل اسلحہ کے انبار لگانے میں صرف کر رہا ہے اور اپنے بجٹ کا بڑا حصہ اپنی افواج کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے اور مہلک میزائلوں سمیت ہلاکت خیز ہتھیار تیار کرنے پر صرف کر رہا ہے۔ اس دشمن کے جارحانہ عزائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزیاں اس کی واضح دلیل ہیں۔ بھارت اس وقت خود کو طاقتور اور پاکستان کو اس کے بحرانوں کی وجہ سے بہت کمزور محسوس کر رہا ہے لیکن پاکستان کمزور نہیں ہے۔ بحرانوں میں پھنسے ہوئے ہونے کے باوجود پاکستان اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت سے آراستہ ہے۔

پاک فوج کو فخر حاصل ہے کہ اس کے دامن میں کھلنے والے پھول وطن کی آن، بان، شان پر نچھاور ہونے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ قوم کے یہ بیٹے دشمن کی سازشوں سے آگاہ ہیں ۔ انہوں نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا اور نہ ہی کریں گے۔ وہ اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہونے والی اندرونی اور بیرونی سازشوں کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی تینوں افواج ہر محاذ پر برسرِ پیکار تھیں ۔ ان افواج کو حوصلہ اور تقویت عطا کرنے میں پاکستان کی غیور عوام کا بھی نہایت اہم کردار تھا۔ وہ اپنی مسلح افواج پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لئے تیار تھے۔ اہلیانِ لاہور کو جب جنگ کی اطلاع ملی تو وہ ٹانگوں پر کھانا، اچار، کپڑے، سگریٹ غرض ہر وہ چیز جو ان کی دسترس میں تھی لے کر اپنے جوانوں کو دینے کے لئے سرحدوں کی جانب دوڑے۔ جب فوجیں سرحد کی طرف جاتیں تو بوڑھے مرد اور عورتیں سڑک کے کنارے ان کی سلامتی کے لئے دعائیں مانگتے، ان کی مدد کے طریقے پوچھتے اور بچے جذبہ عقیدت سے سیلوٹ کرتے ۔ بہنیں اللہ سے ان کی حفاظت کے لئے دعائیں مانگتی۔

شاعر ملی ترانے لکھ کر اپنے جذبوں کا اظہار کر رہے تھے تو گلوکاروں کی صدائیں دعا بن کر فضا میں شامل ہو رہی تھیں۔ غرضیکہ پورا ملک جنگ میں شامل تھا مگر کسی قسم کا خوف نہ تھا۔ اس جنگ میں ہماری قوم نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ آزمائش کی ہر گھڑی میں پاک فوج کے شانہ بشانہ ہر قربانی کے لئے تیار ہے۔ اس نے دشمن کی عددی برتری کی ماضی میں پرواہ کی ہے اور نہ آئندہ کرے گی بلکہ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو گی۔


ای پیپر