Source : Yahoo

پیسے کی بات نہیں اصولوں کی بات کی ہے،امریکہ نے ڈو مور کا مطالبہ نہیں کیا ،شاہ محمود قریشی
05 ستمبر 2018 (19:59) 2018-09-05

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کے دورہ پاکستان کے دوران کوئی ’ڈو مور‘ کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کرتے ہوئے انہوں نے امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات میں ’ڈومور‘ کے بجائے آگے بڑھنے کے جذبے کا ماحول تھا۔انہوں نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات میں سرد مہری تھی، ہم نے امریکی وزیرخ خارجہ کے سامنے پاکستان کا موقف پیش کیا۔

 

شاہ محمود قریشی نے کہا پہلے اور آج کے ماحول میں دن رات کا فرق ہے ،تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ،تحریک انصاف کی حکومت کے منشور میں شامل ہے کہ عام انسان کا فائدہ ہو جس کے لیے ہم تمام فیصلے کرینگے ،وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکہ نے ڈور مور کا مطالبہ نہیں کیا ،پاک امریکہ میں تعطل کا جو سلسلہ تھا وہ ٹوٹ گیاہے ۔

 

تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکہ کو واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کا مفاد عزیز ہے اسی کو آگے لے کر چلیں گے ،ہم اپنے وسائل سے اپنی عوام کو عزت کی روٹی کھلا سکتے ہیں ،لینے دینے کا معاملہ زیر غور نہیں آیا ،پاکستان کا مفاد عزیز ہے اسی کو آگے لے کر چلیں گے ، پیسے کی بات نہیں اصولوں کی بات کی ہے ،افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں سیاسی ہے جس کیلئے عمران خان نے گزشتہ کئی عرصے سے تمام حکومتوں کوواضح کر دیا تھا ،آج کی نشست میں کوئی منفی پہلو نہیں آیا ،امریکی امداد کی بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم کسی اپنی عوام کو عزت کی روٹی کھلا سکتے ہیں ۔

 

امریکہ کو واضح کر دیا بلیم اور شیم گیم سے کچھ نہیں ملے گا ،ایشوز امریکہ کے بھی ہیں اور ہمارے بھی ہیں ،امریکہ نے اپنی پالیسی تبدیلی کی اور ہمارا بھی حق ہے کہ اپنی پالیسی کو از سر نو تبدیل کریں ،ہم نے اپنا موقف واضح کیا کہ جو تحفظات ہمارے ہیں آئیے مل بیٹھ کر ان کو حل کریں ،معاملات دوطرفہ طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں اور یہ میٹنگ اس کا آغاز ہے ۔

 

بھارت کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم بھارت کیساتھ تعلقات چاہتے ہیں اورکبھی بھارت سے بات چیت سے انکار نہیں کیا ،امریکہ سے کہہ دیا کہ الزامات لگانے سے کچھ حاصل نہیںہو گا ،انہوں نے کہا کہ امریکا نے اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا ہے، ہم بھی اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیں گے۔


ای پیپر